بنیادی صفحہ / خبریں / کیا اب حکومت عوام کو سڑکوں پر لڑانا چاہتی ہے؟

کیا اب حکومت عوام کو سڑکوں پر لڑانا چاہتی ہے؟

اگست کرانتی میدان ممبئی میں علماء و عوام احتجاج کرتے ہوئے

اگست کرانتی میدان ممبئی میں علماء و عوام احتجاج کرتے ہوئے

دہلی اور بیگو سرائے میں مسلمانوں کی لاشیں بچھانے کے نعرے ہندتواوادیوں کے آئندہ منصوبوں کو بے نقاب کررہے ہیں
دانش ریاض
13دسمبر کوابو الفضل انکلیو واقع مرکز جماعت اسلامی ہند میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد جب ہم بٹلہ ہاؤس کی طرف بڑھ رہے تھے تبھی اوکھلا ہیڈ پولس چوکی کے پاس ناکہ بندی کردی گئی تھی۔تمام گاڑیاں روک دی جارہی تھیں اور صرف پیدل چلنے کی آزادی تھی۔انگریزی زبان میں لکھی گئیجنگ آزادی میں علماء کرام کا کردارکے مصنف برادر سیدعبید الرحمن نےجن سے راہ چلتے ملاقات ہوئی کہنے لگے کہ اگر جامعہ کو محصور کرنا ہے تو بس کچھ علاقوں پر ہی ناکہ بندی کی ضرورت پڑتی ہے اور پورا علاقہ بند ہو جاتا ہے ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ ٹیچرس ایسو سی ایشن کے ساتھ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن نے بھی جمعہ بعد مظاہرے میں شرکت کی دعوت دی تھی لہذا نوجوانوں کا جم غفیر جامعہ کی طرف رواں دواں تھا۔ جب میں جامعہ کے گلستان غالب کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ طلبہ پُر امن انداز میں این آر سی اور سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں ۔طلبہ جامعہ کا پُر وقار انداز اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شاید دہلی پولس کو ناگوار گذرنے لگی اور انہوں نے چار بجتے بجتے آنسو گیس کے غولے داغنا شروع کردئے۔یقیناً یہ ایک ایسی ذلیل حرکت تھی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کہ نہتھے بچوں کی پُرامن نعرے بازی بھی دہلی پولس گوارہ نہیں کر رہی تھی۔پانچ بجتے بجتے تقریباً سو سے زائد آنسو گیس کے گولے داغ دئے گئے ۔پورا علاقہ دھماکوں سے گونجنے لگا اور تھوڑی ہی دیر میں پورا علاقہ زہر آلود ہوگیا۔ میں بھاگ کر کینٹین کی طرف چلا گیا اور پھر لائبریری کا رخ کیا کہ یہ قدرے پرسکون جگہ ہوگی۔لیکن ان جگہوں پر بھی جب قوت برداشت جواب دے گئی تو میں جائے قیام کی طرف روانہ ہوگیا۔ رات کے تقریباًبارہ سوا بارہ بجے جب میں سرائے جلینا کی جانب سے دوبارہ جامعہ کی طرف آیا تو دیکھا کہ بیریکیڈ(barricade) لگے ہوئے ہیں اور کسی کے بھی داخلے پر پابندی ہے۔ دوسری صبح جامعہ کے بچوں نے گذشتہ شام کی ظلم و بربریت کے خلاف دوبارہ مظاہرہ منعقد کیا ۔تھوڑی دیر رکنے کے بعد میں بھی جامع مسجد اورانڈیا گیٹ کی طرف ریختہ کی کارروائی کا جائزہ لینے کے لئے روانہ ہوگیا۔لیکن شام کے تقریباً چھ بجے جیسے ہی سرائے جلینا سے جامعہ کے حدود میں داخل ہونے کے لئے آٹو رکشہ مڑا نقاب پوش غنڈے لاٹھیاں برسانے لگے۔پیچھے پولس کھڑی تھی جامعہ کےبچے بہت دور تھے لیکن بیچ میں نقاب پوش غنڈے لاٹھی ڈنڈوں سے موٹر گاڑیوں پر حملہ کر رہے تھے۔میرے آگے جو کار تھی اس کے شیشے توڑ ے جارہےتھے۔