بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / ملک میں بڑھتے مذہبی تعصب کو کم کرنے کے لئے مسلمان کیا کریں؟

ملک میں بڑھتے مذہبی تعصب کو کم کرنے کے لئے مسلمان کیا کریں؟

ممبئی کے آزاد میدان میں منعقدہ اجلاس عام میں ممبئی کے مسلمان (تصویر معیشت) فائل فوٹو

ممبئی کے آزاد میدان میں منعقدہ اجلاس عام میں ممبئی کے مسلمان (تصویر معیشت) فائل فوٹو

سید زاہد احمد علیگ

اب تک ہمارے ملک میں مذہبی تعصب کو دفع کرنے کے لئے سیکیولرزم کے نام پر غیر مذہبی اقدامات کئے جاتے رہے ہیں ۔ ان اقدامات سے عوام کی مذہبی شناخت تونہیں بدلی البتہ عوام کی اکثریت مذہب سے بے پرواہ ہونے کی حالت میں اخلاقی طور پرکمزور ہوتی چلی گئی۔ آج انسانوں میں وہ مذہبی تعلیمات کے اثرات نظر نہیں آتے جس سے اپنے مذہب پر چلتے ہوئے دیگر مذہبی قوموں کے ساتھ سدبھائونا (جذبہ خیر) بنائے رکھا جا سکتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے بیچمذہبی تعصب پھیلانا اب آسان ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیکولر ہندستان میں متعدد مذہبی دنگے فسادات ہوئے اور اب تو سیاست اور معاشرت بھی مذہبی تعصب کے زیر اثر ہو تی جا رہی ہے۔ جسکی وجہ سے قوم میں اخلاقی گراوٹ دیکھی جا سکتی ہے۔ سیکیولرزم کی خاطر کوئی مسلما ن کبھی اللہ تعالیٰ اور گائے کے متعلق یکساں عقیدہ نہیں رکھ سکتاہے کیوں کہ ایسا کرنے والامسلمان نہیں بلکہ کفار یا مشرک ہوگا۔ قرآن مجید جس سیکیولرزم کی تعلیم دیتا ہے اس کے مطابق مسلمان اپنی عبادت میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کر سکتا، البتہ وہ دیگر مذاہب کے معبودوں کوکبھی برا نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی اسکے لئے یہ گنجائش ہے کہ وہ کسی قوم کی دشمنی کی وجہ سے کسی کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کا معاملہ کر سکے۔ ایک سچا مسلمان اپنے عقیدہ میں پختہ ہونے کے باوجود غیروں کے ساتھ انصاف اور احسان کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ قرآنی تعلیمات پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کے ذریعہ سدبھائونا پھیلانا کوئی سیاسی عمل نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ آخر مسلمانوں کے لئے کفار کا فتنہ کیوں بڑھتا جا رہا ہے اور اس کا علاج کیاہے؟ مسلمانوں کے عملی زندگی میں قرآنی احکامات کی خلاف ورزی سے ان کے لئے فتنہ بڑھتا جا رہاہے۔ مسلمانوں نے جب سے دنیاوی معاملات کو دین سے الگ سمجھ کر زندگی گزارنا شروع کر دیا، تبھی سے ان کے اندر وہن پیدا ہونے لگا اوردنیا میں ان کے لئے دشمن بڑھتے چلے گئے۔ مسلمانوں کے ذریعہ کفار کے ظلم اور زیادتی کاشکوہ کرنے سے حالات اور بگڑتے ہیں۔ اگر مسلمان سیاسی جتھابندی کرتے ہیں توکفار مسلمانوں کے خلاف متحد ہو کر ان کے لئے مشکلیںبڑھاتے ہیں۔ اگر مسلمان داعش(ISIS) جیسی تنظیموں کی حمایت کریں گے تو حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔ البتہ اگر وہ توبہ استغفار کرتے ہوئے قرآن اور سنت کی روشنی میں برائیوں کو بھلائیوں سے دفع کرنے کی کوشش کریںگے تو انشاء اللہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ انسانوں کو برائیوں سے بچانے کے لئے اللہ نے اپنے رسولوں کو احکامات دے کر بھیجا اور آخر کار رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ نے رسول اللہ ﷺ پر قرآن مجید نازل کر دیا۔ یہ نبی کریم ﷺ کی برکت تھی کہ ہندستان میں فتح مکہ سے پہلے ہی بغیر کسی جنگ کے دین اسلام داخل ہو چکا تھا۔ کیرالہ ، گجرات اور تمل ناڈو کی قدیم ترین مسجدیں اس کی گواہ ہیں ۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ کے دور خلافت میں سمندری لٹیروں سے بحری تجارت کو محفوظ رکھنے کی غرض سے اسلامی لشکر کا ایک ٹکڑا ہندستان سے لگے عرب ساگر تک آ گیا تھا۔ اسکے علاوہ شمالی ہند میں اسلامی لشکر کا ایک اور ٹکڑا سندھ ندی تک فتح یاب ہوتا چلا آیا تھا۔ لیکن کچھ سوچ کر حضرت عمر فاروق ؓ نے ہندستان پر حکومت کی غرض سے فوج داخل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ حضرت عمر فاروقکے دور میںذمیوں (مسلم ممالک میں رہنے والے غیر مسلم ) کی جان ومال کو مسلمانوں کی جان ومال کے برابر قراردیا گیاتھا۔ کوئی مسلمان اگر کسی ذمی کو قتل کر ڈالتا تھا تو حضرت عمرؓ فوراً اس کے بدلے مسلمان کو قتل کرادیتے تھے۔ ذمیوں کے اندر مسلمانوں کے حسن سلوک کی وجہ سے جو اخلاص پیدا ہوگیا تھا اسکا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ جنگ یرموک کے موقع پرجب مسلمان شہر حمص سے واپس لوٹنے لگے تو یہودیوں نے توریت ہاتھ میں لیکر کہا’’جب تک ہم زندہ ہیں کبھی رومی یہاں نہ آنے پائیں گے۔‘‘ اور عیسائیوں نے نہایت حسرت سے کہا کہ ’’خدا کی قسم تم ہم کو رومیوں کے بہ نسبت کہیں زیادہ محبوب ہو۔‘‘
لیکن بعد میں مسلمانوں نے خلافت کی بجائے بادشاہت کواپنا لیا اورحکومت کو دین سے الگ سمجھ کر سیاسی اور فوجی امور میں قرآن اور سنت کے خلاف عمل کرنے لگے، تو دنیا میں ان کی تعریف کی بجائے مخالفت شروع ہو گئی۔ ہندستان میں بھی جو مسلم حکمران آئے تھے وہ دین اسلام پھیلانے کی غرض سے نہیں بلکہ اپنی ریاست بڑھانے آئے تھے ۔ چوںکہ اسلام دین میں زبردستی سے منع کرتا ہے، اس لئے مسلم حکمرانوںنے کبھی ہندستان میں کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا، لیکن جن مندروں میں ان کی حکومت کے خلاف سازشیں ہوتی تھیں، ا نہیں گرانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان کے اس عمل سے شیطان کو ہندئوں کے ذہن میں یہ بات ڈالنے کا موقع مل گیا کہ مسلم حکمرانوں نے ظلم کے ساتھ حکومت کیا تھا اور اسلام پھیلانے کے لئے مندروں کو توڑا تھا، اس لئے اب ہندو دھرم پھیلانے کے لئے ان مسجدوں کو توڑ کر وہاں مندریں بنائی جانی چاہئے۔ اس طرح ملک میں ہندئووں اور مسلمانوں کے درمیان تنائو بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ انگریزوں کے خلاف ملک کی آزادی مذہب کی بنیاد پر بٹوارے کے ساتھ ملی۔ ملک کی آزادی کے بعد بھی عوام میں مذہبی تعصب بڑھتا گیا اور اب حال یہ ہو چکا ہے کہ بابری مسجد ڈھانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی تو نہیں ہوئی ، البتہ ملک کے ہندو اب بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کے لئے پارلیامنٹ میں بل لانے کی مانگ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف مسلم اقلیت کو مالی پسماندگی سے باہر نکالنے کے لئے آر بی آئی نے جو غیر سودی بینکنگ کی تجویز پیش کی تھی ، اسے یہ کہہ کر نامنظور کر دیا گیا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ شاید اقتدار میں بیٹھے شیوسینا اور بی جے پی کے ممبران پارلیامنٹ کو شیطان نے یہ سجھایا ہوگا کہ خبر دار اگر ایسے غیر سودی بینکنگ کی تجویز کو منظور کیا گیا تو مسلمانوں کی مالی اور معاشی ترقی کی راہیںکھل جائیں گی ۔
