بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / وبا ئی بیماری کے متعلق رسول اللہ ﷺکی ہدایات

وبا ئی بیماری کے متعلق رسول اللہ ﷺکی ہدایات

CORONA

ابونصر فاروق/رابطہ:8298104514-62878800551

(۱) حبان بن حلال کے ساتھ نضر بن شمیل سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے طاعون کے متعلق پوچھا گیا۔ نبیﷺ نے فرمایا یہ ایک عذاب تھا، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا اس کو بھیجتا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنین (امت محمدیہ کے لیے) رحمت بنا دیا۔ اب کوئی بھی اللہ کا بندہ اگر صبر کے ساتھ اس شہر میں ٹھہرا رہے جہاں طاعون پھوٹ پڑا ہو اور یقین رکھتا ہو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اُس کے لیے لکھ دیا ہے اُس کے سوا اُس کو اور کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتااور پھر طاعون میں اُس کا انتقال ہو جائے تو اُسے شہید جیسا ثواب ملے گا۔(بخاری:۵۷۳۳)
(۲) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم سن لو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل رہی ہے تووہاں مت جاؤ، لیکن جب کسی جگہ یہ وبا پھوٹ پڑے اور تم وہیں موجود ہو تو اُس جگہ سے نکلو بھی مت۔(بخاری)
(۳) ابو عسیب مولیٰ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں ،نبیﷺ نے فرمایا جبرئیل میرے پاس بخار اور طاعون لے کر آئے۔ بخار میں نے مدینے میں روک لیا اور طاعون کو شام کی طرف بھیج دیا۔طاعون میری امت کے لیے شہادت اور رحمت ہے،جب کہ کافروں کے لیے عذاب ہے۔(السلسلہ:۳۲۱۴)
(۴) رسول اللہﷺ نے فرمایا مدینہ منورہ میں دجال داخل نہیں ہوگا اور نہ طاعون آ سکے گا۔(بخاری:۵۷۳۰)
دور نبوت میں طاعون ایک ایسی بیماری تھی جس کا علاج نہیں تھا۔ جو کوئی طاعون میں مبتلا ہوتا تھا اُس کو اُس بیماری سے موت ہی نجات دلاتی تھی۔طاعون کے متعلق جب لوگوں نے جاننا چاہا تو نبیﷺ نے بتایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے، وہ جس قوم پر چاہتا ہے اس کو بھیجتا ہے، لیکن مومن بندے کے لیے یہ رحمت ہے۔جس مقام پر طاعون پھیل گیا ہو اور کوئی مومن بندہ وہاں موجود ہوتو وہاں سے وہ کہیں نہ جائے۔اُس کا عقیدہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کے لیے جو مقدر کر دیا ہے اُس کے سوا کوئی چیز اُسے نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے ۔اور وہ طاعون میں مبتلا ہو کر موت کا شکار ہو جائے تو اُس کو شہید ہونے کا ثواب ملے گا۔
دوسری حدیث میں نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ کسی مقام پر طاعون پھیل جائے تواُس مقام پر مت جاؤ اور اگرتمہارے شہر میں ہی طاعون پھیل جائے تو وہاں سے مت نکلو۔یعنی طاعون چھوت کی بیماری تھی جو ایک سے دوسرے کو لگ جاتی تھی۔اس لیے صحت مند لوگوں کو طاعون کے مریض سے الگ رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔تیسری حدیث میں نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے دو بیماریا ںبھیجیں طاعون اور بخار۔یعنی دونوں بیماریوں میں نبیﷺ جو چاہیں اپنے لیے چن لیں۔نبی ﷺ نے بخار کو لے لیا اور طاعون کو ملک شام کی طرف بھیج دیا۔ چونکہ طاعون سے اہل مدینہ کو نبی ﷺنے بچا لیا تھا پھر بھی کوئی اہل ایمان اگر طاعون کے مرض میں مبتلا ہو کر مر جائے تو کہا کہ وہ شہید ماناجائے گا۔چوتھی حدیث میں نبی ﷺ فرمارہے ہیں کہ اب طاعون مدینہ میں داخل نہیں ہوگا۔
