بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / مدارس سے دینی تعلیم کا فروغ ہوتا ہے، دہشت گردی نہیں

مدارس سے دینی تعلیم کا فروغ ہوتا ہے، دہشت گردی نہیں

فرینک ایف اسلام

فرینک ایف اسلام

فرینک اسلام
امریکہ میں مشہور ہند نڑاد صنعت کار و شہری حقوق کے رہنما فرینک اسلام نیہندوستان میں دینی مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنے کی مذموم کوششوں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ دینی مدارس مذہبی تعلیم کو فروغ دیتے ہیں اور ان کا دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔تاہم انہوں نے مدارس کو مرکزی دھارے کی تعلیم سے جوڑنے کے لیے مدارس کے نصاب تعلیم میں ترمیم اور اصلاح کا مشورہ دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلامی اداروں کو ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف آواز اْٹھانا چاہیے۔
فرینک اسلام نے کہا ” ذاتی طور پر میرا ماننا ہے کہ مدارس کی اکثریت مذہبی تعلیم کے فروغ کیلئے کام کررہی ہے اور دہشت گردی سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہے۔لیکن مدارس بذات خود اپنے بارے میں پیدا شدہ تصورات کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ ایسا صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف آواز اْٹھائیں۔ ”
اْنھوں نے کہاکہ مدارس کے ذمہ داروں کو دیگر مذاہب کے قائدین سے بھی ربط رکھنا چاہئے تاکہ ہندوستان میں بین مذہبی امن و ہم ا?ہنگی کی ترغیب دی جاسکے۔ فرینک اسلام نے مزید کہاکہ ’مَیں اس ضمن میں مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے درمیان رابطوں کی ضرورت پر بھی زور دے چکا ہوں اورآئندہ بھی ایسا کرتا رہوں گا”۔
ان کے مطابق مدارس کو اپنے نصاب تعلیم میں ترمیم کرکے اس کو متنوع بنانا چاہیے اور اپنے پورے نظام تعلیم میں توازن پیدا کرنا چاہیے۔
انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ “سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ مدارس اسلام پر مرکوز تعلیم دیتے ہیں اور بہت سارے معاملات میں صرف اسلامی تعلیم ہی دیتے ہیں۔ اور ساری تعلیم کا حصول اور اس کی تشریح محض ایک مذہب کے زاویے سے ہی کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس سے طلبہ میں کوتاہ نظری پیدا ہوتی ہے جوان کو بڑے پیمانے پر معاشرے کے سماجی اورمعاشی تانے بانے میں شمولیت سے روکتی ہے۔ ”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ”ابتدائی سالوں میں سائنس ، ٹکنالوجی اور ریاضی جیسے مضامین پر زور دینا چاہیے اوراس کے بعد طلبہ کو پیشہ ورانہ اورتکنیکی تربیت سے ملازمت کے لائق بنانا چاہیے۔ اور اس سے طالب علم کے لیے آگے کی تعلیم کی تیاری آسان ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب کے ساتھ مل کر آگے بڑھا جائے نہ کہ الگ تھلگ ہوکر۔”
انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذریعہ فارغین مدارس کے لیے چلائے جارہے برج کورس کی ستائش کی۔
“مجھے جلد ہی پتہ چلا ہے کہ اے ایم یو نے مدارس کے فارغین کے لیے برج کورس کے نام سے ایک سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ یہ طلبہ یونیورسٹی کے دیگر کورسز میں داخلہ کے اہل ہوسکیں۔ ”
“اس کورس میں انگریزی، انفارمیشن ٹکنالوجی اور شخصیت سازی جیسے مضامین شامل ہیں تاکہ مدارس کے طلبہ ایک سیکولراور منفرد تعلیم سے مزید تنومند اورجامع تعلیم کے ماحول میں جانے کے لیے تیار ہوسکیں۔”
فرینک اسلام کی پیدائش اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع کیایک اوسط خاندان میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم آبائی وطن اور پھر وارانسی میں ہوئی پھر مزید تعلیم کے لیے وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے کمپیوٹر سائنس میں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کیا جہاں بعد میں انہوں نے اپنا بزنس بھی شروع کردیا۔ چند سالوں کی سخت محنت کے بعد ان کا شمار کامیاب تاجروں میں ہونے لگا۔ دوسال قبل انہوں نے اپنے مادر علمی اے ایم یو میں بزنس مینجمنٹ اسڈٹیز کے لیے 12 کروڑ کا عطیہ دیا۔
مدارس کے حوالے سے ان کے خیالات کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند دن قبل اعظم گڑھ کے ایک مدرسہ سے فارغ التحصیل طالب علم شاہد رضا خان نے یونین پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا۔ ان کا آبائی وطن تو بہار کے ضلع گیا میں ہے جہاں انہوں نے بارہویں تک کی تعلیم حاصل کی لیکن اس کے بعد انہوں نے ب عالمیت کی تعلیم کے مبارک پور اعظم گڑھ میں واقع جامعہ اشرفیہ میں داخلہ لیا۔ وہاں سے فراغت کے بعد وہ دہلی منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سیعرب زبان میں بی اے، ایم اور ایم فل کی اسناد حاصل کیں اور فی الحال جے این یو ہی سے عربی زبان وادب میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*