بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / اسلامی معاشیات کے بنیادی شرائط

اسلامی معاشیات کے بنیادی شرائط

معاشی تجزیہ کاروں کو مستقبل میں تجارت کے فروغ کی امید

   ابونصر فاروق

اسلامی معاشیات پربات کرنے والوں کو درج ذیل باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے:
(1)معاشی نظام کی اپنی الگ کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔معاشی نظام سیاسی نظام کا ایک حصہ ہوتا ہے۔کسی بھی مقام پر جو نظام سیاست ہوگا اس کا معاشی نظام اسی نظام سیاست کے ماتحت ہوگا۔سرمایہ دارانہ سیاسی نظام کا معاشی نظام بھی سرمایہ داری اصولوں کے ماتحت ہوگا۔ سوشلسٹ سیاسی نظام کا معاشی نظام بھی سوشلزم اصولوں کے مطابق ہوگا۔اور اسی طرح اسلام کا معاشی نظام بھی دنیا میں اسی وقت قائم اور نافذ کیا جاسکے گا جب سیاسی نظام بھی اسلامی اصول و ضوابط کے مطابق ہوگا۔
(2)اسلام اپنے آپ میں ایک مکمل نظام زندگی ہے۔یہ ایسا نظام حیات ہے جو اپنے شروع ہونے سے قیامت تک ایک ہی طرح کا رہے گا۔ اس کے بنیادی اور اساسی قاعدے قانون میں پوری دنیا مل کر بھی اگر چاہے گی تو کوئی تبدیلی نہیں کر سکتی ہے۔ایسا اس لئے کہ یہ نظام اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا اور وحی کے ذریعے زمین پر اتارا ہوا ہے۔اس کی مکمل وضاحت اور صراحت اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے اپنی پوری حیات پاک میں کر کے دکھا دی اور اس کو پوری طرح نافذ کر کے اس پر عمل درآمد بھی کرا دیا۔یہ ایک ایسا عملی نمونہ ہے جس پر قیامت تک ہر طرح کے مسلمانوں کو عمل کرنا ہوگا۔جو مسلمان اس کے خلاف کرے گا وہ مسلم اور مومن کے زمرے سے خارج ہو کر کافر و مشرک یا منافق مانا جائے گا۔
(3)دور حاضر میں پوری دنیا کے اندرسیاسی نظام یا تو آمریت ہے، یا شہنشاہیت یا مغربی جمہوریت، یا اشتراکیت۔ یہ سب کے سب اسلام کے دشمن اور مخالف ہیں۔یہ سارے سیاسی نظام اسلامی نظام کے کسی قانون اور اصول کو اپنی حکومت میں نافذ کئے جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ان کے تحت اگر کوئی اسلامی اصول نافذ کرنے کی کوشش ہو گی بھی تو وہ ان کے ماتحت ہوگی ۔ ان سے آزاد ہو کر نہیں ہو سکتی ہے۔
(4)اسلام اللہ کا بھیجا ہوا دین حق ، ایک آزاد اور خود مختار نظام حیات ہے۔یہ زمین پر جب بھی نافذ ہوگا تو حاکم بن کر ہو گا محکوم بن کر نہیں۔جو لوگ کسی باطل نظام کے تحت اسلامی نظام کا قیام چاہتے ہیں وہ اسلامی نظام کے فطرت کے خلاف کام کرنا چاہتے ہیں۔
