بنیادی صفحہ / انٹرویوز / خدمت خلق کے ذریعہ ہی دونوں جہان کی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے

خدمت خلق کے ذریعہ ہی دونوں جہان کی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے

 ہدایت الاسلام ٹرسٹ کے صدر جامع مسجد نیرول کے ذمہ دار قریش احمد صدیقی

ہدایت الاسلام ٹرسٹ کے صدر جامع مسجد نیرول کے ذمہ دار قریش احمد صدیقی

نیرول:(معیشت نیوز) ہدایت الاسلام ٹرسٹ کے صدر جامع مسجد نیرول کے ذمہ دار قریش احمد صدیقی نوی ممبئی والوں کے لئے محتاج تعارف نہیں ہیں۔کرتا پائجامہ اور گول ڈوپی زیب تن کرنے قریش بھائی جبہ و دستار والوں کے نزدیک بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔نیرول جامع مسجد سے متصل ہزار اسکوائر فٹ کے مکان میں رہائش پذیر قریش احمد صدیقی ۱۹۸۵ءمیں جب واشی بس ڈپو کے پاس رہائش پذیر تھے تو ان کے پاس وہ تمام چیزیں موجو د نہیں تھیں جس کا کہ ایک متمول شخص خواب دیکھا کرتا تھا سڈکو کی زمین پر کانٹریکٹر کا کام کرنے والے قریش بھائی معیشت سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میں نوی ممبئی میں آیا تو سیکٹر 1 جنگل نما علاقہ تھا جہاں شام ڈھلتے ہی ہو کا عالم طاری ہوجاتا تھا ایسے میں ہم نے ۱۹۹۵ میں سڈکو سے زمین لے کر واشی مسجد کی بنیاد ڈالی اور وہاں ذکر وفکر کا ماحول گرم کرنے کی کوشش کی۔چونکہ میں کانٹریکٹر کاکام کرتا تھا لہذا مختلف لوگوں سے تعلقات تھے لیکن ان تعلقات کو رضائے الٰہی کے لیے استعمال کرنا میں اپنا فرض سمجھتا تھا۔چونکہ واشی مسجد نالہ کے آس پاس کا کام میں نے کیا تھا اور بطور کانٹریکٹر مختلف کام کیا کرتا تھا۔لہٰذا جب نیرول آیا تو خواہش جاگزیں ہوئی کہ کیوں نہ یہاں پر بھی مسجد کی تعمیر کی جائے اور نماز پنجگانہ کا اہتمام کیا جائے۔۱۹۸۵ ہی میں ہم نے ہدایت الاسلام ٹرسٹ قائم کی تھی اور بڑی مشقتوں کے بعد ۱۱ ؍لوگوں کو ٹرسٹی بنایاتھا۔بہار سے تعلق رکھنے والے حسین صاحب چونکہ سڈکو میں ایم ڈی بن کر آئے تھے لہٰذا انہوں نے دو ہزار اسکوائر میٹرکا علاقہ مسجد کے نام الاٹ کردیااور اس بات کی تلقین کی کہ ہم لوگ اس کی تعمیر میں لگ جائیں۔قریش احمد صدیقی مسجد کی تعمیر کے تعلق سے کہتے ہیں کہ’’ نیرول جامع مسجد کی تعمیر کسی معجزہ سے کم نہیں ہے،حسین صاحب نے مسجد کی جگہ تو الاٹ کردی لیکن جگہ خرید نے کے لئے سڈکو کوجو ۱۸؍لاکھ روپئے اداکرنے تھے وہ رقم ہمارے پاس موجود نہیں تھی۔۶؍ماہ کی مسلسل محنت کے بعد ہم نے ساڑھے چار لاکھ روپئے جمع کیا۔جبکہ سڈکو کی معینہ مدت بھی اختتام کو پہنچ چکی تھی۔لیکن انہوں نے ہماری مجبوری کو دیکھتے ہوئے تین ماہ کا ایکسٹینشن دیا۔ان تین ماہ میں بھی ہم صرف ساڑھے چھ لاکھ ہی جمع کرپائے،اسی دوران ایک روز ایک مہمان عارضی تعمیر کردہ مسجد میں آئےاور نماز کی ادائیگی کے بعد بیٹھے رہے ۔میرے دوستوں نے مجھ سے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پردیسی ہیں،تو کیوں نہ ان کو اپنے گھر لیجائیں اور کھانا کھلادیں‘‘۔قریش بھائی کہتے ہیں’’ جب میں مہمان کو لے کر گھرپہنچا اور گھر میں داخل ہوکر اپنی اہلیہ سے مہمان کے کھانے لئے مطالبہ کیا۔