بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / رمضان المبارک میں دلی کیفیت کی فکر کریں

رمضان المبارک میں دلی کیفیت کی فکر کریں

روہنگیائی مسلمان ؛فائل فوٹوبہ شکریہ سن ڈاٹ ایم وی

(تراویح آٹھ والی بھی سنت ہے اور بیس والی بھی سنت ہے)

مولانا محی الدین غازی فلاحی

ضلع اعظم گڑھ میں بلریاگنج ایک معروف قصبہ ہے۔ تین سال پہلے کی بات ہے، اللہ سلامت رکھے، چاروں بڑے بچوں نے تراویح کی نماز پڑھائی۔بڑی بچی نے گھر میں محلے کی عورتوں کی امامت کی، اور تینوں بچوں نے تین مسجدوں میں امامت کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان چار میں سے دو نے آٹھ رکعت والی تراویح پڑھائی، اور دو نے بیس رکعت والی تراویح پڑھائی۔ بلریاگنج والوں کے لئے یہ بات ذرا بھی انوکھی اور قابل ذکر نہیں ہے۔میرے چھوٹے بھائی ذوالقرنین حیدر نے یہاں دس سال تراویح پڑھائی، پانچ سال آٹھ رکعت والی اور پانچ سال بیس رکعت والی۔ یہاں کوئی یہ نہ سوچے کہ رکعتوں پر ایسا سمجھوتہ معاوضہ وغیرہ کی خاطر کرلیا جاتا ہے۔ بلریاگنج کی مسجدوں میں تراویح پڑھانے والوں کو نہ معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی ہدیہ ملتا ہے، بلکہ اکثر ختم قرآن کے موقع پر شیرینی بھی حافظ صاحب کے گھر والے ہی تقسیم کرتے ہیں، اس کی اولین نظیر محترم منشی انور صاحب نے قائم کی، کوئی بیس سال پہلے کی بات ہے، ان کے گھر کے حافظ بچوں نے کئی سال دونوں طرح کی مسجدوں میں تراویح پڑھائی، ختم کی رات شیرینی کا انتظام منشی جی ان تمام مسجدوں کے لئے خود کیا کرتے تھے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ یہاں کی مسجدوں میں قرآن پاک صاف صاف اور قدرے ترتیل سے پڑھا جاتا ہے، آٹھ رکعت والی تراویح ہو یا بیس رکعت والی۔بلریاگنج کی خاص خوبی یہ ہے کہ یہاں حنفی اور اہل حدیث مسجدیں نہیں ہوتی ہیں، بلکہ آٹھ رکعت والی اور بیس رکعت والی مسجدیں ہوتی ہیں۔ جس کے گھر سے جو مسجد قریب ہوتی ہے وہ وہاں نماز پڑھ لیتا ہے، چاہے وہ حنفی ہو یا اہل حدیث۔بلریاگنج کا خصوصی ذکر اس لئے کیا کہ تراویح کے معاملے میں ملک کے بہت سے علاقوں کی صورت حال تشویش ناک حد تک خراب ہے۔ سوشل میڈیا کا حال تو یہ ہے کہ رمضان ابھی شروع ہوا نہیں ہے اور تراویح کی تعداد پر بحث زوروں کے ساتھ چھڑ گئی ہے۔ دونوں فریقوں کے مناظرہ باز پہلوان خم ٹھونک کر اکھاڑے میں اپنے دلائل کی نمائش کررہے ہیں۔ دونوں فریق اس سال پھر وہی دلائل دوہرا رہے ہیں، جو سینکڑوں سال سے ان کے بڑے دوہراتے آئے ہیں، کچھ بھی کسی کے پاس نیا نہیں ہے۔ ایک فریق کا اصرار ہے کہ مسنون تراویح بیس رکعت ہی ہے، اور دوسرے فریق کا اصرار ہے کہ مسنون تراویح آٹھ رکعت ہی ہے۔جو لوگ آٹھ رکعت تراویح کے مخالف ہیں، ان کے پاس آٹھ رکعت والی صحیح روایتوں کا کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ہے، اور جو لوگ بیس رکعت کے مخالف ہیں، ان کے پاس بیس رکعت کے عملی تواتر کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ان کے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہیں ہے کہ اگر ان کے بقول تمام صحابہ آٹھ رکعت پڑھتے تھے، تو امام مالک، امام شافعی اور امام احمد جیسے حدیث کے اماموں کو یہ معلوم کیوں نہیں ہوا۔سنت کے بارے میں سب سے بڑی گواہی خیر القرون والی امت کی گواہی ہے۔ یاد رہے، سنت کی سب سے بڑی گواہ خود امت ہے۔ رسول پاک ﷺ کی سنت ہم تک امت در امت پہنچی ہے، اور امت کی گواہی یہی ہے کہ آٹھ رکعت تراویح بھی سنت ہے، اور بیس رکعت تراویح بھی سنت ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ سنت آٹھ ہو اور امت پہلی ہی صدی میں مکہ مدینہ سے لے کر مصر اور عراق اور شام تک بیس کی بدعت ایجاد کرڈالے، اور اس بدعت کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائے۔ اور یہ بھی ناممکن ہے کہ سنت تو بیس ہو اور امت آٹھ والی صحیح حدیثیں وضع کرلے، اور کوئی کہے نہیں کہ یہ حدیثیں تو سنت کے خلاف ہیں۔ دراصل جس طرح امت کے بہترین دور میں دونوں گنتیوں کا ذکر اور رواج ملتا ہے، یہ کہے بنا چارہ نہیں ہے کہ دونوں ہی گنتیاں سنت کے مطابق ہیں، ان میں سے کوئی بھی بدعت نہیں ہے۔ہمیشہ یاد رکھنے والی اصولی بات یہ ہے کہ جو عبادتیں پوری امت انجام دیتی ہے، ان عبادتوں کا مسنون طریقہ پوری امت کو پہلے دن سے اچھی طرح معلوم ہے۔ صدیوں بعد پیدا ہونے والوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دور اول کے لوگوں کے سلسلے میں یہ گمان رکھیں کہ وہ لوگ دین سے اس قدر ناواقف تھے کہ انہیں یہی نہیں معلوم تھا کہ تراویح جیسی برسرعام انجام دی جانے والی عبادتوں کو کس طرح انجام دیا جائے۔تراویح کی تعداد کے سلسلے میں جو اختلاف ہے دراصل وہ تنوع اور وسعت کا معاملہ ہے، افسوس امت نے تنوع کے اختلاف کو تضاد کا اختلاف بنادیا۔ امام ابن تیمیہ کی بات بالکل درست ہے کہ “تراویح کی یہ سب صورتیں اچھی ہیں”۔ اور یہی بات امت میں عام ہونی چاہئے۔

