بنیادی صفحہ / خبریں / اسلام کا عائلی نظام اور غیرمسلم معاشرے کے اس پراثرات

اسلام کا عائلی نظام اور غیرمسلم معاشرے کے اس پراثرات

  محمد افضل شاہ محمدخان مولانا ابوظفر حسان ندوی ازہری سے انعامات لیتے ہوئے ساتھ میں دانش ریاض کو بھی دیکھا جاسکتا ہے

محمد افضل شاہ محمدخان مولانا ابوظفر حسان ندوی ازہری سے انعامات لیتے ہوئے ساتھ میں دانش ریاض کو بھی دیکھا جاسکتا ہے

معیشت اکیڈمی کی جانب سے نوی ممبئی،تلوجہ،پنویل،کوسہ ممبرا کے مدارس اسلامیہ کے مابین منعقد ہونے والے تحریری مقابلہ میں انعام اول حاصل کرنے والے مقالہ نگار محمد افضل شاہ محمدخان کی تحریر
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان فطرتا مدنی الطبع ہے وہ اپنی زندگی بسر کرنے کیلے سماجی تعلقات کے محتاج ہےانسان اپنے وجود، پرورش، تعلیم ، صحت غرضیکہ زندگی کے تمام معاملات میں قدم بقدم دم مرگ تک جہاں اپنے خالق کائنات کی خاص عنایتوں کے مرہون منت ہے وہاں ایک دوسرے کیساتھ سماجی تفاعل کا احتیاج بھی رکھتا ہے، انسان بطور سماجی رکن اپنے وجود کے فورا بعد جس معاشرتی ادارے کا محتاج ہوتا ہے وہ ادارہ” خاندان” کہلاتا ہے ۔یہی وہ ادارہ ہوتا ہے جو انسان کی جسمانی، روحانی، اخلاقی اور فکری پرورش کی بنیاد رکھتا ہے اس ادارے میں رہن سہن کے طور طریقوں کو عائلی نظام زندگی کہا جاتا ہے ۔ عائلی زندگی ہی انسانی شخصیت کی پہلی اینٹ رکھتی ہے اور اسکی تعمیر سازی کا آغاز کرتی ہے ۔عائلی زندگی کی بنیادی اکائی کی حیثیت میاں بیوی کو حاصل ہے،انہی کے ازدواجی تعلقات سے اس زندگی کی ابتداء ہوتی ہے. غرض قانونِ ازدواج قوانینِ تمدن میں سب سے زیادہ اہم ہے۔اسلام کے عائلی نظام کو ہم ‘مسلم پرسنل لا’ بھی بول سکتے ہیں ۔ اس میں نکاح ، طلاق، خلع،نان و نفقہ، وراثت ، وصیت، رضاعت اور حضانت وغیرہ شامل ہیں، حضانت کا مطلب یہ ہے کہ میاں بیوی الگ ہوگئے تو بچوں کی پرورش کون کرے گا؟بچے اگر چھوٹے ہیں تو کون ان کی پرورش کاذمہ دار ہوگا؟اس طرح کے بہت سے مسائل اس کے اندر آتے ہیں۔
عائلی نظام زندگی کی اہمیت وضرورت
چونکہ اسلام ایک کامیاب معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے اور معاشرہ افراد کا مجموعہ ہے ۔ اور اگر افراد کو عائلی سکون میسر نہ ہو تو ترقی کی شاہراہ بے آباد و ویران ہو جاتی ہے۔ ایک طرف صنفِ لطیف کی طبعی کمزوری اور دوسری طرف مرد کے تشدد کا اندیشہ فریقین کے تصادم کی صورت میں کمزور پر قوی کے غلبہ کا بہرحال امکان ہے۔ لہذا جسطرح زندگی کے دیگر معاملات میں انسان رہنمائی اور اسوہ کا محتاج ہوتا ہے اسی طرح اس زندگی کے اہم اور بنیادی معاملے میں بھی آئیڈیل رہنما اوراس کی رہنمائی انسان کیلے ناگزیز ہے۔ اور شارع نے اس ضرورت کا پوری طرح اہتمام کیا ہے۔
عائلی نظام کے ان احکام کا تعلق خواہ میاں بیوی سے ہو یا ماں باپ سے، اولاد سے ہو یا بھائی بہن سے یا دوسرے قریبی رشتہ داروں سے، ان کے سلسلے میں قرآن میں بہت تفصیل آئی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی وضاحت کردی ہے۔ اس وقت سے اب تک کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا کہ ان پر عمل نہ ہواہو۔جب نماز فرض ہوئی، روزہ فرض ہوا،زکوٰۃکے احکام آئے، حج کے احکام آئے،اس وقت سے مسلسل آج تک ہر آدمی ان پر عمل کررہاہے۔ ٹھیک اسی طرح پرسنل لا پر بھی عمل ہوتارہاہے۔بعض اوقات یہ خیال کیا جاتاہے کہ پرسنل لا کا مسئلہ میاں بیوی کاانفرادی مسئلہ ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ مسئلہ پورے خاندان سے متعلق ہے۔قرآن و حدیث نے نماز روزے کی طرح ان کی بھی پابندی کا حکم دیاہے۔
اسلام کی نگا ہ میں عائلی زندگی کا تصور
