بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / دہلی فسادکی فردجرم

دہلی فسادکی فردجرم

معصوم مرادآبادی

معصوم مرادآبادی

تحریر:معصوم مرادآبادی
گزشتہ فروری میں شمال مشرقی دہلی میں برپا ہونے والی وحشیانہ قتل وغارت گری کی داستان طویل ہوتی چلی جارہی۔ حالانکہ اس کے مجرموں کے چہرے اتنے نمایاں اور معروف ہیں کہ انھیں دورسے پہچانا جاسکتا ہے، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پولیس نے ان میں سے ابھی تک کسی پر ہاتھ نہیں ڈالاہے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ فساد بھڑکانے والوں کاتعلق طاقت ور لوگوں سے ہے۔ اس کے برعکس ایسے لوگوں کو اس فساد کا مجرم قرار دے دیا گیاہے جن کا دور دور تک بھی اس سے واسطہ نہیں تھا۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس فساد کی تیاری ان لوگوں نے کی تھی جو فرقہ وارانہ بنیاد وں پر دہلی اسمبلی کا الیکشن جیتنا چاہتے تھے اور جنھوں نے کھلے عام ’دیش کے غداروں کو گولیاں مارنے‘ کی تلقین کی تھی۔کپل مشرا، پرویش ورما، انوراگ ٹھاکر اور راگنی تیواری جیسے لوگ اس فساد کو بھڑکانے کے لئے پوری طرح ذمہ دار تھے۔المیہ یہ ہے کہ فساد کے کلیدی ملز موں کو ماخوذ کرنے کی بجائے پولیس نے ان ہی لوگوں کو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے جو اس فساد اور قتل و غارت گری کا بدترین شکار ہوئے تھے۔
فساد کے دوران جن 53 لوگوں کی موت ہوئی تھی ان میں 35مسلمان تھے اور باقی ہندو۔لیکن دہلی پولیس نے اس فساد کے سلسلے میں جانچ پڑتال کرکے جن لوگوں کو گرفتار کیا ہے، ان میں تقریباً 80 فیصد مسلمان بتائے جاتے ہیں۔ یہ اعداد وشمار غیر سرکاری ذرائع سے حاصل ہوئے ہیں کیونکہ پولیس حق اطلاعات کے قانون کے تحت بھی گرفتار شدگان کے ناموں کی فہرست فراہم نہیں کررہی ہے۔ پولیس کے بقول ایسا کرنے سے فساد کی جانچ متاثر ہوسکتی ہے۔ظاہر یہ طرز عمل پولیس کی نیت پر سوال کھڑے کرتا ہے۔ پولیس نے اب تک اس فساد کے سلسلے میں جو80 فرد جرم داخل کی ہیں، ان میں بیشتر میں مسلمانوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ لیکن پولیس نے حال ہی میں ایک ایسے واٹس ایپ گروپ کو بے نقاب کیا ہے جو قاتلوں نے تشکیل دیا تھا اور جس نے اس فساد میں کم ازکم9مسلمانوں کو انتہائی وحشیانہ طریقے سے قتل کرکے ان کی لاشیں نالے میں بہادی تھیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ یہ دہلی پولیس کی پہلی ایسی فرد جرم ہے جس سے اس کی غیر جانب داری کا جزوی طور پر اظہار ہوتا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔یہ فرد جرم گوکل پوری تشدد کے معاملے میں دائر کی گئی ہے اور اس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ 25و 26 فروری کی درمیانی شب میں یہاں کٹر ہندوؤں کاایک ایسا واٹس ایپ گروپ بنایا گیا تھا جس نے کم سے کم9مسلم نوجوانوں کو وحشیانہ طور پر قتل کیا اور ان کی لاشیں جوہری پور کے نالے میں پھینک دیں۔دہلی پولیس پر الزام ہے کہ اس نے اب تک اس فساد کے سلسلے میں جو بھی فرد جرم داخل کی ہیں، ان میں اس فساد کا کلیدی مجرم صرف مسلمانوں کو گردانا گیا ہے اوران ہی پر سارے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت اس فساد کا رشتہ متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چلائی گئی تحریک سے جوڑا گیا ہے جس میں مسلمان پیش پیش تھے اور جس کی کوکھ سے شاہین باغ جیسا بے مثال احتجاج وجود میں آیا تھا۔