تعداد کی غیر ضروری بحث اب حد سے زیادہ فرسودہ ہوچکی ہے، ضروری ہوگیا ہے کہ اس سے آگے بڑھ کر اپنے زمانے میں تراویح کی بگڑی ہوئی کیفیت پر توجہ دی جائے، تراویح میں تیز رفتاری سے قرآن پڑھنا کھلی ہوئی بدعت ہے، اس کی روک تھام کے لئے بڑی مہم چھیڑنے کی ضرورت ہے۔ دھیان رہے کہ اس بگاڑ کی وجہ نہ تو قرآن ختم کرنے کا رواج ہے، اور نہ بیس رکعت پڑھنے والا موقف ہے، حرمین میں قرآن ختم بھی ہوتا ہے، اور بیس رکعتیں بھی ہوتی ہیں، لیکن جو بگاڑ ہمیں ہندوستان میں نظر آتا ہے حرمین کی تراویح اس سے بالکل پاک ہوتی ہیں۔ اس بگاڑ کی اصل وجہ لوگوں کے درمیان تراویح کا غلط تصور ہے، لوگوں کی ساری توجہ صرف تعداد پر جاکر رک گئی ہے، کیفیت کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہ گئی ہے۔ اس سوچ کو صحیح کرنا ضروری ہے۔سنت کی پیروی کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ پورے رمضان تراویح میں ہر رات کا بڑا حصہ لگایا جائے، ابھی صورت حال یہ ہے کہ آٹھ رکعت والی تراویح ہو یا بیس رکعت والی، رات کا بہت ہی کم حصہ (بمشکل ایک ڈیڑھ گھنٹہ) تراویح کو مل پاتا ہے۔ عام طور سے تراویح سے لطف اندوز ہونے کے بجائے تراویح کا بوجھ اتارنے کا مزاج بنا ہوا ہے۔مثالی صورت یہ ہے کہ مسجدوں میں رات کے آخری پہر تک اطمینان کے ساتھ تراویح چلتی رہے، شوق اور ہمت والے لوگ رمضان کی تمام راتیں اس طرح گزاریں جس طرح صحابہ کرام تراویح پڑھتے ہوئے گزارتے تھے، البتہ جو اتنا وقت نہیں لگاسکیں وہ تعداد کی پرواہ کئے بنا جس قدر ہوسکے شامل رہیں۔ بس مقصود واضح رہے کہ رمضان کی راتوں کا بڑا حصہ نمازوں میں مصروف رکھنا ہے۔ دارالعلوموں، دینی جماعتوں اور حلقہ ارادت والے بزرگوں کی خدمت میں مودبانہ درخواست ہے کہ اپنی خاص مسجدوں کو نمونے کی مسجدیں بنائیں، جہاں پہروں پہروں حسن تلاوت کے ساتھ تراویح پڑھتے ہوئے دور رسالت اور دور خلافت کی مسجدوں کی کیفیت کا احساس ہو۔ یقین ہے کہ ایسی مثالی مسجدوں سے نکلنے والے اچھے اثرات پورے ملک کی مسجدوں کے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد کریں گے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*