مسلمان کہیں بھی رہے اور کسی بھی حال میں رہے،اقتدار میں رہے یا اقتدار کے باہر رہے، وہ ان عائلی احکام کا پابند ہے۔ ان کی اسی طرح تاکید کی گئی ہے، جس طرح نماز روزے کی تاکید کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں جہاں عائلی احکام بیان کیے گئے ہیں ، کہا گیاہے کہ یہ حدیں ہیں ۔ایک مسلمان کو ان کے اندر رہنا ہوگا، ان سے آگے وہ نہیں بڑھ سکتا۔ایک جگہ تقسیم وراثت کے اصول بیان ہوئے ہیں ، اس کے آگے فرمایا:تِلْکَ حُدُودُ اللّہِ وَمَن یُطِعِ اللّہَ وَرَسُولَہُ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم (النساء: 13)“یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ۔جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گااسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گاجن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گااور یہی بڑی کام یابی ہے۔” اس کے بعد فرمایا:وَمَن یَعْصِ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَیَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ نَاراً خَالِداً فِیْہَا وَلَہُ عَذَابٌ مُّہِیْن (النساء : 14)“اور جو اللہ اور اس کے رسول ؐ کی نافرمانی کرے گااور اس کی مقرر کی گئی حدوں سے تجاوز کرے گا، اسے اللہ جہنم کی آگ میں ڈالے گا،جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن سزا ہے۔”یہاں وراثت کا قانون بیان ہوا ہے۔ اللہ نے اس کے حدود بیان کردیے ہیں ۔ جو شخص ان سے آگے بڑھے گا یا ان میں ترمیم کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں پہنچادے گا،جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ ایک جگہ احکام طلاق کے بعد فرمایا : تِلْکَ حُدُودُ اللّہِ فَلاَ تَعْتَدُوہَا وَمَن یَتَعَدَّ حُدُودَ اللّہِ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُون ( البقرۃ: 229) “یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں ، ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدودِ الٰہی سے تجاوز کریں ، وہی ظالم ہیں ۔” اللہ تعالیٰ نے طلاق کا طریقہ بیان کر دیا ہے۔یہ اللہ کا قانون ہے اوراس کی قائم کردہ حد ہے۔ جو اللہ کی حد کو توڑ ے گا،وہ دوسرے کو کیا نقصان پہنچائے گا؟ خود اپنا ہی نقصان کرے گا۔ آدمی سوچتاہے کہ اس نے بیوی کا حق نہیں دیا، رشتہ داروں کا حق مار لیا، بچوں کا حق مار لیا،بھائی بہن کا حق مار لیا تو اس نے بڑی کام یابی حاصل کرلی۔ قرآن کہتاہے کہ نہیں ! دوسروں کی تباہی ہوئی ہے یا نہیں ، یہ بعد میں دیکھیں گے،یاد رکھو سب سے پہلے تم خود تباہ ہوگئے۔
جن قوموں نے اللہ کے احکام کی نافرمانی کی، اللہ نے ان کا بڑا سخت حساب لیا اور وہ تباہ کردی گئیں ۔اس لیے کوئی قوم یہ نہ سوچے کہ ہم اللہ کی نافرمانی کرکے اس کے عذاب سے بچ جائیں گے۔سورۂ طلاق میں بات ختم کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:وَکَأَیِّن مِّن قَرْیَۃٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّہَا وَرُسُلِہِ فَحَاسَبْنٰہَا حِسَاباً شَدِیْداً وَعَذَّبْنٰہَا عَذَاباً نُّکْرا۔فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِہَا وَکَانَ عَاقِبَۃُ أَمْرِہَا خُسْراً (الطلاق: 7۔8)
“کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی۔ انھوں نے اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور ان کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔”اس لیے کوئی قوم اور کوئی آبادی یہ نہ سمجھے کہ اللہ کے احکام کی نافرمانی کرکے وہ بچ جائے گی لوگوں کو آج کل نماز روزے کی پابندی تو بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے، لیکن دوسرے احکام کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ ان پر عمل کے معاملے میں وہ آزاد ہیں ۔ کہا گیا کہ نہیں ، قومیں تباہ ہوچکی ہیں اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے، اس لیے اگر تم دنیا میں زندہ رہنا چاہتے ہو تو اللہ کے احکام کے پابند رہو۔یہ احکام پوری فصیلات کے ساتھ قرآن میں بیان ہوئے ہیں ۔
