بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / سخت مصیبت کی گھڑی میں حکمرانوں کی دوری؛ چہ معنی دارد؟

سخت مصیبت کی گھڑی میں حکمرانوں کی دوری؛ چہ معنی دارد؟

(محمد قاسم ٹانڈؔوی=09319019005)
خوشحالی، بدحالی اور راحت و مصیبت سے انسانوں کا واسطہ پرانا ہے، نہ تو منفی واسطوں سے کسی کا دائمی رشتہ رہا ہے اور نہ ہی مثبت لمحات مستقل کسی کا مقدر بنتے ہیں بلکہ مرور زمانہ اور گردش حالات کی بنا پر راحت و سکون کے ایام مصیبت و پریشانی اور اس کے برعکس ہوتے رہتے ہیں۔ الغرض ہر شخص کو ہروقت و ہرحال یکساں حالت میسر ہو جائے، ایسا نہیں ہے بلکہ زندگی میں پیش آمدہ واقعات کا تعلق اکثر و بیشتر یومیہ معاملات کی مانند اچھے برے حالات و مواقع کی صورت میں رونما ہوتے ہیں جو مختصر وقفہ اور مناسب تدابیر پر عمل کرنے کے بعد ہم سے دور کر دئے جاتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں قدرت کے اسی اصول اور فطرت کے عادی انہیں امور کی روشنی میں حالات و مواقع کا سامنا کرنا چاہئے اور جہاں تک ہو سکے خود کی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے اور اپنی ہی طرح دوسروں کی قیمتی جانوں کا موازنہ کرتے رہنا چاہئے، تاکہ ایک دوسرے کے رنج و غم میں شریک ہونے اور باہمی طور پر درد و زخم کی ٹیس کا اندازہ لگانے میں آسانی ہو سکے۔ ہمیں ہمارے دین کے توسط سے اس بات کی بابت پابند بنایا گیا ہے کہ ایک انسان کی جان بخشنا پوری انسانیت کو بچانے لائق ہے اور ایک شخص کا ناحق خون بہانا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ یہ قرآن کا پیغام ہے، اسی کے تناظر میں ہمیں اپنی زندگیوں کا جائزہ و محاسبہ کرنے کے بعد اس سمت میں جو بھی ہم بہتر و مناسب کر سکتے ہوں؛ کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ اپنے حکمرانوں پر تکیہ و سہارا کرنا یا قائدین و رہبران سے بہت زیادہ امید و توقعات قائم کرنا “احمقوں کی دنیا میں مٹر گشتی کرنا ہوگا” بات سمجھ میں نہ آ رہی ہو تو ایک نظر وزیراعظم کے “آتم نربھر بھارت” یعنی خود کفیل ہندوستان والے نعرہ پر چنداں غور و فکر کر لیں، جو شاید ہماری بات کو سمجھنے میں ممد و معاون ثابت ہو؟
بہرحال ہماری آج کی تحریر کا مرکزی نقطہ خیال ہے “عالمی برادری کو جھنجوڑ کر رکھ دینے والی بلا و وبا ‘کورونا وائرس جس نے بلاامتیاز مذہب و ملت تمام طبقات کو اپنے اپنے دولت کدہ اور آرام گاہوں میں مقید ہونے پر مجبور کر دیا، جس کا خطرہ اس بیماری کے وجود میں آنے سے چھ ماہ بعد بھی جوں کا توں محسوس کیا جا رہا ہے جس کے سامنے وہ تمام ترقی پذیر ریاستیں اور ترقی یافتہ ممالک اوندھے منھ کھڑے اپنی بےبسی کا اظہار کرا رہے ہیں جو کبھی تو سورج و چاند پر کمندے ڈال کر دنیا کو اپنی مٹھی میں قید کرنے کے بلند و باگ دعوے کیا کرتے تھے اور کبھی سمندروں میں غوطہ زنی کرنے کے بعد ان کی گہرائی و گیرائی میں پائے جانے والے قدرتی خزانے اور اثاثے کو اپنے قبضے میں لینے پر اتراتے تھے، مگر جب قدرت نے انہیں ایک معمولی جرثومے کی چپیٹ میں لیا تو پوری دنیا کو منھ دکھانے کے قابل نہ چھوڑا اور اس سے بچاؤ کےلئے اس گئے گزرے دور میں بھی انہیں کی زبانی احکامات شریعت کی پاسداری اور قرآن و حدیث پر عمل آوری کا نسخہ تجویز کر وایا گیا۔ اسے کہتے ہیں قدرت کی شان اور اس کی بےآواز لاٹھی کا کرشمہ!اب آتے ہیں اپنے ملک ہندوستان کی طرف، جہاں عالمی سطح پر کہرام برپا کرنے اور ہر ذی شعور کے ہوش ٹھکانے لگا دینے والا جرثومہ اب بھی ہمارے ہندوستان میں بڑی تیزی کے ساتھ پھل پھول رہا ہے، جس کے تباہ کن اثرات کا عالم یہ ہےکہ ملک بھر میں اس سے متآثر ہونے والوں کی تعداد کا تخمینہ اوسطاً یومیہ 10/ہزار سے زیادہ کی شکل میں سامنے آنا ہے، اور یہ اپنے آپ میں ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ اس لئے کہ عوام کا ایک بڑا حصہ ابھی بھی جہاں مسلسل احتیاطی تدابیر اختیار کئے ہوئے ہے اور محکمۂ صحت کی طرف سے جاری ہونے والے راہنما اصولوں کی پابندی کر رہا ہے اور ملک بھر میں نافذ ہونے والے قسط وار سرکاری ‘لاک ڈاؤن جس کی مدت کو قریب تین ماہ ہونے کو ہیں؛ اس سے بھی خود کو گزار چکا ہے، بلکہ ابھی بھی کم و بیش اسی بندشی کیفیت میں خود کا اور اپنے اہل خانہ کا مستقبل محفوظ و مامون تصور کر رہا ہے۔ باوجود ان تمام امور کے ایک عام شہری ابھی خطرہ ٹلا ہوا نہیں بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا محسوس کر رہا ہے۔ اور اسے یہ خطرہ خود بینی کے ساتھ مبصرین زمانہ اور محکمۂ موسمیات سے وابستہ افراد کے اقوال و بیان کی روشنی میں محسوس ہو رہا ہے جس میں ان کی طرف سے اندیشہ جتایا جا رہا ہےکہ:
