بنیادی صفحہ / انٹرویوز / ‘‘ہم اب ملکی پیمانے پر اپنی تجارت کو فروغ دینے کا سلسلہ شروع کررہے ہیں’’

‘‘ہم اب ملکی پیمانے پر اپنی تجارت کو فروغ دینے کا سلسلہ شروع کررہے ہیں’’

تقویٰ جویلرس کے مالک اسرار سید فرینک اسلام سے پہلا انعام حاصل کرتے ہوئے(تصویر: معیشت)

تقویٰ جویلرس کے مالک اسرار سید فرینک اسلام سے پہلا انعام حاصل کرتے ہوئے(تصویر: معیشت)

تقویٰ جویلرس کا شمار اب ممبئی و مہاراشٹر کے کامیاب برانڈ میں ہونے لگا ہے۔چند برس قبل نا مساعد حالات میں کھولا گیا شو روم اب سات برانچ کی شکل میں اپنی تجارت کو فروغ دے رہاہے۔کمپنی کے مالک اسراربھائی ممبراوالے معیشت کے مدیر دانش ریاض سے گفتگو کرتے ہوئے اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں اور کہتے ہیںکہ یہ خدا کا کرم ہی ہے کہ انتہائی مختصر مدت میں مذکورہ تجارت نے فروغ پایا اور اب ہم ملکی پیمانے پر اپنے شو رومز قائم کرنے کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔

