بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / اسلام میں بڑی عبادت کیا ہے ؟

اسلام میں بڑی عبادت کیا ہے ؟

ابو نصر فاروق

ابو نصر فاروق

ابونصر فاروق،رابطہ:8298104514-6287880551

(۱) حضرت ابوقلابہ ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے کچھ لوگ نبیﷺکی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کی تعریف کرنے لگے، کہنے لگے ہم نے اپنے فلاں ساتھی کی طرح کسی کو نہیں دیکھا۔ سفر کے دوران یہ قرآن پڑھتا رہتا تھا،جب ہم کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو یہ نماز میں مشغول ہو جاتا۔ رسول اللہ ﷺنے پوچھا اُس کے سامانوں کی حفاظت کون کرتا تھا ؟ رسول اللہ ﷺنے یہ بھی پوچھا کہ اُس کے اونٹ کو چارا کون دیتا تھا ؟ ہم نے کہا ہم لوگ اُس کے سامانوں کی حفاظت کرتے تھے اور اُس کے اونٹ کو کھلاتے پلاتے تھے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:تب تو تم اُس تلاوت میں لگے رہنے والے سے بہتر ہو۔(ابوداؤد )
(۲) اللہ تعالیٰ فرماتاہے:نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لئے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر کو اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل ہوئی کتاب اور اُس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر،مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لئے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوۃ دے، اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عـہد کریں تو اُسے وفا کریں اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں ۔ یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں ۔ (سورہ البقرہ:آیت۱۷۷)
جب مسلمانوں نے اللہ کی کتاب اور اپنے رسولﷺ کی سنت سے منہ موڑ لیا اور ناطہ توڑ لیااور کم علم مولویوں اور جاہل قسم کے پیروں کے چکر میں پڑ گئے نیز تفرقہ بازی کا شکار ہو کر فرقوں میں بٹ گئے تو اُنہوںنے اپنے دین کا حلیہ ہی بگاڑ لیا۔جو اصل عبادت ، نیکی اور عمل صالح تھا اُس کوبھول بیٹھے اور اُس کی جگہ ایسی چیزوں کے پیچھے پڑ گئے جن کے عمل خیر ہونے پر ہی اختلاف اورکشاکش ہے۔جب مذہب کا جنون سوار ہوا تو محض بے روح نمازوں اور ذکر و اذکار کو ہی عمل خیر سمجھ لیا اور دین اسلام میںسماجی سروکار کی جو چیزیں تھیں اُن کو دنیا داری کہہ کر زندگی سے درکنار کر دیا۔
بلا شبہہ نماز ، روزہ اور ذکر دین کی بنیایں ہیں،لیکن ذرا سوچئے کہ کیا صرف بنیاد کھڑی کردینے سے مکان بن جاتا ہے اور آدمی اُس میں رہنے لگتا ہے یا اُس کی دیواریں بھی اٹھانی ہوتی ہیں، چھت بھی ڈالنی ہوتی ہے اورمکان کی زینت و آرائش بھی کرنی پڑتی ہے۔دین اسلام میں نفل نمازیں اور زیاہ سے زیادہ بے سمجھے بوجھے قرآن پڑھتے رہنے کے مقابلے میں جو بڑی نیکی ہے وہ ہے ضرورت مند بندوں کی خدمت میں لگے رہنا اور اُن کی ضرورتیں پوری کرنا۔آج صاف طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ ملت کا جوحلقہ دین پسند سمجھاجاتا ہے وہ بس نماز و اذکار میں مصروف رہتاہے۔
