بنیادی صفحہ / کارپوریٹ / ارطغرل دیکھنا جائز ہے یا ناجائز؟

ارطغرل دیکھنا جائز ہے یا ناجائز؟

ڈاکٹرعمیر انس فلاحی

ڈاکٹرعمیر انس فلاحی


ڈاکٹرعمیر انس فلاحی

اس موضوع پر میری خواہش ہےکہ باقاعدہ تحقیقی مضمون پیش کروں لیکن ارطغرل ڈرامے پر فتووں اور جائز ناجائز کے مباحثے پر مختصر تبصرھ پیش کرنا مناسب ہوگا.
میرا خیال ہے کہ فتویٰ دینے اور فتویٰ طلب کرنے کا عمل بنیادی طور پر ناقص عمل ہے اور کئی بار غیر متوقع گمراہی کا ذریعہ بھی، کیسے؟ فتویٰ دینے والا اپنے سوال میں ایک مسلہ پیش کرتا ہے اور اس پر شرعی حکم طلب کرتا ہے کہ سائل کو وہ عمل کرنا چاہیے یا نہیں، بیشتر سوالات ایسے ہوتے ہیں جنکے بارے میں قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ حکم نہیں ہے، ظاہر ہے یہ مسائل راست قرآن اور سنت سے ثابت کرنے کی بجائے اصول فقہ کے دوسرے طریقوں سے زیر بحث لائے جاتے ہیں، ان میں بھی سب سے کثرت سے قیاس کا استعمال ہوتا ہے، اجماع کا استعمال تو شاذ و نادر ہی ہوتا ہے، البتہ قیاس کرنے کے ساتھ استنباط اور استخراج کے کئی طریقوں کا استعمال ہوتا ہے.
فتوے لینے اور دینے کی جو شکل رائج ہے اور جو ہمارے درمیان کے علماء اور عوام دیتے اور لیتے ہیں یہ بنیادی طور پر ناقص ہے اور اس سے حد درجہ پرہیز ہی مناسب ہے، اور اس سے بھی بڑی آفت ہے ان فتاویٰ کو سبھی حالات سبھی مقام کے افراد کے لیے یکساں طور پر قابل استعمال مانتے ہوئے اسے شائع کر دینا اور پھیلانا، بعض فتاویٰ سراسر بہت محدود نوعیت کے ہو سکتے ہیں، بعض فتاویٰ محدود کنٹکست کے ہو سکتے ہیں، بعض فتاویٰ مخصوص ضرورتوں کے لیے ہو سکتے ہیں، اور بعض فتاویٰ ان سوالوں کے جواب میں ہو سکتے ہیں جو سوالات استفتاء کا درجہ حاصل کرنے کے لیے نا اہل ہیں.
مثلاً یہ فتاویٰ کہ ارطغرل دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟
اس سوال میں حسب ذیل پہلوؤں پر استفتاء کرنے والے اور فتویٰ دینے والے حضرات حسب ذیل نکات پر ضرور غور فرمائیں!
اول. ٹی وی اور وسائل نشریات کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اسکے استعمال سے کون کون سی شرعی اشکالات پیدا ہونگے، اور ان اشکالات کے جوابات کیا ہیں؟
ثانی. اگر مشروط طریقوں سے بھی ٹی وی دیکھنا جائز ہے تو پھر یہ بھی جائز ہے کہ ٹی وی ٹکنالوجی سیکھی جائے، کیمرہ پروڈکشن کا عمل بھی جائز ہے، اسکی نشریات کی تکنیک کا حاصل کرنا اور اسکی ٹرینینگ لینا اور دینا بھی جائز، اور یہ سبھی جائز عمل مرد اور خواتین کے لیے یکساں طور پر ہی جائز ہو سکتے ہیں، فلم بنانے، ڈراموں میں رول ادا کرنا کیمرے پر آنا بھی جائز ہوگا، اور سب کے لیے ہوگا.
ثالث. اگر یہ دونوں عمل جائز ہیں تو پھر اس کام کو کرنے کے لیے ضروری معاشی وسائل حاصل کرنا، منافع حاصل کرنا، اشتہار کے ذریعے یا اسپانسرشپ کے ذریعے ٹی وی اسٹیشن کو چلائے رکھنے کے مالی وسائل حاصل کرنا بھی جائز ہے، ظاہر ہے کہ گھاٹے میں تو کوئی مدرسہ بھی نہیں چل سکتا. وسائل حاصل کرنے کے لیے آپ اپنے ٹی وی کے پروگرامز میں ایسی باتیں شامل کریں جنکو لوگ زیادہ دیکھیں.
چہارم. لوگ کیا دیکھنا پسند کرتے ہیں اسکا ریسرچ کرنا اور کون سی چیز کیسے مقبول بنائی جاتی ہے اسکا علم حاصل کرنا اور اس میدان کے ماہرین کو پروگرام سازی کی زمہ داری دینا ضروری ہے، ظاہر ہےکہ دس کروڑ کے ٹی وی پر ہر وقت لب پے آتی ہے دعا تو نھیں سنائی جا سکتی، موجود تحقیق کے مطابق ناظرین خوبصورت مناظر اور خوبصورت آواز اور خوبصورت ڈائلاگ کی طرف جلدی متوجہ ہوتے ہیں، لہٰذا مقبول ترین پروگرام بنانے کا طریقہ سیکھنا بھی جائز اور ضروری ہوگا.
