بنیادی صفحہ / انٹرویوز / وقف مالیات قائم کرنا انتہائی ضروری ہے

وقف مالیات قائم کرنا انتہائی ضروری ہے

سید زاہد احمد علیگ

سید زاہد احمد علیگ

مالیاتی امور کے ماہر معیشت میڈیا کے ڈائریکٹر جناب سیدزاہد احمدعلیگ سے معیشت اکیڈمی اسکول آف جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن کے طالب علم محمدعدنان اورمحمد انس نے گفتگو کی جسے افادہ عام کی خاطر پیش کیا جارہا ہے۔
اسلامي بینک اور رسمي بینک میں کیا فرق ہے؟
جواب: آپ کو معلوم ہے رسمی بینک سودپر چلتا ہے، اور سود جو ہے بہت پرانی بیماری ہے۔آخر اللہ نے سود کو کیوں حرام کیا؟ اسکی وجہ کیا تھی؟ اس پر غور کرنا چاہئے، چلئے سود حرام ہوگیا، یہودیوں کے لئے بھی حرام تھا، عیسائیوں کے لئے بھی حرام تھا، انہوں نے سود سے توبہ کیا تھا، لیکن پھر واپس اسی پر آگئے، وہی حال آج امت مسلمہ کا ہے، سود سے توبہ کیا تھا پھر واپس سود پے آگئے، آج کتنے مسلمان سود سے بچتے ہیں،دوسری بات سود ایک ایسا جرم ہےجس کے خلاف اللہ نے جنگ تک کا اعلان کردیا ۔اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے اگر تم توبہ نہیں کرتے، اور مخاطب کسے کیا ہے، مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا ہے،” يا أيها الذين آمنوا” کیا مسلمان چھوڑتے ہیں سود؟ نہیں تو اس پر بات ہونی چاہیے نا، کیوں نہیں کرتے بات، اسلامک بینکنگ میں سود نہیں چلتا ہے، کیا چلتا ہےبھائی، مشارکہ چلتا ہے، اجارہ چلتا ہے، مضاربہ چلتا ہے ،اور مشارکہ اور اجارہ کا combination بھی آتا ہے تو وہ بھی چلتا ہے، میں بتا رہا ہوں آپ کو کہ ہوا کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی تھی، ہر امت کے لئے فتنہ ہے اور میری امت کے لئے مال فتنہ ہے، تو مالیات میں ہم کو جو کام کرنا چاہئے تھا وہ ہم نے نہیں کیا، معاملہ یہ تھاکہ حضور کے دور میں بھی یہودی سود کا کاروبار کرتے تھے، جب سود حرام ہوگیا تو ان کا کاروبار ٹھپ ہوگیا، اور مسلمانوں کی جو غیر سودی مالیات تھی نا اس میں بھی یہودی مینیجر بیٹھائے گئے، کیوں بیٹھائے گئے کیوں کہ انکوں فنڈ مینجمنٹ کا کرنسی ہینڈلنگ کا ،پیسے کا لین دین کا ہنر تھا، فائنانس کا علم تھا انہیں، مسلمان فائنانس سے دور رہے تھے، تو ان فائنانس کی صلاحیت کی وجہ سے انہیں بطور امپلائی مالیات کے کام میں رکھا گیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب لوگوں کو بلایا کہ خلافت کے کام میں میری کچھ مدد کرو تو لوگوں نے کہا کہ ہمیں دنیا داری سے دور رکھو، تو حضرت عمر نے انہیںسمجھایااور کہاکہ دنیا مال سے ہے اور مجھے معاملات کے لئے کچھ متقی لوگوں کی ضرورت ہے تاکہ مکار لوگ مال کو ہڑپ نہ لیں۔ بیت المال کا جو نظم تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا تھا، اس میں تھوڑا وقت لگا تھا۔ ایک دم سے بیت المال قائم نہیں ہوگیا تھا۔ ہجرت کیا، اخوت کا نظام بنایا ،لوگوں کے اندر جذبہ پیدا کیا کہ ایک دوسرے کی معاونت کریں، انصار نے اپنا آدھا آدھا مال دےدیا مہاجر کو، یہ چیز بنیاد بنتی ہے ایثار، قربانی اور انصاف کی جس کے بغیر فائنانس نہیں ہوسکتا۔ اصل کیا کیا ہوتا ہے یہ چیزیں پڑھائی نہیں جاتی ہیں، کسی نصاب میں نہیں ہے، یہاںتک کہ کتاب البیوع بھی نہیں پڑھاتے، اسے. Apply کیسے کریں گیں آپ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر آج چودہ سو سال کا جو گیپ ہے کیسےبھریں گیں آپ، اور یہ چودہ سو سال کا گیپ نہیں تھا ،جہاں جہاں مسلمان حکمران رہے، کب تک رہے سمجھ لیجئے first world war تک یعنی آج سے تقریبا سو سال پہلے تک، خلافت عثمانیہ کے گرنے تک مسلم حکمران تھے، کیسے چلایا انہوں نے کیا وہ سودی نظام تھا، کیسے کرتے تھے وہ ،اسکا مٹیریل ہونا چاہیے، کیا نظم وضبط تھا ،کیسے چلتا تھا وہ، مواد کہاں سے لائیں گیں ہم، اس پر لوگوں نے کام نہیں کیا، یہ میں کہہ رہا ہوں نا۔ مال کا فتنہ اسی وجہ سے ہوا، ہوا کیا تھا میں جہاں سے شروع کیا تھا وہاں سے لارہا ہوں، اخوت کا نظام جو حضور نے قائم کیا ،جو مہاجر ہجرت کرکے گئے تھے جن کے پاس کچھ نہیں تھا، ان کو انصار نے اپنا سپورٹ دیا، اور کاروبار میں گائیڈ کیا، جیسا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا قصہ ہے، لیکن اخوت وبھائی چارگی کا جو نظام تھا کہ میرا مال انکا مال، یہ جو جذبہ پیدا کیا یہ بنیاد بنی، اور اس بات کو نوٹ کرنا کہ اسوقت تک سود حرام نہیں ہواتھا، پہلی آیت جو سود کے بارے میں نازل ہوئی وہ سورہ روم میں ہے، اس میں اللہ نے کہا کہ جن کے پاس پچتا ہے، جن کو اللہ نے زیادہ دیا اس میں لوگوں کا حق ہے، لوگ اس کو ادا کریں ،ادا نہیں کررہے بلکہ اس کو سود پر چڑھارہے ہیں تاکہ اپنے مال کو بڑھالیں، اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا، اللہ نے اسے کنڈم کیا ہے، اور زکاة اور صدقہ دینے کا حکم دیا ہے، اس کے بعد سورہ نساء میں پھر مائدہ، آل عمران اور آخر میں سورہ بقرہ میں سود کا ذکر آیا ہے، سورہ بقرہ میں اللہ نے حتمی طور پر سود کو حرام کردیا ہے، چار. Stages میں سود کی آیتیں نازل ہوئیں، یہ جو human greed ہے اللہ اس کو دبانا چاہتا ہے، سورہ بقرہ کی جو 38 رکوع ہے اس سے پہلے اگر آپ دیکھیں گیں تو دو رکوع مستقل اللہ نے انفاق پر نازل کیا ہے، لوگوں کی مدد کرتے رہو۔ تم کو شیطان بہکانے نہ پائے، اللہ نے ایک ذہن بنایا، لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مال ان کا ہے، نہیں اللہ نے کہا کہ یہ تمہارا مال نہیں اس میں لوگوں کا حق ہے، پہلے تمہارے والدین کا حق ہے، پھر تمہاری بیوی ،بچوں کا حق ہے، آدمی کیا کرتا ہے پہلے بیوی بچوں کودیتا ہے، پھروالدین کوبچاکھچادیتاہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو سختی سے پکڑکر کہا کہ تمہارا مال تمہارے والدین کاہے۔ یہ جو نظام تھا مسلم مملکت میں بیت المال کا اس میں ایک وقف فنڈ قائم تھا، جیسا کہ حضرت عمر نے اپنی زمین وقف کی تھی، اور لوگ اپنی زائد رقم اس فنڈ میں جمع کرتے تھے، وہ وقف فنڈ کوئی بینک نہیں تھا، یہ لوگوں کی امانت ہواکرتی تھی، اس سے ملت کا کام ہوتا تھا تو اس وجہ سے لوگوں کو بینک کی ضرورت ہی نہیں پڑی، یہی وجہ ہیکہ خلافت راشدہ سے لیکر خلافت عثمانیہ تک مسلمانوں نے کہیں بینک قائم نہیں کیا، کیا کوئی بینک قائم کیاتھا ؟