بنیادی صفحہ / انٹرویوز / بابری مسجد مقدمہ کے نام پر 60 لاکھ روپئے کی جعلسازی،ایڈوکیٹ اعجاز مقبول پرغبن کا الزام

بابری مسجد مقدمہ کے نام پر 60 لاکھ روپئے کی جعلسازی،ایڈوکیٹ اعجاز مقبول پرغبن کا الزام

۶دسمبر ۱۹۹۲کو ہندو انتہا پسند قدیم بابری مسجد کو شہید کرتے ہوئے (فائل فوٹو)

۶دسمبر ۱۹۹۲کو ہندو انتہا پسند قدیم بابری مسجد کو شہید کرتے ہوئے (فائل فوٹو)

مقدمہ کے وکیل راجیو دھون کو فیس دینے والی جمعیۃ علماء ہند بھی خاموش،ایڈوکیٹ ارشاد حنیف نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا
نئی دہلی: ’’ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نےبابری مسجدمقدمہ میں راجیو دھون کو فیس دینے کے نام پر جمعیۃ علماء ہند سے 60 لاکھ روپئے کی رقم جعلسازی کےذریعہ وصولی تھی اور اسے راجیون دھون کو دینے کی بجائے اپنے پاس ہی رکھ لئے تھے‘ ‘۔جمعیۃ علماء ہند وکلاء پینل میں شامل ارشاد حنیف کے اس الزام نے وکلاء برادری میں نئی بحث کا آغاز کردیا ہے۔
واضح رہے کہ انگریزی نیوزپورٹل مسلم مرر میں شائع خبر کے مطابق ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نے 60 لاکھ روپے کی رقم جمعیۃ علماء ہند سے اس طور پر وصول کی تھی کہ وہ اسے بابری مسجد مقدمہ کے وکیل راجیو دھون کودے دیں گے لیکن انہوں نے پوری رقم خود ہی ہضم کرلی۔اب ایڈوکیٹ ارشاد حنیف یہ چاہتے ہیں کہ ایڈوکیٹ اعجازمقبول سے رقم برآمد کی جائے اور اسے یا تو راجیو دھون کو دیا جائے یا پھر ان سے پوچھ کر جہاں مناسب ہو استعمال کیا جائے۔
واضح رہے کہ ایڈوکیٹ ارشاد حنیف جو اس سے قبل بابری مسجد مقدمہ میں جمعیۃعلماء کےوکلاء پینل میں شامل تھے۔انہوں نےدعویٰ کیا ہے کہ اس معاملےمیں انہوں نے جمعیۃ علماء ہندکے صدر مولانا ارشد مدنی اور ڈاکٹر راجیودھون کے درمیان ٹیلی کانفرنسنگ کا اہتمام کیا تھا ٹیلی فونک گفتگو کے دوران ہی جمعیۃ کے صدر مولاناارشد مدنی صاحب نے بتایا تھاکہ ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نے جمعیۃ علماء کے دفتر سے ان کے نام پر رقم لی تھی۔ایڈوکیٹ ارشاد حنیف نےعبدالباری مسعود سے گفتگو میںکہا کہ ڈاکٹر راجیودھون نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے نام پر جو رقم لی گئی ہے اس میں سے انہیں ایک پیسہ بھی نہیں ملا ہے۔پیش ہے گفتگو کی مکمل تفصیل
سوال: بابری مسجد مقدمہ میں بطور وکیل آپ کب سے شامل ہیں؟
ایڈوکیٹ ارشاد حنیف: میں 2014 سے 2017 کے دوران جمعیۃکے وکلاء کی ٹیم میںشامل تھا۔ اس عرصے میں ہمیں عدالت کی طرف سے اچھے احکامات مل رہے تھے۔ میں نے بطور وکیل اپنے حصے کا جو کام تھا کیا۔ اس لئے کہ بابری مسجد کا تنازعہ میرے لئے کوئی عام معاملہ نہیں تھا بلکہ ایک اہم معاملہ تھا یہی وجہ تھی کہ میں ان کے ساتھ کھڑا تھا۔
سوال: پھر انہوں نے (جمعیۃ علماء ہند) نے آپ کی خدمات کیوں روک دیں؟