خدمت خلق یعنی بندگان خدا کے کام آنااور اُن کی مشکلیں دور کرنااُس کے نزدیک نیکی ہے ہی نہیں ۔وہ بدنصیب اس کو دنیا داری سمجھتا ہے۔جبکہ مذکورہ بالا حدیث رسولﷺاورقرآن کی آیت سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ جسمانی عبادت کے مقابلے میں اللہ کے ضرورت مند بندوں کی خدمت اور اُن کی مشکلیںدور کرنا بڑی اور اعلیٰ عبادت ہے۔
دنیا میں زندگی کی گاڑی فرض اور حق کے دو پہیوں کے ذریعے چلتی ہے۔پہلے کا حق دوسرے کا فرض اور دوسرے کا فرض پہلے کا حق ماناجا تا ہے۔اگر پہلا یا دوسرا اپنا فرض ادا نہیں کرے گاتو دوسرے یا پہلے کا حق ادا نہیں ہوگا۔چنانچہ اصل دین پسندی یہ ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ کس مقام پر کس کا فرض کیاہے اوریہ کہ جب تک کوئی اپنا فرض ادا نہیں کرے گا دوسروں کا حق ادا نہیں ہوگا۔اپنے فرائض سے غافل رہنے والے سارے لوگوں کی غفلت کی وجہ سے حقدار لوگ ظلم و زیادتی کا شکار ہو کر محروم اور مظلوم بنے رہیں گے۔اپنے فرض سے غافل اور بیگانہ انسان ظالم بن کر ایمان و اسلام سے دور ہو جائے گا اور اپنی بد اعمالیوں کی بدولت جہنم کی آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ان احکامات کو بھی جانئے:
(۳) ’’حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے لوگوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے ؟ لوگوں نے کہا مفلس ہمار ے یہا ں وہ شخص کہلاتا ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ اور کوئی سامان۔ رسول اللہﷺنے فرمایا : میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن اپنی نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ اللہ کے پاس حاضر ہوگا اور اسی کے ساتھ اُس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی،کسی پر تہمت لگائی ہوگی،کسی کا مال مار کھایا ہوگا، کسی کو قتل کیا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا، تو اُن تمام مظلوموں میں اُس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی، پھر اگر اُس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی اور مظلوموں کے حقوق باقی رہ جائیں گے تو اُن کی خطائیں اُس کے اعمال نامے میں شامل کر دی جائیں گی اور پھر اُسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘(مسلم)
ایسے تمام لوگ جو نماز تو پڑھتے اور پڑھاتے ہیں لیکن ظلم اور گناہ سے نہ خود بچتے ہیں نہ دوسروں کو گناہ سے بچنے کی تلقین اور تبلیغ کرتے ہیں وہ مذہبی ، دین پسند اور نیک نہیں ہیں بلکہ درپردہ شیطان کے ایجنٹ بن کر کام کر رہے ہیں اور لوگوں کی دنیااور آخرت دونوں برباد کر رہے ہیں۔
(۴) ’’حضرت عبد اللہ ؓبن عمرو بن عاص سے روایت ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چار خصلتیںجس شخص میں پائی جائیں وہ پکا منافق ہو گا اور جس میں ان میں سے ایک خصلت پائی جائے تو یہ نفاق کی ایک علامت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ جب اُس کے پاس امانت رکھی جائے تو اُس میں خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوج کرے(بخاری،مسلم)
یہ چاروں برائیاں آج مسلمانوں میں عام طور پرپائی جاتی ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ جو لوگ عالم فاضل سمجھے جاتے ہیں وہ لوگ بھی اس برائی اور عیب سے اب پاک نہیں رہے۔جن لوگوں میں منافق ہونے کی ساری علامتیں پائی جائیں کیا وہ لوگ جنت کے حقدار بن سکیں گے۔نماز پڑھنے اور پڑھانے والوں کو نماز کے ساتھ ساتھ معروف کا حکم دینے اور منکر سے روکنے کا فرض بھی ادا کرنا چاہئے، ورنہ وہ سب عذاب کے حقدار اور جہنم میں گرفتار ہوں گے۔لیکن وہ ایسا نہیں کرتے ہیں۔
