بنیادی صفحہ / خبریں / ’’مسلمانوں کو عصری کے ساتھ دینی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت‘‘

’’مسلمانوں کو عصری کے ساتھ دینی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت‘‘

اقراء انٹرنیشنل اسکول بنگلورکی ڈائرکٹر نور عائشہ

اقراء انٹرنیشنل اسکول بنگلورکی ڈائرکٹر نور عائشہ

اقراء انٹرنیشنل اسکول بنگلورکی ڈائرکٹر نور عائشہ نے کہا کہ زندگی میں اخلاقی اقدرار کے ساتھ کامیابی و کامرانی کے دینی و دنیوی تعلیم دو پہیے ہیں
ملک کے مسلمان اس وقت تک صحیح معنوں میں ترقی نہیں کرسکتے جب تک وہ اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم پر یکساں توجہ نہیں دیتے۔ یہ بات اقراء انٹرنیشنل اسکول بنگلورکی ڈائرکٹر نور عائشہ نے اپنے اسکول کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ زندگی میں اخلاقی اقدار کے ساتھ کامیابی و کامرانی کے دینی و دنیوی تعلیم دو پہیے ہیں۔اگر ان میں سے ایک میں بھی کمی ہوگی توزندگی کی گاڑی ڈگمگائے گی اور دنیا وی ترقی ہوگی تو آخرت کی ترقی میں رکاوٹ پید اہوگی اور دین کا محاذ صحیح ہوگا تو دنیا وی طور پر کچھ نہ کچھ کمی رہ جائے گی۔ اس لئے مکمل اور صحیح زندگی کے لئے دونوں تعلیم پر یکساں توجہ دینا لازمی ہے۔
بزنس اسکول لندن کی گریجویٹ نورعائشہ نے کہاکہ اقراء انٹرنیشنل اسکول بنگلورکا قیام کا مقصد عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے نئی نسل کو بہرہ ور کرنا ہے۔ اس لئے یہاں تعلیم حاصل کرنے والے بچے جہاں عصری تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں وہیں دینی تعلیم سے بھی فیضیاب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میری خواہش تھی کہ ملت کے نونہالوں کے تابناک و روشن مستقبل کے لئے طلباء وطالبات کو عصری علوم کے ساتھ دینی علوم حفظ قرآن کریم اور عربی اور اردو زبان سے روشناس کرایا جائے۔انہوں نے کہاکہ اقراء انٹرنیشنل اسکول بنگلور نے اس مقصد کے لئے قدم آگے بڑھادیا ہے اور نتیجے بھی آنے شروع ہوگئے ہیں اور اس اسکول کے قیال کے قلیل مدت میں دو طلباء نے آٹھویں جماعت تک اسکولی تعلیم کے ساتھ قرآن کریم کا حفظ بھی مکمل کیا ہے۔ گریڈ آٹھ کے دو طالب علم عزیزم حافظ محمد عمر اور عزیزم حافظ محمد عقیل نے عصری علوم کے IGCSE Syllabus۔کے ساتھ ساتھ حفظ قرآن کریم مکمل کیا ہے اور دونوں نے نماز تراویح پڑھانے کا بھی شرف حاصل کیا ہے اور نہایت ہی قلیل مدت میں اپنے دیرینہ خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے۔اسی کے ساتھ انہوں نے کہاکہ جو بچہ حفظ کرلیتا ہے اس کا ذہن کشادہ ہوتا ہے اوروہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔
محترمہ نور عائشہ نے کہاکہ اس اسکول کے طلبہ نہ صرف انگریزی زبان بولتے ہیں بلکہ عربی زبان بھی بولتے ہیں اور تمام طلبہ کو ڈیجٹل اور جدید طریقے سے تعلیم دی جاتی ہے جس میں بستہ کا بوجھ نہیں ہوتا ہے۔ٹبلیٹ، نوٹ بک، اسمارٹ کلاسیز کے ساتھ انہیں آن لائن کلاسیز کی سہولت فراہم کی جاتی ہے جس کی وجہ سے بچے دیگر اسکول کے مقابلے زیادہ سمجھ پاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے عزم و پختہ ارادہ کے ساتھ دینی اور عصری علوم کی پیاس کو ایک ساتھ بوجھانے کا بیڑہ جو اٹھایا ہے کہ ایک بچہ حافظ کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر،انجینیر، سائنس داں بھی بن سکے۔اس کامیابی کے لئے اقراء انٹرنیشنل اسکول بنگلور کے ذمہ داران،اساتذہ واور طلبہ مبارک بادی کے مستحق ہیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*