بنیادی صفحہ / Uncategorized / امام مسجد سماج کا قائد و رہبر

امام مسجد سماج کا قائد و رہبر

فرزندامین جامعہ سیدنا ابن عباسؓ ممبرا

اسلامی معاشرہ میں ائمہ کرام کو رہبر و رہنما کا درجہ حاصل ہے کیوں کہ ائمہ حضرات ایماندار، نیک اورمتقی ہوتے ہیں، مشرع ، وقت کے پابند، پرہیزگار، خوش اخلاق ، ملنساراور فرماں بردارہوتے ہیں، ائمہ کرام بندے اور پروردگارکے درمیان ترجمان ہوتے ہیں، ظاہری وباطنی فسق وفجور سے گریزاں، صلاح وتقوی سے آراستہ اور مقتدیوںکی نماز کے ثواب میں اضافہ کا سبب ہوتے ہیں،دنیا وجہان سے بے نیاز ویکسو ہو کر دین اسلام کی اشاعت اورمنبر ومحراب کی خدمت کاحق ادا کرتے ہیں۔
قرون اولی سے لے کر اسلام کے تمام زریں ادوار میں خلیفۃ المسلمین ،نائبین خلافت ،حکام وقت ،گورنر علاقہ،امراء ملت، رہنمائے امت ہی رکعات سے جہاد تک ، مسجد سے بازار تک،عبادت سے سیاست تک، معاشرے سے حکومت تک، مکتب سے جامعہ تک ، معیشت سے ثقافت تک کی مکمل رہنمائی اور امامت و قیادت ، رہبری وسیادت کے فرائض انجام دیتے رہے ،خو د نبی کریم ﷺ بنفس نفیس امامت وقیادت کے منصب کو عزت بخشتے رہے اسی طرح خلفائے راشدین، امراء وقائدین امامت وقیادت کے منصب پر فائز ہوا کرتے تھے، اسلامی مزاج اورشریعت کی منشاء وچاہت یہی ہے کہ قوم کا امام اور حکمراں وہی ہو جو مسجد کا امام ہو۔وہی معاشرہ کے دینی اور دنیوی امور کی سرپرستی وامامت کے فرائض انجام دے۔
آئیے!ہم اس سنت کو زندہ کریں کہ معاشرے کے قائد اور سربرآہ حضرات ہی ممبر ومحراب کی قیادت سنبھالیں اورمساجدوعبادت کی امامت وخطابت کے فرائض انجام دیں،کیوں کہ امامت و قیادت کوئی نوکری یا پیشہ نہیں ہے ایک اعزاز و انعام ہے جو خدا وند قدوس کی جانب سے اپنے خاص بندوں کوان کی آزمائشوںکے بعد قربانیوں کے صلہ میں حاصل ہوتاہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کوآزمائش میں پورا اترنے کے بعدمقام امامت کے انعام سے سرفراز فرمایا۔{وَإِذِ ابْتَلَی إِبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّہُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِن ذُرِّیَّتِی قَالَ لاَ یَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِینَ }(سورۃ البقرۃ)
اوروہ (وقت یادکرو) جب ابراہیم کو ان کے پروردگارنے چند امور میں آزمایا اور انہوں نے وہ انجام دے دئے تو ارشادہوا میں یقینا تمھیںلوگوںکا پیشوا بنانے والا ہوں بولے اور میری نسل سے بھی ارشاد ہوا میراوعدہ نافرمانوں کو نہیں پہنچتا۔
امامت وقیادت اللہ کے خاص بندو ں کا وصف ہے جیسا کہ عبادالرحمن کی صفات بیان کرتے ہوئے قران کہہ رہا ہے {والّذین یقولون ربّنا ھب لنامن ازواجنا وذریاتنا قرّۃ اعین واجعلنا للمتقین اماماً }(الفرقان:۷۵)یہ وہ لوگ ہیں جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار!ہم کو ہماری بیویوںاور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطافرمااور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنادے
نگہ بلند ، سخن دلنواز، جان پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کیلئے
ائمۂ مساجد:
سبق پڑھ پھر صداقت کا ، عدالت کا،شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
ایک معتبر قلم کار قدرت اللہ شہاب نے اپنی مقبول ومعروف تصنیف شہاب نامہ میں مسجد کے امام کو انتہائی محترم الفاظ میں یاد کرتے ہوئے ان کی خدمات اور ان کے مقام ومرتبہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انھوں نے شہاب نامہ میں لکھا ہے کہ:
