بنیادی صفحہ / خبریں / دار العلوم دیوبند کو بیرونی ممالک سے ملنے والی امداد کی جانچ کرائی جائے

دار العلوم دیوبند کو بیرونی ممالک سے ملنے والی امداد کی جانچ کرائی جائے

دار العلوم دیوبند

دار العلوم دیوبند

سہارنپور کی خاتون وکیل فرح فیض کی سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل،تبلیغی جماعت کے خلاف بھی نازیبا الفاظ کا استعمال
مظفر نگر: (معیشت نیوز) اس وقت جبکہ ملت مختلف بیرونی دشمنوں کے نشانے پر ہے ۔اب اسے اندر سے بھی کھوکھلا کرنے کی شر انگیزی شروع ہوچکی ہے۔سہارنپور کی ایک خاتون وکیل نے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کرکے گذارش کی ہے کہ دار العلوم دیوبند کو ملنے والی بیرونی امداد کی جانچ کرائی جائے ۔
ٹائمز آف انڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق سہارنپور کی خاتون وکیل فرح فیض نےسپری کورٹ میں عرضداشت داخل کرکے کہا ہے کہ دار العلوم دیوبند اور تبلیغی جماعت کی سرگرمیاں مشکوک ہیں لہذا ان اداروں کو ملنے والی بیرونی امداد کی جانچ کرائی جائے۔ فرح فیض جو سپریم کورٹ کی وکیل بھی ہیں انہوں نے عدالت سے گذارش کرتے ہوئے کہاہے کہ ’’مرکزی حکومت کو یہ حکم دیا جانا چاہئے کہ وہ دار العلوم دیوبند کے خلاف انکوائری کرے اور بیرونی امداد کا جائزہ لے کیونکہ دا ر العلوم دیوبند تبلیغی جماعت کی پشت پناہی کرتا ہے اور مرکز نظام الدین کے ذریعہ اپنے افکار کی ترویج و اشاعت کرتا ہے‘‘۔فرح فیض کا یہ کہنا ہے کہ ’’چونکہ مسلمانوں کی امداد کے نام پر دار العلوم دیوبند چندہ وصولتا ہے لیکن ملت کو اس کا حساب نہیں دیتا اس لئے ضروری ہے کہ اس کو ملنے والی بیرونی امداد کی جانچ کرائی جائے‘‘۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی فرح فیض ہیں جنہوں نےایک ٹیلی ویژن چینل پرتین طلاق ڈبیٹ کے دوران مفتی اعجاز ارشد قاسمی کے ساتھ بدتمیزی کی تھی جس سے دلبرداشتہ ہوکر مولانا ارشد اعجاز قاسمی نے سر عام تھپڑ جڑ دیا تھا۔ایڈوکیٹ فرح فیض بھارتیہ جنتا پارٹی کی دیرینہ خواہش یکساں سول کوڈ کی حمایتی ہیں اور اسے ملک میں نافذ کروانے کی خاطر اکثر و بیشتر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے پروگراموں میں شامل ہوا کرتی ہیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*