(۵) ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا:رشتہ داروں سے کٹ کر رہنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘(مسلم)
رشتہ داری کی کتنی اہمیت ہے اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، یعنی رشتہ داروں سے کٹ کر رہنے والا اور اپنے غریب ضرورت مند رشتہ داروں کی مدد اور خدمت نہیں کرنے والااتنا بڑا گنہگار ہے کہ اُس کی کوئی عبادت اُس کو جنت کا حقدار نہیں بنا سکے گی اور وہ جہنم میں چلا جائے گا۔دور حاضر میں ملت کے اندر رشتہ داریوں کا کیا حال ہے اس کو سب جانتے ہیں۔زکوٰۃ کے حقدار سب سے پہلے رشتہ دار ہوتے ہیں لیکن کیا عالم فاضل لوگ مسلمانوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں ؟ نہیں انہوں نے مسلمانوں کو یہ سمجھا رکھا ہے کہ زکوٰۃ کے حقدار صرف اُن کے مکتب ، مدرسے اور معہد ہیں۔حدیث رسولﷺ کی روشنی میں یہ زکوٰۃ کے دینے والے او زکوٰۃ کے لینے والے دونوں جہنمی ہیں۔
(۶) ’’نبیﷺنے فرمایا ہے کہ مسلم معاشرے کا سب سے اچھا گھر وہ ہے جہاں کوئی یتیم ہو اور اُس کے ساتھ حسن سلوک (حق ادا)کیا جار ہا ہواورمسلم گھرانے کا بدترین گھر وہ ہے جہاں کوئی یتیم ہو اور اُس کے ساتھ بد سلوکی (حق تلفی)کی جا رہی ہو۔‘‘(ابن ماجہ)
باپ کی موت کے بعد بیٹوں نے جائیداد کا ترکہ تقسیم نہیں کیاجو شریعت کا حکم ہے۔جس کے قبضے میں سب سے زیادہ رہا وہ اُس کا مالک بن بیٹھا اور دوسروں کو اُن کے حق سے محروم کر دیا۔ بہنوں کی شادی کے بعد اُن کو ترکے کا حصہ دیا ہی نہیں۔کوئی بھائی اگر مر گیا تو اُس کے یتیم بچوں کو بھی ترکے سے محروم کر دیا۔ایسا کرنے والے کی حیثیت اللہ اور رسول ﷺ کی نگاہ میں کیا بنی سمجھئے۔ یہ ظالم اور سنگ دل انسان خوب نمازیں پڑھتا ہے ،ہر سال عمرہ بھی کرتا ہے ، داڑھی ٹوپی بھی سجائے رکھتا ہے اور لوگوں کواپنے متقی اور صالح ہونے کا فریب دیتا رہتا ہے۔اگر مسلم سماج صحیح معنوں میں دین پسند بن جائے تو کیا ایسے فریبی لوگوں کوکو کہیں عزت ملے گی ؟
(۷) ’’حضرت سعید بن زیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جس کسی نے ظالمانہ طور پر کسی کی بالشت بھر زمین لی تو قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں پہنایا جائے گا۔‘‘(بخاری مسلم)
اوپر جس ظالم انسان کی بات کی گئی اگر اس نے بخاری اور مسلم کی یہ حدیث پڑھی ہوتی اور اُس کا اس پر ایمان ہوتا تو کیا وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ جائیداد کی تقسیم میں ایسی بے ایمانی کرتا اور اپنے یتیم بھتیجوں اور بہنوں کو ترکے سے محروم کرتا۔لیکن وہ ایسا اس لئے کر رہا ہے کہ جن لوگوں کو دین پسند سمجھ کراُن کے ساتھ وہ رہتا ہے وہ سب ایسے ہی ہیں۔نہ خود اچھے مسلمان ہیں نہ دوسروں کو اچھا مسلمان بناتے ہیں۔
