بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / علمائےکرام کا چندے کے لئے نکلنا درست نہیں

علمائےکرام کا چندے کے لئے نکلنا درست نہیں

جامع مسجد اورنگ آباد(مہاراشٹر) میںجمعہ کی نماز کے بعدمدارس اسلامیہ کے سفراء کرام چندہ کے لیےلائن لگاکر بیٹھے ہوئےہیں-کیایہ ملت کا زوال نہیں ہے کہ دینی رہنماووں کو اسلامی قلعوں کی حفاظت کے لیے مسجدوں میں فقیروں(معذرت)کی طرح بیٹھنا پڑرہا ہے۔(تصویر:معیشت)

جامع مسجد اورنگ آباد(مہاراشٹر) میںجمعہ کی نماز کے بعدمدارس اسلامیہ کے سفراء کرام چندہ کے لیےلائن لگاکر بیٹھے ہوئےہیں-کیایہ ملت کا زوال نہیں ہے کہ دینی رہنماووں کو اسلامی قلعوں کی حفاظت کے لیے مسجدوں میں فقیروں(معذرت)کی طرح بیٹھنا پڑرہا ہے۔(تصویر:معیشت)

مولانا ندیم الواجدی
رمضان کا مہینہ مدارس دینیہ کے لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ اس مہینے میں حساب سودوزیاں کرتے ہیں، گذشتہ سال کی کارکردگی کا گوشوارہ تیار کرتے ہیں اور آئندہ سال کے لئے مالیہ فراہم کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اصحاب ثروت اور ارباب خیر بھی اپنے مال کی زکوۃ نکالنے کے لئے عموماً اسی ماہ کو ترجیح دیتے ہیں، کیوں کہ اس طرح وہ اپنے ایک روپے کے بدلے دس کے بجائے سات سو گنا ثواب کما لیتے ہیں، ملک کے بڑے شہروں میں سفراء مدارس کی ہماہمی بڑھ جاتی ہے، ایک ایک شہر میں کئی کئی سو سفراء بسوں کے دھکے کھاکر مالداروں کے گھروں، دکانوں اور مکانوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور کئی کئی گھنٹوں کے بعد چند، یا چند سو یا چند ہزار روپے کی رسید کاٹ کر ان کے حوالے کردیتے ہیں، اگلے دن ان کی مصروفیت کا پھر یہی حال ہوتا ہے، بہت سے مدرسوں نے اب ملکی چندوں پر قناعت کرنی چھوڑ دی ہے، اب وہ غیر ملکوں تک بھی پہنچنے لگے ہیں، جہاں خاصی کامیابی مل جاتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ مدارس دینیہ ہمارے معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کا وجود نہ ہو تو ہمارا وہ دینی تشخص جس پر ہمیں ناز ہے باقی نہ رہے، مسجدوں میں اذانیں نہ گونجیں، منبرومحراب ویران ہوجائیں، گھر قبرستان کا نظارہ پیش کرنے لگیں کیوں کہ ان میں کوئی قرآن اور نماز پڑھنے والا نہ ہو اور ایسا گھر جس میں اللہ کا نام نہ لیا جائے اور جس میں تلاوت قرآن کی آواز نہ گونجے کسی قبرستان سے کم نہیں ہوتا، کوئی میت کو غسل دینے والا اور اس کی نماز جنازہ ادا کرنے والا نہ ملے، کوئی ایسا شخص نظر نہ آئے جو یہ بتلائے کہ دین کیا ہے، یہ فرضی باتیں نہیں ہیں، نہ کوئی خیالی داستان ہے، آزاد روسی ریاستیں اس کی گواہ ہیں، روس میں ضم ہونے سے پہلے وہاں دین کا چرچا تھا، مسجدیں آباد تھیں، کیوں کہ مدارس کھلے ہوئے تھے، علماء اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے تھے، کمیونزم کا طوفان آیا تو تمام دین پسند لوگ داخل زنداں کردئے گئے یا زندگی سے محروم کردئے گئے یا وہ لوگ چھپ کر بیٹھ گئے، آج وہ ریاستیں آزاد ہیں، لیکن مسجدیں اور مدرسے آج بھی پوری طرح آزاد نہیں ہیں، اسی لئے آزاد ریاستیں کہلانے کے باوجود آج بھی وہ اس دینی، علمی اور روحانی رونق سے محروم ہیں جو ہمیں اس ملک میں حاصل ہے، کوئی مانے یا نہ مانے یہ تمام رونقیں، یہ چہل پہل، بچوں کے سینوں میں قرآن، جوانوں اور پیروں کے چہروں پر داڑھیاں اور سروں پر ٹوپیاں، مسجدوں کے میناروں سے گونجتی اذانیں، مدرسوں کی فضاؤں میں بلند ہوتے قرآنی نغمے یہ سب مدرسوں کی دین ہیں، اللہ جزائے خیر دے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور ان کے مخلص رفقاء کار کو جنھوں نے دین کو زندہ رکھنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا اور مدرسوں کو باقی رکھنے کے لئے چندہ کرنے کا طریقہ ایجاد کیا، آج ملک ہی میں نہیں ، ملک سے باہر بھی اس نہج پر مدارس کھل رہے ہیں، چل رہے ہیں اور اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔
اس میں بھی کوئی شک وشبہ نہیں کہ مدارس اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے اصحاب خیر کے محتاج ہیں، اگر وہ لوگ فراخ حوصلگی اور کشادہ دلی کے ساتھ اپنی تجوریوں کے منہ نہ کھولیں اور داد ودہش سے کام نہ لیں تو مدرسوں کو کام کرنا مشکل ہوجائے، آج ہمارے مدرسوں کا مجموعی بجٹ ایک ہزار کڑوڑ سے زیادہ ہوچکا ہے، یہ خطیر رقم اصحاب خیر کی جیبوں سے نکلتی ہے اور ان کے مخیر ہاتھوں سے مدرسوں کے خزانے میں پہنچتی ہے، داد ودہش کا یہ سلسلہ پورے سال جاری رہتا ہے مگر رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں میں اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔
یہ تو اہل مدارس اور اصحاب خیر کے باہمی رابطوں کا ایک خوش گوار پہلو ہے، اس کے کچھ تاریک پہلو بھی ہیں جن پر پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر بحث چھڑی ہوئی ہے، بعض ذمہ دار ہستیوں نے بھی اپنے دل کے زخم سر راہ رکھ دئے ہیں، میں ان زخموں کو کریدنا نہیں چاہتا البتہ اپنے مدرسوں کی سنہری تاریخ کے چند واقعات کی کہکشاں سجانا چاہتا ہوں، اگر یہ کہکشاں آئینے کی طرح روشن ہو تو اس میں سب لوگ اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں، ارباب اہتمام بھی، سفراء مدارس بھی اور چندہ دہندگان بھی۔