تو انہوں نے گھر میں کچھ نہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے کہاکہ’’بس تھوڑا سا گیہوںاور بیسن ہے اگر کہیں تو اسکی روٹی بنادیتی ہوں‘‘بالآخر اہلیہ نے بیسن اور گیہوں کی روٹی چٹنی کے ساتھ مہمان کی خدمت میں پیش کی۔میری غربت و مفلوک الحالی دیکھ کر اور اہلیہ کی باتیں سن کر موصوف اس قدر متاثر ہوئے کہ’’انہوں نے جاتے ہوئے دعا دی کہ انشاء اللہ اب آپ کو تنگی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔سڈکو میں رقم جمع کرنے کی تاریخ بھی قریب سے قریب تر آتی جارہی تھی اور ہمارے پاس پیسے جمع نہیں ہوپارہے تھے، آخر میں نے فیصلہ کیاکہ اپنا گھر بیچ دوںاور اس رقم کو بھی سڈکو میں جمع کرآئوں۔ابھی اسی پس وپیش میں تھاکہ خدا کا کرم ایسا ہوا کہ القطامی نامی کسی سعودی کے ممبئی آنے کی اطلاع ملی جو مسجد بنانے میں دلچسپی رکھتے تھے ۔ہم لوگ بھاگ کر ان کے پاس پہنچے اور مکمل صورتحال کا تذکرہ کیا انہوں نے مسجد کی تعمیر کی ذمہ داری اس شرط پہ لی کہ اگر کوئی آپ لوگوں کی ضمانت لےتوہم رقم خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔بالآخر نیشنل فرنیچر والوں نے اپنی دکان کے ایگریمنٹ پیپر جمع کئے اور پھر وہاں سے رقم ریلیز ہونے لگی‘‘۔قریش بھائی کہتے ہیں کہ’’ میں جس وقت ۱۰۰؍اسکوائر فٹ بیچ کر اللہ کے گھر کی تعمیر کے لیے رقم جمع کرنے کی نیت کررہا تھا اللہ تعالیٰ نے اسی جگہ ہزار اسکوائر فٹ کی جگہ عنایت کردی اور ہماری تجارت میں برکت بھی عطاکرنے لگا‘‘۔۱۹۵۷ءکو الہ آباد میں پیدا ہوئے قریش بھائی ۱۹۷۹ء میں جب ممبئی آئے تو پریل میں اپنی بہن کے یہاںمقیم رہے اور ۱۹۸۱ء میں شادی کرکے نوی ممبئی چلے آئے۔معیشت سے کہتے ہیں ایک وقت تھا جب نوی ممبئی میں لوگ آنے سے گھبراتے تھے لیکن اس وقت جن لوگوں نے جھونپڑیاں لیں آج وہ کروڑوں کے مالک ہیں۔میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس علاقہ کو تعمیر کرنے میں لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔خود نیرول جامع مسجد کی حیثیت مرکزی ہوگئی ہےاور ایرولی،کوپرکھیرنے،واشی،بیلاپور،کلمبولی،پنویل جیسے علاقے یہاں سے مستفید ہورہے ہیں‘‘۔تین بچوں کے باپ قریش بھائی کہتے ہیں ’’میں نے تو تعلیم حاصل نہیں کی لیکن خدمت خلق کے ساتھ بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ہے یہی وجہ ہے کہ میرا بڑا بیٹا کاشف قریش صدیقی آئی ٹی انجینئر ہے جبکہ چھوٹا بیٹا کاظم قریش صدیقی اسپورٹس میں نیشنل لیول کھیلنے کی وجہ سے گورنمنٹ جاب میں ہے ‘‘۔نیرول جامع مسجد کے ٹرسٹیوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے قریش بھائی کہتے ہیں ’’محمد حنیف شیخ اگر نائب صدر ہیں تو فیاض پرکار جنرل سکریٹری جبکہ محمد رفیق شیخ جوائنٹ سکریٹری اور بلال خان سرگروہ خازن کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ حسن ہلمانی،سبحان خان،خالد خان،افضل خان وغیرہ ممبران میں شامل ہیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*