بنیادی صفحہ / انٹرویوز / ممبرا کو منشیات سے پاک کرکے کاٹیج انڈسٹری قائم کرناایجنڈے میں شامل ہے

ممبرا کو منشیات سے پاک کرکے کاٹیج انڈسٹری قائم کرناایجنڈے میں شامل ہے

ڈاکٹر ابو التمش فیضی

ڈاکٹر ابو التمش فیضی

مہاراشٹر کےممبرا کلوا حلقہ میں مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے ان کے ایک نہیں بلکہ متعدد بنیادی عوامی مسائل ہیں اس سلسلے میں عام آدمی پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر ابوالتمش فیضی کا کہنا ہے کہ یہاں پر ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس کاکوئی کام نہیں ہوا ہےجو عام انسانوں کو بنیادی سہولیات سے باخبر کرتا ہے۔‘‘

ممبرا:(نمائندہ خصوصی ) ضلع تھانےکا معروف اسمبلی حلقہ ممبرا کلوا سے اس مرتبہ عام آدمی پارٹی کی جانب سے ڈاکٹر ابوالتمش فیضی الیکشن لڑرہے ہیں۔ان کا راست مقابلہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے سیٹنگ ایم ایل اے جیتندر اوہاڈ سے ہے۔ ڈاکٹر فیضی نے بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ برائے آبادیاتی سائنز(آئی آئی پی ایس)سے پی ایچ ڈی مکمل کی ہے جو مشترکہ طورپر اقوام متحدہ اور ہندوستانی حکومت کے ذریعہ اسپانسر کردہ ہے۔ ڈاکٹر فیضی اقوام متحدہ حکومت ہند اور کئی عالمی این جی اوز سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بطور ماہر شماریات خدمات انجام دی ہیں۔ممبرا میں این آر سی کے لئے جتنے کیمپ منعقد ہوئے ہیں ان تمام کیمپوں میں ڈاکٹر فیضی ہی ریسورس پرسن کے بطور موجود تھے۔ وہ کامیاب ہونے کے بعد ممبرا کے عوامی مسائل کوکن ترجیحی بنیاد پر حل کرنا چاہتے ہیں ۔یہاں سیاسی سرگرمیوں اور ریاستی الیکشن سے متعلق ڈاکٹر فیضی سے ہونے والی بات چیت کے اقتباسات قارئین کی خدمت میں پیش کئےجارہے ہیں۔
یہ آپ کا پہلا الیکشن ہے ،کن مقاصد کے تحت آپ نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا؟
اس اسمبلی حلقہ میں گذشتہ ۱۰؍برسوں سے ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس کاکوئی کام نہیں ہو اہے۔ یہاں کے عوام کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہو اہے۔ تعلیم کے معیار میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔بیماریوں میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ یہاں کے نوجوان بے روزگار ہیں ،کلوا ممبرا کے غریب عوا م کے بے روزگاری کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوئی راستہ نہیں نکالا گیا۔ ممبرا میں سرکاری کالجز نہیں ہیں۔ یہاں صحت سے متعلق کوئی بڑا مرکز نہیں ہے۔ اربن ہیلتھ پوائنٹ نہیں ہے ۔یہاں کے سرکاری اسپتالوں کی حالت زار کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ۔میں بنیادی طورپر سیاست داں نہیں ہوں، الیکشن لڑنے کامیر اکوئی ارادہ نہیں تھا لیکن یہاں کے حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے اس میدان میں اترنا پڑا۔میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ لوگ کسی کے جال میں گرفتار ہوکر اس طرح زندگی گذار رہے ہیں کہ انہیں اپنے بنیادی حقوق کا بھی خیال نہیں رہا ہے۔وہ ہر طرح کے آلام و مصائب تو جھیل رہے ہیں لیکن اس خواب غفلت میں مبتلاء ہیں کہ ان کا ایم ایل اے بہت کچھ کر رہا ہے۔لہذا اس سحر کو توڑنا انتہائی ضروری ہے۔