بات شروع کرتے ہیں حکیم الامت حضرت تھانویؒ سے، کسی شخص نے ان سے عرض کیا کہ حضرت! دُعا فرمادیجئے، مدرسے کے مالی حالات کافی خراب ہیں، طبیعت بڑی پریشان ہے، فرمایا: مدرسہ بند کردیجئے، آپ پر فرض تو نہیں کہ مدرسہ چلائیں، چاہے انتظام ہو یا نہ ہو، پھر فرمایا: میرا اپنا معمول تو یہی ہے، اگر پیسے نہیں ہوتے تو میں اپنی طبیعت پر بوجھ نہیں ڈالتا، طلبہ اور اساتذہ کو جمع کرکے کہہ دیتا ہوں کہ پیسے ختم ہوچکے ہیں، آپ لوگ کسی دوسرے مدرسے میں جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں، فرماتے تھے کہ دین کی اشاعت وحفاظت تنہا ہماری ذمہ داری تھوڑی ہے، عوام کی بھی ہے جب انہیں فکر نہیں تو ہم کیوں پریشان ہوں، یہ بھی فرماتے تھے کہ میں علماء کے لئے چندہ کرنا پسند نہیں کرتا، اس سے ان کا وقار متأثر ہوتا ہے، آپ مالداروں کو مدرسوں کی ضرورتوں سے واقف کرادیں اس کے بعد وہ جانیں، ان کا کام جانے، حضرت تھانویؒ کے ممتاز خلیفہ، دار العلوم کراچی کے مؤسس، پاکستان کے مفتی اعظم اور تفسیر معارف القرآن کے مصنف حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی ؒ کا خیال بھی یہی تھا کہ علماء کو چندے کے لئے نہیں نکلنا چاہئے، بل کہ حفاظ کو بھی یہ کام نہ کرنا چاہئے، چندہ دینے والے انہیں بڑی حقارت سے دیکھتے ہیں، اسی لئے میں اپنے مدرسے کے مدرسین کو چندے کے لئے نہیں بھیجتا، یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کا دار العلوم نوخیز تھا، آج وہ جوانِ رعنا بن چکا ہے، لوگ خود اس کی بے مثال خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مال وزر لٹانے میں پیش پیش رہتے ہیں، ان کے بڑے صاحب زادے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی اس کے مہتمم ہیں، اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بیرون ملک کے کوئی صاحب خیر دار العلوم دیکھنے کے لئے آئے، کافی متأثر ہوئے، جاتے ہوئے کہنے لگے کہ میں کچھ رقم (جو کافی بڑی تھی) مدرسے کو دینا چاہتا ہوں، لیکن اس وقت میرے پاس نہیں ہے، میں فلاں ہوٹل میں مقیم ہوں، آپ کسی وقت تشریف لا کر وہ رقم مجھ سے وصول کرلیں، مفتی صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اُدھر کچھ کام بھی تھا، میں ان کے ہوٹل چلا گیا اور ان سے وہ رقم وصول کرلی، قریب ہی میرے شیخ ڈاکٹر عبد الحی عارفی ؒکا دولت کدہ تھا، خیال آیا کہ حضرت کی زیارت کرلی جائے، حضرت نے دریافت فرمایا، اس وقت کیسے، عموماً اس وقت میں حاضر نہیں ہوتا تھا، میں نے واقعہ عرض کیا، حضرت بہت زیادہ ناراض ہوئے، فرمایا تم پیسے لینے کیوں گئے، ان کو خود جاکر یہ رقم مدرسے میں دینی چاہئے تھی، مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت اس قدر ناراض ہوئے کہ کبھی نہیں ہوئے تھے، میں نے معافی چاہی اور حضرت کے سامنے عہد کیا کہ اب کبھی ایسا نہیں ہوگا، یہ وہ مزاج ہے جو حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے اپنے شاگردوں کا اور خلفاء کا بنایا تھا، میں حضرت کے ایسے کئی خلفاء کو جانتا ہوں جن کے مدرسے ہیں مگر کوئی باضابطہ چندہ نہیں ہے، کوئی سفیر نہیں ہے، لوگ خود دیتے ہیں، ایسے ہی ایک جلیل القدر خلیفہ تھے حضرت مولانا مسیح اللہ خاں شیروانیؒ مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد کے مہتمم، جب تک وہ حیات رہے مدرسہ توکلاً علی اللہ چلتا رہا، لوگ خود ہی بھیجتے، خود ہی آکر دیتے، مدرسے کی طرف سے کبھی کوئی سفیر چندے کے لئے نہیں بھیجا گیا۔