ازدواجی زندگی
ازدواجی زندگی کا قرانی تصور مندجہ ذیل آیت میں اللہ نے بیان کیا ہے۔ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿ الروم ٢١ ﴾
“خدا کی حکمت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کر دیے ہیں یعنی مرد کے لیے عورت اور عورت کےلیے مرد لیکن خدا نے ایسا کیوں کیا؟”اس لیے کہ انسان کی زندگی میں تین چیزیں پیدا ہو جائیں جن تین چیزوں کے بغیر انسان ایک مطمئن اور خوش حال زندگی حاصل نہیں کر سکتا وہ تین چیزیں یہ ہیں : سکون، مودت اور رحمت۔ “سکون”عربی زبان میں ٹھراؤ اور جماؤ کو کہتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ تمھاری زندگی میں ایسا ٹھراؤ اور جماؤ پیدا ہو جائے کہ زندگی کی پریشانیاں اور بے چینیاں اسے ہلا نہ سکیں۔”مودت” سے مقصود محبت ہے قرآن کہتا ہے کہ ازدواجی زندگی کی تمام تر بنیاد محبت پر ہے شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے اس لیے رشتہ جوڑتی ہے تا کہ ان کی ملی جلی زندگی کی ساری تاریکیاں محبت کی روشنی سے منور ہو جائیں ۔لیکن محبت کا یہ رشتہ پائیدار نہیں ہو سکتا اگر رحمت کا سورج ہمارے دلوں پر نہ چمکے رحمت سے مراد یہ ہے کہ شوہر اور بیوی نہ صرف ایک دوسرے سے محبت کریں بلکہ ہمیشہ ایک دوسرے کی غلطیاں اور خطائیں بخش دیں اور ایک دوسرے کی کمزوریاں نظرانداز کرنے کےلیے اپنے دلوں کو تیار رکھیں۔رحمت کا جذبہ خود غرضانہ محبت کو فیاضانہ محبت کی شکل دیتا ہے” رحمت ہمیشہ اس سے تقاضا کرے گی کہ دوسرے کی کمزوریوں پر رحم کرے غلطیاں، خطائیں بخش دے ۔ غصہ ، غضب اور انتقام کی پرچھائیاں بھی اپنے دل پر نہ پڑنے دے۔
تربیت اولاد
یہ عائلی زندگی کا انتہائی اہم فریضہ ہے ۔ دین مقدس اسلام نے اولاد کی تربیت کو والدین کے اوپر واجب قرار دیا تاکہ وہ اس اہم فریضہ سے غافل نہ رہیں اور معاشرے کو مفید افراد فراہم کر سکیں. دین مقدس نے تربیت کو اسقدر اہمیت دی ہے کہ اس سے متعلق لحظہ بہ لحظہ کے اصول بیان کیا ہے . الجنۃ تحت اقدام الامہات ( ماں کے پاوں تلے جنت ہے) کہہ کر جہان ماں کی عظمت و شان کو بیان کیا ہے وہاں ماں کی ذمہ داری کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ماں ہی وہ ہستی ہے جو اولاد کی صحیح معنوں میں تربیت کر کے انکوجنت پہنچا سکتی ہے ماں ہی وہ ہستی ہے جسکی گود کو اولین درسگاہ قرار دیا گیا ہے. یہ مسلم امر ہے کہ والدین کے کردار و رفتار کا اولاد پر لا محالہ اثر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ سرکار دو عالم نے ارشاد فرمایا؛”کل مولود يولد فهو على الفطرة، وإنما أبواه يهودانه أو ينصرانه.”” ہر بچہ جوپیدا ہوتا ہے وہ فطرت دین الہی پر قائم ہوتا ہے یہ اسکے والدین ہیں جو اسکو یہودی اور نصرانی بناتے ہیں” [صحیح البخاری ۱۳۵۸]معلوم ہوا کہ بچے کی شخصیت سازی میں والدین کا بنیادی اور نمایاں کردار ہوتا ہے حتی کہ بعض اوقات زندگی کے پیشے بھی والدین کے اتباع میں اختیار کرتے ہیں. لہذا عائلی نظام زندگی میں اولاد کی شخصیت سازی کس طرح سے ہونی چاہیے اور کس طرح سے اولاد کی فکری، اخلاقی اور معنوی تربیت ہو وہ اسلام نے انتہائی وضاحت سے بیان کیے ہیں۔
حقوق والدین
اسلام کے عائلی نظام میں والدیں کے بے شمار حقوق ہیں البتہ ان میں سے چند اہم حقوق یہ ہیں :[1] طاعت و فرمانبرداری: اگر والدین کسی ایسے کام کا حکم نہیں دےرہے ہیں جسمیں اللہ تعالی کی معصیت ہے یا کسی بندے پر ظلم اور اسکی حق تلفی ہےتو انکی اطاعت واجب ہے ، اللہ تعالی فرماتا ہے:وَإِن جَاهَدَاكَ عَلى أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ( سورة لقمان۱۵ )اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا۔اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا :
طاعۃ اللہ طاعۃ الوالد و معصیۃ اللہ معصیۃ الوالد الطبرانی / جمع الزوائد ، ج : 8 ، ص : 136 ، بروایت ابو ہریرہؓ اللہ تبارک و تعالی کی اطاعت کی تکمیل والد کی اطاعت میں ہے اور اللہ تعالی کی نافرمانی والد کی نافرمانی میں ہے ۔[2] تعظیم و توقیر: قول و فعل کے ذریعہ والدین کی توقیر انکا واجبی حق ہے حتی کہ انکے سامنے اُف کر دینے میں انکی بے حرمتی اور انکے ساتھ بدسلوکی ہے ۔وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًا( سورة الإسراء ۲۳ ) اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا ……. وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا. اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما ( سورة الإسراء : 23،24 )[3] خدمت: مالی اور بدنی دونوں ذریعہ حتی الامکان انکی مدد کرنا اور انکے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ، ایک شخص خدمت نبوی میں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے کہ میرے باپ میرا سارا مال لے لیتے ہیں [میں کیا کروں ؟] آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے باپ کاہے تمہاری سب سے پاک روزی تمہاری اپنے ہاتھ کی کمائی ہے اور تمہاری اولاد کا مال تمہاری کمائی میں داخل ہے ۔ [ احمد ، ج : 2 ، ص : 179 ، بروایت عبد اللہ بن عمرؓ][4] دعا: والدین جب اس دنیا سے جاچکے ہوں بلکہ اگر وہ بقید حیات ہوں تو بھی اولاد کی دعا کے سخت محتاج ہیں ۔وقل وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا( سورة الإسراء ۲۴ )دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما۔
ایک صحابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ والدین کی وفات کے بعد انکا کیا حق میرے اوپر رہتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : انکے لئے دعا ئے مغفرت کرنا ، انکے کئے گئے عہد و پیمان کو پورا کرنا ، انکے دوست کی تعظیم کرنا اور وہ رشتہ داریاں جو والدین کے ذریعہ جڑتی ہیں انہیں باقی رکھنا ۔ [سنن ابوداود ، الترمذی وغیرہ بروایت ابو اسیدؓ ][5] متعلقین کے ساتھ حسن سلوک: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا: سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ سے دوستانہ تعلقات رکھنے والوں سے تعلق جوڑ کر رکھے ۔ [صحیح مسلم ] اسلام کا عائلی نظام اور احکامِ میراث
عرب جاہلیت کے دور میں عورتوں اور بچوں کو میراث کے مال سے محروم رکھا جاتا تھا، جو زیادہ طاقت ور اور بااثر ہوتا، وہ بلاتامل ساری میراث سمیٹ لیتا تھا اور ان سب لوگوں کا حصہ بھی مار کھاتا تھا جو اپنا حصہ حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ میراث کی تقسیم کے بارے میں دنیا کی مختلف قوموں کے نظریات، خیالات اور طور طریقے کئی طرح کے رہے ہیں۔ ان طریقوں میں سے کسی میں بھی اعتدال اور انصاف نہیں تھا۔ بعض قومیں میراث میں عورتوں اور بچوں کو بالکل حصہ نہیں دیتی تھیں۔ عرب جاہلیت کی قومیں، برعظیم پاک و ہند کی قومیں اور دیگر علاقوں کے لوگ عورتوں کو حصہ بالکل نہیں دیتے، پھر بیٹوں میں بھی انصاف و برابری نہیں تھی۔ کسی بیٹے کو تھوڑا تو کسی کو زیادہ دیا جاتا تھا۔بعض اقوام نے میراث دینی شروع کی تو پرانے جاہلیت کے طریقے کو چھوڑ کر نئی جاہلیت اپنائی اور عورتوں کو مردوں کے برابر لاکھڑا کیا۔ یہ دوسری انتہا اور زیادتی ہے جس میں بھی انصاف کے تقاضے مدنظر نہیں رکھے گئے۔ میراث کی تقسیم میں دنیا کی اکثر قومیں حتی کہ بہت سے مسلمان بھی افراط و تفریط کے شکار ہیں۔