ایڈوکیٹ ارشاد حنیف:: جمعیۃ علماء ہند بہتر طور پر اس سوال کا جواب دے سکتی ہے۔ لیکن مجھے یہ کہہ کر مقدمے سے ہٹادیاگیا کہ ڈاکٹر راجیو ھون نے یہ شرط رکھی ہے کہ انہیں اس مقدمے میں وکیل کے طور پرآن ریکارڈاعجاز مقبول کی ضرورت ہے۔ جمعیۃ علماء ہند ممبئی برانچ نے مجھے خط لکھ کر “No Objection Certificate” مانگا اور میری طرف سے این او سی فوری طور پر جاری کر دیا گیا اور میں نے خود کو اس کیس سے مکمل طور پر الگ کر لیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ڈاکٹر دھون نے ایسی کوئی شرط رکھی تھی یا نہیں لیکن جمعیۃعلماء ممبئی کا لکھا ہوا خط اب بھی میرے پاس موجودہے۔
سوال: کیا آپ نے جمعیۃعلماء ہند (ارشد مدنی) سے بابری مسجد کیس میں کوئی پیشہ ورانہ فیس وصول کی؟
ایڈوکیٹ ارشاد حنیف: نہیں، میں نے ان تین سالوں میں کوئی فیس نہیں لی۔ اس بات کی تصدیق جمعیۃ علماء ہند کے دفتر سے کی جاسکتی ہے۔
سوال: مسلم مرر(Muslim Mirror) نے انکشاف کیاہے کہ ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نے جمعیۃ علماءہند سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون کے نام پر 60 لاکھ روپے بطور فیس وصول کئے ہیں۔جب کہ دھون صاحب نے بابری مسجد بمقابلہ رام جنم بھومی ٹائٹل سوٹ کیس میں 1994 ء سے اب تک کوئی پیشہ ورانہ فیس وصول نہیں کی۔ کیاآپ ایڈوکیٹ اعجاز مقبول کی جعلسازی کا دعویٰ کرتے ہیں؟
ایڈوکیٹ ارشاد حنیف: زیادہ بہتر ہوتا کہ ایڈوکیٹ اعجاز مقبول، ڈاکٹرراجیودھون یا حضرت مولانا ارشد مدنی اس سوال کا جواب دینے کے لئے آگے آتے۔ لیکن چونکہ یہ سوال مجھ سے پوچھاگیا ہے اس لئے میں اس کا جواب دے دیتا ہوں “کہ تقریباً چھ ماہ قبل جب میں سی اے اے کے معاملے میں اپنے دفتر میں ڈاکٹر راجیودھون کے ساتھ کانفرنس کر رہا تھا تو ڈاکٹر دھون نے مجھے بتایا کہ انہوں نے کبھی بابری مسجد کیس میں کوئی پیشہ ورانہ فیس وصول نہیں کی۔ میں نے جواباً ان سے کہا کہ میری معلومات کے مطابق، جمعیۃعلماء ہندنے ہر تاریخ پر جب آپ حاضر ہوئے کچھ نہ کچھ رقم دی ہے ۔ اس پر انہوں نےتعجب کا اظہار کیا۔ “کیا کہہ رہے ہو؟”میں نے اپنی بات دہرا کر انہیں مزید بتایا کہ آپ کے نام پر جاری کردہ تمام بل جمعیۃ علماء ہند کے پاس موجود ہیں۔ ڈاکٹر دھون نے بتایا کہ انہیں ان بلوں کی زیروکس کاپی چاہئے۔ میں جمعیۃ کے دفتر پہنچا کہ ان بلوں کی کاپی مل جائے لیکن مجھے بتایا گیا کہ ان کا ڈاکٹر دھون سے براہ راست رابطہ ہے۔ نتیجتاً جمعیۃ علماءنے ان بلوں کی کوئی کاپی میرے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ جب میں ڈاکٹر دھون سے مذکورہ بالا گفتگو کر رہا تھا، تب ہی وہیں سے میں نے مولانا ارشد مدنی کو فون کیا۔ انہوں نے فون اٹھایااور میں نے ان سے سب کچھ بیان کیا۔ مولانا مدنی نے مجھے فون پر بتایا کہ”ہم نے ڈاکٹر دھون کی پیشہ ورانہ فیس کے عوض ایڈوکیٹ اعجاز مقبول کو 60،00،000 (60 لاکھ روپے) ادا کیے ہیں۔”میں نے اپنا فون ڈاکٹر دھون کے حوالے کیا اور ان کی مولاناارشد مدنی سے براہ راست گفتگو ہوئی جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی اوربطور فیس ایڈوکیٹ اعجاز مقبول کودی گئی رقم کی حقیقت سامنے آئی۔ جہاں کہیں بھی مجھ سےاس مسئلے پر بات کرنے کو کہاجائے گامیں حلفیہ بات کرنے کو تیارہوں۔