اسرار بھائی ممبرا والے اب ممبراہی نہیں پورےمہاراشٹر میں غیر معروف نہیں ہیں ۔ممبئی ،تھانے ،پونے کے شورومس اب اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ مہاراشٹر والوں نے تقویٰ جویلرس کو ایک برانڈ کی صورت قبول کر لیا ہے۔ممبئی کا مسلم اکثریتی علاقہ جوگیشوری سے اپنے پہلے شو روم تقویٰ جویلرس کا ۲۰۱۶؁میں آغاز کرکے اسرار بھائی نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ انتہائی مختصر مدت میں ہی انہیں اتنی پذیرائی مل جائےگی کہ وہ مہاراشٹر سے باہر حیدر آباد،بنگلور،احمد آباد وغیرہ میں اپنا شوروم قائم کرنے کے لئے پر تولنے لگیں گے۔
۲۰ مئی ۱۹۷۸؁ کو پونہ کے انڈوری تلے گائوں میں اسماعیل یٰسین انعامدار کے گھر آنکھیں کھولنے والے اسراربھائی نے بھانڈوپ کے مینن ہائی اسکول سے ۱۰ویں جبکہ وانی ودیالیہ ملنڈ سے بارہویں کی تعلیم حاصل کی ہے۔علم کے شوق نے جب جنوبی ممبئی کی طرف موڑا تو صابو صدیق کالج سے بی ای (Bachelor of Civil Engineering) کی تعلیم مکمل کی جبکہ فی الحال ممبئی یونیورسٹی سے ریٹیل منیجمنٹ میں پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اپنی داستان بیان کرتے ہوئے اسراربھائی معیشت سے کہتے ہیں’’۱۹۷۶؁ میں میرے والد اکائونٹس منیجر کے طور پر مجگائوں ڈوک (Mazagon Dock Shipbuilders Limited)پر ملازم ہوگئے تھے ۔ہمارا پورا خاندان بھی پونہ سے ممبئی منتقل ہوگیا تھا۔زمانہ طالب علمی سے ہی مجھے تجارت کرنے کا بڑا شوق تھا لہذا ۱۹۹۴؁ میں میں نے ٹیوشن کلاسیز کا آغاز کیا اور طلبہ و طالبات کی رہنمائی کرنے لگا۔لیکن جب میں نے بی ای کی تعلیم مکمل کر لی تو ۲۰۰۲؁ میں کوائیلیٹی کنٹرولر کے طورپر تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے لگا ساتھ ہی کلاسیز بھی چلاتا لیکن بالآخر ۲۰۰۴؁ میں میں نے کلاسیز دوسروں کے حوالے کردیا۔چونکہ شوق تجارت کرنے کا تھا لہذا ۲۰۰۶؁ میں میں نے سونا چاندی کے کاروبار میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنے متعلقین کے ساتھ گولڈ کے کاروبار کے رموز و نکات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا‘‘۔
۲۰۰۶؁ سے ۲۰۱۶؁ کا دس سالہ سفر یقیناً اسرار سید کے لئے قیمتی رہا ہے اسی دوران انہوں نے گولڈکی تجارت کو قریب سے دیکھا ،لین دین کے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کی ،زمانے کی خواہشات کو بھانپا اور جب ۲۰۱۶؁ میں اپنا شو روم قائم کیا تو کسی کو یہ شک نہیں گذرا کہ یہ شخص کامیابی کے ساتھ اسے چلا بھی پائے گا یا نہیں ۔
اسرار بھائی کہتے ہیں ’’جوگیشوری کے ریزلٹ کو دیکھتے ہوئے ۲۰۱۷؁ میں ہم نے میرا روڈ اور ملاڈ میں اپنا شو روم قائم کیا،۲۰۱۸؁ میں ممبرا،باندرہ اور پونہ کا شو روم اپنی خدمات پیش کرنے لگا جبکہ ۲۰۱۹؁ میں پونہ میں ہی ایک دوسرا علاقہ کونڈواکا ہم نے انتخاب کیا اوروہاں ہمارا شو روم قائم ہوا ہے۔انشاء اللہ عنقریب ہی ہم نوی ممبئی کے پنویل،نیرول میں اپنا شو روم قائم کریں گے۔ویسے ہماری خواہش ہے کہ ہم بنگلور،حیدر آباد ،احمد آباد میں بھی اپنا شو روم شروع کریں،جس کی تیاریاں چل رہی ہیں‘‘۔Gemology میں ڈپلومہ کرنے والے اسراربھائی کہتے ہیں ’’گولڈ اور ڈائمنڈ کے ساتھ جیمس کی شناخت کرنے والے یوں تو ہندوستان میں بہت لوگ ہیں لیکن کمیونیٹی میں بہت کم لوگ ہی ہیں جنہیں سرٹیفائڈ کہا جاسکتا ہے الحمد للہ مجھے اس فیلڈ میں سرٹیفکیٹ حاصل ہے اور میں ایک سرٹیفائڈ جیمولوجسٹ(Certified Gemologist ) ہوں۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ مختصر مدت میں ہی عام لوگوں کی زبان پر تقویٰ جویلرس کا نام جس سرعت کے ساتھ آتا ہے وہ کم ہی تاجر برادریوں کے پروڈکٹ میں دیکھنے کو ملا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب معیشت میڈیا نے اپنا کل ہند معاشی و تجارتی اجلاس ممبئی کے اسلام جمخانہ میں منعقد کیا اور نیشنل برانڈ ایوارڈس میں دیگر کمپنیوں کے ساتھ تقویٰ جویلرس کا اندراج بھی مسابقین میں ہوا تو ٹورس میچول فنڈ کے سی ای او وقار عباس نقوی اور امامیہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بانی سید محمد قائم نے پہلا انعام بھی تقویٰ جویلرس کے نام ہی موسوم کیا۔یقیناً ۲۰۱۹؁ میں تقویٰ جویلرس کے لئے یہ بڑی کامیابی تھی کہ کارپوریٹ کمپنیوں کے سربراہان بھی اس بات سے متاثر ہوئے کہ انہوں نے ’’نیشنل برانڈ آف دی ایئر ۲۰۱۹؁‘‘کے ایوارڈ کا اعلان کیا جسے امریکہ سے تشریف لائے مشہور تاجر ،مفکر فرینک اسلام نے اسراربھائ ممبراوالے کو تفویض کیا۔یہ پہلا برس نہیں تھا جب تقویٰ جویلرس نے انعام حاصل کیا ہو بلکہ ۲۰۱۸؁ میں جب مائیکرواسمال اور میڈیم انٹرپرائیزیزکے لئے بلوزوم میڈیا کی جانب سےبزنس سمٹ اور ایوارڈ پروگرام منعقد ہوا تو تقویٰ جویلرس کو ’’دی آئیکونک برانڈ 2018برائے جویلری‘‘ایوارڈ ورلی میں واقع دی نیشنل اسپورٹس کلب آف انڈیا میں منعقدہ رنگا رنگ پروگرام میں سینئر لیڈر مہاراشٹر کے کابینی وزیر سبھاش دیسائی کے ہاتھوں تفویض کیا گیاتھا۔
