بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / شہید محمد مرسی المصری زندہ ہے!!!

شہید محمد مرسی المصری زندہ ہے!!!

شہید محمد مرسی

شہید محمد مرسی

ضیاء الدین صدیقی (اورنگ آباد)،معتمد عمومی، وحدت اسلامی ہند
تاریخ مصر میں پہلی دفعہ عوامی نمائندے کی حیثیت سے منتخب ہونے والے محمد مرسی عیسیٰ العیاط المصری اولین صدر ہے۔ یوں تو صدارتی فہرست میں وہ مصر کے پانچویں صدر تھے لیکن عوامی منتخب امیدوار کی حیثیت سے وہ مصر کے پہلے صدر تھے۔17 جون 2019 کی شام الجزیرہ و مصر کی سرکاری اطلاعاتی ایجنسیوں نے دنیا کو مطلع کیا کہ محمد مرسی معزول صدرِ مصر اب اس دنیا میں نہیں رہے، بعض اطلاعات کے مطابق انھیں پیشی کے لیے عدالت لایا گیا تھا، جہاں انہوں نے ۲۰؍منٹ تک عدالت میں ہی اپنا بیان دیا جو فکری ،جذباتی و موجودہ حالات کے پس منظر میں نہایت اہم تھا ،بتایا جاتا ہے کہ بیان کی فوری بعد وہ گر پڑے اور اسپتال لے جاتے ہوئے راستے ہی میں ان کا انتقال ہوگیا ۔شوگر کے مریض تھے ‘حرکت قلب بند ہو نے کی وجہ جاں بحق ہوگئے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے انہیں صحیح خراج عقیدت پیش کیا ہے ،یہ کہتے ہوئے کہ’’ وہ شہید ہوئے ہیں، شہید مردہ نہیں ہوتے ،اپنے فکر، اپنی قربانیوں اور اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ،قرآن نے تو انہیں رزق پہنچانے کی بات کہی ہے جس کا شعور ہم لوگ نہیں کر سکتے‘‘۔
محمد مرسی 20 اگست 1951 میں مصر کے ضلع شرقیہ کے ایک دیہات میں پیدا ہوئے ۔بچپن ہی میں انھیں قرآن حفظ کروایا گیا تھا۔ قاہرہ یونیورسٹی سے انہوں نے 1978 میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، اور 1982میں یونیورسٹی آف ساؤدرن (کیلیفورنیا )سے پی ایچ ڈی کرتے ہوئے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں وہ مصر واپس لوٹے اور شرقیہ کی یونیورسٹی میں بحثیت استاد اپنی خدمات انجام دیں ،محمّد مرسی عربی اور انگریزی دونوں زبانوں پر عبور رکھتے تھے ۔2000 سے 2005 کے درمیان مصری پارلیمنٹ میں وہ اخوان المسلمین کے نمائندے رہے ،اس کے بعد سات سال کے لیے جیل میں ڈال دیئے گئے ،2011 میں جب بہارعرب کی شروعات تیونس سے ہوئی تو مصر بھی اپنی حالات کا شکار ہو چکا تھا ، یہاں بھی ۳۰؍ سالوں سے اقتدار پر بیٹھے ہوئے حسنی مبارک کے خلاف عوامی غصہ تحریک و مظاہروں کی شکل میں سامنے آ یا، بظاہر اس کی قیادت کسی کے ہاتھ میں نہ تھی لیکن اندرونی معاملات کا پورا نظم اخوان المسلمین نے سنبھال رکھا تھا ۔ ۳۰؍ سالہ اقتدار کے بعد حسنی مبارک کا دور ختم ہوا اور مصری عوام کو اس میں کامیابی ملی ۔اخوان المسلمون نے الیکشن کے لیے ایک سیاسی پارٹی تشکیل دی جس کا نام انہوں نے حزب الحریت والعدل (فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی )رکھا۔ اس کے رئیس کی حیثیت سے محمد مرسی کو نامزد کیا گیا ۔