اللہ تعالٰیٰ نے مسلمانوں کے لیے تقسیمِ میراث کے احکام بالکل واضح، متعین اور دو اور دو چار کی طرح مقرر کردیے، اس میں کوئی الجھاؤ اور شبہ تک نہیں چھوڑا۔ اس لیے کہ مال وہ پسندیدہ اور دل لبھانے والی چیز ہے کہ انسان اسے چھوڑنا نہیں چاہتا۔ معاشرتی دباؤ کی بنا پر کوئی زبان نہ کھولے تو اور بات ہے، لیکن دل میں خواہش، تمنا اور اپنا حق حاصل کرنے کی تڑپ ضرور موجود رہے گی۔ میراث کی تقسیم، وارثوں کے حصے، حصوں کی حکمت، میراث سے قرض کی ادائیگی، وصیت پوری کرنے اور اس حکم پر عمل کرنے والوں کے لیے جنت کی خوش خبری اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے دوزخ کے دردناک عذاب کی وعید سورۂ النساء آیت ۱۱ تا ۱۴ میں بیان کی گئی ہے۔
یہ ہے وہ خوبصورت عائلی نظام کی جھلک جسکی تصویر اسلام پیش کرتا ہے۔ اس سے زیادہ خوبصورت نظام زندگی کا نہ تو تصور ہی کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی دنیا کی کوئی قوم اسے پیش کر سکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ وہ قوم جسکے پاس اتنا عمدہ ، مکمل اور ہم آہنگ فطرت ضابطئہ حیات موجود ہے جو کہ زندگی کے ہر شعبہ میں عموما اور خاندانی نظام میں خصوصا رہنمائی کرتا ہے اسے چھوڑ کر دوسری قوموں کی ناقص، بے اصل اور عریانیت پر مبنی تہذیب کو بلا دلیل اپنا لیتی ہے۔ اپنی تہذیب سے ناواقفیت، دین میں عدم پختگی اور ایک طویل عرصہ تک غیرمسلموں کے ساتھ رہن سہن نے مسلمانوں کے عائلی نظام کو غیر معمولی اور غیر محسوس طریقہ سے متأثر کیا ہے۔ مسلمانوں میں بہت سے ایسے رسم و رواج روز بروز جنم لے رہے ہیں جو یقینا اسلامی تہذیت کے مغائر ہیں اور غیروں کی صحبت کا نتیجہ ہے۔
اسلامی عائلی نظام پر غیرمسلم معاشرے کے اثرات
اسلامی تہذیب خطہ عرب سے طلوع ہوئی اور انتہائی قلیل عرصے میں دنیا کی بڑی تہذیبوں پر ضوفگن ہوگئی۔ دوسری صدی ہجری کے شروع ہونے سے قبل اسلام اس وقت کی موجود اہم ترین تہذیبوں پر فتح کر چکا تھا۔ اسلام کا مختلف تہذیبوں سے یہ ملاپ تاریخ کا ایک اہم ترین واقعہ قرار دیا جاسکتا ہے جس کے نتیجہ میں اسکے اثرات انسانی فکر اور علوم و فنون پر جس انداز سے پڑے وہ اپنی نوعیت میں اپنی مثال آپ ہیں۔ اسی تہذیب کے لین دین ، عرصہ دراز تک غیر مسلموں کے درمیان رہن سہن، مسلمانوں کی مغلوبیت اور سب سے بڑھ کر مسلمانوں کی دین میں عدم پختگی نے اسلام کے عائلی نظام کو بھی خوب متأثر کیا، اسمیں مغرب کی عریانیت اور ہندوانا رسمیں شامل ہوگئی۔ ذیل میں کچھ بیجا عائلی رسم و رواج کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو مسلمانوں میں غیرمسلم معاشرے کیساتھ غیر شعوری رفاقت سے درکر آئیں ہیں۔
مشترکہ خاندانی نظام
مشترکہ خاندانی نظام یا جوائنٹ فیملی سسٹم ، ایک ایسا نظام ہے جو بر صغیر کے گھرانوں میں صدیوں سے رائج ہے۔ پاک و ہند کے لوگ فخریہ طور پر اس نظام کو نہ صرف اپناتے ہیں۔ بلکہ مغربی طرز معاشرت کے سامنے اپنے مضبوط خاندانی نظام کی مثالیں پیش کر کے مغربی بے راہ روی کا بنیادی سبب اسی خاندانی نظام کے نہ ہونے کو گردانتے ہیں۔
مشترکہ خاندانی نظام کی تاریخ کوئی بہت پرانی نہیں ہے۔ اسلامی طرز معاشرت میں اس کی نشانیاں ہمیں کہیں بھی قرآن وسنت سے نظر نہیں آتی ہیں۔ اگر ہم اپنے پیارے نبی کی زندگی کا مطالعہ کریں تو نظر آتا ہے کہ اپنی بیٹی بی بی فاطمہ کی شادی کے موقعے پر بھی انہوں نے ان کو ایک علیحدہ گھر دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہمارے پیارے نبی نے اپنی ہرزوجہ کو علیحدہ رکھا۔
اگر اسلام سے مشترکہ خاندانی نظام ثابت نہیں ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کہاں سے آیا؟ اور یہ ہمارے گھروں میں کیسے رائج ہوا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سراسر ہندوانہ نظام ہے۔ اور اس کے پیچھے ہندو بنی کی سوچ کارفرما ہے۔