انسانوں کو شیطان سے بچا کر راہ حق پر قائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ رسولوں کو احکامات دے کر بھیجتا رہا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ پر قرآن مجید نازل کر کے رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کے لئے اپنے دین کو مکمل کر دیا۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم اس قرآن میں وہ کچھ اتارتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے ، توظالموں کو یہ صرف نقصان میں بڑھاتا ہے (سورہ بنی اسرائیل ،آیت ۸۲) ۔ ظالم وہ لوگ ہیں جو دنیا میں فساد پھیلا نا چاہتے ہیں اور لوگوں کو لڑانے اور قتل کرانے کی سازش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق قرآن میں صاف کر دیا گیا کہ جو کوئی بھی اللہ کے احکامات کو فراموش کر کے شیطان کی پیروی اختیار کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ خود ہی ایک شیطان کو ان کا ساتھی بنا دیتا ہے، جو اسے راہ حق سے روکتا ہے اور وہ شخص سمجھتا ہے کہ وہ سیدھی راہ پر ہے۔ ( سورۃ الزخرف ،آیت ۳۶ تا ۳۷ ) ایسے لوگ اصلاح معاشر ہ کی کوششوںکے بجائے لوگوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کو بھڑکانے کی غرض سے قرآن کی چند آیتیں کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ کفار کے دلوں میں مسلمانوں کے لئے نفرت بڑھ جائے۔ یہ لوگ دفاع اور فوجی کاروائیوں سے متعلق قرآنی آیتوں کو اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے اللہ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عام زندگی میں غیر مسلموں کی دشمنی میں سخت رہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو جنگ کے موقع پر کفار کے خلاف سختی سے لڑنے کا حکم دیا ہے ۔ اس کے علاوہ قرآن کی ان آیتوں کو لوگوں سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں جن میں اللہ نے مسلمانوں کو حق اور انصاف پر قائم رہتے ہوئے کفار کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا ہے جو مسلمانوں سے دین کے متعلق نہیں لڑتے۔ اس طرح شیطان نے دنیا کے غیر مسلموں کی نگاہ میں مسلمانوں کو کٹر دشمن بنا کر پیش کر رکھا ہے اور مسلمانوں کو ان آیتوں سے غافل رکھنے کی کوشش کی ہے جن پر عمل کرنے سے غیر مسلموں کی نگا ہوں میں مسلمانوں کی تصویر بہتر ہو جاتی ۔
دنیا میں اکثر فساد کی وجہ یہ رہی کہ انسانوں نے سماجیات، سیاسیات اور معاشیات کو دین سے باہر سمجھ کر احکام الٰہی پر عمل کرنے کی بجائے اپنے نفسانی خواہشات ( یا یوں کہیں کہ شیطانی وسوسوں) پر عمل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں زیادہ تر لڑائیاں دین کی بجائے دنیاوی مفادات کے پیش نظر ہوتی رہی ہیں۔ ایمان والوں کے مخلص ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ اپنا ہر کام اللہ کے حکم اور رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق کرے گا۔ ایک مخلص مسلمان اپنی زندگی کا کوئی بھی عمل اللہ کے حکم اور رسول اللہ ﷺ کے سنت کے خلاف نہیں کرے گا۔ آج کے دور میں اگر ہندستانی مسلمانوں کو کفار کے فتنہ سے بچنا ہےتو لازم ہے کہ وہ شیطانی وسوسے سے بچیں اور کوئی بھی عمل ایسا نہ کریں جو اللہ کے احکامات اور سنتِ رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہو۔ اس لئے اس دور کے مسلمانوں کو ان قرآنی احکامات پر عمل کرنا ہوگا جس میں ان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کفار کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کریں۔ سورہ ممتحنہ کی پانچویں آیت میں مسلمانوں کو کفار کے فتنہ سے بچنے کی دعا بتائی گئی ہے۔ لیکن کفار کے فتنہ سے بچنے کی دعا تبھی قبول ہوگی جب مسلمان ان قرآنی آیات پر عمل کرے گا جو کفار کے فتنہ سے بچانے والی ہیں۔ ان میں سب سے اہم اور جامع احکامات سورہ ممتحنہ میں ہیں۔