اس وقت کرونا وائرس نا م کی جو بیماری دنیا میں پھیل رہی ہے وہ طاعون سے ملتی جلتی ہے۔چنانچہ شریعت محمدی کی رو سے طاعون کے متعلق جو احکام ہیں وہی کرونا وائرس پر بھی نافذ ہوں گے۔اہل ایمان اُس شہر میں نہ جائیں جہاں یہ بیماری پھیل چکی ہے۔ اور اگر اُن کے اپنے شہر میں یہ بیماری آ گئی ہے تو وہ اپنے شہر سے نکل کر کسی دوسری جگہ نہ جائیں۔چونکہ یہ چھوت کی بیماری ہے اس لیے اگر وہ اپنے شہر سے نکل کر کسی دوسری جگہ جائیں گے تو وہاں بھی اُن کی وجہ سے یہ بیماری پھیل سکتی ہے۔
عمر بن خطابؓ شام تشریف لے جا رہے تھے۔ جب آپ مقام سرغ پر پہنچے تو آپ کی ملاقات فوجوں کے امراء ابوعبیدہ ؓبن جراح اور اُن کے ساتھیوں سے ہوئی۔اُن لوگوں نے امیر المؤمنین کو بتایا کہ طاعون کی وبا شام میں پھوٹ پڑی ہے۔ ابن عباس ؓ کا بیا ن ہے کہ اس پر عمرؓ نے کہا کہ میرے پاس مہاجرین اولین کو بلا لاؤ۔ وہ اُنہیں بلا لائے تو عمرؓ نے اُن سے مشورہ کیا اور اُنہیں بتایا کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔ مہاجرین اولین کی رائیں مختلف ہو گئیں۔بعض لوگوں نے کہا کہ صحابہ رسول ﷺ کی باقی ماندہ جماعت آپ کے ساتھ ہے اور یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ اُنہیں اس وبال میں ڈال دیں۔عمرؓ نے کہا کہ اچھا آپ لوگ تشریف لے جائیں پھر فرمایا کہ انصارکوبلاؤ۔ میں انصار کو بلا کر لایا۔ عمر ؓ نے اُن سے بھی مشورہ کیا اور اُنہوں نے بھی مہاجرین کی طرح اختلاف کیا۔ کوئی کہنے لگا چلو، کوئی کہنے لگا لوٹ جاؤ۔ امیر المؤمنین نے فرمایا کہ یہاں پر جو قریش بڑے بوڑھے ہیں جو فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے، اُنہیں بلا لاؤ۔ اُن لوگوں میںکوئی اختلاف رائے پیدا نہیں ہوا۔ سب نے کہا ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو ساتھ لے کر واپس لوٹ چلیں اور وبائی ملک میں لوگوں کو لے کر نہ جائیں۔یہ سنتے ہی عمرؓ نے لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ میں صبح میں سوار ہو کر واپس مدینہ منورہ لوٹ جاؤ ں گا تم لوگ بھی واپس چلو۔صبح کو ایسا ہی ہوا۔ ابو عبیدہؓ بن جراح نے کہا کیا اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کیا جائے گا؟ عمرؓ نے کہا کاش یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی۔ ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کر رہے ہیں لیکن اللہ ہی کی تقدیر کی طرف۔کیا تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم اُنہیں لے کر کسی ایسی وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک سرسبز و شاداب اور دوسرا خشک۔ کیا یہ واقعہ نہیں کہ اگر تم سرسبز کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیرسے ہی ہوگا،اور خشک کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیرسے ہی ہوگا۔ پھروہاں عبد الرحمن ؓ بن عوف آ گئے ۔ وہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اُ س وقت موجود نہیں تھے۔ اُنہوںنے بتایا کہ میرے پاس مسئلہ سے متعلق ایک علم ہے۔میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ جب تم سن لو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل رہی ہے تووہاں مت جاؤ، لیکن جب کسی جگہ یہ وبا پھوٹ پڑے اور تم وہیں موجود ہو تو اُس جگہ سے نکلو بھی مت نکلو۔ اس پر عمر ؓ نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور پھر واپس ہو گئے۔(بخاری:۵۷۲۸)