اس نظام کے رائج ہونے کا بنیادی سبب ہندو طرز معاشرت میں یہ تھا کہ اس کے ذریعے وہ کئی گھروں کے افراد ایک ساتھ خرچے کو تقسیم کر لیتے تھے اس سے ان کو اخراجات میں بچت ہوتی تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ چونکہ ہندو معاشرے میں محرم اور نامحرم کو کوئی نظریہ نہیں ہے۔ لہذا ان کے معاشرے کے مطابق نا محرم کے ساتھ رہنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کی طرز معاشرت جدا ہے۔ اس میں نامحرم سے سختی سے پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے بچو، ایک انصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ حمو(دیور) کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ حمو(دیور) تو موت ہے۔صحيح بخارى حديث نمبر ( 5232 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2172)جب کہ مشترکہ خاندانی نظام میں کسی عورت کے لۓ یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے دیور یا سسر سے پردہ کر سکے۔ دوسرا پہلو جو اس امر میں سب سے زیادہ نقصاندہ ہے اور اس کا خمیازہ نسلوں تک بھگتنا پڑتا ہے، وہ ہے بچوں کی تربیت۔
عموما ایسے گھرانے جو معاشی طور پر غیر مستحکم ہوتے ہیں وہاں ہر خاندان کے پاس رہائش کے نام پر صرف ایک کمرہ ہوتا ہے جس میں میاں بیوی اور بچے رہتے ہیں۔ عمر کے ایک خاص دور میں جب بچوں کو ماں باپ سے علیحدہ سلانے کا حکم ہوتا ہے۔جگہ کی کمی کے سبب اس حکم کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ ماں باپ کے ساتھ سونے کے سبب بچوں کو زندگی کے ان پہلوؤں سے بھی وقت سے قبل آشنائی ہو جاتی ہے جو ان کی ذہنی اور جسمانی تربیت کے لئے انتہائی مضر ہوتے ہیں۔مشترکہ خاندانی نظام کے سبب ایک عورت پر گھر کی ذمہ داریاں وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ بڑھنے کے بجاۓ ایک دم بڑھ جاتی ہیں۔ جن کے سبب اس کی صحت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور وہ وقت سے قبل بےزار ہو جاتی ہے۔ جس سے اس کے اور اس کے شوہر کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ان تمام عوامل کے سبب اسلام نے مشترکہ خاندانی نظام کی کبھی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے۔ عرب معاشرے کو جس کو اسلامی طرز معاشرت کی مثال کے طور پر لیا جاتا ہے وہاں بھی شادی سے قبل علیحدہ گھر کی شرط لازم ہے۔مشترکہ خانداںی نظام کی حمایت کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرز معاشرت کے سبب ہمارے بزرگ اپنی زندگی کا آخری وقت آرام سے اپنے بچوں کے ساتھ گزار سکتے ہیں۔ مگر یہ یاد رکھیں کہ خدمت کرنے کے لئے ایک ہی گھر میں رہنا ضروری نہیں ہوتا۔ جن کے دلوں میں حقوق العباد کا خوف ہوتا ہے وہ دور رہ کر بھی پاس ہوتے ہیں۔
شادی کی رسمیں
رسول اللہ ﷺ کا شادی کا طریقہ نہایت سادہ اور آسان تھا، سب سے پہلا معیار رشتہ تلاش کرنے میں دینداری ہونا چاہیے، ذات پات کی اسلام میں کوئی قید نہیں، ذات پات کی وجہ سے صرف اپنی ہی ذات میں رشتہ کا تصور ہندؤں سے مسلمانوں میں آیا ہے۔ اسلام نے نکاح کو کس قدر آسان بنایا ہے اس سلسلے میں صحیح بخاری کتاب النکاح کی ایک روایت ہما ری رہنمائی کرتی ہے۔
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ( ہجرت کر کے مدینہ ) آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا ۔ سعد انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دو بیویاںتھیں ۔ انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ ان کے اہل ( بیوی ) اور مال میں سے آدھے لیں ۔ اس پر عبد الرحمن نے کہا کہ اللہ تعا لیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت دے ، مجھے تو بازار کا راستہ بتا دو ۔ چنانچہ آپ بازار آئے اور یہاں آپ نے کچھ پنیر اور کچھ گھی کی تجارت کی اور نفع کمایا ۔ چند دنوں کے بعد ان پر زعفران کی زردی لگی ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عبدالرحمٰن یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصار ی خاتون سے شادی کر لی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہیں مہر میں کیا دیا عرض کیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو ۔[صحیح بخاری ۵۰۷۲] یہ طریقہ جو پیارے نبی ﷺ نے سکھایا اس میں پہلی قابل غور بات یہ ہیکہ صحابی کو جونہں رشتہ ملا فورا نکاح کر لیا۔ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر انہیں کوئی عزیز نہیں تھا، مگر آپ کی شرکت کو بھی ضروری نہیں سمجھا اور نہ ہی آپ کو شریک کرنے کیلئے نکاح کو مؤخر کیا۔
