بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / ماضی حال اور مستقبل !

ماضی حال اور مستقبل !

Mumbra All Maslak Ijlas Against NPR

عالم نقوی (جمعرات ۲۶مارچ ۲۰۲۰ ءمطابق یکم شعبان المعظم ۱۴۴۱ھ )
جب فروری ۲۰۰۲ میں نسل کشی کی وبا کے دوران احمدآباد میں ولیؔ دکنی (ثم گجراتی )کے مزار کو بل ڈوزر سے مسمار کر کے اس خطہ زمین کو سڑک میں شامل کر دیا گیا تو اس سانحے کے سات ماہ بعد ، انجمن ترقی اردو،ہند کے سہ ماہی جریدے ’اردو ادب ‘ کے ستمبر ۲۰۰۲ کے شمارے میں اُس کے مدیر ڈاکٹر اسلم پرویز نےلکھا کہ ’’ولی کے مزار کے مسمار ہوجانے کا دکھ تو بہت ہے لیکن کون نہیں جانتا کہ یہ سانحہ بجائے خود اُن لوگوں کے ماتھے کا کلنک ہے جو اس کے ذمہ دار ہیں ورنہ اردو کا سب سے بڑا شاعر میر (تقی میر) تو آج تک اپنے مزار کے بغیر بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ نادر شاہ اور نریندر مودی میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ نادر شاہ تو دلی میں( قریب تین سو برس قبل ،فروری ،مارچ ۱۷۳۹ء میں ) خون کی ندیاں بہا کر ایران لَوٹ گیا تھالیکن مودی ابھی تک جہاں کے تہاں موجود ہیں ۔‘‘( سہ ماہی اردو ادب ،ستمبر ۲۰۰۲ ص ۱۰)یہ اقتباس ہم نے صرف اس لیے نقل کیا کہ نریندر دامودر مودی کے احمد آباد سے دلی پہنچنے کے چھے سال بعد مارچ ۲۰۲۰ میں ،دلی کے چند مخصوص علاقوں میں ایک بار پھر۱۷۳۹ء اور
۱۹۴۷ ء کی تاریخ دہرائی جا چکی ہے ۔ مشتاق احمد یوسفی مرحوم نے ۱۹۸۹میں اپنی شہرت یافتہ کتاب ’آب گم ‘ میں لکھا ہے کہ ’’جب لیڈر خود غرض ،مذہبی رہنما مصلحت بین ،دانشور خوشامدی اور عوام بے حس ہو جائیں تو آمریت آہستہ آہستہ مگر یقینی طور پر ،جمہوریت کو کھسکا کر خود اپنا تسلط جما لیتی ہے ‘‘۔وطن عزیز میں بھی یہی ہوا ہے ۔اور یوسفیؔ ہی کے بقول ’’جو قوم جتنی پس ماندہ ،درماندہ اور پست حوصلہ ہوتی ہے ،اس کا ماضی اتنا ہی شاندار اور پھر سے واپس لانے کے لائق نظر آتا ہے‘‘َ۔ یعنی پروفیسر سید اقبال کے لفظوں میں ’’ہم سارا وقت اسی بات پر خوش ہوتے رہتے ہیں کہ ۔۔ہم نے اندلس پر سات سو سال تک حکومت کی تھی ،ہندستان پر ڈھائی تین سوسال حکمرانی کے مزے لوٹے اور ہماری حکومت عرب و حجاز کی سرحدوں سے نکل کر افریقہ اور یورپ کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی تھی ۔ (جبکہ آج کسی کو اس سے غرض نہیں کہ ہمارے ) آبا و اجداد کیا کرتے تھے ،انہوں نے کتنے ممالک فتح کیے تھے ۔۔آج تو لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ فی الوقت ہمارے اندر کتنی صلاحتیں ہیں ،)ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں نے اپنے ) امتحانات کتنے نمبروں سے پاس کیے ہیں، کس مضمون میں تخصص حاصل کیا ہے ،کیا کچھ پڑھ رکھا ہے اور کتنے ہنر مند ہیں ۔(آج کام دینے والے ادارے )ہمارے پاس روایتی ڈگری کےعلاوہ’ کچھ اور ‘دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اس ڈگری کی وقعت کاغذ کے اُس ٹکڑے کے برابر بھی نہیں رہی جس پر وہ چھپی ہوئی ہوتی ہے ۔وہ ہماری جنرل نالج ،ہماری زبان دانی اور معاملات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت جاننے کے شائق ہوتے ہیں ۔ کیونکہ انہیں اپنے یہاں ایسے ورکر درکار ہوتے ہیں جو لگے بندھے اوقات سے اوپر اٹھ کر اپنا سارا وقت اس ادارے میں صرف کرنے کے لیےتیار ہوں ۔جو ہمہ وقت مستعد رہ کر اپنے مضمون میں ہونے والی جدید تبدیلیوں سے واقف ہوں ۔جنہوں نے کام کو عبادت کا درجہ دے رکھا ہو اور جو ’جنونیوں ‘کی طرح کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے یہاں ایسے ’’جنونی ‘‘ نہیں پائے جاتے ۔۔(مانا کہ )سرکاری اداروں میں تعصب بہت ہے لیکن پرائیوٹ اداروں میں تو بیشتر اعلیٰ ترین صلاحیت اور غیر معمولی ہنر مندی ہی،سلیکشن کا واحد پیمانہ ہوتی ہے ۔۔ہمارے آس پاس کی دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہو چکی ہے ۔زمانہ کب کا قیامت کی چال چکا ہے ۔۔سمجھ میں نہیں آتا کہ مزید کتنی ناکامیوں اور کتنی ذلتوں کے بعد محنت اور مستقل مزاجی کے معنی ہماری سمجھ میں آئیں گے ‘‘
( کتاب ’سائنس اور سماج‘ مصنف پروفیسر سید اقبال ، فروری ۲۰۲۰ ،’رفعت میں مقاصد کو ہم دوش ثریا کر‘ ،ص ۱۶ تا ۱۸)
بات یہ ہے کہ اس دنیا میں سائنس یعنی علم و حکمت ، سماج میں عزت اور سربلندی اور ظلم سے نجات ، اپنی استطاعت و صلاحیت کے بقدر ’حصول قوت ‘ کے بغیر نہیں ملا کرتی َ۔۔
’’اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے ’قوت ‘حاصل کرواور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے )رباط الخیل Steed of War)مہیا رکھوتاکہ ان کے ذریعے سے اللہ کے دشمنوں کو ،اپنے دشمنوں کو اور اُن دوسرے دشمنوں کو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے (کہ وہ بھی تمہارے دشمن ہیں) خوفزدہ رکھ سکو،تم اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کروگے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹا دیا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہو گا ‘‘(قرآن کریم کی آٹھویں سورۃالانفال کی آیت نمبر۶۰)
اللہ جل جلالہ نے اپنے کلام میں ’قوت ‘ کا جامع ترین لفظ استعمال کیا ہے ۔اور ’قوت ‘صرف لاٹھی ،ڈنڈےاور دیگر مختلف اور متعدد اقسام کے سامان حرب و ضرب ہی کو نہیں کہتے بلکہ ’علم‘ بھی قوت ہے اور’ مال ‘بھی اور بازوؤں اور بدن کی مجموعی طاقت تو ہے ہی قوت ۔اور ان سبھی قوتوں کے حصول میں وقت کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ مال بھی ضرور خرچ ہوتا ہے۔ اوراس خرچ کو رحیم و کریم آقا نے ’ فی سبیل اللہ ‘ قرار دیتے ہوئے ہمیں بلا کسی کمی کے واپس کر دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔حصول قوت کے ساتھ جس گھوڑے (رباط الخیل ۔Steed of War )کو رکھنے کا حکم ہے وہ عرب اور بالخصوص یمن کے ایک مخصوص جنگی گھوڑے کا نام ہے ،جس کی خصوصیت ’انسائکلو پیڈیا آف ہارسز ‘ Encyclopaedia of Horsesمیں یہ لکھی ہوئی ہے کہ وہ جس مالک کے تھان پر بندھتا ہے اس کے دشمن کو کئی کلو میٹر دور سے پہچان لیتا ہے اور زمین پر ٹاپیں مار کر اور کانوں کو پھٹپھٹا کر اپنے طریقے سے اپنے مالک کو ہوشیار کر دیتا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کا سامان کر لے ۔۱۹۹۳ میں یہ گھوڑا ممبئی کے بازار میں بآسانی دستیاب تھا اور اس کی قیمت اس وقت صرف ڈھائی لاکھ روپئے تھی !
