بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / علامہ سر محمد اقبالؒ کا تصور خودی

علامہ سر محمد اقبالؒ کا تصور خودی

علامہ اقبال

علامہ اقبال

ابونصر فاروق

علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری میں کچھ الفاظ کا خاص طور پر اور بہت زیادہ استعمال کیا ہے۔ایسے الفاظ میں ایک لفظ خودی بھی ہے۔خودی انسان کی ایک ایسی صفت ہے جس کا علم و شعور انسان کو ہو تو وہ اپنے مقام اور مرتبے کے ساتھ بھی اور دوسروں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کر سکتا ہے۔اور اگر وہ اس لفظ کے علم و شعور سے ناواقف ہوتو پھر اُس کا ہرکام نتیجے کے لحاظ سے ناقص اور مہمل قرار پائے گا۔ہر اچھے انسان کے اندر اپنی حیثیت اور مقام و مرتبے کا علم و شعور اور احساس ہونا چاہئے تا کہ وہ اپنی زندگی کے ہر عمل میں اپنی حیثیت کی حفاظت کر سکے اور اس کو رسوا اور ذلیل ہونے سے بچا سکے۔اپنی اسی حیثیت اور مرتبہ و مقام کی پہچان کو خودی یاخود شناسی کہتے ہیں۔ہر انسان کے اندر عزت نفس ، غیرت مندی ، وقار اورانفرادیت ہوتی ہے۔جو انسان اپنی ان چیزوں کی حفاظت کرتا ہے وہ اعلیٰ درجہ کا انسان بنتا ہے اور جو انسان ان کو نہیں جانتا اور ان کی حفاظت نہیں کرتا وہ ایک گھٹیا انسان بن جاتا ہے۔
عربوں نے جب رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر اسلام کو قبول کرلیاتب اُن کے اندر جزبہ خودی کا احساس و شعور اور علم پیدا ہوا اور اُس کی حفاظت، ترقی اورمناسب استعمال کے سبب اُنہوںنے زندگی میںوہ مقا م حاصل کیا جس نے قیامت تک کے لیے اُن کو یادگار بنا دیا۔لیکن جب مسلمانوں پر زوال کا دور شروع ہوا تو اُس کا بنیادی سبب اپنی خودی کو بھلا دینا اور اُس کو ضائع کردینا بنا۔علامہ اقبالؒ کا مقصد حیات اہل اسلام کو اُن کا بھولا ہوا مقام یاد دلانا تھا اس لیے اُنہوں نے اس لفظ ’’خودی‘‘ کا استعمال خاص طور پر اور بار بار کیا۔
خودی کا سِرِّ نِہاں لا اِلٰہ اِللہ
خودی ہے تَیغ فَساں لا اِلٰہ اِللہ
درج بالا شعر میں علامہ فرمارہے ہیں کہ خودی کا چھپا ہوا راز اللہ کی وحدانیت، عظمت اور قدرت و حکمت کو پہچاننے میں ہے۔اور خودی ہی وہ شمشیر ہے جس سے انسان کی ذات و صفات کی حفاظت ہوتی ہے۔ خودی کی اس تلوار کو سان دینے یعنی تیز کرنے کا کام بھی تصور توحید ہی کرتا ہے۔جو آدمی اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا ہے وہ احساس و شعور خودی سے محروم اور انجان ہے۔
ابھی تک ہے پردے میں اولادِ آدم
کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے
علامہ اقبالؒ نے جب انسانی دنیا میں اخلاقی قدروں کا زوال دیکھا تو اُن کو محسوس ہو اکہ یہ انسانی آبادی اپنی دنیا سازی کے چکر میں ہر ایرے غیرے کو اپنا حاکم اور پیشوا بنا لیتی ہے اور اپنی خودی کو شرمندہ کرتی ہے۔ اسی کے متعلق فرما رہے ہیں کہ اولادِ آدم کی عقل پر اس لحاظ سے ابھی تک پردہ پڑا ہوا ہے اور وہ خودی کی عظمت و اہمیت کو پہچان نہیں سکی ہے۔
یہ ذکر نیم شبی ، یہ مراقبے ، یہ سرور
تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں
مسلمانوں میں رسم عبادت تو باقی رہی یعنی یہ تہجد گزار بھی بنے، خانقاہوں میں مراقبے بھی ہوتے رہے اور مجلس سماع میں نغمہ و سرور کی محفلیں بھی آراستہ ہوتی رہیں، لیکن یہ سارے اعمال ان مسلمانوں کی خودی کی حفاظت نہ کر سکے۔ آج مسلمانوں کے زوال آمادہ ہونے کا سبب ان کی یہ خود ناشناسی یعنی اپنے آپ کو نہیں پہچاننا ہے۔
روح اسلام کی ہے نورِ خودی ، نارِ خودی
زندگانی کے لیے نارِ خودی نور و حضور
تری خودی سے ہے روشن ترا حریم وجود
حیات کیا ہے ؟ اسی کا سرور و سوز و ثبات
ان دونوںا شعار میں علامہ اسلام کی حقیقت سمجھا رہے ہیں کہ اس دین حنیف کی روح خودی کے نور اور خودی کی تپش ہے۔دنیا میں انسان کی زندگی کے لئے ر وشنی اور جذبات میں گرمی کا وجود اسی شعور و احساس خودی کا محتاج اور ضرورت مند ہے۔خودی ہی انسان کی شخصیت میں وہ روشنی اور جذبات میں وہ گرمی پیداکرتی ہے جس سے وہ دنیا میں اپنی الگ پہچان بناتا ہے اور اسی خودی کی بدولت اس کے جوش و جذبے میں،پہاڑ جیسے ارادے اور عمل کاطوفان پیدا ہوتا ہے۔
زندگانی ہے صدف قطرۂ نیساں ہے خودی
وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے
