بنیادی صفحہ / خبریں / امریکہ افغانستان میں طالبان کو واپس لانے کا راستہ ہموار کر رہا ہے

امریکہ افغانستان میں طالبان کو واپس لانے کا راستہ ہموار کر رہا ہے

Taliban

کابل : امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کا مطلب تھا کہ پورے افغانستان میں تشدد میں کمی ہو گی۔ لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے جیسے ہی امریکہ نے افغانستان کی شہری امداد میں ایک ارب ڈالر کی کمی کا اعلان کیا تو بہت سے افغان شہریوں کو یہ تشویش لاحق ہو گئی کہ شاید اب امریکہ آہستہ آہستہ انھیں طالبان کے حوالے کر رہا ہے۔میں صبح چار بج کر 41 منٹ پر پریشانی کی حالت میں اٹھی۔ پریشانی کی وجہ نہ تو کورونا وائرس تھی اور نہ ہی اس وبا کے باعث لندن میں لگنے والی پابندیاں، جن کا مجھے اور میرے جیسے کئی لوگوں کو آج کل سامنا ہے۔
غیر ممالک میں رہنے والے افغان اور میری طرح کے صحافی پریشان رہتے ہیں۔ ہم مستقل پریشان رہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جہاں ہم پیدا ہوئے تھے کیا ہو رہا ہے اور لگ بھگ ساڑھے تین کروڑ افغان شہریوں کا مستقبل کیا ہے۔جب میں صبح اٹھتی ہوں تو سب سے پہلے اپنا فون چیک کرتی ہوں تاکہ یہ پتا لگا سکوں کہ میرا خاندان، دوست احباب اور رابطہ کار سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر کیا کر رہےہیں۔ لیکن اس روز جب میں سُو کر اٹھی تو میں نے دیکھا کہ میرے ایک واٹس ایپ گروپ پر لوگ ایک ہی سوال پوچھ رہے تھے کہ ’رات کو کیا ہوا؟‘
اس واٹس ایپ گروپ میں مجموعی طور پر 220 لوگ ہیں جن میں زیادہ تعداد افغانستان کے 34 صوبوں سے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ہے۔وہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کے اُس ہلا دینے والے بیان کی طرف اشارہ کر رہے تھے جس میں انھوں نے اعلان کیا تھا کہ اس سال افغانستان کی امداد میں سے ایک ارب ڈالر کم کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ سنہ 2021 میں بھی مزید ایک ارب ڈالر کم کر دیے جائیں گے۔
کیوں؟ انھوں نے اس کا موردِ الزام ملک کے سیاسی رہنماؤں، صدر اشرف غنی اور افغانستان کے سابقہ چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ، کو ٹھہرایا جو متحدہ حکومت بنانے میں ناکام رہے ہیں۔پومپیو کا کہنا تھا افغانستان میں مستحکم حکومت کا قیام امن مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ایک اہم چیز تھی۔انھوں نے کہا ’کیونکہ قیادت کی اس ناکامی سے امریکی قومی مفاد کو براہ راست خطرہ پہنچ رہا ہے اس لیے فوری طور پر امریکی حکومت افغانستان کے ساتھ ہمارے تعاون پر نظرِ ثانی شروع کر رہی ہے۔‘
پانچ ماہ کے تلخ جھگڑے کے بعد 18 فروری کو صدر اشرف غنی نے اعلان کیا کہ وہ افغانستان کے صدارتی انتخابات کے فاتح ہیں۔چند ہی گھنٹوں کے بعد ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کے اس اعلان کو فراڈ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے نئے صدر وہ ہیں۔ انھوں نے اپنی حلف برداری کی تقریب بھی منعقد کر ڈالی۔ افغان ٹی وی نے دونوں حلف برداریوں کو ساتھ ساتھ ٹی وی پر دکھایا۔
اسی سیاسی تعطل کے درمیان امریکہ نے 29 فروری کو طالبان کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے جس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ یہ افغانستان میں 20 سال سے جاری تشدد کو ختم کر دے گا۔تاہم ان امن مذاکرات میں ایک اہم فریق افغان حکومت شامل نہیں تھی۔افغان حکومت کے حمایتی متواتر یہ کہہ رہے ہیں کہ جمہوری طور پر منتخب کردہ حکومت کو مذاکرات میں شامل نہ کر کے باغی گروہوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ حکومت کے غیر حاضری کی وجہ سے امن معاہدے کا نفاذ ناممکن ہو گیا ہے۔