ہماری ہاں رشتہ طے ہونے کے بعد مہینوں کبھی سالوں جہیز جمع کرنے اور کسی عزیز کی بیرونی ملک سے واپسی میں گزر جاتے ہے۔ یہ ساری چیزیں غیر مسلم معاشرے سے مسلمانوں میں آئی ہیں۔ انکے ہاں بدکاری آسان اور نکاح مشکل ہے اسلام میں نکاح آسان اور بدکاری مشکل ہے۔
لڑکیوں کو وراثت میں حصہ دینے کے بجاے جہیز دینا
مسلمانوں میں جہیز کی رسم بھی غیروں سے مستعار ہے۔ جسکے انتظار میں لڑکیاں بوڑھی ہو جاتیں ہیں اور بعضی تو دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے لڑکی کے تمام اخراجات کا ذمہ دار مرد کو ٹھرایا ہے۔ وہ عورت کو مہر دیگا، شادی کے اخراجات برداشت کریگا، ولیمہ کریگا، ریائش فراہم کریگا، غرضیکہ لباس، کھانا، علاج وغیرہ ہر چیز مرد کے ذمہ ہے۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
‘مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں، [النساء ۳۴] ہندو مت میں لڑکی کو جہیز اسلیے دیا جاتا ہے کہ وہ ماں باپ کی جائیداد کی وارث نہیں ہوتی۔ اب مسلمانوں نے بھی یہی طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ ساری جائیداد بھائی کے جاتے ہیں اور بہن کو جہیز پر ٹرخا دیا جاتاہے۔ جو بہت دیندار سمجھے جاتے ہیں وہ زبانی معاف کرالیتے ہیں، بہنیں اگر وراثت میں اپنا حق مانگے تو معاشرے میں بدنام ہوجاتیں ہیں، ہر طرف سے طعن و تشنیع کا نشانہ بنتی ہیں۔ یہ ساری چیزیں غیر مسلم معاشرے کا اثر ہیں۔
بے پردگی اور بے حیائی
شادی کے موقع پر ہندؤں کی جو رسوم مسلمانوں میں رواج پاگئی ہیں انمیں سے ایک بے حیائی اور بے پردگی ہے۔ غیر محرم جوان لڑکے لڑکیوں کا بے جھجک ملنا جلنا، ہنسی مذاق کرنا ۔ اسی ہندو معاشرے کا ایک اثر مسلمانوں میں یہ رواج پایا کہ چچازاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد بھائی بہنوں کا آپس میں بے پردگی سے رہنا، گلے ملنا اور انکے ساتھ تنہا سفر کرنا وغیرہ، اسطرح سے معاملہ کرنا گویا وہ سگے بھائی بہن ہیں۔ معض مسلمان تو انکا آپس میں نکاح کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ یہ سراسر ہندوانہ تہذیب اور سوچ ہے۔ اْنکے ہاں یہ سارے رشتے بھائی بہن جیسے ہیں اور آپس میں نکاح صحیح نہیں۔ اسلامی طرز عمل اسکے برخلاف ہے۔
دیور کا بھائی سے عام میل جول
اسلام میں معاشرہ کو پاکیزہ رکھنے کیلئے ایک پابندی لگائی کہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں اکیلا نہ ہو۔ سوائے محرم عورتوں کے۔ اور دیور کے بارے اللہ کے رسولﷺ فرمایا ‘دیور تو موت ہے۔ صحيح بخارى (۵۲۳۲) ہندو معاشرے کا مسلمانوں پر یہاں تک اثر پڑا کہ خاوند اپنی بیوی کیساتھ اپنے جوان بھائی کو تنہا رات ایک گھر میں رہتے ہوئے دیکھتا ہے اور برداشت کرتا ہے۔ سفر میں اسکا ساتھ اپنے جوان بھائی یا کسی اور غیر محرم رشتہ دار کو بنادیتاہے۔ اسکا نتیجہ یہ ہیکہ معاملہ حد سے گزر جاتا ہے۔ مگر اسوقت بھی ہندو تہذیب سے آنے والی بے غیرتی اسکی زبان پر تالہ لگائے رکھتی ہے یا پھر غیرت جاگتی ہے تو بھائیوں کے ہاتھوں سگے بھائیوں کا خون ہوجاتا ہے۔ اسی ہندو تہذیب کا ایک اور اثر مسلمانوں میں یہ ہیکہ جب دولہا سسرال کے گھر آتا ہے تو نا محرم عورتیں اس سے مذاق کرتی ہیں، بکواس کرتی ہیں۔ یہ سب کچھ خمیازہ ہے گھروں میں ہندو تہذیب کو برقرار رکھنے کا اور اسلامی احکام کے مطابق گھروں کا ماحول نہ بنانے کا۔
بیوہ کی شادی کو معیوب سمجھنا
