بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / تمل ناڈو پولیس کی داستان بربریت

تمل ناڈو پولیس کی داستان بربریت

سہیل انجم

سہیل انجم

تحریر:سہیل انجم 
امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام جارج فلائڈ کی دردناک موت نے نہ صرف امریکہ کو بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اگر چہ اس بدترین واقعہ کو کافی دن گزر چکے ہیں لیکن اب بھی اس کے خلاف احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے۔ خاطی پولیس والوں پر قتل کا مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے۔ تاہم لوگوں کا غصہ ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ اگر دیکھا جائے تو پوری دنیا میں حراستی اموات ہوتی ہیں۔ کہیں کوئی واقعہ عوامی احتجاج کی شکل لے لیتا ہے اور کہیں کوئی واقعہ گمنامی کے غار میں دفن ہو جاتا ہے۔ بعض پولیس والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے باوجود وحشت و بربریت کا سلسلہ جاری ہے۔ اور نہ صرف دنیا کے دیگر ممالک میں پولیس زیادتی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں بلکہ ہندوستان میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ امریکہ میں تو ایک پولیس والے نے گھٹنوں پر جھک کر معافی مانگی لیکن ہندوستان میں معافی مانگنے کا او ربالخصوص پولیس کی جانب سے معافی مانگنے کا کوئی تصور تک نہیں ہے۔ اذیت رسانی کی تمام حدود عبور کرنے والے بھی قانونی گرفت سے چھوٹ جاتے ہیں اور پھر وہی سلسلہ چل پڑتا ہے۔
اس وقت تمل ناڈو کے توتی کورن میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے جسے امریکہ کے جارج فلائڈ واقعہ سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ یہ 19 جون کا واقعہ ہے۔ توتی کورن میں لاک ڈاون نافذ تھا۔ پولیس کا ایک دستہ بازاروں میں گشت کر رہا تھا اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کہیں کوئی لاک ڈاون کی خلاف ورزی نہ کر رہا ہو۔ بازار بند ہونے کے لیے جس وقت کا اعلان کیا گیا تھا اس کو گزرے پندرہ منٹ ہوئے تھے۔ رات کے سوا آٹھ بجے تھے۔ پولیس دستہ ایک بازار سے گزرا۔ اس نے دیکھا کہ موبائل فون کی ایک دکان کھلی ہوئی ہے۔ پولیس والوں نے دکان مالک کو دکان سے گھسیٹ کر نکالا اور تھانے لے گئے۔ وہاں اس کو بری طرح زد و کوب کیا گیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس ۹۵ سالہ شخص کا نام جے راج ہے۔ اس کے۱۳سالہ بیٹے فینکس نے تھانے میں جا کر اپنے باپ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو اسے بھی گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں باپ بیٹوں پر متعدد دفعات لگا دی گئیں۔ بعد میں انھیں رہا کیا گیا اور ایک اسپتال میں لے جایا گیا۔ حالانکہ اس وقت بھی دونوں کے جسم سے خون رس رہا تھا لیکن اسپتال کے ڈاکٹر نے دونوں کو فٹ قرار دے دیا۔ اس سلسلے میں میڈیا میں جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں وہ بڑی درد ناک ہیں۔ یہ واقعہ ستھن کولم تھانے کا ہے۔ پولیس نے مجسٹریٹ کے سامنے جا کر دونوں کے ریمانڈ کا مطالبہ کیا۔ مجسٹریٹ نے ان دونوں کی حالت دیکھے بغیر کہ وہ کس پوزیشن میں ہیں، ان کو پولیس ریمانڈ میں دے دیا۔
جس وقت باپ بیٹوں کو تھانے میں اذیت دی جا رہی تھی ان کا وکیل بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے مطابق اس وقت ہم باہر تھے اور شیشے کے ایک گیٹ سے سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ پولیس والے دونوں کی پٹائی کر رہے تھے۔ صبح کے وقت دیکھا گیا کہ جہاں وہ بیٹھے تھے وہاں چاروں طرف خون ہی خون تھا۔ فینکس کو اس قدر پیٹا گیا کہ اس کے جسم پر جگہ جگہ گوشت پھٹ گیا۔ وکیل کے مطابق ہم نے ان کو بدلنے کے لیے چار جوڑے کپڑے دیے۔ ان کو مجسٹریٹ کے پاس لے جانے کے لیے جب انھیں گاڑی میں بٹھایا گیا تو ان کی سیٹ کے نیچے کمبل رکھنا پڑا۔ دونوں جہاں بیٹھے تھے وہاں خون ہی خون تھا۔ خون آلود کمبل اب بھی ہمارے پاس ہے۔ دیگر عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ان کو اس قدر اذیت دی گئی کہ ان کی پاخانے کی جگہ سے خون بہہ رہا تھا۔ ان کے گھٹنوں کی کٹوریاں چور چور ہو گئی تھیں۔ ان کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ ان دونوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ بعد میں دونوں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ لیکن اسی شام ان کی حالت خراب ہو گئی اور انھیں اسپتال لے جایا گیا جہاں بیٹے نے دم توڑ دیا۔ اگلی صبح کو باپ بھی چل بسا۔