حسنی مبارک کے بعد 23 مئی 2012 کو الیکشن کا پہلا دور منعقد ہوا ۔جس میں محمد مرسی اور سابق وزیراعظم احمد شفیق کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے ۔کیونکہ مصری الیکشن پروسس پیچیدہ رکھا گیا ہے ،دوسرے مرحلے میں احمد شفیق کے مقابلے میں محمد مرسی کو 51.70فیصد ووٹ ملے تھے جس کی وجہ سے محمد مرسی کو پہلے منتخب صدر کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ۔محمد مرسی نے 30 جون 2012 سے اقتدار سنبھالا،کچھ بنیادی اصطلاحات کی جانب توجہ دیں اور اسی دوران بیرونی ممالک کے دورے بھی کیے۔25 دسمبر 2012 کو ’اسلامی دستور ‘پر مصری عوام کے درمیان ریفرنڈم کروایا گیا ،جس میں اکثریت نے شرعی حکومت بنانے کے لیے اسلامی دستور کے حق میں اپنی رائے دیں،جس کی وجہ سے محمد مرسی اور اخوان المسلمین کی حیثیت مضبوط ہوئی ۔امریکہ ، یوروپ واسرائیل اور بعض مسلم ممالک جیسے سعودی عربیہ اور یو اے نے عبدالفتاح السیسی کا ساتھ دے کر فوجی بغاوت کروائی اور عوامی منتخب صدر کو معزول کر دیا گیا ۔ محمد مرسی 3 جولائی 2013 کو معزول کر دیے گئے۔
ایک ایمان والے کا قتل ‘انسانیت کا قتل ہے اور کعبے کی حرمت سے بڑھ کر اس کی جان وآبرو محترم ہے، لیکن ایک اسلامی ملک جس کادستور شریعت کی بنیاد پر بنایا گیا ہوں ،اس کا قتل کتنا بھیانک ہو سکتا ہے غور کرنے کی بات ہے۔ایسی ہی حرکت پاکستان نے افغانستا ن کی اسلامی حکومت کو ختم کرکے اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کیا تھا ۔
معیشت اور حکومت میں اخوان کے اثرات اور انسانی حقوق کی پامالی کو بنیاد بنا کر ’تمرد‘ بغاوت کی مہم چلائے گئی۔ جس میں مصری عوام کو شامل کیا گیا ، اور منتخب صدر کو معزول کر دیا گیا ۔معزولی کے خلاف اخوان المسلمین اور دیگر اسلام پسندوںنے فوج اور اس کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کی ان حرکات کو بنیاد بناکر مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا ۔رابعہ عدویہ کے چوراہے پر حکومت نے سیدھی گولی باری کی جس کی وجہ سے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1000 افراد جاں بحق ہوئے اور غیر سرکاری تعداد تین ہزار سے زائد کے شہید ہونے کی ہے ۔یہ واقعہ 14 اگست 2013 کا ہے ۔معزولی کے بعد محمد مرسی کو چار ماہ قید میں کہا رکھا گیا اس کا علم کسی کو نہ تھا، البتہ بعد میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی ،الزامات میں 2011 جیل توڑنے اور فساد پھیلانے پر 16 مئی 2014 کو سزائے موت سنائی گئی ۔قطر کے لیے جاسوسی کرنے کا ایک مقدمہ بھی چلایا جا رہا ہے مختلف الزامات کے مقدمات میں 4 مرتبہ سزائے موت اور 2مرتبہ عمر قید کی سزا پا رہے محمد مرسی کو اس وقت راحت ملی جب کہ مفتی اعظم مصر نے ان سزا ؤں کو کالعدم قرار دے دیا۔
