بنیادی صفحہ / بی اسکول / مسلمانوں میں اسکول ڈراپ آؤٹ روکنا تعلیمی سال 2020-2021کا سب سے بڑا چیلنج

مسلمانوں میں اسکول ڈراپ آؤٹ روکنا تعلیمی سال 2020-2021کا سب سے بڑا چیلنج

مسلم تعلیمی اداروں کے سر بر اہان، ماہرین تعلیم ،اساتذہ کرام، اور ملی اداروں کو ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے !!!
سلیم الوار ے

سلیم الوار ے

سلیم الوار ے

گزشتہ ہفتہ سپریم کورٹ میں مرکزی سرکار کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے کورٹ کو بتایا کہ ۹۷ لاکھ مہاجر مزدوروں کو انکے آبائی وطن پہنچا دیا گیا ہے۔ اس میں مہاراشٹرا ، گجرات اور کرنا ٹک سے لوٹنے والے مزدوروں کی تعداد بالترتیب ۱۱, لاکھ ، ۲۰ لاکھ اور۳ لاکھ ہے، یقینی طور پر ان کے ساتھ ان کے بچّے بھی چھوٹے بڑے شہر وں سے گاؤں منتقل ہو چُکے ہیں جن کی تعداد کا علم اسکولوں کے کھلنے کے بعد ہی ہوسکیگا۔ ابھی یہ مزدور اپنے گاؤں تو پہونچ گئے ہیں جو تھوڑے وقفے کے بعد مقامی سطح پر ذریعے معاش تلاش کر ينگے ، ناکامی کی صورت میں اُن کے سامنے دوبارہ انہی شہر وں میں واپس لوٹنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا اور اس پروسیس(عمل) کو کتنا وقت لگےگا اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ایسے میں ان کے بچوں کی آئندہ تعلیم پر تلوار لٹکتی رہیگی۔ یوپی، بہار اور مغربی بنگال کی سرکار یں اس ضمن میں کیا اقدامات اٹھا تی ہیں یہ تو وقت ہی بتائیگا کیوں کہ ابھی اس پر کوئی چرچا نہیں ہوئی ہے۔مہاراشٹرا اور گجرات میں کئی این جی اوز مزدوروں کے بچوں کو انکی رہائش یا كام کرنے کی جگہ(سائٹ) کے نزدیک بھی بنیادی تعلیم دیتی ہیں جنہیں انفارمل اسکول کہا جاتا ہے، اب گاؤں اور دیہاتوں میں منتقل ہوئے ان بچوں کو تعلیم کا موقع ملےگا یا نہیں یہ والدین کی فکر اور مقامی ریا ستی سرکاری پالیسیوں پر منحصر ہوگا۔جہاں تک مسلمانوں کی بات ہے ہمارے پاس علحیدہ سے اعداد و شمار نہیں ہے جس کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکیں کہ کتنے مسلم مزدور اپنے اہل و عیال کے ساتھ وطن واپس لوٹے ہیں، اور انکی وطن واپسی کے سبب کتنے بچّوں کا ایک تعلیمی سال یا پورا تعلیمی کیریئر داو پر لگا ہے۔ مہاراشٹرا کے مقامی باشندے اور بیرونی ریاستوں کے یہاں مقیم ۱۰ کروڑ افراد کی بات کریں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ تین مہینے کے لوک ڈاؤن کے سبب مزدور طبقہ، کاریگر، روز کمانے والے چھوٹے تاجر، سیکیورٹی گارڈز ، کار صفائی والے ، ڈرائیورز، ، گھر کام والی اور چھوٹی موٹی فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کے معیشیت پر کاری ضرب پڑی ہے ایسے میں اُنکا اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے اور ہمارے کئی والدین تو بارہ سال سے بڑے بچوں کی اسکولی تعلیم کا سلسلہ منطقہ کرنے کا بہنا ڈھونڈھتے ہیں کہ لڑکا ہے تو کچھ کما کر لائیگا اور لڑکی ہے تو رشتہ آنے پر ہاتھ پیلے کر فارغ ہو جائینگے۔ متذکرہ کیٹیگری میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے جن کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہے یہ ذمےداری مسلم تعلیمی اداروں، اساتذہ کرام، تعلیمی خدمت گارو ں ، ماہرین تعلیم،اور ملی تنظیموں کی ہےکہ وہ نیا تعلیمی سال شروع ہوتے ہی اسکول و کالج سے ہمارے بچّوں کا ممکنہ ڈراپ آؤٹ روکنے کے لیے جنگی پیمانے پر کام کریں اوراس سلسلے میں لائحہ عمل طے کرنے کے لئے فوراً سے پیشتر کوشش شروع کر دینی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*