بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / “عورتوں کو مسجدوں سے مت روکو”

“عورتوں کو مسجدوں سے مت روکو”

مسجد نبوی

مسجد نبوی

کمرہ عدالت سے بہت پہلے دربار رسالت کا فیصلہ
محی الدین غازی
ایک بار کا ذکر ہے، میں عورتوں اور بچوں کے قافلے کے ساتھ ایک مسجد کے پاس سے گزرا، عصر کی نماز ہوچکی تھی، اور مسجد میں چند لوگ بچے رہ گئے تھے، ہم گھر سے قریب سو میل دور تھے اور مغرب کا وقت قریب تھا، مسجد دیکھ کر ہم لوگ رک گئے کہ عصر کی نماز ادا کرلیں۔ مسجد کافی بڑی تھی، لیکن اس میں عورتوں کے لئے الگ سے انتظام نہیں تھا۔ ہم نے سوچا کہ عورتیں بھی وضو کرکے وہیں ایک طرف نماز ادا کرلیں۔ عورتیں مسجد میں داخل ہوئی ہی تھیں کہ نہ صرف مسجد کے بلکہ محلے کے لوگ بھی جمع ہوگئے، اور انہوں نے کہا عورتیں مسجد میں نہیں جاسکتی ہیں، میں نے کہا: کم از کم انہیں وضو کرلینے دیں، نماز کہیں راستے میں کچھ بچھا کر ادا کرلیں گے، لیکن وہ لوگ اس کے لئے بھی تیار نہیں ہوئے، میں نے کہا: اگر ان عورتوں کی نماز قضا ہوئی تو اس کا گناہ کس پر ہوگا؟ اس کا جواب ان میں سے کسی کے پاس نہیں تھا۔ آخرکار محلے کے ایک صاحب نے پیش کش کی کہ عورتیں ان کے گھر جاکر وضو کرکے نماز ادا کرلیں۔ ہمیں بھی نماز ادا کرنے کی فکر تھی، مسجد میں نماز پر اصرار نہیں تھا۔ اس لئے ان کا شکریہ ادا کرکے نماز ادا کرلی گئی۔
دوران سفر ایسا بھی بہت بار ہوا کہ ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹیشن کے باہر مسجد ہونے کے باوجود خواتین نے پلیٹ فارم پر نماز ادا کی، صرف اس وجہ سے کہ سامنے والی مسجد میں عورتوں کا انتظام نہیں ہے، وہ صرف مردوں والی مسجد ہے، اور اس میں عورتوں کا داخلہ منع ہے۔ ایسا تو بار بار دیکھا کہ کسی بازار میں مرد صاحب تو مسجد میں نماز ادا کرنے گئے ہیں، اور ان کی خاتون باہر کھڑی انتظار کررہی ہیں۔
یہ صورت حال تشویش ناک ہے، اور ہم سے سنجیدہ غور وفکر کا تقاضا کرتی ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے عورتوں کو بتایا کہ ان کے لئے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے، بعض علماء نے باہر کے فتنوں کا لحاظ کرکے فتوی دیا کہ عورت کا نماز کے لئے گھر سے مسجد جانا مکروہ ہے، یہ باتیں اپنی جگہ قابل لحاظ ہیں۔ مگر کیا شریعت نے کسی کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ عورتوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکے؟ یعنی یہ فیصلہ عورت کو کرنا ہے کہ وہ افضل طریقے پر گھر میں نماز پڑھے یا کسی بھی وجہ سے مسجد میں نماز پڑھے، یا یہ اختیار مسجد کی کمیٹی کو ہے کہ وہ عورت کو مسجد میں داخل ہونے سے روکے؟
اگر عورت کا سرپرست یا اس کا شوہر عورت کو مسجد میں جانے سے نہیں روک رہا ہے، تو پھر دوسرے کسی مرد کو اسے روکنے کا اختیار کہاں سے مل جاتا ہے؟
اور اگر عورت اپنے شوہر یا سرپرست کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنے جارہی ہے، تو آخر کس دلیل سے اسے روکا جاسکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکنا حکم رسول کی صریح خلاف ورزی ہے، اور کھلا ہوا ظلم ہے۔
یہ تصور بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ جس مسجد میں عورتوں کے لئے الگ سے انتظام نہیں ہے، وہ مسجد صرف مردوں کی مسجد ہوتی ہے، اور اس کے کسی گوشے میں بھی عورت کو نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مردوں کی مسجد کا تصور ہی غلط اور بے بنیاد ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عورتوں کے الگ انتظام کا تصور بعد کی پیداوار ہے۔ رسول پاک ﷺ کی مسجد میں عورتوں کے لئے دروازہ تو الگ تھا مگر مسجد کے اندر ان کے لئے الگ سے کوئی مسجد نہیں تھی۔ مجھے علیحدہ انتظام پر بالکل اعتراض نہیں ہے، جہاں مناسب معلوم ہو وہاں علیحدہ انتظام بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن میں یہ بات زور دے کر کہتا ہوں کہ جس مسجد میں عورتوں کے لئے الگ سے انتظام نہ ہو، وہ صرف مردوں کی مسجد نہیں بلکہ عورتوں اور مردوں دونوں کی مسجد ہوتی ہے۔