(۸) ’’رسول اللہﷺنے فرمایا :اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ صرف پاکیزہ مال کو ہی قبول کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہی حکم دیا ہے…………پھر ایک ایسے آدمی کا نبیﷺنے ذکر کیا جو لمبی دوری طے کر کے مقدس مقام(خانہ کعبہ) پر آتا ہے، غبار سے اٹا ہوا ہے، گرد آلود ہے اور اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کرکہتا ہے اے میرے رب! اے میرے رب!(اور دعائیں مانگتا ہے) حالانکہ اُس کا کھانا حرام ہے ، اُس کا پانی حرام ہے، اُس کا لباس حرام ہے اور حرام پر ہی وہ پلا ہے تو ایسے شخص کی دعا کیوں کر قبول ہوسکتی ہے۔‘‘( مسلم)
جب آدمی اپنے عہدے اور منصب کا فائدہ اٹھا کرلوگوں کی مجبوری کے تحت اُن سے غلط طریقے سے مال وصول کرتا ہے تو یہ مال حرام ہو جاتا ہے۔بے ایمانی، دھوکے اور جھوٹ بول کر کمایا ہوا مال حرام ہو جاتا ہے۔جو لوگ غلط طریقے سے مال کما کر راتوں رات دولت مند بن جانا چاہتے ہیں وہ مسلسل بندگان خدا کا حق مارتے رہتے ہیں اوربدترین قسم کا گناہ کرتے رہتے ہیں۔حرام مال کمانے والے برے لوگ اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال کو بھی حرام مال کھلا کر اُن کی دنیا اور آخرت بھی برباد کرتے رہتے ہیں۔جب ایسے حرام خور داڑھی اور ٹوپی لگا کر اور نمازی بن کر اپنے عبادت گزار اور متقی ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں تو علم دین سے محروم مسلم امت اُن سے دھوکہ کھاتی رہتی ہے۔
(۹) ’’حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس آدمی کی دو بیویاں ہوں اور اُس نے اُن کے ساتھ منصفانہ اور مساویانہ(برابری کا) برتاؤ نہیں کیاتو ایسا شخص قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گا کہ اُس کا آدھا جسم گر گیا ہوگا۔‘‘(ترمذی)
بعض لوگ شوق سے یا کسی ضرورت کے تحت دو شادیاں کر لیتے ہیں اور دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی سے منہ موڑ لیتے ہیں۔اگر مسلمان اس حدیث کو پڑھ لیں اور اس ظلم و زیادتی کے انجام سے ڈریں تو ہر مسلمان دوسری شادی کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا اور دوسری شادی کرلے گا تو ہرگز پہلی بیوی کو اُس کے حق سے محروم کر کے حقوق العباد کا گناہ نہیں کرے گا۔بہت سے ایسے نمازی اور مذہبی سمجھے جانے والے لوگ ہیں جو اپنے بیوی بچوں کی ضروریات سے غافل اور بے پروا ہو کر چلے لگاتے رہتے ہیں اور اُن کو گردش کرانے والے اُن کو عالم ہونے کا درجہ دے دیتے ہیں۔سوچئے جو آدمی اپنی بد اعمالی کی بدولت جہنم کا حقدار ہے اُس کو نیک اورصالح مسلمان سمجھنا اورعالم تصور کرنا جاہلوں کا کام ہے کہ نہیں۔کوئی بھی دین کا صحیح علم رکھنے والا ایسے ظالم اور بے دین انسان کی عزت کرے گا ؟
(۱۰) ’’حضرت اَوس ؓ کہتے ہیں،میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا ہے کہ جو شخص کسی ظالم کا ساتھ دے کر اُسے قوت پہنچائے، جب کہ ہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے خارج ہو گیا۔‘‘(مشکوٰۃ)
جان بوجھ کر کسی ظالم کا ساتھ دینادر اصل مظلوم کی حق تلفی اور اُس سے عداوت کرنا ہے۔تعصب، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے لوگ اپنے اور بیگانے کا فرق کر کے مظلوم کی حق تلفی اور ظالم کی مدد کرتے رہتے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ ایسا کر کے وہ مسلمان ہی نہیں رہتے ہیں۔