لوگ مسجد کے ملا کو گری ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیںلیکن یہی وہ ملا ہے جو ایسے طوفان باد وباراں میں بھی، جب کسی میں گھر سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں ہوتی اور جب پورا عالم خواب استراحت میں مدہوش رہتا ہے ، صحر خیزی کی لذتوں سے ہمکنار ہوتے ہوئے مسجد میں جاتا ہے اور اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتا ہے اور کوئی بھی موسم کیوں نہ ہو، پانچوں وقت اذان اور امامت کے فرائض انجام دے کر دنیا میں اللہ کی بڑائی اور بزرگی کا ڈنکا بجاتا ہے۔
یہ دنیاکانازک ترین فریضہ ہے، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہر نماز کے وقت دس پندرہ یا بیس منٹوں کی حاضری کا نام ہے، لیکن درحقیقت یہ 24 گھنٹے پابند رہنے کا عمل ہے،24 گھنٹے کی پابندی دنیا کی کسی ڈیوٹی میں نہیں ہے ،امام ناغہ بھی نہیں کرسکتا، کیونکہ نماز کا ناغہ نہیں ہوتا۔ خود حاضر ہونا پڑتا ہے یا متبادل کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ اس کام میں نہ کوئی عید کی چھٹی ہے، نہ بارش اور آندھی کا عذر تسلیم کیا جاتا ہے، نہ بیماری میں رخصت ملتی ہے۔
امامت کا درجہ بہت بلند ہے اس لئے امامت ایسے افراد کے سپر د ہونی چاہئے جو مخلص ہوں،متقی ہوں، جو معاشرے میں محترم ومعظم ہوں،جوعزت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہوں ،جو زمانے کے نشیب وفراز سے واقف ہوں ،جو مقتدیوں کے حالات سے آگاہ ہوں، جن کے اندر شان بے نیازی اور استغناء ہو،جو اپنے اوپرعائد حقوق وواجبات اور فرائض کو اداکرتے ہوں ،جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملات کو برتنے والے ہوں، جن کے اہل وعیال ان سے خوش ہو ں،جو اپنے بعل بچوں کے نفقات کی کفالت کرتے ہوں،جو اپنے والدین کے حقوق ادا کرتے ہوں ،جن کے اندر خیروصلاح اور بھلائی زیادہ سے زیادہ پائی جاتی ہو،جن کی شخصیت صاف شفاف ہو ، جن کا کردار بے داغ ہو ،جو کسی کے محتاج اور دست نگر نہ ہوں ،جو کسی سے مرعوب نہ ہوں ،جو غلامانہ ذہنیت کی مالک نہ ہوں ،جو خوش پوش ہوں، خوش اخلاق ہوں، خوش اطوار ہوں، خوش گفتار ہوں ،جن کے حلیے کو دیکھ کر کوئی متنفر نہ ہو،جن کو تذلیل آمیز نظروں سے نہ دیکھا جاتا ہو ۔کیونکہ امام کی نماز کا اثر مقدی کی نماز پر،امام کی شخصیت کا اثر مقدی کے کردار پر،امام کے تقوی کا اثرمقدی کے سیرت و اخلاق پر،امام کے عظمت و شان کا اثر مقدی کے عزت ووقار پر، امام کی ظاہری وباطنی ساری کیفیات کا اثر مقدی کی شخصیات پر ہونا لازمی وضروری ہے۔اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری نمازیں مقبول ہوں تو تمہارے بھلے لوگ تمہارے امام ہونے چاہییں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایاخیرکم خیرکم لأہلہبہتر شخص وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے لئے بہتر ہو ۔
جب مذکورہ اوصاف سے محروم لوگوں کو منصب امامت سپرد کردیا جائے گا، یاان صفات کے حاملین منصب امامت وقیادت سے دور رہیں گے تومسجد کے اثرات معاشرہ پر مرتب نہیں ہوں گے، مقتدیوں کی صحیح تربیت نہیں ہو پائے گی ، وہ اسلامی فکر سے واقف نہیں ہوپائیں گے، تو امام اور مقتدی کا رشتہ کمزور ہوگا ، جس کی وجہ سے معاشرہ اور معاشرتی نظام بھی مستحکم نہیںہو پائے گا ۔
اس لئے ضروری ہے کہ مسجد وعبادت کی قیادت اور معاشرہ وسماج کی امامت ایسی شخصیات کے تصرف میں ہو ں جو ممبرو محراب کی خطابت ، عبادت وریاضت کی امامت اور معاشرے و سماج کی قیادت کی سنگم ہوں تاکہ اس کے ذریعہ معاشرہ میں صالح انقلاب لایا جاسکے ۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*