بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / ہم آنے والی پیڑھی کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں کرتے؟

ہم آنے والی پیڑھی کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں کرتے؟

جامعہ ابن عباس میںانسپکٹر جنرل آف پولس آئی پی ایس عبد الرحمن کا خطا ب

جامعہ ابن عباس میںانسپکٹر جنرل آف پولس آئی پی ایس عبد الرحمن کا خطا ب

دانش ریاض
تقریباً بیس برس قبل کی بات ہے جب میں خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ میں دن کا بیشتر وقت گذارتا اور نادر و نایاب کتابوں کا مطالعہ کیا کرتا تھا۔ایک روز دو جاپانی پروفیسرس اپنے ایک شاگرد کے ساتھ تشریف لائے اور مجھ سے متصل ہی بیٹھ گئے ۔انہوں نے عربی زبان کی ایک کتاب منگوائی اور درمیان میں بیٹھے شاگرد کو دائیں بائیں بیٹھے پروفیسرس سمجھانے لگے۔میں ان کی زبان سے تو نا آشنا تھا لیکن ہائو بھائو سے یہ سمجھنے میں دشواری نہیں ہوئی کہ وہ کسی خاص پروجیکٹ پر اپنے شاگرد کی تیاری کروا رہے تھے ۔غالباً پہلی بارایپل کا لیپ ٹاپ بھی میں نے انہیں کے پاس دیکھا تھا۔جب میرا تجسس بڑھا تو میں نے لائبریرین، جو میرے مسلسل آنے کی وجہ سے مانوس ہوچکے تھے سے اس کتاب کے بارے میں تفصیل طلب کی جس کاوہ لوگ مطالعہ کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ نادر مخطوطہ ہے جو علم ارضیات پر مشتمل ہے چونکہ انہوں نے بطورخاص اس کتاب کے لئے دور دراز کا سفر اختیار کیا ہے لہذا ہم لوگوں نے انہیں مطالعہ کے لئے دیا ہے۔دو دنوں تک صبح دس سے لے کر پانچ بجے تک ان لوگوں نے مذکورہ کتاب کے ساتھ دوسری کتابوں سے بھی استفادہ کیا اور پھر عازم سفر ہوئے۔اس وقت مجھے جن باتوں نے سب سے زیادہ پریشان کیا وہ یہ تھا کہ آخر ہندوستان میں کتنے لوگ ہیں جنہیں اس بات کا علم ہے کہ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ میں کون کون سی نادر و نایاب کتابیں موجود ہیںجس سےکہ ہمارے طلبہ استفادہ کر سکتے ہیں؟ہمارے اساتذہ طلبہ کے ساتھ وہ معاملہ کیوں نہیں فرماتے جو ان کی علمی استعداد بڑھانے کا سبب بن سکے؟ اور اسی کے ساتھ ہماری وہ پیڑھی جس نے زندگی کو بھر پور انداز میں جی لیا ہے نوجوانوں کی رہنمائی کیوں نہیں کرتی کہ وہ بہتر مستقبل کے علمبردار بن سکیں؟
مختلف سماجی ،فلاحی اور دینی تنظیموں کے ذمہ داران کے ساتھ وقت گذارنے کے بعد یہ احساس شدت اختیار کرگیا ہے کہ معاشرے کا ہرذمہ دار کہلانے والا فرد اس بات کی تاک میں لگا رہتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے لئے کس طرح مخلص جوانوں کو استعمال کر لے۔ محدود ٹارگیٹ کے ساتھ محدود مقاصد کے حصول کے لئے نوجوانوں کو دام فریب میں گرفتار کرنے کی روایت ہندوستانی مسلمانوں میں سب سے زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔جب نسلوں کی آبیاری بڑے بزرگوں کی طرف سے نہیں ہوگی اور جوانوں کے جذبات و احساسات کو محض اپنی جاہ و انا کی تسکین کے لئے استعمال کیا جائے گا تو نتیجہ وہی ہوگا جو ہم روزانہ دیکھ رہے ہیں۔نئی نسل کا اپنے بڑوں پر اعتبار و اعتماد اگر مضمحل ہوا ہے تو اس میں ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است ‘‘کا بڑ ا حصہ ہے۔ اگر معاشرے سے ناقدانہ مزاج کا خاتمہ کردیا جائے اور محض تملق پسندانہ مزاج کو رواج دیا جانے لگے اور وہ بڑے ہیں اس لئے ہر خطا معاف اور آپ چھوٹے ہیں اس لئے تمام خطائوں کی سزا کا حقدار ،جیسی کیفیت پروان چڑھائی جانے لگے تو پھر آپ اس نسل سے محروم رہیں گے جو نسل قوموں کی امامت کیا کرتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جہاں آنے والی پیڑھی کی حوصلہ افزائی کریں وہیں لمبی عمر گذارنے کے بعد جن تجربات سے مستفید ہوئے ہیں اگراسے بھی نئی نسل کے ساتھ شیئر کریں تو اس سے کسی نوجوان کو مزید کسی تجربات کی بھٹی میں جلنا نہیں پڑے گا۔لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم آنے والی پیڑھی کی حوصلہ افزائی ہی نہیں کرنا چاہتے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*