سوال: ایسا لگتا ہے کہ آپ ایڈوکیٹ اعجازمقبول کو پھنسانا چاہتے ہیں کیونکہ معاملہ دھون، جمعیۃ علماء ہند اور مقبول کے درمیان ہے۔ آپ اس میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟
ایڈوکیٹ ارشاد حنیف: آپ ڈاکٹر دھون، جمعیۃ علماءاورایڈوکیٹ مقبول کے درمیان اس مسئلے کو کس طرح محدود کرسکتے ہیں؟ کیا بابری مسجد جمعیۃ علماء کی ذاتی ملکیت تھی؟ پیشہ ورانہ فیس کا ایک پیسہ وصول کیے بغیر بابری مسجد کیس پر 3 سال سے زیادہ موثر طریقے سے مقدمہ چلانے کے بعد میں اس مسئلے پر کیسے خاموش رہ سکتا ہوں؟آپ کو اس بات پر میری تعریف کرنی چاہئے لیکن آپ تو میری نیت پر شک کررہےہیں کہ میں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنی ڈیوٹی سے خودکو الگ کررہا ہوں۔ کیا میں یہ پیسے اپنے لئے مانگ رہا ہوں؟ یہ مسلم کمیونٹی کا پیسہ ہے اور اعجاز مقبول سے اس رقم کی وصولی کا حق بھارت کے ہر مسلمان کو حاصل ہے۔ براہ کرم ناجائز سوال پوچھ کر اس مسئلے کو کمزور نہ کریں۔
سوال: جعلسازی کی خبریں گردش کررہی ہیں لیکن ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نہ تواس الزام کو قبول کررہے ہیں اور نہ ہی اس کی تردید کررہے ہیں جبکہ جمعیۃ علماء ہند بھی اس معاملے پر پراسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے، اس کے علاوہ مزید لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟
ایڈوکیٹ ارشاد حنیف: : میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں مسلم کمیونٹی کا اعتماد اور ان کا بھروسہ بھی شامل ہو۔ اس لئے جمعیۃ علماء کو اپنی خاموشی توڑ کر عوام کے سامنے سچ بیان کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ یہ رقم ایڈوکیٹ اعجاز مقبول کی طرف سے جمعیۃ علماءہندکو واپس کی جائے اور جمعیۃ علماء ہند یہ رقم ڈاکٹر دھون کے سامنے ایک درخواست کے ساتھ رکھے کہ وہ (ڈاکٹر دھون) اس رقم کے حوالے سے جوفیصلہ چاہیںسنائیں۔
سوال: کیا آپ کو بابری مسجد مقدمہ سے متعلق رقم کا لین دین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتائج کے درمیان کوئی تعلق نظر آتا ہے؟
ایڈوکیٹ ارشاد حنیف: میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ صحافیوں کا کام ہے کہ وہ اس کا تجزیہ کریں۔ تاہم میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اگر ہمارے عدالتی نظام میں سپریم کورٹ کے اوپر کوئی عدالت ہوتی تو بابری مسجد کیس کا فیصلہ برخلاف جاتا۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*