اس کے بعدہماری باری آئی اور ہم پر بھی ڈنڈے برسا دئے گئے۔ میں جس آٹو رکشہ پر سوار تھا اس کا ڈرائیور بھی نوجوان ہندو تھا اس نے جامعہ کے بچوں کوگالی دینے کی کوشش کی تو میں نے اس سے کہا کہ آخر امت شاہ اور مودی یہی تو چاہتے ہیں کہ ہم آپس میں لڑ جائیں ،کیا تم نے غور نہیں کیا کہ یہ لڑکے جنہوں نے لاٹھیاں برسائیں جامعہ کے نہیں تھے۔ میری بات سننے کے بعد اس نے بھی کہا کہ’’ آپ کی بات درست ہے ۔ہم لوگ ہمیشہ جامعہ سواری لے کر آتے ہیں اور یہاں کے بچوں سے معاملات کرتے ہیں لیکن کبھی وہ بدتمیزی سے پیش نہیں آتے ۔یقیناً وہ کم کرایہ لینےکی پیش کش ضرورکرتے ہیں اور پھر جو طے ہوا ہو اسے بخوشی ادا کرتے ہیں۔ابھی جو کچھ میں نے دیکھا وہ یقیناً جامعہ کے بچوں کا شعار نہیں ہے‘‘۔
ایک روز قبل ہی یعنی ۱۲ دسمبر کو میں علی گڈھ مسلم یونیورسٹی میں تھا وہاں بھی پُر امین مظاہرہ جاری تھا۔کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں تھی لیکن اچانک کیا ہواکہ علی گڈھ کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو بھی ٹارگیٹ کیا گیا اورسماج دشمن غنڈوں کا استعمال کرکے دونوں جگہوں کی فضا خراب کرنے کی کوشش کردی گئی۔ اور پھر اس کے بعد پورے ملک میں ایک ایسی آگ لگا دی گئی جس کےنتیجہ میں ۱۸ سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔دراصل ای وی ایم کے سہارے اقتدار تک پہنچی بھارتیہ جنتا پارٹی اس خوش گمانی میں مبتلا تھی کہ جس طرح آرٹیکل ۳۷۰،تین طلاق ،بابری مسجد کی ملکیت کا فیصلہ بالجبرپوری قوم نے تسلیم کرلیا ہے اسی طرح شہریت ترمیمی قانون بھی کچھ ہنگاموں کے بعد تسلیم کرلیا جائے گا اور ہندو مسلم نفرت کے ایجنڈے کو اگلے جنرل الیکشن تکبڑھانے میں بڑی آسانی ہوجائے گی۔لیکن جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بچوں کے ساتھ بچیوں پر پولس کے مظالم اور سرکاری شہ پر آئے غنڈوں کی کارروائی نے پورے ملک کے انصاف پسندوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔پھر جب ان بچیوں کی حمایت میں ملک کی تمام اہم یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات سامنے آنے لگے تو ہٹلر شاہی ڈنڈوں نے ان کی زندگیاں چھیننی شروع کردیں اور سیکڑوں طلبہ و طالبات محض دو چار دنوں میں ہسپتال کے آئی سی یو میں پہنچا دئے گئے۔لیکن ان تمام کے باوجود بھی مودی شاہی نے رحم نہیں کیا اور اب مودی شاہی فرمان کا اصلی چہرہ سامنے آیا ہے جب وہ یہ چاہتی ہے کہ جس طرح عام شہری حکومت سے متصادم ہے اسی طرح اب عام شہری عام شہریوں سے متصادم ہوجائے۔ دراصل نفرت کے اس کھیل کواب اپنی انتہا پر پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔دہلی اور بیگو سرائے میں سنگھ پریوار نے جس طرح سے سی اے اے کے حق میں ریلی نکالی ہے اورمسلمانوں کے خلاف زہریلے نعرے لگاتے ہوئے لاشیں بچھانے کی بات کہی ہے وہ عام ہندوستانیوں کو سوچنے پر مجبور کرنے والا ہے۔