علماء نے خود ہی اپنی قدر وقیمت گھٹائی ہے، اگر بے نیازی دکھلائیں تو در در کے دھکے نہ کھانے پڑیں، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے سوانح نگاروں نے ان کی بے نیازی کا حال لکھا ہے کہ لوگ ان کے جوتوں میں پیسے ڈال دیا کرتے تھے اور جب وہ جوتے پہنتے تو انہیں اس طرح جھٹک دیتے جیسے کوئی کنکر پتھر جھٹکتا ہے، ان کی بے نیازی کا یہ اثر ان کی معنوی اولاد میں بھی دیکھا گیا ہے، حضرت مولانا یوسف بنوریؒ مشہور عالم دین ہیں، علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید، ترمذی کے شارح، دار العلوم بنوریہ کراچی کے بانی، ان کے حالات میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے، سوٹ بوٹ میں ملبوس ایک صاحب تشریف لائے، ان کے ہاتھ میں ایک بریف کیس بھی تھا، حضرت کو تدریس میں مصروف دیکھ کر وہ باہر برآمدے میں ٹہلنے لگے، حضرت نے انہیں دیکھا، مگر سبق جاری رکھا، سبق کا دورانیہ طویل تھا، وہ صاحب ٹہلتے رہے، اور پیچ وتاب بھی کھاتے رہے، سبق ختم ہوا تو حضرت نے انہیں بلایا، پہلے تو انھوں نے شکوہ کیا کہ مجھے ضروری کام سے جانا تھا، کافی لیٹ ہوگیا ہوں پھر عرض کیا کہ مدرسے کے لئے یہ ایک رقم لے کر آیا ہوں، پہلے تو حضرت نے فرمایا کہ سبق چل رہا تھا، سبق کے دوران میں کسی سے ملاقات نہیں کرتا، رقم کے متعلق ارشاد فرمایا کہ آپ یہ رقم کسی دوسرے مدرسے کو دیدیں، اس سال کا ہمارا بجٹ پورا ہوچکا ہے، انھوں نے بڑی منت سماجت کی، عرض کیا آئندہ سال کے بجٹ کے لئے رکھ لیں، حضرت نے فرمایا جس نے اس سال کا بجٹ پورا کردیا ہے وہ اگلے سال کا بھی کردے گا، میں یہ رقم قبول نہیں کرسکتا۔
شان بے نیازی کی یہ جھلک دار العلوم دیوبند میں بھی نظر آجاتی ہے، حضرت مولانا مرغوب الرحمن بجنوریؒ دار العلوم کے لئے بڑے فکر مند رہتے تھے، لیکن ایک طرح کی شان بے نیازی کے ساتھ، ایک مرتبہ امریکہ سے کچھ لوگ دار العلوم دیکھنے کے لئے آئے، انھوں نے دارالاہتمام میں حضرت مولانا مرغوب الرحمن سے بھی ملاقات کی، بجٹ کی بات آئی تو انھیں بتلا دیا گیا کہ اتنے کڑوڑ کا بجٹ ہے، اس وقت چودہ پندرہ کڑوڑ کا بجٹ تھا، یہ رقم سن کر وہ لوگ حیرت زدہ رہ گئے اور کہنے لگے کہ اتنا بڑا کام، اتنے طلبہ، اتنے ملازمین، اور معمولی بجٹ، یہ رقم تو صرف امریکہ والے ہی دے دیا کریں گے، دوسرا کوئی ہوتا تو خوشی سے نہال ہوجاتا، یہ دار العلوم