(۱۱) ’’حضرت ابوفسیلہؓ کہتے ہیں ،میں نے رسول اللہ ﷺسے پوچھا:اپنے لوگوں سے محبت کر نا عصبیت ہے ؟ نبیﷺنے فرمایا: نہیں یہ عصبیت نہیں ہے، عصبیت (یعنی تعصب اور فرقہ واریت) یہ ہے کہ آدمی ظالمانہ کارروائیوں میںاپنے لوگوں کی مدد کرے۔ (مشکوٰۃ)
اپنے رشتہ داروں اور تعلقات کے لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنااوران کے ساتھ حسن سلوک کرنا اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے ،لیکن جب رشتہ دار اور قریبی لوگ یہ چاہیںکہ تعصب، فرقہ واریت اور ظلم و زیادتی میں رشتہ داور اوردوست ان کا ساتھ دیں تو یہ گناہ عظیم ہے۔ایسا چاہنے والا بھی اہل ایمان نہیں ہے اور اس کا ساتھ دینے والا بھی ایمان سے محروم ہے۔
(۱۲) ’’ حضرت ابوسعیدؓ اور جابر ؓروایت کرتے ہیں ،رسول اللہﷺنے فرمایا: غیبت زنا سے زیادہ سخت جرم ہے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! غیبت کس طرح زنا سے زیادہ سخت جرم ہے ؟ نبیﷺنے فرمایا: ایک شخص زنا کرنے کے بعد جب استغفار کرتا ہے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، مگر غیبت کرنے والے کی مغفرت اُس وقت تک نہیں ہوتی ہے جب تک کہ وہ شخص اس کو معاف نہیں کر دے جس کی اُس نے غیبت کی ہے۔‘‘(مشکوٰۃ) ’’ ابوہریرہ ؓروایت کرتے ہیں ،رسول اللہﷺ نے صحابۂ کرام سے پوچھاکیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسولﷺ ہی زیادہ واقف ہیں۔نبیﷺنے فرمایا:غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا تذکرہ ایسے ڈھنگ سے کرے جسے وہ ناپسند کرے۔لوگوں نے نبیﷺ سے کہا اگر میرے بھائی میں وہ بات مو جود ہو جسے میں کہہ رہا ہوں تب بھی یہ غیبت ہو گی ؟ نبیﷺنے فرمایا:اگر وہ بات اس کے اندر ہو تو یہ غیبت ہوئی اور اگر وہ بات اُس کے اندر نہیں پائی جاتی ہے تو یہ بہتان ہوگا۔‘‘ (مشکوٰۃ)
غیبت کا گناہ مسلم معاشرے میں کھلے عام ہوتا رہتا ہے۔سورۂ الحجرات میں غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانا کہا گیا ہے۔
(۱۳) ’’حضرت تمیم داریؓ کا بیان ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا:دین نام ہے وفاداری اور خیر خواہی کا۔یہ بات نبیﷺنے تین بار دہرائی۔پوچھا گیا کس کے ساتھ وفاداری اورخیر خواہی ؟ نبیﷺنے فرمایا:اللہ ، اس کے رسول،اس کی کتاب، مسلمانوں کے امیراور عام اہل اسلام کے ساتھ ۔‘‘(مسلم)
جن عالم اور فاضل لوگوں نے اپنے الگ الگ فرقے بنا رکھے ہیں اور اپنے ماننے والوں کے اندر دوسرے فرقے والوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں، اور مسلمان کو مسلمان کے ساتھ وفاداری ا ور خیر خواہی کی جگہ تعصب میں مبتلا کر رہے ہیں کیا وہ اس لائق ہیں کہ اُن کی عزت اور اُن کا احترام کیا جائے ؟ لیکن ایسا ہو رہا ہے کیونکہ ان سبھوں کے پیچھے چلنے والے بیشتر لوگ جاہل ، دین کے احکام سے غافل اور بے علم ہیں۔
مسلمانوں سے ہمدر دی اور خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ اُن کے اندر اسلام کا علم عام کیا جائے،اُن کو قرآن اور حدیث کو معنی مطلب کے ساتھ سمجھ کر پڑھنے کی تاکید اور تلقین کی جائے۔جیسے ہی وہ خود قرآن و سنت کی روشنی میں دین کے اصلی احکام سے واقف اور آشنا ہو جائیں گے،ا ن مفاد پرست، فرقہ پرست، دنیا پرست مولوی مولانا کے جال سے باہر نکل جائیں گے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*