بخاری کی اس روایت میں بتایاجارہا ہے کہ حضرت عمر ؓ کی خلافت میں مجاہدین کا ایک لشکرمدینہ سے باہر کسی مقام پر ٹھہرا ہوا تھا۔ خلیفہ اُس لشکر کو لے کر ملک شام کی طرف جانا چاہ رہے تھے۔ چونکہ اُس وقت ملک شام میں طاعون کی بیماری پھیلی ہوئی تھی اس لیے صحابہ نے وہاں نہیں جانے کا مشورہ دیا۔اس کے بعد خلیفہ نے مہاجرین سے، انصار مدینہ سے مشورہ کیا۔اُن لوگوں کی رائی الگ الگ ہو گئیں اور اتفاق نہیں ہوا۔ پھر فتح مکہ کے وقت ایمان لانے والے بوڑھوں سے مشورہ کیا تو اُنہوں نے اتفاق رائے سے لوٹ جانے کا مشورہ دیا۔ خلیفہ نے فتح مکہ کے وقت ایمان لانے والوں کے مشورے کی بنیاد پر لشکر کو واپس ہونے کا حکم دیا۔اس پر ابو عبیدہؓ نے طنز کیا کہ کیا تقدیر سے بھاگا جا سکتا ہے۔ خلیفہ عمرؓ بولے کہ افسوس ابو عبیدہ ؓ، آپ جیسا جلیل القدر صحابی ایسی بات کہہ رہا ہے۔خلیفہ نے اونٹ کے چرانے کی مثال دے کر سمجھایا کہ میں تقدیر سے تقدیر کی طرف ہی جا رہا ہوں بھاگ نہیں رہا ہوں۔پھر جب حضرت عبد الرحمن ؓ بن عوف آئے تو اُنہوں نے نبیﷺ کی ایک حدیث سنا کر خلیفہ کے فیصلے کو تقویت دی۔
جن لوگوں نے لشکر کی واپسی کے خلاف مشورہ دیا تھااُن سب لوگوں نے مذکورہ ذیل آیتوں کی روشنی میں مشورہ دیا کہ تقدیر کو ٹالا نہیں جاسکتا ہے اس لیے جس مہم پر ہم لوگ نکلے ہیں اُسے پورا کرنا چاہئے۔کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے اذن سے ہی آتی ہے۔ جو شخص اللہ پرایمان رکھتا ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے، اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔(تغابن:۱۱)اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہذا ایمان لانے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔(تغابن:۱۳)………جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔() اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لئے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔ (طلاق: ۲، ۳ )
اس بیماری سے اہل ایمان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔اوپر نقل کی گئی حدیثوں کی روشنی میں دنیا کے جو اہل ایمان مدینہ والوں کی صفات کے حامل ہوں گے اول تو وہ اس بیماری کے شکار نہیں ہوں گے، کیونکہ نبیﷺ نے اہل مدینہ کے لیے اس بیماری کو منظور نہیں کیا تھا۔دوسرے یہ کہ مدینہ کی صفت والے اہل ایمان اگر اس بیماری کے شکار ہو کر مریں گے تو اُن کو شہادت کا درجہ نصیب ہوگا۔ لیکن دنیا کے وہ مسلمان جو مدینہ والوں کی صفت کے حامل نہیں ہیں بلکہ دنیا دار، زرپرست، شریعت بیزار ہیںاور کافر و مشرک انسانوں جیسی زندگی گزار رہے ہیں وہ اس بیماری کا شکار بھی ہو سکتے ہیں اور اندیشہ ہے کہ اُن کی موت کافر و مشرک جیسی ہی ہوگی۔
کرونا وائرس اس وقت اللہ کا عذاب بن کر پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور شدید تباہی مچا رہا ہے۔زندگی کی ساری رنگ رلیاں خاک میں مل رہی ہیں۔تجارت و صنعت اور کاروبار جو دولت دنیا کمانے کا ذریعہ ہے اُس پر ایسی آفت آئی ہے کہ پورا نفع نقصان میں بدلتا جارہا ہے۔ یہ بیماری دراصل انسانوں کی اللہ سے بغاوت اورنافرمانی کا عذاب ہے۔نافرمانوں کو پوری سزا دیے جانے کے بعد ہی یہ عذاب اس دنیا سے رخصت ہوگا۔