پنجم. یہ وسائل حاصل کرنے کے لیے کمپنیاں قائم کرنا، شیئر دینا لینا، يا ریاست کے کنٹرول میں ہی پورا اسٹیشن چلانا ہوگا، یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں لاکھوں کروڑوں کا مال درکار ہے، اسکا مطلب ہےکہ آپ جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قانون یا اپنے ملک کے قانون کی پابندی کرتے ہوئے ایک معاشی نظام کا حصہ بنیں گے، ان سبھی مراحل میں مرد و خواتین کے شامل ہونے نہ ہونے کا حکم ایک ہی ہوگا، جو کام مردوں کے لیے جائز ہے وہ خواتین کے لیے بھی جائز ہے.
ششم. اب باری آئی کہ اگر یہ سب جائز ہے تو ٹی وی دیکھنا جائز ہے، اب اس مرحلے میں کسی پروگرام کو روکنا یا رکوانا ایک قانونی معاملہ ہوجاتا ہے، اگر اس مرحلے میں کسی پروگرام کو دیکھنا نہ دیکھنا جائز اور ناجائز قرار دینا ہو تو اسکے لیے بھی مضبوط بنیادیں چاہیے، لیکن میری معلومات کی حد تک ہمارے مفتیان کرام ٹی وی انڈسٹری کو سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، اس مرحلے میں چیزیں حرام ہونے کے لیے یقینا شدید وجہ چاہیے اور اسکو روکنے کی زمہ داری محض ناظرین کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ہے، فحش پروگرام کو نہ دیکھنے کی تاکید کرنا ادھورا فتویٰ ہوگا اگر اس میں یہ جملہ شامل نہ ہو کہ ریاستیں فحش پروگرام بنانے اور انہیں ٹی وی پر پیش کرنے سے پرہیز کریں. اس بنیاد پر مسلمانوں کو تاکید کریں کہ ایسی جماعتوں کو ووٹ دیں جو یہ کام کر سکیں!
استفتاء کرنے والے پوچھنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ انکے گھر میں ٹی وی اگر پہنچ چکا ہے تو پھر انکے لیے یہ سوال پوچھنا بے معنیٰ ہے. اگر آپ ٹی وی کا استعمال جائز مان چُکے ہیں تو پھر آپ کے پاس زیادہ متبادل نہیں بچتے ہیں، آپ کو ٹی وی کے جائز ہونے کے collateral خرابیاں برداشت کرنے کی عادت ڈالنا ہوگی، ہاں آپ ٹی وی کو جائز مانتے ہوں اور ارطغرل دیکھنا حرام مانتے ہیں تو پھر ایسا صرف ایک صورت میں ممکن ہے کہ ہمارے مفتی صاحبان یہ فتویٰ دیں کہ پرائیویٹ کمپنیوں کو ٹی وی انڈسٹری میں شرکت حرام ہے، اور ریاست پر متقیانہ ٹی وی نشریات چلانا فرض عین ہے.
لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تَسُؤْكُمْ آیت استفتاء اور افتاء کے لیے اہم ہے کہ سوالات کرنے والے اپنے سوالات کو ٹھیک سے سمجھ لیں اور جوابات دینے والے بھی معاملے کے پورے کنٹکسٹ کے علم کے بغیر فتویٰ دینے کے اہل نہیں ہیں. افسوس ہےکہ بیشتر مفتیان پوری دنیا میں فتاویٰ دینے میں صرف محدود حقائق پر فتویٰ دیتے ہیں بلکہ بیشتر مفتیان کو فتویٰ دینے کی تربیت میں ان موضوعات کی تربیت ہی نہیں دی جاتی جن سے انہیں کسی معاملے کی پوری تصویر حاصل ہو جاتی ہو. ظاہر ہےکہ اگر کسی معاملے کا ایک حصہ حرام ہے تو دوسرا حصہ حلال ہونے کے لیے مزید شرطیں درکار ہیں. یہ ممکن نہیں ہے کہ ٹی وی ویڈیو جائز جو اور آپ صرف ارطغرل کے حرام ہونے کا فتویٰ حاصل کریں.
فتویٰ دینے والے صاحبان بھی اس بات کو سمجھیں کہ عصر حاضر کے مسائل کسی صحرا میں رہنے والے بدو کے مسائل نہیں ہیں جنکے بارے میں آپ کوئی ایسا فتویٰ دے دیں جسکا اثر اس معاملے سے منسلک پوری کڑی پر آتا ہو، اور وہ بھی اس وقت جب آپ کے پاس ٹی وی انڈسٹری کو اسلامی شریعت کے مطابق چلانے کا اختیار ہے نہ وسائل. صلاحیت ہے نہ آرزو!
پہلے یہ فتویٰ دیں کہ مسلمانوں کے لیے ٹکنالوجی حاصل کرنا اور اسکو چلانے کی آزادی حاصل کرنا فرض عین ہے، جب تک یہ حاصل نہ ہو تو سوال کرنے والا سوال کرنے میں اور جواب دینے والا جواب دینے میں اپنی محدودیت کا اعتراف اور اظہار کرنا نہ بھولے!

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*