کہتے ہیں کہ اگر نیت صاف ہواور اسی کے ساتھ برانڈ کی مارکیٹنگ کا ہنرموجود ہو تو خریدار خود بخود آتے ہیں ۔تقویٰ جویلرس نے جس خوبصورتی سے اپنی مارکیٹنگ کی ہے یہ بہت کم مسلم تاجرگھرانوں میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔مارکیٹنگ کا یہ کمال کہ اگر کوئی سونا چاندی کے بارے میں سوچے تو فوراً تقویٰ کا نام آجائے اپنے آپ میں انفرادیت عطا کرتا ہے۔916 BIS Hallmarkجویلری اگر 100%گارنٹی کے ساتھ صدفی صد Buybackملے تو کونسا خریدار ہے جو اس موقع کا فائدہ نہیں اٹھائے گا۔اسی طرح ’’نقد یا بدلے میں پیسہ کاٹا نہیں جائے گا‘‘وہی کہہ سکتا ہے جو گہرائی کے ساتھ اس تجارت پر نظر رکھے ہوئے ہو۔اسرا بھائی کہتے ہیں ’’ہم لوگ شرعی اصولوں کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ جہاں ہم خالص زیورات فروخت کر رہے ہیں وہیں بائی بیک گارنٹی بھی ہماری پہچان ہے۔چونکہ اس تجارت میں مسلمانوں کی کمی رہی ہے لہذا اس کے رموز و نکات سے بہت کم لوگ واقف ہیں ۔ہم نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ گہرائی تک اس تجارت کو سمجھا جائے اور خریداروں کو کہاں کہاں سہولت پہنچائی جاسکتی ہے اس کا جائزہ لیا جائے تاکہ مارکیٹ پر جو مونوپولی قائم ہے اس کا خاتمہ کیا جاسکے یقیناً جب سے ہم لوگوں نے باگ ڈور سنبھالی ہے خریداروں کا بھرپور فائدہ ہوا ہے۔ لوگوں کا اعتماد ہمارے اوپر اس قدر بحال ہوا ہے کہ دور دور سے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور سونے چاندی کے زیورات خرید کر لے جاتے ہیں ۔انہیں جہاں خالص ہونے پر اطمینان ہوتا ہے وہیں اس بات پر بھی مطمئن ہوتے ہیں کہ اگر سال چھ ماہ بعد ہم دوسری ڈیزائن پسند کریں گےتو یہاں ہمیں نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘
موجودہ تاجروں کا ایک عام ٹرینڈ یہ ہے کہ گراہکوں سے جس طرح بھی منافع کمایا جاسکے اسے کمایا جائے خواہ گراہکوں کی کمر ہی کیوں نہ ٹوٹ جائے اسی طرح معاشرے کو وہ رقم نہ لوٹائی جائے جو کثیر منافع کے ذریعہ کمائی گئی ہےحالانکہ حکومت نے کارپوریٹ کمپنیوں کو اس بات کے لئے مجبور کیا ہے کہ وہ سماجی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اپنے منافع کی ایک رقم سوشل کارپوریٹ رسپانسبلیٹی (CSR)کے بطور خرچ کریں ۔تقویٰ جویلرس نے ابتداء سے ہی اپنی سماجی ذمہ داریوں کو محسوس کیا ہے اور ان سماجی پروگرامس میں وہ بھر پور حصہ لیتےرہے ہیں جو سماج کو فائدہ پہنچا سکیں۔
اسرار بھائی کہتے ہیں ’’ہم حتی المقدور ان نیک کاموں میں شامل رہتے ہیں جو سماج پر مثبت اثرات منتقل کرنے والے ہوں۔تعلیم وتعلیم،غریبوں کی امداد،تعلیمی وظائف ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہیں اور الحمد للہ ہم اس سلسلے میں اپنی حد تک بھر پور کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تقویٰ جویلرس نے جیسے ہی سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی کا اندراج کرایا اور انسٹاگرام،ٹیوٹر،فیس بک پر اپنے پوسٹ ڈالنا شروع کئے تو فالورس کی قطار لگ گئی ۔دراصل جو بھی نئے ڈیزائنس ہیں یا پھر نئی اسکیم ، اس کا فوری اعلان سوشل میڈیا سائٹ پر کردیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں جاکر نہ صرف خریدار موجودہ آفرس سے باخبر ہو جاتے ہیں بلکہ نئے نئے ڈیزائنس کا بھی مشاہدہ کر لیتے ہیں۔اسرار بھائی ممبرا والے کہتے ہیں ’’ہماری دکان جمعہ کو جمعہ کی نماز کے بعد بھی کھل جاتی ہے جبکہ تمام دنوں کی طرح اتوار کے روز بھی ہم اپنی خدمات پیش کرتے ہیں لہذا اگر کوئی ممبرا میں رہائش پذیر ہے تو دوست اپارٹمنٹ کوسہ تشریف لائے۔اگر وہ ملاڈ میں ہو تو اسکواٹرس کالونی آئے ،اسی طرح میرا روڈ کے نیا نگر میں ہم سے رابطہ کرے۔اگر وہ باندرہ میں ہو تو اسٹیشن کے نزدیک ہی لکی ریسٹورنٹ کے قریب ہمارے شو روم میں تشریف لائے۔جوگیشوری کے بہرام باغ میں ہماری موجودگی سے فائدہ اٹھائے جبکہ پونہ کے کونارک مال ،کونڈوااور مومن پورہ میں ہمارا شو روم اپنی آب و تاب کے ساتھ اپنی خدمات پیش کر رہا ہےجہاں ہر جانے والے کا بھر پور خیرمقدم کیا جاتا ہے‘‘۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*