بنیادی صفحہ / انٹرویوز / بھوکوں کو کھانا کھلانا’’ لنگر رسولﷺ‘‘ کے قیام کا مقصد ہے

بھوکوں کو کھانا کھلانا’’ لنگر رسولﷺ‘‘ کے قیام کا مقصد ہے

عرفان قاضی

عرفان قاضی

نوی ممبئی کے سماجی کارکن عرفان قاضی کا کہنا ہے کہ غریبوں کی خبر گیری کئے بغیر سکون کی تلاش ممکن نہیںہے
نوی ممبئی (معیشت نیوز)اللہ تعالی کی تمام مخلوقات حصول رزق کی کوشش کرتی ہیں اور اپنے ساتھ اپنے کنبوں کی پرورش کرتی ہیں لیکن انسان وہ واحد مخلوق ہے جس کے اندر خدمت خلق کا جذبہ بھی پیدا کیا گیا ہے اور وہ اپنے ساتھ ان ضرورت مندوں کی خبر گیری بھی کرنا چاہتا ہے جو نامساعد حالات کا شکار ہو کر ضروریات زندگی پوری نہ کر پارہے ہوں ۔لیکن انہیں حضرت انسان کو شیطان بہکا کر اس بات کے لئے آمادہ کرتا ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی کرے اور دوسروں کا حق بھی مار لے ایسے ماحول میں غریبوں کا خبر گیری نہ صرف تقاضائے دین ہے بلکہ وقت کی ضرورت بھی ہے ‘‘۔ان خیالات کا اظہار لنگر رسول ﷺ چلانے والے عرفان قاضی نے معیشت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ’’ہمارا مقصد ’’فیڈ انڈیا پروگرام ‘‘چلا کر ملک سے بھوک مری کا خاتمہ کرناہے یہ کوئی ایسا کام نہیں ہے جس کے لئے محض ایک شخص ذمہ داری لے اور اپنے فرض کو ادا کرے بلکہ اسے عوامی بنانا اور تمام لوگوں کا ااس کا حصہ بننا ہی مشن کا اصل مقصد ہے۔‘‘یہ ایک حقیقت ہے کہ دوسروں کو کھانا کھلانا اسلام کا بہترین عمل ہےجبکہ صدقہ میں کھانا کھلانا ابدی انعام ہےاسی کے ساتھ غریبوں کو کھانا کھلانا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بیرون ممالک غریبوں کی خبر گیری پر خاطر خواہ توجہ دی جاتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہندوستان میں اس پر بہت کم عمل ہو رہا ہے اس میں بھی مسلمانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔وہ قوم جو جود و سخا میں دوسروں سے ممتاز تھی اور جہاں دعوت دین کے لئے کھانا پروسا جاتا تھا اب وہاں نبیوں کے تمام روایات ناپید دکھائی دیتے ہیں ۔عرفان قاضی معیشت سے کہتے ہیں ’’ہم نے جو سسٹم شروع کیا ہے وہ ایسا ہے کہ مختلف جگہوں پر ہم نے اپنے ادارے ساتھ فائونڈیشن کا کنٹری بیوشن باکس رکھا ہے جس پر لنگر رسول ﷺ درج ہے۔اسی کے ساتھ یہ پیغام بھی درج ہے کہ یہ غریبوں مسکینوں مفلوک الحال لوگوں کے لئے ہے لہذا جو اس میں اپنا تعاون دینا چاہتے ہوں وہ اپنا تعاون دیں۔اس طرح ہم جمع ہوئی رقم سے کسی ہوٹل والے سے کھانا پکوا کر خوبصورت پیکنگ کے ساتھ بہتر انداز میں ان لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں جو اس کے ضرورت مند ہیں۔ہم نے ہوٹل والوں کے پاس بھی اپنا کنٹری بیوشن باکس رکھا ہے اور ان سے یہ کہا ہے کہ اس میں جتنی رقم جمع ہو آپ اس کو اپنے پاس رکھ لیں اور اتنی ہی رقم کا کھانا بنا کر دے دیں تاکہ ہم مستحقین تک پہنچا سکیں۔اس طرح ہوٹل والوں کو بھی کار خیر میں شامل ہونےکا موقع مل جاتا ہےاور وہ بخوشی تعاون کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔‘‘
ساتھ فائونڈیشن کے سربراہ عرفان قاضی کہتے ہیں ’’نوی ممبئی کے ایک بزرگ نے اس کام کو کرنے کی تلقین کی اور ہم نے مل جل کر اس کا آغاز کیا ۔فی الحال ۱۰۰ کنٹری بیوشن باکس رکھنے کی خواہش ہے جب ہم اپنے ٹارگیٹ تک پہنچ جائیں گے تو پھر جائزہ لیں گے کہ آخر اس کا سماج پر کیسا اثر پڑ رہا ہے اور سماج کس حد تک اس کار خیر میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ ‘‘

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*