بنیادی صفحہ / روزگار / پرائیویٹ نوکریاں / معاشی بحران: ٹویوٹا اور ہونڈئی میں کار مینوفیکچرنگ بند، سینکڑوں ملازمتیں ختم

معاشی بحران: ٹویوٹا اور ہونڈئی میں کار مینوفیکچرنگ بند، سینکڑوں ملازمتیں ختم

آٹو موبائل

آٹو سیکٹر کی خستہ حالی کا اثر ملازمت پر زبردست طریقے سے پڑ رہا ہے۔ جاپانی کار ساز کمپنی ٹویوٹا موٹر اور جنوبی کوریائی کمپنی ہونڈئی موٹر نے اس گراوٹ کو دیکھتے ہوئے گاڑیوں کے پروڈکشن کو ہی روک دیا ہے۔
ہندوستانی کی معیشت لگاتار زوال پذیر ہے۔ آٹو سیکٹر کی بدحالی سے اب کوئی بھی ناواقف نہیں ہے۔ اس سیکٹر سے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق معاشی بحران اور خستہ حالی سے پریشان ٹویوٹا اور ہونڈئی کمپنی نے بھی کار بنانا بند کر دیا ہے۔ اس سے سینکڑوں کی تعداد میں ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں اور آگے کی راہ مزید مشکل نظر آ رہی ہے۔ معاشی شعبہ میں سستی کی وجہ سے سبھی متفکر ہیں اور اس سستی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کار اور بائک کی فروخت گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس سال جولائی میں لگاتار نویں مہینے اسکار اور بائک وغیرہ کی فروخت میں گراوٹ دیکھنے کو ملی۔میڈیا ذرائع کے مطابق فروخت میں گراوٹ کا اثر اس سیکٹر میں ملازمت پر زبردست طریقے سے پڑ رہا ہے۔ جاپانی کار ساز کمپنی ٹویوٹا موٹر اور جنوبی کوریائی کمپنی ہونڈئی موٹر نے اس گراوٹ کو دیکھتے ہوئے گاڑیوں کے پروڈکشن کو ہی روک دیا ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ کمپنیوں کو اپنی یونٹیں بند رکھنے کے لیے بھی مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شفٹ میں کٹوتی بھی کی جا رہی ہے۔
ایک خبر رساں ادارہ کا کہنا ہے کہ بحران کی حالت گہرانے کی وجہ سے کئی کمپنیوں نے پہلے ہی اپنے غیر مستقل ملازمین کی چھنٹنی کر دی ہے، اور اب یہ سلسلہ مزید دراز ہو سکتا ہے۔ ڈینسو کارپ کی ہندوستانی یونٹ جو کاروں کے لیے پاور ٹرین اور اے سی سسٹم بناتی ہے، نے اپنے مانیسر پلانٹ سے 350 غیر مستقل ملازمین کو نکال دیا ہے۔ ماروتی سوزوکی کی شراکت داری والی بیلسونیکا کمپنی نے بھی اپنے یہاں مانیسر میں 350 ملازمین کی چھٹی کر دی ہے۔ بیلسونیکا فیول ٹینک اور بریک پیڈ بناتی ہے۔ اس سے پہلےخبر یہ بھی آئی تھی کہ گاڑی بنانے والی کمپنیوں، گاڑی کے پرزے بنانے والی کمپنیوں اور ڈیلروں نے اپنے یہاں تقریباً 3.50 لاکھ ملازمتوں میں تخفیف کی ہے۔
بہر حال، ٹویوٹا نے 13 اگست کو جاری نوٹس میں اپنے ملازمین سے کہا تھا کہ کمپنی بازار میں گاڑیوں کی کم طلب کو دیکھتے ہوئے بنگلورو پلانٹ میں 16 اور 17 اگست کو پروڈکشن نہیں کرے گی۔ کمپنی کے پاس ابھی 7000 گاڑیوں کا اسٹاک ہے۔ ٹویوٹا ہندوستانی یونٹ کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر این. راجہ نے اس سلسلے میں کہا کہ اسٹاک بڑھنے سے بچانے کے لیے اگست میں پانچ دن پروڈکشن نہیں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*