بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / کرونا کی دہشت!

کرونا کی دہشت!

CORONA1

عمر فراہی
فلم کنٹیجن جس کے معنی ہوتے ہیں چھوت کے اس کا ذکر میں نے اپنے پچھلے مضمون میں بھی کیا ہے ۔ہم جس کرونا وائرس بیماری کی دہشت سے گھروں میں قید ہیں جسے انگلش میں کورنٹین کہتے ہیں اور اس بیماری سے بچنے کیلئے ایک خوبصورت لفظ کا اور استعمال کیا جارہا ہے جسے سوشل ڈسٹینسکہتے ہیں۔حالانک جدید معاشی اور مادی تہذیب میں انسان اتنا مشغول اور مصروف تو پچھلے بیس تیس سالوں سے ہی نظر آرہا ہے ۔ اور وہ لوگ جو کسی شادی بیاہ میں رشتہ داروں کے یہاں تین دن پہلے پہنچ جاتے تھے اب گھنٹے دو گھنٹے میں ہاتھ دھو کر واپس ہو لیتے ہیں اب انٹرنیٹ اور موبائل ٹکنالوجی نے تو یوں ہی لوگوں کے درمیان دوریاں پیدا کر دی ہیں ایسے میں کرونا وائرس کی وجہ سے اجتماعی شکل میں ایک دوسرے کے قریب نہ ہونے کی حکومتی پابندی روزی روزگار کیلئے تو پریشانی کا سبب ضرور ہے ورنہ ہمارے جیسے لوگ جو شہر کی بھیڑ سے پہلے ہی اوب چکے ہیں دعا ہی کر رہے تھے کہ دنیا کی بھیڑ سے نکل کر کچھ دن کیلئے کسی جنگل ویران میں نکل جائیں !
افسوس ہم جیسے متوسط خاندان کے لوگوں کیلئے یہ تخلیہ اورکورنٹینبھی نصیب کہاں ۔کمبخت کرونا نے چھوا چھوت اور سوشل ڈسٹینسکے نام پر ساری دنیا کو تو ایک دوسرے سے الگ کردیا شوہروں کو بیویوں کے پلو سے باندھ دیا ہے ۔اب تو روز صبح اٹھ کر جہاں بڑے احترام سے محترمہ کی مزاج پرسی کرنی پڑ رہی ہے بچوں کو بھی ہنسی مذاق اور قصے کہانیوں میں مصروف رکھنا پڑ رہا ہے کہ کہیں وہ پورے دن باپ کی شکل دیکھ کر اوبنے نہ لگ جائیں ۔ عبادت گاہوں میں بھی اسی چھوا چھوت کی بنیاد پر اکٹھے ہونے پر ایک طرح کی قانونی پابندی ہے ۔مسلمانوں کیلئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا لیکن علماء نے یہ دلیل دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑھ کے مرض سے اس طرح بھاگنے کیلئے کہا جیسے کہ انسان شیر کے خوف سے بھاگتا ہے۔ یہ حدیث بھی پیش کی جارہی ہے کہ کوڑھ کے مرض میں مبتلا ایک شخص جب ایمان لایا اور اس نے آپ سے بیعت کرنی چاہی تو آپ نے اس سے ہاتھ نہ ملا کر اشارے سے ہی بیعت کی ۔جو علمائے دین اس حدیث کا حوالہ دے رہے ہیں ان سے یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس کے بعد کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کیلئے مسجد میں داخلہ بھی ممنوع قرار دے دیا ؟
دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ اسلام میں چھوا چھوٹ کی اہمیت کیا ہے اور کیا کوئی بیماری چھوت سے بھی پھیلتی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو کیا حدیث میں ایسی بیماریوں کا کوئی تذکرہ بھی ہے اور وہ بیماریاں کون سی ہیں اور کیا کسی زمانے میں ان بیماریوں میں مبتلا افراد کو مسجد سے دور رکھا گیا یا پھر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کہیں کنٹیجن یا کورنٹین کا یہ تصور جوغیر مسلم اور شرکیہ معاشروں میں پہلے سے ہی رائج تھا یہ جہالت جدید معاشرے کی شکل میں پھر سے تو حملہ آورنہیں ہونا چاہتی ۔جیسا کہ منو اسمرتی اور قدیم عیسائی معاشرے میں اچھے بھلے انسانوں کو بھی ان کے پیشے کی وجہ سے نجس اور نیچ ذات کہا جاتا تھا اور انہیں چھوا چھوت کی وجہ سے رئیسوں کی بستیوں سے دور بسایا جاتا تھا ۔ بغیر کسی بیماری میں مبتلا انسانوں کی اس جماعت کو مہذب کہلائی جانے والی قوموں کے کنوؤں سے پانی بھی نہیں بھرنے دیا جاتا تھا ۔

خیر جو بھی ہو یہ سوال ہمارے جیسے بہت سارے دوستوں کے ذہنوں میں اس لئے آ رہا ہے کیوں کہ ہم بہت تیزی کے ساتھ ان دجالی فتنوں کے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس کے بارے میں حدیث میں بہت تفصیل سے پیشن گوئیاں آئی ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آخری دور کو دنیا کے قیام سے لیکر ابھی تک کے تمام فتنوں سے زیادہ خطرناک اور گمراہ کن قرار دیا ہے ۔حدیث میں آتا ہے کہ جب آپ اس پر فتن دور کےبارے میں تذکرہ کرتے تو صحابہ کرام زاروقطار رو پڑتے اور اس دور سے پناہ مانگتے ۔میں نے سوچا تھا کہ آج میں اپنے پوسٹ میں کنٹیجن نام کی فلم کا اردو ترجمہ پیش کروں جو کل رات میں نے مکمل دیکھی ہے اور حیران رہ گیا کہ کورنٹین اور بے شمار اموات اور چھوت کے نام سے جو خوفناک منظر ہمارے سامنے پیش کیا جارہا ہے کہ بیویاں شوہروں سے اور اولادیں اپنے بیمار باپ سے ملنے سے خوفزدہ ہیں نو سال پہلے کی اس فلم میں بھی ہو بہو ایسا کیوں کر بتایا جاسکتا ہے ۔کل ان شاء اللہ میں اس کا ترجمہ اور ویڈیو کا ٹریلر پوسٹ کرتا ہوں۔دعا کریں اللہ ہم سب کو اس دجالی فتنے سے محفوظ رکھے ۔ اللہ حافظ

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*