اس اسمبلی حلقہ کے کن مسائل کو آپ فوری توجہ کے قابل سمجھتے ہیں۔؟
یہاں کے نوجوان بے روزگار ہیں ان کی بےروزگاری کو دورکرنا میری اولین ترجیح ہوگی۔ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ممبرا میں سرکاری کالج کی ضرورت ہے۔ایسی بہت سی بچیاں ہیں جو ذہین ہیں لیکن غربت کی وجہ سے تعلیم مکمل نہیں کرپاتی ہیں ۔ڈراپ آئوٹ کی یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ ٹریفک تو یہاں کا فوری توجہ طلب مسئلہ بنتا جارہا ہے۔
عام آدمی پارٹی کا کوئی solid baseممبرا کوسہ میں نہیں ہے،آپ نے اپنی کامیابی کے لئے کیاخاکہ بنایا ہے؟
یقیناً جس وقت میں نے پرچہ بھرا تھا اس وقت یہ کہا جاسکتا تھا کہ میرے پاس بنیاد نہیں ہے لیکن حالات نے ایسا پلٹا کھایا ہے کہ ہر زبان پر عام آدمی پارٹی کا نام چڑھ گیا ہے۔یہ بات سمجھنے کی ہے کہ بنیاد سے کچھ نہیں ہوتا ہے ۔ایک امیدوار جب جیت کر آتا ہے تو اس کے اپنے فنڈ ہوتے ہیں ۔حکومت کے فنڈ ہوتے ہیں جو بنیادی کام ہوتے ہیں وہ ایم ایل اے کے زیر نگرانی نہیں بلکہ کارپوریشن کے ذمہ ہوتے ہیں ۔اگر کارپوریٹر میں صلاحیت ہوتو وہ عوام ہی بیس ہوتے ہیں یہ عام آدمی ہی میرا بیس ہے۔پوراممبرا ہی ہماری بنیاد ہے اور اب تو ایسا ماحول بن گیا ہے الحمد للہ کا ہر نوجوان بنیاد بن گیا ہے۔لہذا بیس تو اب تیار ہوگیا ہے ۔ہم نے جو وعدہ کیا ہےاسی کے مطابق خاکہ بھی بن رہا ہے اور انتخابی تیاری بھی چل رہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جس مختصر مدت میں میں عوام کے دلوں میں بیٹھ گیا ہوں یہ اعزاز سیٹنگ ایم ایل اے کو بھی حاصل نہیں ہے۔
کیا آپ کی انتخابی مہم کے لئے عام آدمی پارٹی نے دہلی سے کسی لیڈرکو بھیجا ہے؟
جی بالکل! راگھو چڈھا ،سنجے سنگھ، اور امانت اللہ خان جیسے لیڈر ان ممبرا آرہے ہیں بلکہ دہلی وقف بورڈ کے چیرمین ایم ایل اے امانت اللہ خان تو کئی روز سے یہیں مقیم ہیں ۔ وہ میرےساتھ سبھائوں ،پدیاترائوں اور ریلیوں میں شرکت کررہے ہیں۔پارٹی کی جانب سے ان لیڈران کو مہاراشٹر الیکشن انچارج کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
آپ ماہر شماریات ہیں،تعلیم یافتہ نوجوانوں سے آپ کا رابطہ ہے،ان کے فائدے کے لئے خاص طورپر روزگار کیلئے آپ نے کیاسوچا ہے؟
