بنیادی صفحہ / خبریں / جموں و کشمیر میں نیا ڈومیسائل قانون نافذ، 15برس سے رہائش پذیر کوئی بھی شخص کشمیرکا باشندہ قرار پائے گا

جموں و کشمیر میں نیا ڈومیسائل قانون نافذ، 15برس سے رہائش پذیر کوئی بھی شخص کشمیرکا باشندہ قرار پائے گا

Beauty of Kashmir
سرینگر : مرکزی حکومت نےکشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لئے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جسکے تحت ریاست میں کم ازکم 15برس سے رہائش پذیر کوئی بھی شخص اب کشمیرکا باشندہ قرار پائے گا۔
جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے تقریبا آٹھ ماہ بعد مرکزی حکومت نے ایک نوٹیفیکشن جاری کیا ہے جس کے مطابق جموں کشمیر کے نچلے درجہ کے سرکاری(نان گزیٹڈ) عہدوں پر خطے کے باشندوں کا حق ہوگا۔حکومت نے جموں و کشمیر کے ڈومیسائل قانون میں بڑی ترمیم کرتے ہوئے نئے قانون لاگو کردیے ہیں جس سے جموں و کشمیر کے سیاسی و عوامی حلقوں میں بے چینی پیدا ہونے کا امکان ہے۔نئے قانون کے تحت نان گزیٹڈ درجہ کی ملازمتوں کو خصوصی طور پر ان لوگوں کے لئے مختص کیا گیا ہے جنہوں نے جموں و کشمیر میں 15 سال تک رہائش اختیار کی ہے اور تمام مرکزی سرکاری ملازمین کے بچے جنہوں نے جموں و کشمیر میں دس سال کی مدت تک خدمات انجام دی ہیں۔ کلاس فورتھ میں جونیئر اسسٹنٹ، کانسٹیبل جیسی پوسٹس شامل ہیں، جو گزیٹد پوسٹس کی سب سے نچلے درجے کی سمجھی جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جموں و کشمیرکے رہائشیوں کو کلاس فورتھ اور نان گزٹیڈ پوسٹس پر خصوصی حقوق حاصل ہوں گے۔ایک نیوز پورٹل کے مطابق اب سے جموں و کشمیر میں سبھی گزیٹڈ اور دیگر نان گزیٹڈ پوسٹس کے لیے بھارت کے دیگر ریاستوں کے افراد بھی اہل ہونگے۔بی جے پی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 کے تحت جاری کی گئی نوٹیفکیشن کے مطابق وہ فرد جو 15 برس سے جموں و کشمیر میں رہائش پذیر ہو، یوٹی کا مستقل رہائشی بننےکے قابل ہے۔ متعلقہ قانون نے اپنے علاقائی دائرہ اختیار میں تحصیلداروں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار دیا ہے۔
ریاست جموں و کشمیر یوٹی کی حکومت کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ کسی دوسرے افسر کو مقرر کر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اجرا کرنیکا اختیار دے۔نوٹیفکیشن کے مطابق جموں و کشمیر کی تنظیم نو حکمنامے 2020 کی دفعہ 3 اے میں کشمیر کے ڈومیسائل کے حصول کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ جو علاقے میں پندرہ برس سے رہائش پذیر ہو یا جس نے جموں وکشمیر کی کسی تعلیمی ادارے میںسات برس برس تک تعلیم حاصل کی ہو اور دسویں اور بارھویں جماعتوں کے امتحانات پاس کیے ہوں وہ تمام کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرکے علاقے کے باشندے قرار پائیں گے ۔ علاوہ ازیں بھارتی حکومت کے وہ عہدیدار ، سروسز آفسرز ، بنک ملازمین ، بھارتی یونیورسٹیوں کے وہ عہدیدار وغیرہ جنہوں نے کشمیر میں دس برس تک ملازمت کی ہو وہ بھی کشمیر کا ڈومیسائل حاصل کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں مذکورہ افراد کے بچے بھی ڈومیسائل کے اہل ہونگے جبکہ جنہوں نے کشمیر میںدس برس ملازمت کی ہو ، یونیورسٹیوں کے عہدیداران اور مرکزی حکومت کے تسلیم شدہ تحقیقی اداروں کو شامل کرنا جموں وکشمیر میں کل دس سال یا والدین پر بچوں کی خدمت کی جو حصوں میں کسی بھی شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے UT میں ریلیف اینڈ بحالی کمشنر (مہاجر) کے ذریعہ تارکین وطن کے طور پر رجسٹرڈ افراد کو بھی اس تعریف میں شامل کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے بدھ کے روز جموں و کشمیر کے لئے ڈومیسائل قانون کے نفاذ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ COVID-19 وباختم ہونے تک اس حکم کو ملتوی کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اس طرح کا اہم حکم ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب پورا ملک اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور مہلک کورونا وائرس کے پھیلا ئوکو روکنے کے لئے لاک ڈائون میں ہے۔
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبدللہ نے آج کسی نام لیے بغیر سابق پی ڈی پی رہنما الطاف بخاری کی نئی سیاسی جماعت اپنی پارٹی کو ڈومیسائل قانون پر تنقید کا نشانہ بنایا۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں نافذ کئے جانے والے ڈومیسائل قانون نے یہاں کے لوگوں کے زخم تازہ کردیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل قانون اتنا کھوکھلا ہے کہ اس کے لئے لابنگ کرنے والی دہلی کی حمایت سے بننے والی نئی پارٹی بھی اس کی مخالفت کررہی ہے۔یہ وہ تحفظات نہیں دیتا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*