اس شعر میں سیپ، بارش کے قطرے اور موتی کی تشبیہہ سے سمجھا رہے ہیں کہ انسان کی زندگی ایک سیپ ہے۔بارش کا وہ قطرہ جو اس میں جا کر موتی بنتا ہے وہ خودی کا جذبہ ہے۔وہ سیپ کس کام کا جو قطرۂ نیساں(بارش کے قطرے) کو موتی نہیں بنا سکا۔یعنی زندگی میں جب خودی کا موتی پیدا ہی نہیں ہوا تو ایسی زندگی کس کام کی۔
خودی کی تربیت و پرورش پہ ہے موقوف
کہ مشت خاک میں پیدا ہو آتش ہمہ سوز
اس شعر میں سمجھا رہے ہیں کہ جب کسی فرد کی خودی کی پرورش اور تربیت سلیقے سے کی جاتی ہے تب ہی اُس مٹی کے پتلے میں وہ کمال وجمال پیدا ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ کسی اعلیٰ مقصد کو پانے کی آگ میں جلنے لگتا ہے اور یہی چیزدنیا میں اُس کونامور اور منفرد بنا دیتی ہے۔
خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہِ فقیر
انسان کی ذات میں خودی موجود ہوتو وہ فقیر ی میں بھی شاہانہ فکرو خیال کے ساتھ جیتا ہے۔ایسے خود دار اور قناعت پسند انسان کی شان و شکوہ نامور بادشاہوں سے کم نہیں کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔
نمود جس کی فرازِ خودی سے ہو وہ جمیل
جو ہو نشیب میں پیدا قبیح و نامحبوب
اس شعر میں علامہ سمجھا رہے ہیں کہ جس ذات کا اظہار خودی کی بلندی کے ذریعہ ہوا وہ حسین بن کر سامنے آیا، اور جس کی پہچان اُس کی خودی کی پستی اور ذلت سے ہوئی تو وہ بد شکل بھی بن گیا اور ناپسندیدہ بھی کہلایا۔
خودی کی موت سے مغرب کا اندروں بے نور
خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذام
خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں پر
قفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ حرام
ان دونوں اشعار میں علامہ فتویٰ دے رہے ہیں کہ مغربی دنیا نے دنیا میں انتہائی ترقی کرنے کے باوجود اپنے آپ کوخودی کی نعمت سے محروم بنا کر موت کی نیند سلا دیا۔اور اہل مشرق یہی بھیانک غلطی کر کے جذام یعنی کوڑھ کی بیماری کا شکار ہو گئے۔ہندوستانیوں کی خودی کے بال اور پر جب اونچی اڑان بھرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے تو ان کے لیے اپنی آشیانہ سازی حرام ہو گئی اور یہ قید و قفس میں رہنے کو حلال سمجھ کر اسی میں خو ش رہنے لگے۔
اُس کی تقدیر میں محکومی و مغلوبی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف
اس شعر میںعلامہ قوموں کی ذلت و خواری کا جرم یہ بتا رہے ہیں کہ جو قوم اپنی خودی کے ساتھ انصاف نہیںکرتی ہے،تو قدرت اس جرم کی سزا،اُس قوم کو یہ دیتی ہے کہ ایسی قوم دوسری طاقتور قوم کی غلام اور ماتحت بن کر رہے۔
فطرت کو دکھایا بھی ہے دیکھا بھی ہے تونے
آئینہ فطرت میں دکھا اپنی خودی بھی
ملت کے اہل علم و شعور اور اہل زبان و قلم نے فطرت کے حسن و رعنائی کو دیکھا اور سمجھا بھی ہے اور اپنی تخلیقات میں اس کا اظہار و بیان بھی کیا ہے۔کاش یہ اسی کے ساتھ ساتھ اپنی خودی کا بھی اظہار کرتے اور دنیا کو اپنا اصلی جوہر و کمال و جمال دکھاتے تاکہ دنیا ایک بار پھر ان کو اپنا امام و پیشوا بنا لیتی۔
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اُس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اُدھر پھیر
خودی کی پرورش اور اُس سے کام لینے کا طریقہ علامہ یہ بتا رہے ہیں کہ نظام تعلیم ایسا تیزاب ہونا چاہئے جس کے ذریعہ نوجوانوں کی خودی کوگلا کر زندگی کے اعلیٰ اور بلند مقامات تک پہنچنے ،شان و شوکت کے ساتھ باوقار اور خود داری کی زندگی گزارنے کے مقصد کی طرف موڑا جا سکے۔اگرخودی کی تربیت نہیں کی گئی تو پھر یہی خودی اپنی حدوں سے آگے نکل کر انا اور غرور بن جاتی ہے جو ایک مردود و ملعون چیز ہے۔
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
لالچ، ہوس، دنیا پرستی ، دولت پرستی ، عیش و عشرت اور آرام و آسائش کی زندگی وہ بیماریاں ہیں جو انسان کو خودی کا سودا کرنے پر آمادہ کر دیتی ہیں۔علامہ سمجھا رہے ہیں کہ اہل اسلام کا طریقہ امیر اور دولت بننے کا نہیں ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’الفقرُ فخری‘‘(فقرمیرے لئے فخر کی بات ہے)۔ اس لیے دنیا کی جھوٹی شان و شوکت کے لیے اپنی خودی کو بیچ نہ ڈالو بلکہ فقیری میں رہ کر ہی اپنا نام پیدا کرنے کی کوشش کرو۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*