نہیں، نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی تعلیم دی نہ صحابہ اور اس کے بعد کے مسلمانوں نے کوئی بینک قائم کیا، بینک فتنہ ہے، اس لئے کہ قرآن میں اللہ نے ڈرایا ہے، جو مال کو جمع کرکے رکھتے ہیں ،اسی لئے مال فتنہ ہے، اگر تمہارے پاس ضرورت سے زیادہ ہے تو اس میں لوگوں کا حق ہے تم تلاش کرکے لوگوں کودو، اگر کوئی نہیں مل رہا تو وقف فنڈ میں جمع کردو، اوروقف فنڈ میں جمع کرنے کا رواج تھا، جب تک وقف فنڈ کا نظام رہا دنیا میں کوئی بینک پنپ نہیں پایا، انگلینڈ میں لوگوں نے بینک قائم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بینک ابھرا اور ڈوب گیا، کیوں ؟اس لیے کہ دنیا میں مسلمانوں کا مالیات پر قبضہ تھا، اور مالیات کا نظم لوگ قرآن وسنت کے مطابق چلارہے تھے، وقف کیا چیز ہے اول ترین عبادت ہے، اس لئے کے عبادت کی تین قسمیں ہیں جو التحیات کے شروع میں ہے، جس طیبات سے مالی عبادت ہی مراد ہے، لیکن لوگ اسے عبادت سمجھتے ہی نہیں، دنیوی کام سمجھتے ہیں، اور یہی وہ عبادت ہے جس کے ذریعے بندے فرشتوں سے اعلی مقام رکھتے ہیں، کیونکہ فرشتے نماز روزہ میں ہم سے کہیں زیادہ فائق ہیں، جس درجہ تک ہم نہیں پہنچ سکتے۔ لیکن فرشتے طیبات میں ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے اس لئے کہ ان کا کسی چیز میں مالکانہ حق نہیں ہوتا جس میں وہ تصرف کریں، طیبات ہی کی ایک شکل ہے وقف ،کوئی فرشتہ وقف کرسکتا ہے، نہیں ملکیت ہی نہیں ہے اسکے پاس، جب تک مسلمان طیبات پر جمے رہے اللہ نے اس قوم کو زمین پر پانی کی طرح پھیلایا، لیکن جب لوگوں نے وقف کرنا چھوڑ دیا مال کی محبت ان کے دل میں بیٹھ گئ تو اللہ نے انہیں حکومت سے معطل کردیا، اقتدار سے ہٹا دیا دوسروں کو بیٹھا دیا، مغلیہ حکومت چلی گئی، انگریز آکر بیٹھ گئے، مسلمانوں نے کتنی زمین وقف کی تھی سب کو بیچ بیچ کر کھاگئے، آج کرتا ہے کوئی وقف کوئی اسکی تلقین بھی کرتا ہے کیا، نہیں کرتا کوئی، آپ نے کہا نا اسلامک بینکنگ فتنہ ہے اس دور کا اس کو بھی نوٹ کرو، جب مسلم حکومت گئی تو جو یہودی فنڈ مینج کرتے تھے انہوں نے اس بینک بنالیا، اور مسلمان ان کے پاس اپنے پیسے رکھنے لگا، کہ اے بھائی میری حکومت چلی گئی لیکن یہ پیسے ہیں تم امانت سمجھ کر اسے رکھ لو ،تو مسلمانوں نے یہودیوں سے بینکیں بنوائیں کہہ کر بنوائی، یہ ساری بنکیں مسلمانوں نے ہی بنوائی، سعودی کا سارا پیسہ آج امریکہ میں رکھا ہے، سعودی کیوں ڈرتا ہے امریکہ سے، کیونکہ اس کا سارا فائنانس ان کے قبضے میں ہے، اور یہی حال آج ہندوستانی مسلمانوں کا ہے ۔ہم نے سارا پیسہ غیروں کے بنکوں میں جمع کررکھا ہے، اور اسی پیسے سے وہ ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں، آج جو جنگ ہوتی ہے وہ فائنانس کی جنگ ہوتی ہے، آج فائنانس سے حکومت خریدی جاتی ہے، میڈیا خریدی جاتی ہے، ٹکنالوجی خریدی جاتی ہے ہتھیار خریدے جاتے ہیں ،سب پیسوں سے ہوتا ہے اور ہم نے اپنا سارا پیسہ اسلام دشمن قوموں کودے رکھاہے، اگر مسلمان آج سارا پیسہ بنکوں سے نکال لے تو حکومت خود بخود ہمارے تابع ہوجائے گی، میں نے اسلامک بینکنگ کوفتنہ اس لئے کہاکہ اس میں وقف فنڈ نہیں ہے، بلکہ اسلامک بینکنگ تو لوگوں کو مال جمع کرنے کی ترغیب دیتا ہے، کہ آو ہم تمہیں رسمی بینک سے زیادہ منافع دیں گیں، اللہ نے ڈبایا ایسے بینکوں کو، ہیرا گولڈ جیسے کئی بینک ڈوبے، اور یہ اللہ کے طرف سے فیصلہ تھا۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*