“کورونا کا اصل حملہ جولائی میں سامنے آئےگا”۔
اب یہاں آکر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب صورتحال مزید ابتر ہونے والی ہے اور اس بلا و وبا کا اصل حملہ ہونا بھی باقی ہے تو حکومت نےان لاک کا اعلان کو کر دیا؟ جب کہ متآثرین کی تعداد اب تک 4/ لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور اس طرح ‘کورونا وائرس سے متآثر ہونے والے مریضوں کے اعتبار سے ہمارا ملک ہندوستان دنیا میں چوتھا سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔
اور یہ تشویشناک صورت حال اس بات کو ثابت کرنے کےلئے کافی ہےکہ اس تعلق سے ہماری حکومت کی طرف سے جو بھی پالیسیاں اور احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں وہ تمام کی تمام ناکام رہیں، اور اس ناکامی کی وجہ ان میں کہیں نہ کہیں چوک کا ہونا یا ان کے اختیار و نفاذ اور مرتب کرنے میں تاخیر کا ہونا ہے۔
اس سلسلے میں ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ یک روزہ ‘لاک ڈاؤن (21/مارچ) اور اس کے بعد (24/مارچ) سے مکمل طور پر تالہ بندی کرنے سے لےکر 12/مئی تک ہمارے وزیراعظم ٹی وی وغیرہ پر آکر کچھ نہ کچھ کہتے رہے اور کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے خود کو بچائے رکھنے اور اس کو ختم کرنے کے تعلق سے ملک کے عوام کو اعتماد و یقین دلاتے رہے، مگر 12/مئی کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ محترم وزیراعظم نے اس سلسلے میں ملک کے شہریوں سے نہ تو کوئی خطاب کیا اور نہ ہی کوئی پیغام جاری کیا ہے۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو انہوں نے منجدھار میں پھنسی کشتی کے مانند ہم ہندوستانیوں کو ‘آتم نربھر بھارت (خود کفیل ہندوستان) کا نعرہ دے کر چھوڑ دیا اور اپنا راستہ الگ کر لیا ہے، جس کا صاف اور واضح مطلب یہی ہوتا ہےکہ: “ملک کے ہر باشندے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود ہی اپنی حفاظت کرے اور سرکار کو بےبس سمجھے”۔ ایسا ہی کچھ معاملہ وزارت صحت کی طرف سے بھی دیکھنے میں آ رہا کہ وہ بھی 11/مئی کے بعد سے مکمل خاموش ہے اور اس نے بھی حکومت کی طرح سیدھے سامنے آ کر کچھ کہنے سے معذرت کر لی ہے۔
خود دارالحکومت دہلی، ریڈ زون میں ہونے کے باوجود یہاں کے حالات ناگفتہ بہ ہیں، جہاں ایک ہی دن (جمعہ) کو 2000/سے زیادہ کیس سامنے آئے تھے، جس میں خود وزیراعلی کے مبتلا ہونے کا اندیشہ اور خبریں سامنے آئی تھیں جو ٹیسٹ کے بعد منفی نکلیں، جس کے بعد وہاں کے نائب وزیر اعلی منوج سسودیا کہہ رہے ہیں کہ جولائی آتے آتے کورونا وائرس کا حملہ مزید تیز ہوگا اور صرف دہلی میں ساڑھے پانچ لاکھ کورونا کیس کی تعداد ہو جائےگی جس کی وجہ سے ہمیں مزید بیڈ اور آئیسولیشن کی ضرورت درکار ہوگی۔ جب کہ موجودہ صورتحال دہلی کی یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ یہاں کورونا سے متآثر افراد کو سرکاری اسپتالوں میں داخل کرنے سے بھی انکار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ایک عام آدمی در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہے، ادھر ہمارے مرکزی وزیر داخلہ بھی “کورونا” معاملے پر اول دن ہی سے مکمل طور پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، جو مصیبت و پریشانی کے ایام میں کہیں سے کہیں تک نظر ہی نہیں آئے، مگر جب موقع آیا مغربی بنگال اور صوبہ بہار میں منعقد ہونے والے الیکشن کا تو اب وزیر داخلہ مکمل مستعد ہیں اور وہ مذکورہ جگہوں کے انتخابات کی تشہیر و ترسیل میں کوئی کمی نہیں آنے دے رہے ہیں۔(mdqasimtandvi@gmail.com)

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*