(5)باطل نظام رواداری اور آزادی کی بات زیادہ سے زیادہ یہ کرتا ہے اور کرے گا کہ اپنے ماتحت رہنے والے مختلف مذہبی اور تہذیبی گروہوں کو اپنے مذہبی اور تہذیبی رسوم و رواج کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دے گا۔لیکن انہیں اپنی مذہبی اور تہذیبی روایات میں سے کسی ایسی روایت پر عمل کرنے کی اجازت نہیں دے گا جو اس کے اپنے قانون سے ٹکراتی اور اس کی مخالفت کرتی ہو۔ مثلاً چور کا ہاتھ کاٹا جائے۔ زنا کرنے والے کو پھانسی کی سزا دی جائے۔اغلام بازی کرنے والے کو جلا کر مار دیا جائے۔پھانسی کی سزا بازار کے چوراہے پر دی جائے۔جو مسلمان شریعت کی خلاف ورزی کرتا ہے اس پر حد جاری کرتے ہوئے اسے کوڑا لگایا جائے۔جو مرد ایک نشست میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتا ہے اسے اس کو سزا دی جائے۔ضعیف والدین کی خدمت نہیں کرنے والی اولاد کو معاشرے میں کوئی عزت نہیں دی جائے۔اسلام کے بنیادی اصولوں کا انکار کرنے والے کو قتل کر دیا جائے۔
جہاں تک اسلامی بینک کھولنے کا معاملہ ہے تو دوسرے بینکوں کی طرح اس بینک کو بھی ریزرو بینک آف انڈیا سے اپنا الحاق کرانا ہوگا جس کے نتیجے میں اسلامی بینک کو اپنی جمع پونجی کا ایک معقول حصہ ریزوبینک میں جمع رکھنا ہوگا جس پر ریزرو بینک اس کو سود دے گا۔یعنی اسلامی بینک کا کام سود کمانے سے شروع ہوگا۔بینک کا ایک ہی دفتر نہیں ہوگا بلکہ مختلف جگہوں پر اس کی شاخیں بھی ہوں گی۔بینک کا کام کرنے کے لئے جتنے لوگوں کی ضرورت ہوگی ان کو ملازم رکھنا ہوگا اور ان کو تنخواہ دینی ہوگی۔بلڈنگ کرایے کی ہوگی جس کا کرایہ دینا ہوگا۔کل ملا کر ماہانہ کئی لاکھ روپے کا خرچ آئے گا اور بینک کی آمدنی کی کوئی شکل نہیں ہوگی۔بینک کی آمدنی صرف سود سے ہوتی ہے جو وہ قرض خواہوں کو قرض دے کر ان سے لیتا ہے۔جب اسلامی بینک قرض خواہوں سے سود لے گا ہی نہیں تو اس کی کوئی آمدنی ہوگی ہی نہیں۔پھر خرچ کہاں سے پورا ہوگا؟
اگر اسلامی بینک کھولنے والے بینک کی آمدنی پیدا کرنے کے لئے بینک میں جمع رقم سے کوئی کاروبار یا صنعتی کام شروع کریں گے تو اس میں فائدے کے ساتھ نقصان کا بھی اندیشہ رہے گا۔نقصان ہونے کی صورت میں نقصان کی بھرپائی کون کرے گا۔اگر اسلامی بینک میں رقم جمع کرنے والوں سے کہا گیا کہ آپ کی رقم سے کاروبار کیا جائے گا اور اس میں گھاٹا بھی ہوسکتا ہے جو آپ کو سہنا ہوگا تو کوئی بھی اسلامی بینک میں رقم جمع نہیں کرے گا،کیونکہ لوگ بچت کے لئے بینک میں رقم جمع کرتے ہیں کاروبار میں لگانے اور نقصان اٹھانے کے لئے نہیں۔کوئی اسلامی بینک اپنے کھاتہ داروں کو یہ ضمانت نہیں دے سکتا ہے کہ کھاتہ داروں کی رقم سے جو کاروبار کیا جائے گا اس میں فائدہ تو ہوگا مگر نقصان نہیں ہوگا۔بینک چلانے والے جتنے لوگ ہوں گے ان میں سے کوئی بھی اس کے لئے تیار نہیں ہوگا کہ کاروبار میں گھاٹا ہونے کی شکل میں وہ اپنی جائیداد بیچ کر بینک کا گھاٹا پورا کرے گا، جبکہ اسلامی بینک کھولنے والوں کی یہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ کھاتا داروں کے نقصان کو پورا کریں۔
