بنیادی صفحہ / خبریں / کورونا وائرس اور ہندوستان کی FDI پالیسی میں تبدیلی

کورونا وائرس اور ہندوستان کی FDI پالیسی میں تبدیلی

سراج الدین فلاحی

سراج الدین فلاحی

سراج الدین فلاحی
پچھلے دنوں میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی کہ چین کے سینٹرل بینک (People’s Bank of China) نے HDFC لیمیٹد میں اپنی حصہ داری بڑھا کر 1.01 فیصد کر دیا ہے، حالانکہ اس کے پاس HDFC لیمیٹڈ میں 0.80 فیصد شیئرز پہلے ہی سے موجود تھا۔ چنانچہ چند روز قبل جب اس نے مزید 0.21 فیصد شیئرز خرید لیا اور یہ خبر میڈیا میں شائع ہوئی تو ملکی معیشت پر قریبی نظر رکھنے والے حلقے میں کہرام مچ گیا کہ چین جس تیزی سے انڈین کمپنیوں میں اپنی حصہ داری بڑھا رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ چین آہستہ آہستہ تمام کمپنیوں میں اپنی حصہ داری بڑھا کر فیصلہ سازی کی پوزیشن میں آ جائے اور بھارتی معیشت پر تباہ کن اثرات ڈالے۔حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں جو معاشی بحران پیدا ہوا ہے اس میں چین کو چھوڑ کر دنیا کے تقریبا تمام ممالک کے شیئر بازاروں میں زبردست گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ چونکہ چین کی معیشت بہت مضبوط ہے اور چین کے پاس انڈین فارین ریزرو بھی کافی مقدار میں موجود ہے۔ اس لئے اس بات کا ڈر ہے کہ مہا ماری کے اس دور میں جہاں اکثر چھوٹی بڑی انڈین کمپنیاں بری طرح مندی کا شکار ہیں، ان کے شیئرز بجلی کی سی تیزی سے گرتے جا رہے ہیں، ان گرے ہوئے ریٹ پر چائنیز کمپنیوں نے اگر ان شیئرز کو خرید لیا تو اس سے ہمارے ملک کی معیشت پر چین کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں معاشی امور سے متعلق انڈیا کے فیصلہ لینے کی صلاحیت پر کافی منفی اثر پڑے گا۔ چنانچہ ان تمام باتوں کا دھیان رکھتے ہوئے ہمارے ملک کی سرکار نے FDI اور FPI دونوں طرح کی سرمایہ کاری میں چند اہم تبدیلیاں کی ہیں۔عام طور پر کسی ملک میں دو طرح کی غیر ملکی سرمایہ کاری Foreign Direct Investment (FDI) اور Foreign Portfolio Investment (FPI) ہوتی ہے۔ فارین کمپنیوں کے ذریعے ملکی اثاثوں جیسے پلانٹ اور مشینری وغیرہ میں کیا گیا انویسٹمنٹ FDI کہلاتا ہے۔ البتہ FDI کے اندر شیئر بازاروں میں کی گئی غیر ملکی سرمایہ کاری شامل نہیں ہوتی۔ سیکورٹیز اور شیئرز میں سرمایہ کاری جو صرف نفع کمانے کے لئے ہوتی ہے اسے FPI کہتے ہیں۔ چین نے HDFC لیمیٹڈ میں جو انویسمنٹ کیا ہے۔ اسے FPI کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی فارین کمپنی ہمارے ملک کے اسٹاک مارکیٹ میں کسی کمپنی کا دس فیصد سے کم شیئرز خریدتی ہے تو اسے ہم FPI کہتے ہیں۔ یہ انویسٹمنٹ عام طور پر ایک سے پانچ یا چھ سال تک کے لئے ہوتا ہے۔ غیر ملکی کمپنیاں انڈیا کے شیئر مارکیٹ میں مختصر مدت کے لئے پیسہ لگاتی ہیں۔ جب ان کو لگتا ہے کہ شیئرز کی قیمت بڑھ گئی تو وہ اسے بیچ کر چلی جاتی ہیں یعنی فارین پورٹ فولیو انویسٹر زیادہ تر طویل مدتی سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ہمارے ملک کے قانون کے مطابق اگر کوئی فارین کمپنی کسی انڈین کمپنی میں دس فیصد سے زیادہ شیئرز خرید لیتی ہے تو اسے FPI نہیں بلکہ FDI کہیں گے۔ FDI طویل مدتی سرمایہ کاری ہوتی ہے اگر ایک بار FDI ہو گیا تو سمجھ لیجیے کہ فارین کمپنی کا اثر و رسوخ خریدی گئی کمپنی میں کافی حد تک بڑھ جاتا ہے۔ چین کے سینٹرل بینک نے ابھی تک صرف 1.01 فیصد ہی شیئرز خریدا ہے۔ ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں مستقبل میں اس نے دس فیصد یا اس سے زیادہ شیئرز خرید لیا تو وہ HDFC لیمیٹڈ کا کافی بڑا شیئر ہولڈر بن جائے گا اور HDFC لیمیٹڈ مالیاتی امور سے متعلق جو فیصلہ لے گا اس میں اسے چین کے رول کو نظرانداز کرنا مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ اس طرح کے خدشات سے بچنے کے لئے فوری طور پر انڈیا کی منسٹری آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ایک Notification جاری کر کے FDI پالیسی کے قوانین میں چند تبدیلیاں کی ہے- منسٹری آف کامرس نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پھیلی مہا ماری اور معیشت پر ہونے والے اس کے منفی اثرات کی وجہ سے ہمارے ملک کی کمپنیوں کے شیئرز کافی گر گئے ہیں۔ اگر کسی غیر ملکی کمپنی نے اس موقع کا فائدہ اٹھا کر انڈین کمپنیوں کے شیئرز خریدنا شروع کر دیا تو کافی مسائل پیدا ہوں گے۔ چنانچہ ان مسائل پر قابو پانے کے لئے حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اب کسی بھی غیر ملکی کمپنی کو انڈین کمپنی کے مالکانہ حقوْق میں کسی بھی تبدیلی یا ٹرانسفر کے لئے سرکار کی منظوری لازمی ہوگی۔اس فیصلے سے قبل بنگلہ دیش اور پاکستان کے استثناء کے ساتھ انڈیا میں Defence, Space and Atomic Energy وغیرہ جیسے ممنوع شعبوں کے علاوہ باقی تمام شعبوں میں تمام پڑوسی ممالک کو FDI کی اجازت تھی۔ یعنی ایک غیر ملکی شخص جو بنگلہ دیش اور پاکستان کا باشندہ نہیں ہے وہ انڈیا میں مذکورہ بالا شعبوں کو چھوڑ کر دیگر تمام شعبوں میں براہ راست سرمایہ کاری کر سکتا تھا۔ اسے ہندوستانی حکومت سے کسی بھی طرح کے Approval کی ضرورت نہیں تھی۔ ہاں اگر بنگلہ دیش اور پاکستان کی کوئی کمپنی انڈیا میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے تو پہلے انہیں حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے اور حکومت کا اجازت نامہ حاصل کرنا بہت پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ یہ معاملہ کابینہ تک جاتا ہے۔ گویا ابتک بنگلہ دیش اور پاکستان کو چھوڑ کر تمام پڑوسی ممالک کو براہ راست FDI کی اجازت تھی لیکن اب اس قانون میں تبدیلی ہوئی ہے۔ اب اگر بنگلہ دیش اور پاکستان سمیت کوئی بھی ملک انڈیا کی کسی بھی کمپنی میں دس یا پندرہ فیصد سرمایہ کاری کر کے منافع کمانا چاہتا ہے تو اسے انڈیا میں FDI کے لئے حکومت کا اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ حکومت خود دیکھے گی کہ یہ انویسٹمنٹ انڈیا کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ جو انویسٹمنٹ دس فیصد سے کم ہے یعنی FPI ہے تو اسے کابینہ نہیں بلکہ اسے SEBI دیکھے گا۔ یعنیSEBI اس بات کا فیصلہ کرئے گا کہ سرمایہ کاری ٹھیک ہے یا نہیں۔اب ہم اس بات کا تجزیہ کریں گے کہ FDI پالیسی سے متعلق حکومت کے حالیہ فیصلے کا ہماری معیشت پر کیا اثر پڑے گا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس کی اس مہا ماری میں حکومت کی نئی FDI پالیسی انڈین کمپنیوں کو تحویل میں لینے اور اس پر کنٹرول حاصل کرنے کی موقعہ پرستی کو ختم کرے گی۔ بطور خاص چین جو ہمارے ملک اور ہماری معیشت کے لئے وبال جان بن سکتا ہے اور جس طرح وہ انڈین مارکیٹ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھاتا جا رہا ہے اس پر لگام لگے گی۔ FDI پالیسی میں تبدیلی کے بعد اب وہ چپکے چپکے انڈین کمپنیوں میں اپنی حصہ داری بڑھانے سے قاصر رہے گا۔ چین سے خدشات کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں چین کی معیشت امریکہ کے بعد دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ چین کی GDP تقریبا 13 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ ہمارے ملک کی GDP تقریبا 2.70 ٹریلین ڈالر کی ہے۔ چین کی معیشت کی بنیاد Manufacturing پر ہے جس کا ایکسپورٹ دنیا میں ہمارے ملک کے ایکسپورٹ سے بہت زیادہ ہے۔ انڈیا خود چین سے بہت زیادہ امپورٹ کرتا ہے جبکہ انڈیا کا ایکسپورٹ چین میں بہت کم ہے۔ اس لئے چین کے پاس ہمارے ملک کی کرنسی کا ایک بڑا ریزرو ہے۔ چنانچہ کورونا وائرس کی اس مہا ماری میں جب ساری کمپنیوں کی حالت خراب ہے وہ اس ریزرو کا استعمال کر کے بہت ساری کمپنیوں اور بینکوں میں بڑے بڑے شیئرز خرید سکتا ہے۔ اس تناظر میں حکومت کا حالیہ فیصلہ درست معلوم ہوتا ہے۔اس کے برعکس سکے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہمارے ملک کی معیشت پر اس فیصلہ کے بے شمار منفی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ چونکہ یہ فیصلہ ہر طرح کی FDI پر اثرانداز ہوگا اس لئے ہمارے ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری رک سکتی ہے۔ ہمارے ملک میں گرین فیلڈ انویسٹمنٹ چین سے خوب آتا رہا ہے جس کی وجہ سے نئی کمپنیوں کو فنڈ کی قلت نہیں ہوتی تھی۔ گرین فیلڈ انویسٹمنٹ ایسی سرمایہ کاری کو کہتے ہیں جو نئی کمپنیوں میں اس وقت کی جاتی ہے جب ان کو فنڈ کی اشد ضرورت ہو۔ یعنی ہر نئی کمپنی جو ابتدائی مرحلے میں ہوتی ہے اسے بڑے فنڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب تک چینی کمپنیاں اس طرح کے فند مہیا کرنے میں پیش پیش رہتی تھیں۔ بہت ساری موبائل کمپنیاں جو موبائل یا موبائل کے پارٹس بناتی ہیں ان کو چین کی سرمایہ کاری سے بہت فائدہ ہوتا رہا ہے۔ گرین فیلڈ انویسٹمنٹ کے علاوہ Brown فیلڈ انویسٹمنٹ بھی چین سے آتا تھا۔ براؤن فیلڈ انویسٹمنٹ کا مطلب کمپنی کھل چکی ہے اس کے بعد اس میں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ اب دونوں طرح کے انویسٹمنٹ میں چین کی سرمایہ کاری اتنی آسان نہیں ہو گی، اس لئے جس کو بھی نئی کمپنی شروع کرنی ہوگی اسے فنڈ کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر آپ بھارتی معیشت کے مختلف زاویوں کا مطالعہ کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ انڈیا جیسے ترقی پذیر ممالک میں فنڈ کی کمی کس طرح ملک کی GDP Growth میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔مذکورہ بالا دونوں انویسٹمنٹ انڈیا کے لئے مفید تھے۔ اس سے ملک میں غیر ملکی فنڈ آتا تھا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے تھے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ہمارے ملک میں بے روزگاری آسمان چھو رہی ہے ہر طرف بھوک، بے بسی، لاچاری اور مایوسی جیسے حالات ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت ابھی تک کوئی اسٹیمولس پیکجز لانے میں ناکام رہی ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کے ساتھ ساتھ چھوٹی بڑی کمپنیوں کے بھی حالات نازک سے نازک تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے پرآشوب دور میں حکومت کے FDI قوانین میں تبدیلی سے ملکی معیشت کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور معیشت پر کیا مثبت یا منفی اثر پڑے گا، اس کے بارے میں صحیح معلومات آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*