بنیادی صفحہ / خبریں / تبلیغی جماعت تو محض ایک بہانہ ہے

تبلیغی جماعت تو محض ایک بہانہ ہے

تبلیغی جماعت۱

دانش ریاض،معیشت ،ممبئی
حکومت نے تبلیغی جماعت کی آڑ میں جب شکار کھیلنے کی کوشش کی تو وہ تمام سانپ سنپولے بلوں سے باہر آگئے جو سازگار موسم تک بلوں میں چھپ کر اپنی حفاظت کیاکرتے ہیں۔کارپوریٹ نے میڈیا کے جن اداروں کو دودھ پلایا ہے انہوں نے بھی دودھ بخشوانے کے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی مشینری کا بھرپور استعمال کیا اور اس عالمی صیہونی ایجنڈے کے ساتھ کھڑے ہوگئے جس کے لئے انہیں تیار کیا گیا ہے۔یقیناً خوش آئند ہے جماعت اسلامی کے امیر سید سعادت اللہ حسینی کا یہ عمل کہ انہوں نے فوری طور پر نہ صرف تبلیغی جماعت کے حق میں حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی بلکہ پوری امت سے بھی یہ گہار لگائی کہ وہ اس وقت ہر لحاظ سے تبلیغی جماعت کا ساتھ دیں۔افرادی قوت کے ساتھ وسائل کی کمی کے باوجود جماعت اسلامی ہند پورے ملک میں جس طرح ریلیف کا کام کررہی ہے نہ صرف اس کی پذیرائی کی جانی چاہئے بلکہ دامے درمے قدمے سخنے ان کا تعاون بھی ان تمام لوگوں پر لازم ہے جو اس تباہی کی گھڑی میں انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ارتداد و انحطاط کے دور میں تبلیغی جماعت ایمان کو مہمیزدینے والی ایسی جماعت ہے جو بندہ خدا کو خداکے گھر کے چوکھٹ پر لاکھڑا کرتی ہے۔سکندر و تونگر بھی دربار خدا میں فقیروں کا بھیس بنائے حاضر ہوجاتا ہےاور اپنے گناہوں کی معافی و تلافی کے ذریعہ قلب و روح کو پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔معاشرے میں امیری و غریبی کا جو چلن عام ہے یہاں آکر اس پر بھی قدغن لگتا ہے اور لوگ باگ ایک ہی تھالی میں ایسے کھاتے ہیں جیسے ایک ہی کنبہ کے فرد ہوں ۔ایک دوسرے کا خیال ایسا کہ اگر آپ ’’وقت‘‘ لگا رہے ہوں اور جیب خالی ہوگئی ہو تو متعینہ دن تک ’’وقت ‘‘لگاتے رہیںدیگر مسائل غیب سے ایسے پورے کئے جاتے ہیں کہ مذکورہ فرد کو بھی یہ احساس نہیں ہوپاتا کہ مسئلے حل کیسے ہوگئے۔ یعنی اسلام جس نظام کو پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے تبلیغی جماعت اس نظام پر پورا اترنے میں ہمہ وقت کوشاں نظر آتی ہے۔دراصل تبلیغی جماعت کا خدا دوست ہونے کا یہی وہ پہلو ہے جو حزب الشیطان کو اب کھٹکنے لگا ہے۔
کرونا وائرس مہم جس کے بارے میں اب تحقیقات سامنے آنے لگی ہیں کہ یہ عالمی صیہونی ایجنڈے کا ہی حصہ ہےاور اب ان تمام مذہبی اداروں پر لگام کسنے کی کوشش کرے گا جو عالمی صیہونی ایجنڈے سے راست طور پر ٹکراتی نظر آئیں گی۔کیونکہ عالمی صیہونی ایجنڈے میں مذہب بیزاری اہم ۔اگر آپ کسی بھی مذہب ،مشرب ،مسلک کے پیروکار ہیں تو آپ اس نظام کے خلاف ہیں جس نظام کو مسلط کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔لیکن دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مذہب کی آڑ میں ہی ایسے لوگوں کو بھی پرموٹ کرنے کی کوشش کی جائے گی جو دراصل مذہبی روح کے خلاف ہوں گے۔
پورے ملک میں دینی جماعتوں سے وابستہ سرکردہ افراد جس طرح اپیل کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ’’وہ لوگ جو حضرت نظام الدین جاکر آئے ہیں وہ فوری طور پر اپنے آپ کو مقامی انتظامیہ کے حوالہ کردیں‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔یہ اپیل ایسی ہی ہے جیسے نظام الدین جانا کوئی جرم قرار پایا ہو اور لوگ باگ ضمیر کی آواز پر اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے پولس و انتظامیہ کے حوالہ ہوجائیں۔کارپوریٹ میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا پر یہ اپیلیں اس قدر دہرائی جارہی ہیں کہ صحیح الدماغ شخص بھی اس غلط فہمی کا شکار ہوگیا ہے کہ اگر وہ کرونا وائرس مہم کا حصہ نہیں بنا تو گویا خدا کےغضب کو دعوت دینے والا شمار کیا جانے لگے گااور دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی پکڑ یقینی ہوجائے گی لہذا نتیجہ یہ ہے کہ ہر مسجد ،ہر گلی محلہ کا فرداپنے علاقوں میں آئی جماعتوں کی ایسی ’’مخبری‘‘ کررہا ہے جیسے کہ وہ دین کا کوئی ایسا کام انجام دے رہا ہو جس کے بعد جنت یقینی ہے۔
شیطانی عالمی ٹولہ چاہتا یہی ہے کہ آپ ایک ایسے خوف میں مبتلا ہوجائیں کہ دین سے وابستگی ہی آپ کو جرم سمجھ میں آنے لگےاور آپ نہ صرف اس سماج کے مخبر بن جائیں جس سے وابستہ ہیں بلکہ اس گھر کی بھی مخبری کرنے لگیں جس کی چہار دیواریوں نے آپ کو پناہ دے رکھا ہے۔چند روز قبل ہی میں نے انٹر نیٹ پر ویب سیریز ’’گل‘‘دیکھی ہے جہاں ایک بیٹی اپنے باپ کو محض اس لئے حکومتی اہلکاروں کے حوالہ کردیتی ہے کہ وہ دین پسند تھا اور اس نظام کے خلاف دینی بنیادوں پر لوگوں کی فکری رہنمائی کررہا تھاجو شیطانی قوتوں سے نبرد آزما تھے۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف آپ محفوظ رہیں بلکہ ان تمام متعلقین کو محفوظ رکھنے کی کوشش کریں جو آپ پر بھروسہ کرتے ہیں۔کسی پروپگنڈہ کا شکار ہوئے بغیر اس بات کا جائزہ لے لیں کہ آیا یہ درست ہے بھی یا نہیںیا دینی بنیادوں پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے ۔کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا؟“یا آپ نے یوں فرمایا: ”عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ چھن اٹھیں گے، اچھے لوگ سب مر جائیں گے، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا (یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہو جائیں گے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو، اور خاص کر اپنی فکر کرو، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو“۔

دانش ریاض معیشت میڈیا کے منیجنگ ایڈیٹر اور معیشت اکیڈمی کے ڈائریکٹر ہیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*