دیوبند کے مہتمم تھے، پہلو بھی نہیں بدلا، فرمایا دار العلوم دیوبند ہندوستان کے غریب مسلمانوں کے چندے سے چلتا ہے، اور یہی اس کا امتیاز ہے، ایک مرتبہ انہی کے زمانۂ اہتمام میں کچھ لوگ یہ شکایت لے کر آئے کہ ان کا بچہ داخلے سے محروم رہ گیا، حالاں کہ اس نے فلاں جگہ محنت سے پڑھا، اس کے پرچے بھی اچھے تھے، دفتر تعلیمات سے اس طالب علم کا نتیجہ معلوم کیا گیا، پتہ چلا فیل ہے، وہ لوگ ناراض ہونے لگے، کسی صاحب کی زبان سے یہ بھی نکل گیا کہ ہم ہر سال اتنا چندہ دیتے ہیں، پہلے تو حضرت نے ان کا نام وپتہ معلوم کیا، پھر ناظم محاسبی کو بلا کر کہا کہ اب تک ان صاحب نے جتنا چندہ دار العلوم کو دیا ہے اس کی تفصیلی رپورٹ لکھ کر لاؤ، رپورٹ آئی، معلوم ہوا اب تک اتنا چندہ دیا ہے، خزانچی کو حکم دیا کہ اتنی رقم لا کر ان صاحب کے حوالے کردو، دار العلوم کو ان کے چندے کی ضرورت نہیں، وہ صاحب اس افتاد کے لئے تیار نہیں تھے، یہ منظر دیکھا تو ساری اکڑ فوں بھول گئے، منت سماجت اور معافی تلافی پر اتر آئے، بالآخر وہ رقم دوبارہ خزانے میں بھیج دی گئی۔
مولانا مرغوب الرحمن بجنوریؒ کا ذکر آتا ہے تو یہ بھی یاد آتا ہے کہ انھوں نے اٹھائیس برس تک عہدۂ اہتمام کی شان بڑھائی مگر کبھی دار العلوم کا ایک روپیہ بھی اپنی ذات پر خرچ نہیں کیا، کبھی تنخواہ نہیں لی، جس کمرے میں رہتے اس کا کرایہ اپنی جیب سے ادا کرتے، اپنا کھانا اپنے مصارف پر تیار کراتے، یہی حال مولانا غلام رسول خاموش کا تھا جن کو مددگار مہتمم بنا یا گیا تھا، کچھ ہی عرصے وہ اس منصب پر رہے، اچانک ہی ایک دن بولتے بولتے خاموش ہوگئے، مگر جتنے دن بھی وہ اس عہدے پر رہے دار العلوم کے خزانے پر بوجھ نہیں بنے، دار العلوم دیوبند کا امتیاز یہ ہے کہ اسے ولی صفت مہتمم ملے ہیں، ایسے ہی ایک ولی صفت مہتمم حضرت شاہ رفیع الدینؒ تھے، ان کا واقعہ ہے کہ انھوں نے ایک گائے پال رکھی تھی، جس کی دیکھ بھال ایک خادم کے سپرد تھی، ایک روز وہ خادم گائے کو مدرسے کے احاطے میں باندھ کر کسی کام سے چلا گیا، دیوبند کے کوئی صاحب اِدھر آئے تو دیکھا کہ مہتمم صاحب کی گائے مدرسے کے صحن میں بندھی ہوئی ہے، انھوں نے کہا اچھا تو اب مدرسے میں مہتمم صاحب کی گائے باندھی جایا کرے گی، حضرت مولانا رفیع الدینؒ تک یہ جملہ پہنچا ، پہلے تو بڑی معذرت کی، پھر اس غلطی کا کفارہ اس طرح ادا کیا کہ وہ گائے مدرسے کو دے کر قصہ ہی پاک کردیا۔