اس حقیقت سے غافل کہ شیطان انسان کا پیدائشی دشمن ہے جو ہمیشہ وسوسہ ڈال کر انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہتاہے، اکثر انسان شیطانی وسوسہ سے بچنے کی بجائے انسان کو ہی اپنا اصل دشمن سمجھتا ہے۔ شیطان انسان کو اخلاقی برائیوں میں مبتلا کرتا ہے۔ تکبر، بے حیائی، ریاکاری، بے صبری، لالچ، حسد اور بخل وغیرہ ایسی اخلاقی برائیاں ہیں جن کی وجہ سے اکثر انسانی رشتوں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ خدا نے انسان کو شیطان سے بچنے کے لئے تین طریقے بتائے ہیں۔ وہ شیاطین جو جنّات میں سے ہوں اور انسانوں کو نظر نہ آتے ہوں، ان سے بچنے کے لئے انسان کو اللہ کی پناہ لینے کو کہا گیا ہے۔ اس کے لئے خاص دعائیں قرآن مجید میں موجود ہیں ، جیسے سورہ فاتحہ ، سورہ فلک، سورہ ناس اور آیت الکرسی وغیرہ ۔ ر اسکے بعد وہ انسان جنہیں شیطان نے بہکا کراپنے گروہ میں ملا لیا ہے تاکہ زمین پر فساد پھیلائے تو ایسے لوگوں کے خلاف سختی سے جنگ کرنا ہے ، البتہ وہ لوگ جن کو شیطان نے کفر اور شرک میں مبتلا کر رکھا ہے مگر وہ مسلمانوں سے لڑتے نہیں تو ان کے ساتھ مسلمانوں کو اچھے اخلاق سے پیش آنے کا حکم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں قرآن مجید کی مختلف سورتوں اور آیات میں جامع دعائیں سکھائی گئی ہیں، وہیں متعدد آیات اور سورتیں انسان کو انصاف اوراعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتی ہیں۔ بہتر ہوگا کہ انسانوں کے درمیان پائی جانے والی مذہبی تنائو کو دور کرنے کے لئے ہم اپنے ذاتی خیالات پر عمل کرنے کی بجائے قرآنی احکامات پر عمل کریں ۔
آئیے ہم اپنا جائزہ لیں کہ کفار کے فتنہ سے بچنے کے لئے ہم کس قدر احکام الٰہی پر عمل کرتے ہیں؟ ان احکامات میں یہ بھی شامل ہے ہم کفار کے خدائوں کو برے نام سے نہ پکاریں، اہلِ کتاب اور مشرکین کی جانب سے سخت کلامی پر صبر کریںاور برائیوں کو بھلائیوں سے دفع کریں۔ ہمیں کسی بھی حال میں حق اور انصاف سے نہیں ہٹنا ہے اور ان کفار کے ساتھ احسان اور انصاف کرنا ہے جو ہم سے دین کے متعلق نہیں لڑتے۔ سورہ انعام آیت ۱۰۸ میں فرمایا گیا کہ اور جن لوگوں کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں اللہ کو بے ادبی سے بے سمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک امت کے اعمال ان کی نظروں میں اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے۔
اللہ جہاں فتنہ پھیلانے والوں سے جہادکرنے کو کہتا ہے وہیں مسلمانوں کو نرم گوئی اور حکمت کے ساتھ کفار سے بات کرنی کی وصیت کرتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے کہ اے پیغمبر لوگوں کو حکمت اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاؤاور بہت اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے راستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو راستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔ (سورہ نحل ، آیت ۱۲۸) اسی طرح بھلائی سے برائیوں کو دفع کرنے کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، برائی کو بھلائی سے دفع کرو، پھر تیرا دشمن ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست۔ یہ بات انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں، اور اسے سوائے بڑے نصیبے والوں کے کوئی اور نہیں پا سکتا، اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ سے پناہ طلب کر لیا کرو، یقینا وہ بہت ہی سننے والا جاننے والا ہے۔ ( سورۃ حٰمٰ سجدہ، آیت نمبر ۳۴ سے ۳۶ ) یہاں غور کرنے کی بات ہے کہ اللہ کی پناہ طلب کرنے کو کہا گیا ہے کیوں کہ جب کوئی صبر کر کے برائی کو بھلائی سے درگزر کر نا چاہتا ہے تو شیطان اس کے اندر وسوسہ ڈالتا ہے کہ برائی کا بدلہ اگر بھلائی سے دوگے تو برائی کرنے والوں کا حوصلہ اور بڑھ جائے گا۔