اس واقعہ کے خلاف توتی کورن سمیت پوری ریاست میں احتجاجوں کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ متعدد ٹریڈ یونینوں، سیاسی تنظیموں، سماجی کارکنوں اور فلمی شخصیات کی جانب سے خاطی پولیس والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ توتی کورن میں تاجروں نے اپنے کاروبار بند رکھے اور ایک ہفتے تک احتجاج کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے اور اسے امریکہ کے جارج فلائڈ کے واقعہ سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ خاطی پولیس والوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ لیکن ابھی تک صرف یہ ہوا ہے کہ دو پولیس والوں کو معطل اور دو کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ جے راج کی بیوی نے الزام عاید کیا ہے کہ اس کے شوہر اور بیٹے کی موت پولیس مظالم کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس نے اس سلسلے میں ایک شکایت درج کرائی ہے۔ اس بارے میں ایک مشہور ریڈیو جاکی نے ایک ویڈیو بنائی ہے جو خوب وائرل ہو رہی ہے۔ پولیس نے باپ بیٹوں کے خلاف اس سلسلے میں جو ایف آئی آر درج کی ہے اس میں کافی تضاد ہے اور اس سے واضح ہے کہ پولیس اپنا گناہ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ جسٹس فار جے راج اینڈ فینکس ٹرینڈ کر رہا ہے۔ جنوبی ہند کے سلیبریٹیز کھل کر پولیس مظالم کی مذمت اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جنوب کی دو معروف سلیبریٹیز سمنتھا اکینینی اور کاجل اگروال کا کہنا ہے کہ اب پولیس مظالم کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ یہ غیر انسانی ہے۔ پولیس پر عوام کا اعتماد بہت کم ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ لوگ پولیس پر اور سسٹم پر بھی کوئی بھروسہ نہیں کریں گے۔ وائرل ویڈیو کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اسے پورا دیکھنے یا سننے کی ہمارے اندر ہمت نہیں ہے۔ ملوث پولیس والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جانی چاہیے۔ معطلی اور تبادلہ کافی نہیں ہے۔ جنوب کی سلیبریٹریز کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں کے لوگ بھی سراپا احتجاج ہیں جن میں فلم اداکار، کرکیٹر اور اہم شخصیات شامل ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور خاطی پولیس والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بہر حال یہ کوئی پہلا اور نادر واقعہ نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پولیس اکثر و بیشتر اپنا یہ چہرہ دکھاتی رہتی ہے۔ اگر چہ بعض اوقات وہ کچھ اچھے کام بھی کر جاتی ہے لیکن عوام کے ساتھ اس کا رویہ کسی بھی طرح ہمدردانہ نہیں ہوتا۔ جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو ملوث پولیس والوں کے خلاف چھوٹی موٹی کارروائی ہوتی ہے اور پھر معاملہ وقت کی دبیز چادر کے نیچے دب کر رہ جاتا ہے۔ مختلف حلقوں سے یہ آواز وقتاً فوقتاً اٹھتی رہتی ہے کہ پولیس نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ بیشتر فرقہ وارانہ فسادات کی جانچ کرنے والے کمیشنوں نے پولیس اصلاحات کی بات کی ہے۔ پولیس کے بڑے افسران بھی اس کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ لیکن صرف باتیں ہی باتیں ہیں۔ہندوستان میں پولیس کا جو مزاج بن گیا ہے اس میں بظاہر انسانی ہمدردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے پولیس کو یہی ٹریننگ دی جاتی ہے کہ تم عوام سے الگ ایک مخلوق ہو اور تمھیں بس سختی سے ہی پیش آنا ہے۔ تمھارے رویے میں ہمدردی یا رو رعایت کا کوئی شائبہ تک نہیں ہونا چاہیے۔ تمھیں اپنا کام کرنا ہے خواہ کسی کی جان جائے یا زندگی برباد ہو جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فرقہ وارنہ فسادات کی تحقیقات کرنے والے کمیشنوں کی پولیس کے بارے میں سفارشات کی فائیلوں کو گرد و غبار کی تہوں سے باہر نکالا جائے اور سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے۔ اس بات کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے کہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی بحالی ہونی چاہیے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ عوام پولیس نظام پر بھروسہ نہیں کرتے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پولیس افسران جب اپنے عہدے پر ہوتے ہیں تو وہ پولیس نظام میں اصلاح کی کوئی بات نہیں کرتے اور نہ ہی پولیس کے رویے میں سدھار پر کوئی غور کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اپنی ملازمت سے سبکدوش ہو جاتے ہیں تو وہ خامیاں جو انھیں پہلے نظر نہیں آتی تھیں نظر آنے لگتی ہیں۔ اگر پولیس نظام میں اصلاح نہ کی گئی اور پولیس کا رویہ نہیں بدلا گیا تو پویس پر عوام کا جو تھوڑا بہت اعتماد ہے وہ پوری طرح ختم ہو جائے گا۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*