بتایا جارہاہے کہ یہ وائرس ہاتھ کے ذریعہ ایک آدمی سے دوسرے آدمی تک پہنچتا ہے۔ہاتھ ہی کے ذریعہ ناک میں گھس کر پھیپھڑے میں چلا جاتا ہے جس سے انسان کی موت ہو جاتی ہے اور اگر اُسی ہاتھ سے کوئی چیز کھائی جائے تو حلق میں چلا جاتا ہے۔حلق میں جب یہ جاتا ہے تو سوکھی کھانسی ہونے لگتی ہے جس میں بلغم نہیں نکلتا، بخار آ جاتا ہے ،اور بدن میں درد ہونے لگتا ہے ۔ایسے موقع پر خوب پانی پینا چاہئے اور گرم پانی پینا چاہئے۔ایسا کرنے سے یہ وائرس یا تو مر جائے گا یا پیٹ میں چلا جائے گا اور وہاں جا کر مر جائے گا۔لیکن اگر یہ احتیاط نہیں کی گئی تو پھر یہ سانس کی نلی کے ذریعہ پھیپھڑ ے میں چلا جائے گااور پھر مریض کی جان لے لے گا۔جن لوگوں کو اوپر لکھی ہوئی علامتیں اپنے اندر دکھائی دیں اُن کو فورا ً جانچ کرانی چاہئے۔ہو سکتا ہے کہ ایسی حالت وائرس کی وجہ سے نہیں کسی اور وجہ سے ہو۔وائرس کا شبہہ ہونے پر مریض کو دوسرے لوگوں سے الگ کر کے اُس کا علاج کرنا چاہئے۔ابتدائی مرحلے میں مریض علاج سے اچھا ہو جائے گا،لیکن اس میں کوتاہی کی گئی اور مرض بڑھ گیا تو پھر جان جانے کا اندیشہ ہے۔چھوت سے پھیلنے والی اس بیماری سے بچنے کے لیے ایسی تمام چیزوں پر پابندی لگا دی گئی ہے جہاں زیادہ لوگ جمع ہوتے ہیں اور وائرس کے پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
اگر یہ وبائی مرض قابو سے باہر ہو گیا تو مسجد میں جماعت کی نمازیں بھی روک دی جائیں گی۔پانچ وقت کی نماز باجماعت اور جمعہ کی نماز ختم ہو جائے گی۔مسجدوں میں اذان تو ہوگی لیکن اُس میں حی علی الصلاۃ کی جگہ الصلاۃ فی بیوتکم کہا جائے گا یعنی نماز اپنے گھروں میں پڑھو۔ایک احتیاط یہ کرنی چاہئے کہ لوگ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔گھومنا سیر سپاٹا کرنا سڑکوں پر آوارہ گردی کرنا بالکل بند کر دیا جائے۔دوسرے یہ کہ جب کسی ضروری کام سے باہر نکلیں تو جیسے ہی گھر واپس آئیں پہلے اپنا ہاتھ ، چہرا اور جسم کی کھلی جگہ کو صابن سے دھو لیں، پھر گھر کی کسی چیز کو ہاتھ لگائیں۔جو اہل ایمان نماز کے پابند ہوتے ہیں وہ وضو کرتے ہیں اور یہ عمل اس بیماری میںسب سے زیادہ مفید ہے۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس موقع پر سادہ اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں استعمال کریں۔جب خوب بھوک لگ جائے تب کھائیں۔بھوک کے بغیر شوق سے کھانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔بازار میں کھلی ہوئی کھانے کی جو چیزیں بک رہی ہیں اُن کو ہرگز نہ کھائیں۔ بازار سے پھل، سبزی، انڈا، گوشت یا کھانے کا جو سامان بھی لائیں اُس کو پہلے اچھی طرح دھو لیں پھر استعمال کریں۔
جن لوگوں کے یہاں اس وقت شادیاں ہونے والی ہیں،وہ ہوٹلوں اور کلبوں میں شادیوں کی تقریب نہ کریں۔شادی ہال کی بکنگ کینسل کر دیں۔صرف گھر کے لوگ نکاح کر کے لڑکی کو رخصت کرا کے لے آئیں۔ولیمہ بھی گھر پر ہی سادگی کے ساتھ کر لیں۔ایسا نہ ہو کہ شادی کی تقریب بیماری کے پھیلنے کا سبب بن جائے اور نیکی برباد گناہ لازم والی بات ہو جائے۔
کثرت سے استغفار پڑھتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں۔برائی اور گناہ کا چلن چھوڑ کر نیک اور صالح مسلمان بننے کی کوشش کریں۔جو کچھ حرام کمایا ہے اُسے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیں اور صرف حلال روزی پر گزارہ کریں۔ایسا کرنے سے اللہ راضی اور خوش ہو جائے گا اور اس مہاماری سے آپ کی حفاظت کرتے ہوئے آپ کو بچا لے گا۔انشاء اللہ!

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*