اسی طرح صلح کی کوششوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ صاف فرما تا ہے کہ ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیںسوائے اس کے کہ جو کوئی خیرات یا بھلے کام یا لوگوں میں اصلاح کے لئے حکم دے اور جو کوئی اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ایسا کرے گا، اسے ہم بڑا اجر دیں گے۔ (سورۃ النساء، آیت نمبر ۱۱۴) انسان کو چاہئے کہ جب وہ لوگوں کو نیکی کا حکم کرے تو خود کو نہ بھولے۔ فرمان الٰہی ہے کہ کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، بس کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ (سورۃ البقر آیت ۴۴) دوسری جگہ فرمایا گیا کہ اے ایمان والو! اللہ کے لئے انصاف کی گواہی دینے کے لئے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور کچھ لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ انصاف ہی نہ کرو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔ ( سورہ مائدہ آیت ۸ )
انسانی معاملات میں صبر اور درگزر کا بڑا دخل ہے۔ یہاں تک کہ جن کو ستایا گیا، ان کو اللہ بدلہ لینے کے اخلاقی حق کے باوجود صبر اور درگزر کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ نے جہاں مظلوم کو بدلہ لینے کی اجازت دی ہے وہیں وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ صبر کر جائیں اور لوگوں پر احسان کریں۔ فرمان الٰہی ہے کہ اور اگر بدلہ بھی لو تو اتنا ہی جتنی تمہیں تکلیف پہنچی ہواور اگر صبر کرو تو یہ صبر کرنیوالوں کے لئے بہت اچھا ہے۔ اور تو صبر کر اور تیرا صبر کرنا اللہ کی توفیق سے ہی ہے، اور ان پر افسوس نہ کر، اور ان کی وجہ سے تنگ نہ ہوجو وہ تدبیریں کرتے ہیں۔ (سورہ نحل آیت ۱۲۶ سے ۱۲۷) اسی طرح کے احکامات سورہ شوریٰ کی آیت ۴۰ سے ۴۳ میں بھی آیا ہے۔ اللہ انصاف کو اس قدر پسند کرتا ہے کہ مسلمانوں کو ہر حال میں انصاف پر جمے رہنے کا حکم دیتا ہے۔ سورۃ النسا کی ۱۳۵ نمبر آیت میں جہاں یہ کہا کہ کسی کی قریبی رشتہ داری تمیں انصاف سے نہ پھیر دے، وہیں سورہ مائدہ کی آٹھویں آیت میں فرمایا کہ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کے لئے کھڑے ہونے والے، انصاف کی گواہی دینے والے ہو جائو، اور کسی قوم کی دشمنی تم کو اس پر آمادہ نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو ، یہ تقوی سے قریب تر ہے، اور اللہ سے ڈرو، اللہ اس سے خبردار ہے جو تم کرتے ہو۔
اس دور کے ہندستانی مسلمانوں کے لئے سورہ ممتحنہ کی بڑی اہمیت ہے جس کی شروعات ایک مہاجر صحابی حضرت حاطب ابن بلتعہ ؓکے ایک واقعہ سے ہوتی ہے۔ سورہ کی شروعاتی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ تم کافروں کے ساتھ محبت کی بنیاد ڈالنے کی نیت سے پوشیدہ پیغامات مت بھیجا کرو، تم میں سے جو ایسا کرے گا وہ راہ راست سے بہک جائے گا۔ حضرت حاطب ؓ جنگ بدر میں شامل تھے لیکن چوں کہ وہ قریش سے نہ تھے اور مکہ میں ان کے بیوی بچوں کا کوئی ولی نہ تھا، انہیں لگا کہ اگر وہ وقت رہتے کفار مکہ کو حضور ﷺ کی جانب سے مکہ پر چڑھائی کے منصوبہ سے آ گاہ کر دیں گے تو کفار ان کا احسان مان کر ان کے بیوی بچّوں کے ساتھ رعایت کا معاملہ کریں گے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی کوشش کو ناکام کیا اور مسلمانوں کو ہدایت دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو اپنا دوست نہ بنائیں اور اللہ سے ہی ڈریں۔ اسکے بعد پانچویں آیت میں وہ دعا سکھائی گئی ہے جس میں مسلمان اللہ سے کہتا ہے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ذریعے فتنے میں نہ ڈالنا اور اے ہمارے پروردگار ہمیں معاف فرما بیشک تو غالب ہے حکمت والا ہے۔ سورہ کی ۸ تا ۹ آیت میں فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمکو تمہارے گھروں سے نکالا انکے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تمکو منع نہیں کرتا۔ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ تمکو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تمکو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں۔
ان قرآنی آیات سے واضح ہو گیا کہ اس دور کے مسلمانوں کو شیطان کے بہکاوے میں نہیں آنا ہے۔ جو بھی سختی کفار کی جانب سے ہو اس پر صبر کرنا ہے، اور برائیوں کا بدلہ بھلائی سے دینا ہے۔ کائی بھی ایمان والا مسلمانوں کو چھوڑ کر کسی کافر کو اپنا دوست نہ بنائے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مسلمان ہر کفار کو اپنا دشمن سمجھیں۔ مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان کفار کے ساتھ انصاف اور احسان کا معاملہ کریں جو ان سے دین کے متعلق نہیں لڑتے نہ لڑنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن مسلمانوں کو ستایا گیا ہو وہ چاہیں تو اتنا ہی بدلہ لے سکتے ہیں جتنا انکو ستایا گیا ہے ۔ لیکن اگر وہ معاف کر دیں گے اور درگزر کریں گے تو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور ایسا وہی کر سکتا ہے جس کا دل نرم ہو اور وہ صبر کر سکتا ہو۔ اگر صبر کر کے درگزر کرنے میں شیطان وسوسا ڈالے تو اللہ کی پناہ لینے کا حکم دیا گیا ہے، کیوں کہ شیطان صبر کرنے والوں کو وسوسا دلاتا ہے کہ انکے صبر کو لوگ بزدلی سمجھیں گے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ صبر کرنیوالوں کے ساتھ ہے ۔
اس دور میں شیطان انسانوں کے اندر وسوسا ڈالے کے لئے افوہیں پھیلاتا ہے، جس سے بچنے کی ضرورت ہے ۔ اللہ نے اسی لئے افواہوں سے بچنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اسکو اگر پیغمبر اور اپنے ذمہ داروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند آدمیوں کے سوا تم سب شیطان کے پیرو ہو جاتے۔ (سورہ النساء ، آیت ۸۳) اس لئے جب تک کسی خبر کی سچائی سامنے نہ آ جائے اس پر ردّ عمل سے بچیں اور خبر کی تحقیق کے لئے نائب رسول علماء الکرام اور ملت کے زمہ داروں کے پاس لے جائیں۔ اس طرح امید ہے کہ اگر مسلمان افواہوں پر عمل کرنے سے پہلے اسکی تحقیق کرا لیں گے اور عمل کرتے وقت فرمان الٰہی اور سنت رسول ﷺ کا خیال رکھیں گے تو انشاء اللہ ملک میں مسلمانوں کے حالات بدل جائیں گے۔ جب یہ بات واضح ہو گئی کی معاشرے میںکفار کے ساتھ اچھا سلوق کرنے کا حکم قرآن سے ہے تو ایمان والوں کے لئے معاشرے میں سدبھاونا (جزبہ خیر ) پھیلانا سیاست نہیں عبادت کا عمل قرار پائے گا کیوں کہ اس سے شیطان کو دفع کیا جا سکتا ہے اور مسلمانوں کے لئے کفار کے دل نرم ہوں گے اور مخالفت کم سے کم تر ہوگی۔ اللہ ہندستان کے مسلمانوں کو کفار کے فتنہ میں نہ ڈالے اور ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق نہیں بلکہ قرآنی احکات کی روشنی میں کفار کے ساتھ معاملہ کریں، تاکہ دنیا بھی بہتر بنا سکیں اور آخرت میں اجر عظیم کے مستحق ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*