مسلمانوں نے ہندؤں کی جو رسمیں اختیار کر رکھی ہیں انمیں سے ایک بیوہ کا نکاح نہ کرنا ہے۔ اپنی بیوہ بیٹیوں کو بعض لوگ گھر بٹھا کر رکھنے میں اپنی شرافت سمجھتے ہیں۔ ہندؤں میں جس بیچاری کا شوہر فوت ہوجائے وہ منحوس سمجھی جاتی ہے، اب ساری عمر وہ نکاح نہیں کرسکتی۔ اس ظلم سے بچنے کیلئے وہ خاوند کی لاش کیساتھ ہی آگ میں جل مرتی تھی۔
اسلام تو نہایت پاکیزہ دین ہے۔ خاوند فوت ہوجائے تو لڑکی کے دوسرے نکاح میں کوئی دشواری نہیں۔ خود حضور ﷺ کی بیویوں میں حضرت عائشہ ؓ کے علاوہ سب بیوہ یا مطلقہ تھیں۔ اسلام میں یہ کوئی معیوب چیز نہیں بلکہ بعض مواقع پر تو مستحسن ہے۔ مثلاً بھائی فوت ہوگیا، اب بھتیجوں کی نگہداشت اور انکی جائیداد کی حفاظت جتنی چچا کر سکتا ہے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی بھابھی سے نکاح کر لے۔ نبی ﷺ نے ام سلمہؓ سے اسی لیے نکاح کیا کہ انکے خاوند ابوسلمہؓ کی اسلام میں بےشمار قربانیاں تھیں۔ نبیﷺ نے انکی وفات کے بعد انکی بیوہ بیوی سے نکاح کرکے انکے بچوں کو اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا۔) خلاصہ حدیث سنن نسائی ص۵۱۱ (
اولڈ ایج ہوم
جہاں مسلمانوں کے عائلی نظام پر ہندوانہ تہذیب کا گہرا اثر ہے وہی کچھ طور طریقہ مسلمانوں میں یورپی تہذیب سے درکر آئیں ہیں۔ انہی میں سے ایک اولڈ ایج ہوم [old age home] تصور ہے۔ اسکی ابتدا تو یورپ میں ہوئی تھی لیکن اب مسلم اکثریتی ملکوں میں بھی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ اسلامی تہذیب سے دور ہوکر یورپی تہذیب سے مرعوب ہونا اور مادی دنیا میں غرق ہونا ہے۔ اسلام میں والدین کی فرمابرداری، انکی خدمت اور انکے ساتھ حسن سلوک کی بے انتہا تاکید کی ہے اور انکی اطاعت کو جنت کا معیار بتایا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں اللہ کے رسولﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
اس شخص کی ناک خاک آلود ہوگئی،پھر اسکی ناک خاک آلود ہوگئی،پھر اسکی ناک خاک آلود ہوگئی۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسولﷺ! وہ کون شخص ہے؟ فرمایا: جس نے اپنے ماں باپ یا انمیں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا تو (انکی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوا۔ [صحیح مسلم ۲۵۵۱]اس باب میں بے شمار قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ وارد ہوئی ہیں، جن سے خدمت و اطاعت والدین کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔درحقیقت اسلام دین فطرت ہے جسکی تعلیمات انتہائی صاف و شفاف اورمنصفانہ اصولوں پر مبنی ہے، جو انسانی ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔ اس سے تجاوز انسان کو بیشمار مسائل میں مبتلا کر دیتی ہے اور انسان کو اسکا ادراک بھی نہیں ہوتا۔ اسکا حل پورے طورپر اسلام میں داخل ہونا ہے۔ خصوصاًٍ عائلی زندگی میں اگر اسلامی تعلیمات پر عمل نہ ہو تو گھرکا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، سکون غارت ہوجاتا ہے، عزتیں پامال ہوتی ہیں غرضیکہ وہ گھر جہنم نما ہو جاتا ہے۔آج مسلانوں کے خاندانی نظام میں بدامنی کا بڑا سببب انکا اپنے عقیدہ و مذہب سے ہٹ کر ، اپنے نبی کی تعلیمات کو چھوڑ کر غیرمسلم معاشرے کے اسلام مخالف طرزِ زندگی کو اپنانا ہے۔ اسکا اصل حل اسلامی عائلی نظام کو قائم کرنا ہے۔ اسکے علاوہ جو کچھ بھی کوشش کر لی جائے معاملہ قابو میں آنے وال نہیں ہے۔ اگر مسلمان اپنے عائلی نظام کو اسلامی تعلمیات کے مطابق درست کر لیں تو غیر قومیں بھی اسکو اپنا متاع مفقود سمجھ کر اپنا لینگے۔
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کے تمام مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات پر خصوصا اسکے عائلی نظام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق فرحمت فرمائے۔ آ میں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*