دیگر اور مقدمات میں ۲۰ ۔ ۲۰سال کی سزا ئیں بھی سنائی گئی تھی ،17جون 2019 کو عدالت میں پیشی ‘اس مقدمے کی تھی جس میں قطر کے لیے جاسوسی کا الزام محمد موسی پر لگایا گیا تھا ۔اس مقدمے کے دوران انہوں نے ۲۰؍ منٹ گفتگو کی اور وہیں پر گرپڑے ،ہسپتال لے جاتے ہوئے ہوئے راستے ہی میں ان کا انتقال ہوگیا ۔مرسی کے جنازے کو خاندان کے حوالے نہیں کیا گیا ،بلکہ صرف لڑکوں کو اجازت دی گئی اور خاموشی سے عوامی قبرستان میں تدفین کا فیصلہ کیا گیا ۔یہاں تک کہ محمد مرسی کی اہلیہ نگلہ علی محمود کو بھی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ جنازے کے قریب آسکے۔محمد مرسی المصری اخوان المسلمین کا وہ مرد مجاہد ہے جس نے آخری وقت تک اپنی فکر اور اپنے مقصد کے لیے جدوجہد جاری رکھیں ۔ وہ عالمی طاغوت کی سازش کا شکار ضرور ہوئے لیکن اپنی سوچ و فکر سے بغاوت نہیں کی ۔جیل کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے اخوان المسلمین کا حوصلہ بنائے رکھا تھا اور جب کہ انہیں موت نے ہم آغوش کر رکھا ہے تو مزید حوصلوں اور ہمتوں کی سوغات مصری عوام کا نصیب بن چکی ہے ۔محمد مرسی کی شہادت سید قطب ،عبدالرؤف رائف کے جیسے نہ صحیح لیکن فی سبیل اللہ ان کی موت ہوئی ہے ،اس لیے وہ اس راہ کے شہید کہلائیں گے ۔
محمد مرسی کی پہلی عوامی تقریر،UNO میں ابتدائی گفتگو ،دیگر ممالک میں جا کر ہم فکر لوگوں سے ملاقاتیںاس بات کی گواہی دیں گی کہ محمد مرسی نے اپنی فکر اور نصب العین سے ذرہ برابر انحراف نہیں کیا۔ اقتدار کا نشہ انہیں دوسرے راستے نہ دکھلا سکا اور نہ جیل کی سلاخوں نے ان کی ہمتوں اور حوصلوں کو پست کیا ۔ایسے لوگوں سے قومیں زندہ رہتی ہے اور انقلابی فکر و نظر کے آ بیاری ہوتی ہے ۔ اخوان کی منتخب حکومت کو معزول کر دینے کے باوجود اخوان المسلمین نے طاقت کے استعمال سے اجتناب برتا اور کہا کہ ’’ہمارا ہاتھ نہ اٹھانا ہی ہماری طاقت ہے ،ہم آدم ؐکے اس بیٹے کی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں جس نے اپنے بھائی پر ہاتھ نہیں اٹھایا بلکہ قتل ہونے کو ترجیح دیں ۔‘‘ ایسی سوچ و فکر کے حامل جماعت کو امریکہ اب دہشت گرد قرار دینا چاہتا ہے ۔جس کے بارے میں محمد بن سلمان نے یہ بات کہی ہے کہ’’ خلیج میں تناؤ کے تین محورہے اخوان، ایران اور داعش ۔‘‘محمد بن سلمان خود کیا کر رہے ہیں انہیں بتلانے کی ضرورت نہیں ۔ اپنے آقا امریکہ اور اپنے دوست اسرائیل کے اشاروں پر اصلاحات کی جو جھڑی لگا دی گئی ہے اس ضمن میں مزید اور کیا کہا جا سکتا ہے ۔ ؎حرم رسوا ہے پیر حرم کی کم نگاہی سے
اے شہیدمرسی ! ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم نے اللہ کی رضا و آخرت کی فلاح کے لیے اقتدار سنبھالاتھا اور اس کے لئے جیل کی سلاخوں کو قبول کیا اور اسی راہ میں اپنی جان دے دیں ۔ہم گواہ ہے ! اے مرسی ہم گواہ ہے !!تم زندہ ہو تمہیں موت نہیں آئی ہے ،تم تو ہم سے جدا ہوئے ہو۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*