پولیس نے ایسے لوگوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جو انسانی حقوق کے دفاع کے معاملے میں عالمی شہرت رکھتے ہیں اور جنھوں نے اس فساد کے دوران متاثرین کی راحت رسانی میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ ان کارکنوں میں ہرش مندر اور یوگیندر یادوجیسے لوگ شامل ہیں۔ایک فرد جرم میں مصطفےٰ آباد میں واقع الہند ہسپتال کے ڈاکٹر انور کو بطور ملزم شامل کیا گیا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے فساد زدگان کی سب سے زیادہ مدد کی اور ان کی جانیں بچائیں۔
گوکل پوری علاقے میں 9مسلمانوں کے وحشیانہ قتل کے سلسلے میں داخل فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ فساد پھیلانے اور ایک فرقے کے لوگوں کا قتل کرنے، آگ زنی اورانتقام لینے کے لئے ایک واٹس ایپ گروپ بنایاگیا تھا جس میں 125 لوگ شامل تھے۔اس گروپ کا نام ”کٹر ہندو ایکتا گروپ“ رکھا گیاتھا۔ قتل کی ان 9وارداتوں کے سلسلے میں 9 ملزمان لوکیش سولنکی، پنکج شرما، انکت چودھری، پرنس، جتن شرما، ہمانشو ٹھاکر،وویک پنچال، رشبھ چودھری اور سومیت چودھری کو گرفتار کیا گیاہے۔واٹس ایپ گروپ25 اور26 فروری کے تشدد سے ایک دن پہلے یعنی 24فروری کو بنایا گیا تھا۔ 9 لوگوں کا قتل کرنے کے بعدگروپ کے بیشتر ممبران اس سے جدا ہوگئے تھے اور اس پر کی گئی بات چیت کو مٹادیا گیاتھا۔ گروپ ایڈمن ابھی پولیس کی دسترس سے باہر ہے۔فردجرم میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کے مذہب کی شناخت کرکے انھیں قتل کیا گیااور مرنے سے پہلے ان سے ’’جے شری رام“ کے نعرے بھی لگوائے گئے۔ واٹس ایپ گروپ میں اس کے ممبر لوکیش نے26 فروری کو رات میں گیارہ بج کر39منٹ پر لکھا کہ ”اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہو، وہاں لوگ کم پڑیں تو بتادینا، میں اپنی پوری گنگا وہار کی ٹیم کے ساتھ آؤں گا۔سارا سامان ہے ہمارے پاس۔ گولی بندوق سب کچھ۔“ پھر لوکیش نے گیارہ بج کر44 منٹ پر لکھا”تمہارے بھائی نے ابھی بھاگیرتھی وہار میں دو۔۔۔ مارے ہیں اور نالے میں پھینکاہے اپنی ٹیم کے ساتھ۔“ قتل کی ان وارداتوں کے سلسلے میں ابھی پولیس نے تین چارج شیٹ داخل کی ہیں۔ ابھی کئی دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے وحشیانہ قتل کی ان 9 وارداتوں کے سلسلے میں پولیس نے ابھی محض 9 ملزمان کو ہی گرفتار کیا ہے جبکہ قاتلوں کے اس واٹس ایپ گروپ کے ممبران کی تعداد125 تھی۔ اس کے برعکس ایک ہوٹل کے بیرے دلبر نیگی کے قتل کے الزام میں جن 12مسلم نوجوانوں کے خلاف فردجرم داخل کی گئی ہے جو سب کے سب پولیس کی حراست میں ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان12ملزمان میں سے9ملزمان کے جواقبالیہ بیان عدالت میں پیش کئے گئے ہیں، ان میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی ماہر اسکرپٹ رائٹر سے اسکرپٹ لکھواکر اس پر ملزمان کے دستخط کرالئے گئے ہیں۔واضح رہے کہ دلبر نیگی کی لاش شیووہار میں انل سویٹ کے اندر ملی تھی جہاں وہ کام کرتا تھا۔ قتل کے ان ملزمان پر مجرمانہ سازش، فساد برپا کرنے اور گروہوں کے درمیان مخاصمت کو بڑھاوا دینے کا بھی الزام ہے۔ملزمان کے اقبالیہ بیان کی ایک کاپی انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ نے حاصل کرکے اس کا تجزیہ کیا ہے جو ایکسپریس کی2جولائی کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔12میں سے 9 ملزمان کے بیان تقریباً یکساں تھے۔ ان میں الفاظ اور جملے دوہرائے گئے ہیں۔ باقی تین ملزمان کے بیان الگ الگ ہیں، جہاں وہ بتاتے ہیں کہ پستول کیسے ملی۔ ان میں سے ایک نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے ہندوؤں پر اندھا دھندگولیاں چلانا شروع کردیں۔ حالانکہ تعزیرات ہند کی دفعہ161کے تحت درج کئے گئے اور فردجرم میں شامل یہ بیان ٹھوس ثبوت نہیں ہیں مگر ٹرائل کے دوران ثبوتوں کی تردید یا تضاد کے لئے ان کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ فرد جرم کڑکڑڈوما کے چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں داخل کی گئی ہے اور سبھی ملزمان ابھی عدالتی تحویل میں ہیں۔گرفتار شدہ ملزمان آزاد، راشد، اشرف علی اور محمد فیصل (سبھی کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان) کے سیلم پور فساد سے متعلق اقبالیہ بیان لگ بھگ یکساں ہیں۔
پولیس چارج شیٹ کے مطابق آزاد نے کہا کہ”پچھلے کچھ دنوں سے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ میرے دوست نے مجھے بتایا کے جن کے پاس شہریت ثابت کرنے کے ثبوت نہیں ہیں، انھیں ملک بدر کردیا جائے گا۔ اس کی بنیاد پر 24 فروری کو سیلم پور میں فساد شروع ہوگئے اور دھیرے دھیرے یہ فساد جمنا پار میں پھیل گئے۔ لگ بھگ دوپہر دوتین بجے شیو وہار تراہے پر لوگ اکٹھا ہونے لگے اور ہندوؤں کے گھروں پر پتھراؤ شروع کردیا۔ ایسا کافی دیر تک چلا۔ مصطفی آباد میں کئی لوگ اکھٹے ہوئے تھے اور کہا تھاکہ مسلمانوں کو ملک بدر کردیا جائے گا اور آج ہمیں مسلمانوں کو اپنی طاقت دکھانا ہوگی۔میں بھی بھیڑ کے کہنے کے مطابق وہاں چلاگیا۔ شیو وہار میں بھیڑجمع ہوگئی، جہاں ہندوؤں نے ہم پر پتھراؤ کیا، ہم نے ان پر پتھر پھینکے۔ ہماری طرف سے بھیڑ نعرے لگا رہی تھی”انھیں مارڈالو، آج ہم کافروں کو چھوڑیں گے نہیں۔میں جذبات میں بہہ گیا اور پتھراؤشروع کردیا۔ میں نے کافی دیر تک پتھراؤ جاری رکھا۔ اس کے بعد بھیڑ نے انل سویٹ شاپ اور راجدھانی اسکول کے گودام پر چڑھنا شروع کردیا اور پتھراؤ کیا۔ میں رات میں اپنے گھر لوٹ آیا اور وہیں رک گیا۔میں نے غلطی کی ہے۔ برائے مہربانی مجھے معاف کردیں۔“
قابل ذکر بات یہ ہے کہ12ملزمان میں سے باقی آٹھ ملزمان کے بیان کا مواد بھی بالکل یہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ان بیانوں میں صرف نام تبدیل کئے گئے ہیں اور باقی مواد ایک طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق لکھ دیا گیا ہے۔ایسا ہی بیان شعیب، شاہ ر خ ا ورطاہر نے بھی دیا ہے۔ ان تمام بیانات کی یکسانیت کو دیکھ کر بہت سے سوالات کھڑے ہوتے ہیں، لیکن ان سوالوں کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہے،کیونکہ قانون کے صرف ہاتھ لمبے ہوتے ہیں،پاؤں اور زبان نہیں

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*