مثال کے طور پر امریکہ نے اس بات پر بھی رضا مندی ظاہر کی ہے کہ حکومت کے ایک ہزار فوجیوں کے بدلے میں پانچ ہزار طالبان جیلوں سے رہا کیے جائیں گے۔ تاہم افغان حکومت نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتنے زیادہ قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے کبھی راضی ہی نہیں ہوئے تھے۔امریکہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ 14 مہینوں میں افغانستان سے اپنی تمام افواج کو واپس لے جائے گا۔ لیکن حالیہ سیاسی تعطل کی وجہ سے اگلے تمام اقدامات بھی اب ہوا میں ہی معلق ہو گئے ہیں۔
امریکہ نے ابھی تک واضح نہیں کیا کہ ایک ارب ڈالر کی امداد کہاں سے کاٹی جائے گی۔ لیکن چند ماہرین کا خیال ہے کہ یہ شاید افغان سکیورٹی فورسز کے لیے امریکی امداد میں سے کم کی جائے۔امن معاہدے کے آغاز سے ہی افغانستان میں تشدد نہیں رکا ہے اور طالبان لگاتار ملک کے کئی حصوں میں افغان فوجیوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔ ان خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ موسم کے بدلنے کے ساتھ ان میں اور شدت آ جائے گی کیونکہ طالبان موسمِ بہار میں روایتی طور پر اپنے حملوں تیزی لاتے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کا بیان افغانستان کے لیے اس سے زیادہ بُرے وقت میں نہیں آ سکتا تھا۔ افغانستان میں کورونا وائرس کے خدشات ان آبادیوں میں بڑھ رہے ہیں جہاں اس کا مقابلہ کرنے کے وسائل بہت کم ہیں۔ افغان وزارتِ صحت کے مطابق 24 مارچ تک ملک میں اس مرض کا شکار 74 افراد تھے اور ایک ہلاکت بھی ہوئی تھی۔کابل میں قائم افغان ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن یونٹ (اے آر ای یو) کی ڈاکٹر اورزلہ اشرف نعمت کہتی ہیں کہ ان کٹوتیوں کی خبر ملک کے لیے بہت تباہ کُن ہے کیونکہ یہ پہلے ہی اپنے بنیادی ڈھانچوں کو بحال اور تعمیر کرنے کی تگ و دو میں ہے۔
’اس وقت ہمیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور اب کووِڈ 19 کے ساتھ بحران میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ کوئی بھی بچت کا اقدام سب سے زیادہ معاشرے کے سب سے زیادہ پسماندہ طبقے کو متاثر کرتا ہے۔‘اگر یہ سچ ہے جیسا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کو دی جانے والی امریکی امداد افغان سکیورٹی فورسز کی دی جانے والی امداد میں سے کاٹی جائے گی تو بہت سے افغانوں کو، جنھوں نے افغانستان سے سوویت فوجوں کا انخلا دیکھا تھا، خدشہ ہے کہ کابل کی حکومت کا بچنا مشکل ہو جائے گا۔امریکی حمایت کے بغیر افغانستان اپنی سکیورٹی فورسز کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔
بہت سے افغانوں کو ڈر ہے کہ مقامی سکیورٹی فورسز کی طاقت میں کمی آہستہ آہستہ طالبان کے دوبارہ آنے کا راستہ ہموار کر دے گی۔ اگرچہ یہ ابتدا میں طاقت کے ذریعے نہ بھی ہو لیکن بعد میں آہستہ آہستہ زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ کر کے وہ یہ ضرور کر لیں گے۔جیسے جیسے میں واٹس گروپ کو اسکرول کر رہی ہوں جو چیز مجھے سب سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ چاہے افغان دنیا کے کسی کونے میں بھی ہیں ان کو ایک ہی تشویش ہے کہ افغانوں کی پریشانی کب ختم ہو گی۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*