دار العلوم دیوبند کا ذکر ہو اور حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ کا ذکر نہ ہو، لفظ مہتمم جن کی ذات والا صفات کا جزء لا ینفک بن چکا تھا، یہ لفظ اپنے تمام معنوی اوصاف کے ساتھ صرف انہی پر صادق آتا ہے اور انہی پرجچتا ہے، ساٹھ سال تک مہتمم رہے، اس سے پہلے ان کے والد مہتمم تھے، اس چھوٹے سے مدرسے کی شہرت دار العلوم کی حیثیت سے زمین کی وسعتوں اور آسمان کی رفعتوں میں پھیلی وہ انہی دونوں باپ بیٹوں کے زمانۂ اہتمام میں پھیلی، باقی لوگوں کو تو نیک نامی، شہرت، عزت، عظمت، رفعت وراثت میں ملی ہے، اس خاندان میں اہتمام پون صدی سے زیادہ عرصے تک رہا، آج اگر کوئی کسی ادارے کا مہتمم بن جاتا ہے اور چند سال رہ جاتا ہے تو اس کی بلڈنگیں کھڑی ہوجاتی ہیں، بینک بیلنس بڑھ جاتا ہے، حضرت مولانا طیب صاحبؒ ساٹھ سال کے اہتمام سے رخصت ہوئے تو ان کے پاس وہی مکان تھا جس کا ایک حصہ ان کے پردادا کو ان کے خسر شیخ نہال احمد نے دیا تھا اور ایک حصہ وہ تھا جو نظام حیدر آباد دکن نے ان کے والد محترم کے لئے تعمیر کرایا تھا کیوں کہ وہ ان کے یہاں قاضی القضاۃ تھے، انتقال کے بعد بینک اکاؤنٹ دیکھا گیا تو اس میں چند ہزار روپے بھی نہیں تھے، ان کے زمانۂ اہتمام میں کئی بار مالیات کی تنگی پیش آئی، خزانہ بالکل خالی ہوگیا، ایسے موقعوں پر طلبہ، اساتذہ اور ملازمین نودرے میں جمع ہوکر آیت کریمہ کا ختم کرتے اور گریہ وزاری کے ساتھ اللہ سے مدد کے خواستگار ہوتے، دار العلوم کے تعارف اور اس کی ضرورتوں سے عوام کو باخبر کرنے کے لئے جتنے سفرانھوں نے کئے ہیں شاید ہی کسی مہتمم نے کئے ہوں، ایک مرتبہ حیدر آباد پہنچے، نظام کا زمانہ تھا، دربار شاہی سے ایک خطیر رقم دینی تعلیم کی اشاعت کے لئے جاری کرنے کا حکم ہوا، خیال تھا کہ کچھ رقم دار العلوم کے حصے میں بھی آئے گی، دار العلوم کو ضرورت بھی تھی، مگر سر اکبر حیدری نے جو نظام دکن کے مدار المہام تھے وہ رقم دوسری سرگرمیوں کے لئے روک لی، دار العلوم محروم رہ گیا، بوجھل دل سے مدراس پہنچے، لوگوں نے چہرے پر مایوسی کی جھلک دیکھی، معلوم کیا، انہیں بتلایا گیا کہ یہ صورت حال پیش آئی ہے، اہل مدراس نے معلوم کیا کتنی رقم ملنی تھی، بتلایا کہ اتنی، فوراً ہی تحریک ہوئی اور اس سے دگنی رقم جمع کرکے پیش کردی گئی، چہرہ کھل اٹھا اور دادا مرحوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے اصول ہشتگانہ کے اس جملے کی حقانیت بھی سامنے آگئی کہ کسی امیر محکم القول کا وعدہ سرمایہ رجوع الی اللہ اور امداد غیبی کے منافی ہے۔
ایسی ہی ایک فقید المثال شخصیت حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندویؒ کی تھی، زہد واستغناء ان کی زندگی کا روشن باب ہے، پیسہ ان کے اوپر بارش کی طرح برسا مگر وہ اس طرح بچ کر نکلے کہ ان کے کپڑوں پر ایک چھینٹ بھی نہ پڑی، ان کی نظر ہمیشہ اس آیت پر رہی: قل متاع الدنیا قلیل والآخرۃ خیر لمن اتقی۔ ’’آپ کہہ دیجئے کہ دنیا کا سرمایہ تو بہت تھوڑا ہے، آخرت ڈرنے والے انسان کے لئے زیادہ بہتر ہے‘‘ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ جیسے شہرۂ آفاق ادارے کے ناظم اعلا، کیا شان وشوکت ہونی چاہئے تھی اور کیسا کچھ کر وفر ہونا چاہئے تھا، پوری زندگی اسی دار العلوم کے قدیم طرز کے بنے ہوئے حجروں میں گزار دی، لکھنؤ میں اپنا مکان تک نہ بنایا، لکھنؤ سے نکلتے تو تکیہ کلاں رائے بریلی کے سادہ سے مکان میں جاکر فروکش ہوجاتے جو پشتہاپشت سے خاندان میں چلا آرہا ہے۔
