بنیادی صفحہ / انٹرویوز / ’’زندگی کے آخری موڑ پربچوں کی وجہ سےجان کے لالے پڑے ہوئے ہیں‘‘

’’زندگی کے آخری موڑ پربچوں کی وجہ سےجان کے لالے پڑے ہوئے ہیں‘‘

ممبرا کے مشہور ٹرانسپورٹ کاروباری بلڈر الطاف احمد شیخ

ممبرا کے مشہور ٹرانسپورٹ کاروباری بلڈر الطاف احمد شیخ

ممبرا کے مشہور ٹرانسپورٹ کاروباری بلڈر الطاف احمد شیخ کا انکشاف،پولس میں عرضداشت داخل ،حفاظتی انتظامات کی اپیل
ممبرا: کہتے ہیں بچے بوڑھاپے کا سہارا ہوتے ہیں۔جب ماں باپ کےہاتھ پیر لاغر ہوجائیں تو بچوں کے سہارے ہی بقیہ عمر گذارنے کا خواب دیکھتےہیں لیکن ممبرا کے مشہور ٹرانسپورٹ کاروباری بلڈر الطاف احمد شیخ اب اپنے بچوں سے ہی نالاں نظر آتے ہیں بلکہ حد تو یہ ہے کہ انہیں اپنے بچوں سے ہی جان کے خطرات لاحق ہیں۔ ۱۶اکتوبر ۱۹۵۳؁ کو اتر پردیش کے مردم خیز خطہ اعظم گڈھ کے سرائمیر سے متصل اساڑھا گائوں میں آنکھیں کھولنے والے الطاف شیخ نے ابتدائی سے ساتویں تک کی تعلیم گائوں کے ہی مکتب میں حاصل کرلی تھی۔بچپن میں ہی جب وہ ممبئی آئے تو آٹھویں اور نویں تک کی تعلیم مدنپورہ نائٹ ہائی اسکول میں حاصل کی اور پھر دسویں اور گیارہویں کے لئے اسماعیل بیگ محمد ہائی اسکول کا رخ کیا اور جب ۱۹۷۳؁ میں گیارہویں کی تعلیم مکمل کرلی تو پھر مامو جان کے ٹرانسپورٹ منشی اینڈ منشی کمپنی میں ملازم ہوگئے۔سال بھر کی جاں گسل جد و جہد کے بعد ماموں جان نے پونا کے چنچوڑ ٹرانسفر کردیا جہاں جون ۱۹۸۰؁ تک ملازمت کی چکی پیستے رہے۔چونکہ بچپن سے ہی کچھ نیا کرنا اور اپنا کاروبار کرنے کا مزاج تھا لہذا الطاف شیخ نے ملنڈ چیک ناکہ پرآزاد آکٹرائے سروسیز کا آغاز کیا۔الطاف شیخ معیشت سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے شروع سے ہی مجھے کام کرنے کا حوصلہ عطا کیا ہے ۔جبکہ مزاج میں چوری و نا انصافی برداشت کرنا محال قرار پایا ہے۔ یہ اللہ کا کرم ہی ہے کہ طبیعت کسی طرح کے چھل کپٹ کو برداشت نہیں کرتا لہذاآکٹرائے سروسیز میں کامیابی تو میسر آئی لیکن دل کسی طرح مطمئن نہیں ہوا۔ لہذا جب آکٹرائے سروسیز سے دل برداشتہ ہوا تو۲۱ اکتوبر ۱۹۸۷؁ کو اسے بند کردیا اور گھر پر ہی تین چار ماہ بیٹھا رہااس دوران عرب جانے کی خواہش بھی منڈلاتی رہی لیکن دل کسی طور پر آمادہ نہیں ہوابالآخر ٹرانسپورٹ لائن میں ہی قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا اور ۱۹۸۷؁ میں ہی ممبئی ، انکلیشور اپنا ٹرانسپورٹ شروع کیا اور پھر یہ سلسلہ ایسا دراز ہوا کہ ممبئی سے بھیونڈی اور پھر گجرات کے دمن تک کاروبار پہنچ گیا ۔الحمد للہ آج ۳برانچ گجرات میں جبکہ ۶ برانچ ممبئی و مضافات میں واقع ہیں ۔۱۹۸۷؁ کے بعد سے جب سے ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں آیا ہوں یوں تو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بچوں کی وجہ سے ہی ۳۵ٹرک بیچنا بھی پڑا ہے‘‘۔الطاف احمدشیخ کاروباری معاملات پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں ’’ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے اطمینان حاصل ہونے کے بعد میں نے زمین وجائداد کے کاروبار میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا لہذا ۱۹۹۰؁ میں سب سے پہلی زمین شیل پھاٹا پر لی اور یہی وہ دور ہے جب میں نے صدقہ و خیرات پر توجہ دینا شروع کیا کہ یہی حاصل زندگی ہے لیکن اسی کے ساتھ میں نے ۲۰۰۱؁ سے تمام زمین و جائداد اپنےبالغ بچوں کے نام لینا شروع کردیا۔