بنیادی صفحہ / خبریں / مسلمان شرکیہ رسوم کا بائیکاٹ کریں اور ذکر وفکر میں مشغول ہوجائیں

مسلمان شرکیہ رسوم کا بائیکاٹ کریں اور ذکر وفکر میں مشغول ہوجائیں

دانش ریاض

دانش ریاض

آل انڈیا حلال بورڈ کے جنرل سکریٹری دانش ریاض کی بھارتی مسلمانوں سے اپیل
ممبئی : ’’خاص موقع پرتالی بجانا،تھالی بجانا یا دیاجلانا شرکیہ رسوم ہیں جن سے مسلمانوں کو پرہیز کرناچاہئے۔پوری دنیا میں کرونا وائرس سے لڑنے کے لئے جہاں طب وسائنس کا سہارا لیا جارہا ہے وہیں بھارت میں شرکیہ اعمال کو فرغ دے کر شیطان کو مخصوص پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے‘‘۔ان خیالات کا اظہار آل انڈیا حلال بورڈ کے جنرل سکریٹری دانش ریاض نے اپنے پریس اعلامیہ میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ’’ اسلامی جماعتیں مسلمانوں کو شرک سے بچنے کی تلقین کریں ،اتوار کے دن رات کو دیا جلانے کی جو اپیل کی گئی ہے وہ شیطان کے لئے مخصوص پیغام رسانی کی کوشش ہےکیونکہ دیا یا دیپ جلانا خالص مشرکانہ رسم ہےجس کے ذریعہ اگنی دیوتا کی پوجا کی جاتی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’کرونا وائرس سے لڑنے کے لئے اگر ہندوحضرات مختلف رسوم بجالارہے ہیں اور ان کے رہنما انہیں مختلف امور انجام دینے کی اپیل کررہے ہیں تو مسلمانوں کوچاہئے کہ وہ اللہ رب العزت کی طرف زیادہ سے زیادہ مائل ہوجائیں اور ابلیس کی تمام چالوں کو ناکام بناتے ہوئے صرف خدا کے حضور سر بسجود ہوں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’’ مسلمان توحید کے علم بردار ہیں اور شرک میں مبتلا انسانوں کو صحیح راستہ دکھانا ان کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ قرآن اور سنت کا یہ صاف پیغام ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں گے اور اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کریں گے ان کے لئے مرنے کے بعد اللہ کی رضا، مغفرت اور جنت ہےاور جولوگ اللہ تعالی پر ایمان لانے سے انکار کریں گے اور اللہ کو چھوڑ کر دوسری چیزوں اور ہستیوں کو پوجیں گے یا اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک کریں گے ان کے لئے مرنے کے بعد اللہ کا عذاب، جہنم اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔لہذا مسلمانوں کی قیادت کرنے والی اورمسلمانوں کو دین اسلام پر قائم رکھنے کی کوشش کرنے والی تمام اسلامی جماعتوں ،دینی و تبلیغی تنظیموں، اداروں، مدرسوں ، خانقاہوں کے ذمہ داروں کو اب اپنی ذمہ داری شدت سے محسوس کرلینی چاہئےاور امت مسلمہ کی ہمہ وقت رہنمائی کرنی چاہئے‘‘۔
انہوں نے ’’ دینی جماعتوں، مسلم سماجی تنظیموں پر مداہنت سے کام لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’حکمت و مصلحت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم بھی طوفان کے دوش پر سوار ہوجائیں اوردین سے رشتہ توڑ لیں بلکہ امت مسلمہ کے مفاد میں جس وقت جس طرح کے عمل کی ضرورت ہو نہ صرف اس کی تلقین کریں بلکہ فتنوں سے بھی لوگوں کو محطاط رکھیں۔ چنانچہ کبھی حکمت اور مصلحت کا نقاضا یہ ہوتا ہے کہ خاموش رہا جائے، کبھی یہ ہوتا ہے کہ بولا جائے۔ کبھی دلیل اور حجت پیش کرنا حکمت اور مصلحت ہے اور کبھی منھ پھیر لینا حکمت ہے۔ حکمت اور مصلحت کبھی یہ ہوتی ہے کہ دفاع کیا جائے اور کبھی یہ ہوتی ہے کہ حملہ کیا جائے۔ ‘‘ مسلمانوں کو اسلام کے دفاع میں ڈٹ کر کھڑا رہنے کی اپیل کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ ’’دینی تنظیمیں رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین توحید کے خلاف اہل شرک کی کسی مہم کا حصہ نہ بنیں بلکہ شریعت میں جو احکام صادر کئے گئے ہیں اس کی پیروی کریں۔‘‘

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*