بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / نکاح کے بعد زوجین کو نہ ملنے دینا ظلم ہے

نکاح کے بعد زوجین کو نہ ملنے دینا ظلم ہے

نکاح کی علاماتی تصویر

نکاح کی علاماتی تصویر

محمد رضی الاسلام ندوی

ایک نوجوان نے نکاح کے موضوع پر میری چند پوسٹس پڑھنے کے بعد اپنا درد ان الفاظ میں بیان کیا : ” میرے نکاح کو چار سال ہوگئے ہیں میں اس وقت بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر رہا ہوں سسرال ہی میں قیام ہے اب تک رخصتی نہیں کرائی گئی ہے یہی نہیں ، بلکہ بیوی سے میری ملاقات پر بہت سخت پابندی عائد ہے عید کے موقع پر سسرال میں رہتے ہوئے بیوی کو دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔ میں گُھٹ گُھٹ کر مر رہا ہوں ۔ جی میں آتا ہے ، زنا کرلوں ، یا خود کشی کرلوں ۔ سسرال والوں کا کہنا ہے کہ جب تک رخصتی نہیں ہوجاتی ، میری بیوی کا مجھ سے پردہ ہے ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی ہمیں ایک دوسرے کو دیکھنے کی اجازت نہیں یہ کون سا اسلام ہے؟ میری حالت مرغِ بسمل کی طرح ہے میں تڑپ تڑپ کر زندگی گزار رہا ہوں پہلے میری منکوحہ سے سلام ودعا ہوجاتی تھی اب چوری چھپے اس سے فون پر بات ہوتی ہے ، بس کیا میں اپنی منکوحہ کے پاس بیٹھ کر کوئی مشورہ نہیں کرسکتا ؟ کیا خوشی و غمی میں دو منٹ ہم ساتھ نہیں بیٹھ سکتے میں بہت زیادہ پریشان ہوگیا ہوں اور بہت نازک مرحلے سے گزر رہا ہوں ـ‘‘۔ اس تحریر سے مسلم سماج کے ایک نازک اور حسّاس مسئلے پر روشنی پڑتی ہے ۔ اسلام میں جنسی تسکین کے لیے نکاح کو مشروع کیا گیا ہے اس لیے بہتر ہے کہ لڑکی کا نکاح اس کے بلوغ کے بعد ہو لیکن کم سنی کا نکاح بھی جائز ہے قرآن مجید میں ان عورتوں کی عدّت بھی بیان کی گئی ہے جنھیں ابھی حیض آنا شروع نہ ہوا ہو (الطلاق : 4) جن سماجوں میں کم سنی کے نکاح کا رواج رہا ہے ان میں نکاح کے کئی برس کے بعد ، جب لڑکی بالغ ہوجائے ، اس کی رخصتی کا معمول رہا ہے لیکن اگر زوجین بالغ ہوں تو نکاح کے بعد بلا کسی سبب کے رخصتی کو موخر کرنا درست نہیں ہے ۔
اگر نکاح تو ہو گیا ہو ، لیکن کسی وجہ سے لڑکی کی رخصتی نہ ہوپائی ہو ، اس عرصے میں زوجین کے باہم ملاقات کرنے اور بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے یہ غلط رسم ہے کہ نکاح کے بعد بھی لڑکی کا اس کے شوہر سے پردہ کرایا جائے اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے اور بات چیت کرنے کے لیے ترسیں اس رسم کا اسلامی تعلیمات سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے اتنی سخت پابندیوں کے زوجین پر گہرے نفسیاتی اثرات پڑتے ہیں اس صورتِ حال میں ان کے بہکنے اور غلط کاموں میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اس کا کچھ اشارہ درج بالا تحریر میں بھی موجود ہے ۔ پانی کے تیز دھارے پر بند لگانا دشوار ہوتا ہے اسے ایک طرف بہنے سے روکا جائے تو وہ دوسری طرف راہ نکال لیتا ہے یہی معاملہ جوانی کا ہے _ ہر انسان میں فطری طور پر جنسی جذبہ موجود ہوتا ہے جوانی کی سرحد میں داخل ہوتے ہی اس کے تقاضے شروع ہوجاتے ہیں جن سماجوں میں جنسی جذبہ کو کچلنے کی کوشش کی گئی ان میں اس کے بھیانک نتائج سامنے آئے اور بد اخلاقی ، آوارگی اور اباحیت کا سیلاب ان کو بہا لے گیا اسلام نہ تو کھلی اباحیت کا قائل ہے اور نہ جنسی جذبہ کو کچلنے کی اجازت دیتا ہے ، بلکہ اس نے نکاح کے ذریعے اسے کنٹرول کیا ہے اس کی تعلیم یہ ہے کہ لڑکا یا لڑکی جب بالغ ہوجائیں تو جلد ان کا نکاح کردیا جائے ۔ نکاح کے بعد زوجین پر بےجا پابندیاں عائد کرنا درست نہیں ہے کوئی عذر نہ ہو تو لڑکی کی جلد رخصتی کردینی چاہیے رخصتی سے قبل لڑکی کا اتنا سخت پردہ کرانا کہ زوجین ایک دوسرے کی جھلک بھی نہ دیکھ سکیں ، مناسب نہیں ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*