بنیادی صفحہ / کارپوریٹ / کیا مودی حکومت نے ملک کا ۲۰۰؍ٹن سوناسوئٹزر لینڈ کے حوالے کردیا؟

کیا مودی حکومت نے ملک کا ۲۰۰؍ٹن سوناسوئٹزر لینڈ کے حوالے کردیا؟

 صحافی نونیت چترویدی

صحافی نونیت چترویدی

نیشنل ہیرالڈ میں شائع خبر کے مطابق ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی سرمائے کو نقصان پہنچایا ہے
نئی دہلی : مودی حکومت نے اپنے قیام کے فوراً بعد مئی ۲۰۱۴ء میں ریزرو بینک آف انڈیا کا ۲۰۰؍ٹن سونا خفیہ طور پر بیرون ملک ایک بینک کو بھیج دیاتھا۔ یہ بات جنوبی دہلی سے لوک سبھا انتخابات لڑ رہے ایک امیدوار نے کہی ہے۔نیشنل ہیرالڈ میں شائع خبر کے مطابق پیشہ سے ایک تحقیقی صحافی نونیت چترویدی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس بیان پر آرٹی آئی کے ذریعہ حاصل کی جانے والی معلومات کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے کے بعد پہنچے ہیں۔ انہوں نے آر ٹی آئی داخل کی تھی اور آر بی آئی میں سونے کے ذخائر کے بارے میں معلومات مانگی تھیں ۔جس کے بعد انہوں نے گزشتہ سال کی آر بی آئی کی سالانہ رپورٹ کا مطالعہ کیا ، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ غائب ہوا ۲۰۰؍ٹن سونا وہی ہے جو منموہن سنگھ حکومت نے ۲۰۰۹ء میں انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ سے خریدا تھا ۔ ۲۰۰۹ء میں انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ کے سونے فروخت کرنے کے ایک پروگرام کے ذریعہ ہندوستان نے ۳۱؍ہزار ۴۹۰؍کروڑ روپے کا سونا خریدا تھا ۔
اگست ۲۰۱۸ء میں داخل کی گئی ایک آرٹی آئی کے ذریعہ آر بی آئی سے پوچھا گیا کہ اس کے ناگپور کے سونے کے ذخائر میں کتنا سونا ہے ؟ جس کے جواب میں ریزرو بینک آف انڈیا نے کہا کہ بینک کے قوانین کے مطابق وہ یہ معلومات نہیں دے سکتا۔ اسی آر ٹی آئی میں ایک اور سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا آر بی آئی کے بیرون ممالک میں سونے کے ذخائر ہیں؟ جس کے جواب میں آر بی آئی نے کہا تھا ’آر بی آئی ، بیرون ممالک میں ۲۶۸ء۰۱؍ٹن سونے کے ذخائر رکھتا ہے اور یہ سونا ’بینک آف انگلینڈ‘ اور ’بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ‘ میں ہیں۔چترویدی کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ سونا بیرون ملک رکھنے کے عوض کیا پایا؟ اور اتنی بڑی مقدار میں سونا بیرون ملک لے جانے کی بات آخر عوام سے کیوں چھپائی گئی ؟ چترویدی کا کہنا ہے کہ آر بی آئی کی ۲۰۱۱ء سے ۲۰۱۵ء تک کی رپورٹ کا مطالعہ کرنے کے بعدہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس میں ضرور کچھ گڑ بڑہے۔ آر بی آئی کی ۳۰؍جون ۲۰۱۱ء کی سالانہ رپورٹ میں یہ سونا ہندوستان میں تھا ۔ ۳۰؍جون ۲۰۱۴ء کی رپورٹ میں بھی یہی بات کہی گئی ہے اور تب ہی یہ سونا منتقل کرنے کا عمل شروع ہوا۔ اگلے سال یعنی ۲۰۱۵ء کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سونے کا کچھ حصہ بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ سوئٹزر لینڈ میں رکھا گیا ہے جبکہ باقی ہندوستان میں ہے ۔سونے کو سوئزر لینڈ لے جانے کی بات عوام کے علم میں کیوں نہیں لائی گئی ؟ حکومت کچھ چھپا رہی ہے ۔ اس بارے میں آر بی آئی سے یکم مئی کو جواب طلب کیا گیا ہے جس کا بینک نے اب تک جواب نہیں دیا ہے ۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*