مولانا ذیشان حیدر جوادی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ لفظ قوۃ کا اطلاق ہر طرح کے وسائل دفاع پر ہو سکتا ہے ۔اس کی مزید تاکید اس لیے کی گئی ہے کہ اللہ کا دشمن تمہارا بھی دشمن ہے اس لیے اس کی طرف سے غافل نہ ہو جاؤ اورحصول قوت کے ذریعے دفاع کی تیاری کرو ۔یہ اتنا اہم اسلامی فریضہ ہے ہر مسلمان کو ہر دور میں دشمنوں سے مقابلہ کے لیےقوت کا انتظام رکھنا چاہیے کہ یہ دنیا ہمیشہ اہل قوت کے ہاتھ میں رہتی ہے اور وہی اس کے سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں۔اگر مسلمان اپنے دفاع کی قوت حاصل کر لیں تو ظالم حکمرانوں کا طلسم اپنے آپ ٹوٹ جائے ‘‘(انوار القرآن ،ذیشان حیدر جوادی ،ص ۴۰۱)
مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی اکثریت بغیر سمجھے ہوئے ،محض برائے حصول ثواب قرآن پڑھتی ہے ۔اس پر پوری طرح عمل کا تصور تقریباً ناپید ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نام نہاد علماء عام مسلمانوں کو از خود قرآن کو سمجھنے اور سمجھ کے پڑھنے سے روکتے ہیں جبکہ خود قرآن میں اللہ سبحانہ تعالی کا فرمان یہ ہے کہ ’’ہم نے نصیحت کے لیے قرآن کو آسان کر دیا ہے تو ہے کوئی جو نصیحت قبول کرے ‘‘ ستائیسویں پارے کی سورۃنمبر ۵۴’القمر‘ میں اس آیہ کریمہ کی چار بار تکرار ہوئی ہے ۔ اور چھٹی سورۃ المائدہ کی آیت ۸۲ میں یہ دائمی اصول ارشاد ہو رہا ہے کہ ’’تم اہل ایمان سےعداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤگے اور ایمان لانے والوں سے دوستی میں قریب تر اُن لوگوں کو جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں ،یہ اس وجہ سے کہ اُن میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور اُن ذرا تکبر نہیں ہوتا ‘‘(تلخیص تفہیم القرآن ،مولانا سید ابو الاعلی مودودی ،صفحہ ۲۰۵)
ہمارے ساتھ پوری دنیا میں آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ایک بدیہی سبب قرآن سے ہماری یہی دوری ہے ۔ظلم سے نجات کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ ہم ہر طرح کےجھوٹ ،کرپشن ،بد عنوانی ،خود غرضی سے دور رہتے ہوئے ’’پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجانے ‘‘ کے قرآنی حکم پر عمل کریں،دائمی دشمنوں سے سدا ہوشیار رہیں اور ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ’’حصول قوت و دفاع کے الوہی احکامات کی حتی الامکان اور حسب استطاعت ‘‘پابندی کریں۔فھل من مدکر ؟

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*