اس پر سوچنا چاہئے کہ اصل مسئلہ عورتوں کا گھر سے باہر نکلنا ہے یا ان کا مسجد میں داخل ہونا ہے؟ جب ہم بار بار یہ کہتے ہیں کہ ہم عورت کی حفاظت کے لئے اسے مسجد میں جانے سے روک رہے ہیں، تو ایک بہت غلط پیغام جاتا ہے، اور وہ یہ کہ مسجد میں آنے والے مرد نمازی اخلاقی لحاظ سے بہت کمزور ہوتے ہیں، اور ان سے عورتوں کو شدید فتنہ لاحق ہوسکتا ہے۔ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح ذہنوں میں بیٹھ گئی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ پہلے عشاء اور فجر کی اندھیرے والی نمازوں میں راستے کے خطروں کے پیش نظر عورتوں کو مسجد میں جانے سے گھر والوں کی طرف سے منع کیا جاتا تھا۔ باقی دن کی نمازوں میں مسجد جانے پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا تھا۔ بعد میں ایک اور بات یہ بھی شامل ہوگئی کہ پہلے عورتیں گھر سے بہت کم نکلا کرتی تھیں، اور اندیشہ یہ ہونے لگا کہ مسجد جانے کے بہانے سے کوئی عورت برے ارادے سے گھر سے نکل جائے۔ گویا کسی بھی وجہ سے گھر سے عورتوں کا نکلنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ لیکن جہاں تک مسجد کی بات ہے، تو عورتوں کے مسجد میں داخل ہونے میں تو کسی طرح کی کوئی قباحت ہے ہی نہیں، کیوں کہ مسجد کے اندر نہ تو کوئی خطرے کی بات ہے اور نہ ہی کسی فتنے کا اندیشہ ہے، مسجد تو محفوظ اور پاکیزہ مقام ہے۔ اب ایک عورت اگر کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکل ہی گئی ہے، اور نماز کا وقت ہے، مسجد سامنے ہے، تو مسجد میں داخل ہونے سے اسے روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
ذہنوں میں کہیں سے یہ بات بھی بیٹھ گئی ہے کہ عورتوں کے مسجد میں داخل ہونے سے مسجد کا تقدس مجروح ہوجاتا ہے۔ اور یہ بہت خطرناک بات ہے۔ یہ بات آپ کو کہیں لکھی ہوئی نہیں ملے گی، لیکن عملی صورت حال یہی ہے، کوئی اپنی بیوی کے ساتھ مسجد کے امام سے کوئی مسئلہ پوچھنے جائے، امام صاحب مسجد سے باہر نکل کر ان سے مسئلہ سنیں گے، حالانکہ سلیقے کی بات یہ ہے کہ مسجد میں اطمینان سے بیٹھ کر مسئلہ سنا جائے۔ لیکن ذہن یہ قبول کرنے کو تیار ہی نہیں ہے کہ عورت مسجد کے اندر آکر بیٹھ سکتی ہے۔ یہاں تک کہ بھیک مانگنے والے مرد تو مسجد کے اندر آکر بھیک مانگ لیتے ہیں، لیکن عورتیں باہر سڑک پر کھڑے ہوکر بھیک مانگنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ یہ تصور یقینی طور سے دوسری قوموں کی طرف سے مسلمانوں میں آگیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مسجد میں عورتوں کے جانے سے مسجد کے تقدس اور وقار پر ذرا بھی اثر نہیں پڑتا ہے۔ بلکہ ہر مسجد مردوں اور عورتوں دونوں کی ہوتی ہے۔
رسول پاک ﷺ کے زمانے میں عورتیں بلا روک ٹوک ہر نماز میں مسجد آیا کرتی تھیں، ان کے لئے الگ سے انتظام نہیں تھا، مردوں کے پیچھے آخری صفیں عورتوں کی ہوا کرتی تھیں، ایک خاتون نے تو مسجد کی صفائی اپنے ذمے لے رکھی تھی۔ بعد میں زمانے کی خرابی کے پیش نظر اس پر زور دیا جانے لگا کہ عورتیں گھر میں رہیں، اور نماز بھی گھر میں ہی ادا کریں۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں عورتیں گوناگوں اسباب کی بنا پر گھر سے باہر نکلنے لگی ہیں، مسلم بستیوں کے راستے اور بازار برقع پوش عورتوں سے آباد نظر آتے ہیں، ایسی گھر سے باہر نکلنے والی عورتوں کے لئے مسجد میں جانا بہت مناسب بات ہے، وہاں کا پاکیزہ ماحول انہیں باہر کے بہت سے فتنوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ گھر سے باہر والی عورتوں کو مسجد میں نماز ادا کرنے سے روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
التجا ہے کہ ہندوستانی مسلمان کمرہ عدالت کے فیصلے کے سامنے سرنگوں ہونے کے بجائے، فورا دربار رسالت کے فیصلے کے آگے سرتسلیم خم کردیں۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی بندیوں کو مسجد آنے سے نہ روکو”۔ ایک طرف مسلمان اپنی عملی اصلاح کریں، مسجد کے دروازے عورتیں کے لئے بھی کھول دیں، اور دوسری طرف ملک کی عدالت کو صاف صاف بتادیں کہ ہمارے یہاں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ بس یہی عزت اور بھلائی کا راستہ ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*