جیساکہ میں نے پہلے کہابےروزگار ی یہاں بڑا مسئلہ ہے ۔پڑھے لکھے نوجوان بھی بے روزگار ہیں،کاٹیج انڈسٹری کے ذریعہ ہم گھر گھر تک روزگار مہیا کرانے کی کوشش کریں گے۔نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے درکار ٹریننگ مہیا کرائیں گے۔ علاقے میں روزگار کی کمی کے سبب یہاں کے عوام روزانہ جان ہتھیلی پر رکھ کر صبح کے اوقات میں لوکل ٹرین میں سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔کئی کئی بار ٹرین میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے لٹک کر سفرکرنے سے نوجوانوں کی موت بھی واقع ہوگئی ہے۔ ہم ان مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔
ممبرا کی ترقی کیلئے آپ کے پاس کیا ایجنڈا ہے؟
کوسہ ممبرا کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے ۔معاشی بہتری کے ساتھ نشہ آور اشیاء پر عوام کے تعاون سے کنٹرول کرنے کی کوشش کریں گے۔ کاٹیج انڈسٹری کو ڈیولپ کرنا ہمارا سب سے اہم ایجنڈا ہے جس کے سبب بے روزگاری کے مسئلے کو حل کیاجاسکےگا۔۹؍ویں سے ۱۲؍ویں جماعت تک ڈراپ آئوٹ کا مسئلہ حل کرنا بھی ہماری ترجیح ہے۔ یہاں لائبریریوں کی سخت ضرورت ہے ۔ممبر اکلوا اسمبلی حلقہ کے ہروارڈ میں ایک اربن ہیلتھ پوائنٹ قائم کریں گے ۔بجلی کے غلط بل پر لگام لگائیں گے ۔عوام کو اس وقت تک بل ادا نہیں کرنا ہوگا جب تک سسٹم درست نہ کرلیا جائے۔ٹریفک مسئلے کوبریج کےذریعہ حل کیاجائےگا۔ہماری پارٹی کے صدر اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال دہلی میں عوام کو کم قیمت پر فی یونٹ بجلی مہیا کراسکتے ہیں تو مہاراشٹر حکومت کیوں نہیں؟، کیجریوال نے عوام سے جو وعدہ کیا اس کو پورا کیا۔وہی تمام تر ترقیاتی کام ہم یہاں کریں گے۔دہلی کی حکومت امام کو ۱۸؍ہزار اور موذن کو ۱۶؍ہزار روپئے تنخواہ دے رہی ہے ۔خواتین کیلئےبس کا سفر مفت کردیا ہے۔میٹرو میں بھی خواتین کیلئے سفر مفت کرنے کے بارے میں غور کیاجارہا ہے۔
مہاراشٹر حکومت کے مطابق ممبرا میں بجلی کی نجکاری کامقصد یہاں سے ہونےو الے نقصان کی تلافی کرنا ہے،کیا یہ دلیل واقعی درست ہے؟
یہ سب جھوٹ ہے جب کرپشن ہوگا تو نقصان ہی نقصان ہوگا۔دہلی میں ۲۰۰؍یونٹ بجلی مفت میں دینے کے بعد بھی نقصان نہیں ہورہا ہے ۔بجلی پروڈکشن کے بعد فی یونٹ شرح کی قیمت ۳۵؍پیسے کے قریب ہوتی ہے لیکن سرکار فی یونٹ کی قیمت زیادہ وصول رہی ہے۔
ایم آئی ایم پارٹی آ پ کی حمایت کررہی ہے،کیاآپ کی کسی سبھا ریاریلی میں ایم آئی ایم کے لیڈر شامل ہورہے ہیں؟
ایم آئی ایم عام آدمی پارٹی کو نہیں بلکہ اس حلقہ سے مجھے سپورٹ کررہی ہے۔اس پر ہم حکمت عملی بنا چکے ہیں اور اتفاق رائے سے کام کررہے ہیں اور الحمد للہ اس میں وہ ہماری پوری مدد اور حمایت کررہے ہیں ۔دراصل یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے کچھ لوگوں نے ایم آئی ایم کے امیدوار کو خریدنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کو غصہ آگیا کہ آخر لوگوں کی بساط اتنی کیسے بڑھ گئی ہے کہ وہ کسی کو بھی خرید لیں لہذاایم آئی ایم کے کارکان بھی ہماری حمایت کررہے ہیں جس سے ہمیں کافی آسانی ہوگئی ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*