دراصل وہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اب حکومت عوام کو کھلے عام سڑکوں پر لڑانا چاہتی ہے۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق بی جے پی کے کارگذار صدر جے پی نڈانے سی اے اے کے حق میں ۱۰ روزہ مہم کے ذریعہ تین کروڑ خاندانوں کو سمجھانے، دو سو پچاس پریس کانفرنس کرنے اور ہزاروں کی تعداد میں ریلیاں نکالنے کے عزم کا اعلان کیا ہے۔یقیناًیہ ایک واضح پلان ہے کہ جس طرح گجرات میں دنگے کرائے گئے تھے اب پورے ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کی جائے گی اور ہندو ورسیز مسلم کی فضاء ہموار کی جائے گی ۔اسی لیے وہ ان راستوں کواختیار کر رہی ہےجس سے فضا بھی خراب ہوجائے اور الزام بھی سر نہ آئے یعنی پارٹی رابطہ کے نام پر تین کروڑ خاندانوں کی ذہن سازی ،جمہوریت کی آڑ میں ریلیوں کا انعقاد اورگودی میڈیا کے ذریعہ پرو پیگنڈہ کے لیے پریس کانفرنسوں کا انعقاد۔
اب ایسے میں جبکہ یہ طے ہوچکا ہے کہ پورے ملک میں شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی پرریلیاں نکالی جائیںگی اور ایک طرف وہ مخالفت اور دوسری طرف حق میں ہوںگی تو عوام کو تصادم سے کیسے بچایا جائے؟ یقیناً فسادات میں بھولی بھالی عوام جذباتی نعروں کے سہارے وہ کام کرجاتی ہے جس کا مہذب معاشرہ اجازت نہیں دیتا ۔لیکن شر پسند عناصر اسی ذہنیت کا فائدہ اٹھاکر اپنا الّو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چونکہ اس وقت بابا صاحب بھیم رائو امیڈکر کے دستور پر بھی حملہ ہے لہذا ریلیوں میں بابا صاحب بھیم رائو امیڈکرکے کٹ آئوٹس شامل کئے جائیںاور ان کی تقریروں کا جابجا استعمال کیا جائے۔مہاراشٹر میں شرد پوار،راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے صاحبان کے بیانات کوجو این آر سی اور سی اے اے کی مخالفت میں ہیں زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے۔جبکہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی،بہار میں پپو یادو،تیجسوی یادو کے بیانات کی تشہیر کی جائے۔ ترنگا جھنڈا کے ساتھ علامتی دستور کی کاپیاں اٹھائی جائیں اور اس کی حفاظت کرنے پر لوگوں کو آمادہ کیا جائے۔ احتجاج میں دلت افراد کے ساتھ ہندو بھائیوں اور ان کےلیڈران کوزیادہ سے زیادہ ساتھ میں لیا جائے۔’’ لوگ کپڑےسے پہچانے جائیں گے‘‘ اس اعلان کے بعد ٹوپی یا کرتا پائجامہ وغیرہ پہن کر ریلی میں شامل نہ ہوا جائے۔ریلی منعقد کرنے والے رضاکار ترنگا اور ڈنڈا ضرور ساتھ لائیں اور ایسےرضا کار بھی رکھیں جو فسادیوں پر نگاہ رکھ سکے۔کسی بھی طرح کے تصادم سے پرہیز کریں۔ اگر کہیں پولس و انتظامیہ تصادم پر ہی آمادہ ہو تو ریلی میں شامل بڑے بزرگوں کو ان سے بات کرنے کے لئے آگے بڑھائیں۔یہ یاد رکھیں کہ تصادم ،توڑ پھوڑ مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ عوامی بیداری کے ذریعہ حکومت پر اثر انداز ہونا اور اسے اپنے فیصلے کو واپس لینے پر مجبور کرنا ہی اہم کام ہے لہذا کسی ایسے جال میں نہ پھنسیں جو پوری مہم کو نقصان پہنچا نے کا باعث بن جائے۔مختلف دینی و ملی جماعتوں کے نام نہاد مسلم لیڈرشپ کو اس پوری مہم سے دور رکھیںکیونکہ یہ لوگ وقتی فائدہ کے لئے بڑا نقصان کر جائیں گے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*