آدمی اپنی پونجی سے کاروبارکرتا ہے اور ہر حال میں منافع کمانے کی کوشش کرتا ہے۔کسی کاروبار کو چلانے والے ملازموں کو یہ فکر نہیں ہوتی ہے کہ کاروبار میں فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان۔جب بینک کا پورا کاروبار ملازم چلائیں گے، کیونکہ یہ کسی بھی فرد کا ذاتی کاروبار نہیں ہے تو اس کا بات کا غالب اندیشہ ہے کہ وہ کام میں کوتاہی کریں گے اور کاروبار میں نقصان ہوگا۔بینک چلانے والے افراد میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو اپناکاروبار یا نوکری چھوڑ کر مفت میں بینک کا کام کرتا رہے گا۔
بینک چاہے اسلامی ہو یا غیر اسلامی ایسے لوگوں کی کوئی مدد نہیں کرے گا جن کے پاس قرض لینے کے لئے ضمانت میں دینے کو سونا یا چاندی نہ ہو۔بغیر کسی ضمانت کے بینک کسی کو قرض دیتا ہی نہیں ہے۔
مطلب یہ ہوا کہ اسلامی بینک صرف مالداروں کی مدد کرے گا جو مفلس و نادار ہیں ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔
جب اسلامی بینک کھول کر مفلس و نادار کی مدد کی ہی نہیں جاسکتی ہے توپھر ایسے بینک کھولنے کا فائدہ کیا ہوا ؟
جو لوگ مالدار ہیں وہ اپنا سرمایہ کسی خیراتی کام میں نہیں لگاتے ہیں بلکہ زمین ، فلیٹ، شیر بازار اور بانڈس خرید کر اپنا سرمایہ بڑھانے کے کاموں میں اپناپیسہ لگاتے ہیں۔ایسے لوگ کبھی اسلامی بینک کو اپنی رقم نہیں دیں گے جہاں ان کی رقم ڈی ویلو ایشن کا نقصان سہتی رہے گی۔گویا اسلامی بینکنگ کا پورا فارمولہ ٹوٹل فلاپ شو معلوم ہوتا ہے۔
دنیا میں اس وقت جتنے مسلم ممالک ہیں وہاں یا تو شہنشاہیت ہے یا مغربی جمہوریت۔یہ تمام ملک اپنے یہاں اسلامی نظام قائم کرنے کے روادار نہیں ہیں۔مصر جہاں جامعۃ الازہر نام کی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی درسگاہ تھی اور جہاں اخوان المسلمون نامی اسلامی تنظیم اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے پیدا ہوئی تھی، مصر کے صدر جمال عبد الناصر نے اخوان المسلمون کے لوگوں پر ایسا ظلم و ستم ڈھایا کہ اس کی تفصیل سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔آج اس تنظیم پر اس ملک میں پابندی عائد ہے۔
پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا تھا، جب وہاں الیکشن ہوا تو پاکستانیوں نے ایسی تمام اسلامی تنظیموں کوووٹ نہیں دے کر ناکام بنا دیا جو پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنا چاہتے تھے۔مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش ہے ، وہاں جماعت اسلامی بنگلہ دیش اسلامی نظام قائم کرنا چاہتی تھی۔بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نے اس کے ذمہ داروں کو پھانسی دینی شروع کر دی اور ان کا جینا حرام کر دیا۔جب مسلم ممالک جو اسلام کی حمایت کر سکتے ہیں، اسلام کا ساتھ دینے کے روادار نہیں ہیں تو اسلام پسند مسلمان ان ملکوں میں اسلامی بینک کہاں سے کھولیں گے۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں اسلامی بینک کے نام پر جو ادارے کام کر رہے ہیں، جانکاروں کا کہنا ہے کہ وہ صرف دکھاوا ہے۔