لیکن اسے المیہ ہی کہا جائے گا کہ ۵فروری ۲۰۱۳؁ کو جب میری اہلیہ گلشن آراء الطاف احمد شیخ کا انتقال ہوا تو تمام بچوں نے بھی مجھ سےمنھ موڑ لیا۔چونکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ خالہ زاد برادر نسبتی اسعد اور چھوٹے ساڑھو شاداب کی حادثاتی موت کے بعد میں نے ان کی بیوائوں کو خطیر رقم بطور امداد دی تھی جسے دیکھ کر میرے بچے چونک گئے تھے اور پھر وہ میری جائداد میں ہیر پھیر کرنے لگےتھےلہذا بچوں کی بے اعتنائی اور اپنی کبر سنی کو دیکھتے ہوئے میں نے ۳نومبر ۲۰۱۴؁ کو شبنم سے شادی کرلی جو اب شبنم الطاف شیخ سے موسوم ہیں۔دراصل جب میں نے اپنی ضرورتوں کے مطابق دوسری شادی کا ارادہ کیاتھا تواسی وقت جائداد کے متعلق کھسر پھسر سننے کو ملنے لگا تھا۔میرا بڑا بیٹا ندیم الطاف شیخ جو بچپن سے ہی غلط کاروں کی صحبت میں رہتا تھامیری جعلی دستخط کے ساتھ بینک سے رقم نکال لیتا اور مجھے اس کی خبر بھی نہیں ہوتی تھی۔دراصل ندیم کے ماموں بحر العلوم میرے بیٹے کو خراب کرنے کا باعث بن رہے تھے چونکہ انہوں نے میرے کاروبار کو دیکھا تھا اور ان کے اندر بھی یہ للک جاگ رہی تھی کہ میں بھی خوب روپئے کمائوں لہذا پہلے تو انہوںنے میرے یہاں ملازمت کرنے کے دوران اپنا ٹرانسپورٹ شروع کیا اور میرے ملازمین سے اپنا کام لینے لگے جبکہ دوسری طرف انہوں نے میرے اکائونٹنٹ کو بھی اپنی طرف ملا لیا،ندیم ان حرکتوں کو جانتے ہوئے بھی ملا رہا اور درپردہ مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہا‘‘۔
الطاف شیخ کہتے ہیں ’’ندیم کی ایک حرکت یہ رہی ہے کہ اس نے میری جعلی دستخط کے ساتھ مختلف جائداد کا رجسٹریشن کرایا ہےجس کی تحریری شکایت میں نے پولس اسٹیشن اور رجسٹرار آفس میں بھی کی ہے۔دراصل مسجد ارقم کے اندر جو کچھ ہوا اس کی پوری پلاننگ میں بھی ندیم کی شمولیت رہی ہے جس کا علم مجھے بعد میں ہوا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ میرے بچوں کو مال و دولت ،زمین و جائداد کے حرص نے اس قدر اندھا کردیا ہے کہ وہ والد کی قدر بھی بھول گئے ہیں ۔یقیناً میں نے اپنے بچوں کو بڑی للک سے پالا تھا لیکن آج یہی بچے میرے قتل پر آمادہ ہیں‘‘۔اپنی دلی کیفیت کو مجتمع کرتے ہوئے الطاف شیخ کہتے ہیں ’’سرائمیر اور اساڑھا میں میری جائداد ہے لہذامیری خواہش ہے کہ میں گائوں جائوں لیکن گائوں سے یہ خبر آرہی ہے کہ اگر میں گائوں گیا تو وہاں میری جان کو خطرہ لاحق ہوگا کیونکہ شمس الدین اساڑھا اورشاہ عالم اسرولی کے متعلق مجھے یہ کہا گیا ہے کہ ان کے ارادے نیک نہیں ہیں جبکہ سرائمیر میں میری سپاری دی گئی ہے ۔‘‘عوام الناس اور پولس سے اپیل کرتے ہوئے الطاف شیخ کہتے ہیں ’’چونکہ اب ان بچوں (یعنی ندیم الطاف شیخ،نعیم الطاف شیخ ) سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہے لہذا میں تمام جائداد پر اسٹے لینے جا رہا ہوں لہذا میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جن لوگوں نے ان لوگوں کے یہاں کوئی بکنگ کرائی ہو تو وہ کینسل کروا لیں اور نہ کرائی ہو تو کم از کم بکنگ نہ کرائیں تاکہ وہ پریشانی سے بچے رہیں ۔اسی طرح پولس اہلکاروں سے اپیل ہے کہ وہ ان کی شرارتوں پر نظر رکھے اور مجھے سکیوریٹی فراہم کرے تاکہ میری جان کوجو خطرات لاحق ہیں مجھے اس سے نجات مل سکے‘‘۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*