یہاں میں ایک اور مہتمم کا ذکر کرنا چاہوں گا، دنیا انہیں قاری صدیق احمد باندویؒ کے نام نامی سے جانتی ہے، انھوں نے سادگی اور جفاکشی کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کیا، اور سادگی اور جفاکشی کے ساتھ پوری زندگی گزار دی، ان کے مدرسے کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی مادی ترقیات سے نوازا، چاہتے تو وہ بھی آرام دہ اور پُر آسائش زندگی گزار کر ماضی کی تمام تکلیف دہ یادوں سے اپنا پیچھا چھڑا سکتے تھے مگر انھوں نے اپنے لئے اسی راستے کا انتخاب کیا جس پر وہ عہد طفولت سے چل کر عہد کہولت تک پہنچے تھے، یہ رہ گزار شوق کانٹوں سے بھری رہ گزر تھی، انھوں نے آخرت کی راحت وآرام کے لئے اسی راہ کی آبلہ پائی پسند کی، وہ ایک بڑے مدرسے کے مہتمم تھے، عموماً مہتمم حضرات سیاہ سفید کے مالک ہوتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں، لیکن حضرت نے اس منصب پر رہ کر زہد وتقویٰ کی ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس کے نمونے سلف میں تو مل سکتے ہیں، اس دور میں نظر نہیں آتے، مدرسے کے ایک ایک پیسے کا حساب رکھا، جو کچھ آیا اس کے مصرف پر خرچ کیا، مدرسے کے مطبخ سے واجبی قیمت پر بھی چیزیں حاصل کرنے کے روادار نہ تھے، حتی کہ نمک جیسی معمولی چیز بھی گھر سے منگواتے یا کسی استاذ سے مانگ لیتے، ایک مرتبہ فرمایا ’’میں نے بہت احتیاط کی ہے، پھر بھی سوچتا ہوں کہ اللہ اس پر کچھ نہ دے مگر مواخذہ نہ کرے‘‘۔
یہ اور اس طرح کے ایمان افروز واقعات وحالات پڑھ کر خیال آتا ہے کہ ہمارے مدرسوں کی تاریخ میں کیسے کیسے لوگ گزرے ہیں، آج بھی اگر تقوی، خشیت، انابت، مسئولیت، احساس ذمہ داری، استغناء اور شان بے نیازی کا وہی ماحول پیدا ہوجائے تو مدرسوں کی کارکردگی بھی بڑھ جائے، عوام میں علماء کا اعتماد واعتبار بھی قائم ہوجائے، اصحاب خیر دے کر خوش ہوں اور مزید دینے کی تمنا کریں، پھر اس ماحول میں نئی نسلوں کی پرورش ہو، ان میں پھر کوئی قاسم نانوتویؒ، پھر کوئی اشرف علی تھانویؒ، پھر کوئی یوسف بنوریؒ اور شفیع عثمانیؒ، پھر کوئی محمد طیبؒ، پھر کوئی مرغوب الرحمنؒ اور غلام رسول خاموشؒ، پھر کوئی ابو الحسن علی ندویؒ اور صدیق احمد باندویؒ پیدا ہو، جاگتی آنکھوں کا یہ خواب حقیقت بھی بن سکتا ہے یا نہیں، بس یہ ایک سوال مجھے رمضان کی مبارک ساعتوں میں بے چین کئے رہتا ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*