مسلم ملکوں میں اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک کے نام سے جو بینک کام کررہا ہے اس کا الحاق انٹرنیشنل بینک سے ہے ۔وہ بینک مسلم ملکوں میںترقیای کاموں کے لئے قائم کیا گیا ہے۔انٹرنیشنل بینک اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک کی جمع رقم پر جو سود دیتا ہے وہ رقم اسلامک بینک ہندوستان کے ووکیشنل ایجوکشن پانے والے لڑکوں کو اسکالر شپ کی شکل میں دیتا ہے جو واپس نہیں لیتا ہے۔
مفلس اور معذورلوگوں کا اسلام سے بڑا ہمدرد اور مددگار دنیا میں کوئی ہو ہی نہیں سکتا ہے۔چنانچہ اسلام نے اس مقصد کے لئے بیت المال کا تصور دیا ہے جہاں مالداروں کی زکوٰۃ، صدقات ، خیرات، عطیات اور عنایات جمع کی جائیں گی اور ہر ضرورت مند کو اس کی ضرورت کے مطابق مدد کی جائے گی۔یہ مدد پانچ ہزار سے پانچ لاکھ تک ہو سکتی ہے۔اس کے لئے نہ کسی ضمانت کی ضرور ت ہے نہ کسی سفارش کی۔جو لوگ اسلام سے نسبت رکھتے ہیں ان کو ضرورت مندوں کی مدد کے لئے بیت المال قائم کرنا چاہئے نہ کہ بینک کھولنے کے جنون میں مبتلا ہونا چاہئے۔بینک کھول کر مالداروں کی مدد کی جاسکتی ہے مفلس اور ناداروں کی کوئی مدد نہیں کی جاسکتی ہے۔
باطل نظام میں رہتے ہوئے اس کے سوا کچھ نہیں کیاجاسکتا ہے کہ حرام چیزوں کے استعمال اور حرام کاموں میں ملوث ہونے سے جس حد تک بچاجاسکتا ہے بچا جائے، چاہے اس کی خاطر زندگی تنگی اور ترشی کے ساتھ ہی کیوں نہ گزارنی پڑے۔جہاں اس سے گریز ممکن نہیں ہے شریعت اسے اضطرار کہہ کر بقدر ضرورت اس کو اپنانے کی اجازت دیتی ہے، اس لئے کراہیت کے ساتھ اس کو قبول کرنا چاہئے۔جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ باطل کی بہتی گنگا میں صرف ہاتھ ہی نہیں دھوئیںبلکہ ڈبکیاں لگاکر نہائیں بھی، تو ان کو ایسا کرنے سے کون روکتاہے۔مگر باطل سے ساز باز کرتے ہوئے اسلام پسند ہونے کا ڈھونگ نہ رچائیں۔ایسا کرنا جرم عظیم ہے۔قرآن شروع میں اعلان کرتا ہے کہ ’’لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے مگر وہ ایمان والے نہیں ہیں۔ اللہ اور سچے ایمان والوں کے ساتھ فریب کر رہے ہیں۔ اور درحقیقت وہ خود اپنے آپ ہی کے ساتھ فریب کر رہے ہیں،لیکن وہ اس کوسمجھتے نہیں ہیں۔‘‘
اسلامی بینک کھولنے کا مضمون ویسا ہی ہے جیسے شراب کی بوتلوں پر اسلامی شراب کا لیبل لگا دیا جائے۔جوئے خانوں پر اسلامی جوئے خانوں کا بورڈ آویزاں کر دیا جائے اور قحبہ خانوں کو اسلامی قحبہ خانوں کا نام دے دیا جائے اور کہا جائے کہ مسلمان ہو تو اسلامی شراب پیو،اسلامی جوئے خانوں میں جوا کھیلو، اسلامی قحبہ خانوں میں آ کر زنا کاری کرو۔اسلام کی حقانیت اور روحانیت سے ناواقف اور محروم لوگ جو تماشہ کر رہے ہیں اس پر افسوس کرنے کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے۔

مضمون نگار سے رابطہ کے لئے

رابطہ:8298104514-6287880551

 

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*