بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / قوم کے مسیحا کے ساتھ ناروا سلوک کیوں؟

قوم کے مسیحا کے ساتھ ناروا سلوک کیوں؟

قاسم ٹانڈوی

قاسم ٹانڈوی

محمد قاسم ٹانڈؔوی
ہمارے ہندوستانی معاشرے میں ایک بڑا طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جس کا عقیدہ ڈاکٹر حضرات کے متعلق یہ ہے کہ وہ خدا کا دوسرا روپ ہوتے ہیں اور اس عقیدے میں اس وقت خاص کر پہلے سے بھی زیادہ پختگی اور شدت آ جاتی ہے جب کسی کی جان پر بن آئی ہو اور اسے دور دور تک کوئی راہ نہ سجھائی دے رہی ہو مگر اچانک اسے یا اس کے ہم خیال و ہم رکاب کو کسی ماہر فن ڈاکٹر نے اپنی جان جوکھم میں ڈال نئی زندگی بخش دی ہو، تو ایسے میں اس ڈاکٹر کے ہاتھوں صحت و شفایابی سے ہمکنار ہونے والا شخص اپنے دل میں جو عقیدت و محبت کے پھول اور والہانہ جذبات اس کے تئیں لئے لوٹتا ہے تو اس وقت اس کی یہ عجیب و غریب کیفیت اور خاص حالت قابل دید ہوا کرتی ہے۔ اس لئے عوام کے درمیان ڈاکٹر طبقہ کے تئیں ہمیشہ اخوت و ہمدردی اور الفت و محبت کے جذبات دیکھے جاتے ہیں، ہاں کبھی کبھی جلد بازی، عدم واقفیت اور غیر اطمینان بخش صورتحال میں کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے، مگر ایسا سال میں اکا دکا واقعات سامنے آتے ہیں اور چند لوگوں کے اس طرز عمل کو دلیل و حجت بھی قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ اکثریت کے ذہن و خیال میں اس طبقے اور پیشے سے منسلک افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
بہر کیف ! ڈاکٹر ہو یا کوئی بھی ماہر علم و فن اور جامع کمالات شخصیت اور وہ کسی بھی طبقہ، فرقہ اور مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو ایسے شخص کو اس کا جائز مقام دینا چاہئے اور قوم و ملت کے ساتھ اس کی وابستگی اور حاصل شدہ اس کی خدمات کا نہ صرف صدق دل سے اعتراف و اقرار کرنا چاہئے بلکہ پورے اہتمام و احترام کے ساتھ اس کی بات اور مسائل کو سنا جانا چاہئے، خواہ یہ بات چیت اور گفتگو عدالت میں ہو یا خارج عدالت، جب تک الزامات ثابت نہ ہو جائیں تب تک اس کے ساتھ کسی بھی طرح کی توہین و تذلیل سے کام نہ لیا جائے بلکہ ہر اس اقدام سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے اس کی شخصیت اور پیشہ مجروح ہوتے ہوں اور برابر اس کی حمایت و پشت پناہی کرنے کی کوشش ہونی چاہیے جب تک زیر بحث مسئلہ عدالت سے ادھر یا ادھر نہ ہو جائے یعنی یا تو الزامات میں ماخوذ شخص کو مکمل طور پر رہائی نصیب ہو جائے یا پھر عدالت اس کے خلاف اپنا فیصلہ سنا کر اسے مجرم ٹھہرا دے۔ مگر تب تک طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر اسے ذہنی آزمائش میں مبتلا کرنا، اس کے گھر والوں کو ٹارچر کرنا یا اس کے ساتھ اس طرح پیش آنا کہ وہ باتیں اور امور حقیقت میں اس کے مقام و مرتبہ کی شان کے خلاف ہوں اور وہی چیزیں اس کےلئے مستقبل میں نقصاندہ ثابت ہونے والے ہوں؛ ان سے ذاتی طور پر بھی یا جو قانونی چارہ جوئی میں اس کے خلاف ہوں انہیں بھی مکمل اعراض برتنا چاہئے، کیوں کہ اسے پھر اپنے پیشے سے منسلک ہونا ہے اب اگر ایسے مواقع پر اس سے ہونے والی چوک اور غلطی پر حکومتی سطح پر دانستہ و غیردانستہ طور سے ٹارگٹ کیا گیا اور اس کے ساتھ ظلم و زیادتی برتی گئی یا اس کے پیشے کے تعلق سے پروپیگنڈا کر افواہوں کا بازار گرم کیا گیا تو کل اگرچہ یہ شخص اپنے الزامات سے بری ہو جائےگا مگر سماج اور لوگوں کے ذہن میں جو بات آج بیٹھ جائےگی، اس کےلئے تمام زندگی بھی اس سے پیچھا چھڑانا یا دامن پہ لگے ان جھوٹے داغوں کو دھونا بڑا مشکل کام ہو جائےگا۔ اس لئے حکومتوں اور تحقیقی ایجینسیوں سے وابستہ ارکان کو اس بات کا خاص طور پر دھیان رکھنا چاہیے تاکہ عدالت و کچہری سے رہائی ملنے کے بعد جب اسے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی ضرورت درپیش ہو تو اسے اس وقت کسی طرح کی دقت و پریشانی، قوم کی طرف سے لعن طعن اور لوگوں کی اوٹ پٹانگ گفتگو سے واسطہ نہ پڑے۔
ایک ہمارا ہی کیا سبھی کا یہ کہنا ہے کہ: “ڈاکٹر ہو یا وکیل، استاد ہو یا انجینئر یا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا آخر ہوتا تو وہ انسان ہی ہے اور انسانوں کے سلسلے میں یہ قاعدہ کلیہ ہےکہ جو بھی انسانوں کی جماعت اور انسانی گروہ میں آئےگا یقینا اس سے غلطی کا صدور و وقوع ہوگا اور جس سے کسی غلطی کا وقوع نہ ہو تو اس کے بارے میں یہ طے شدہ بات ہے کہ وہ انسان نہیں بلکہ یا تو وہ زمرۂ انسانیت سے اوپر کی کیٹیگری سے تعلق رکھنے والی مخلوق ہے یا پھر وہ اس سے نیچے طبقہ سے متعلق ہوگا۔
ہمارا مذہب اسلام بھی اور ہمارا ملکی آئین بھی تمام انسانوں کے ساتھ بحیثیت ان کے انسان ہونے کے تعظیم و تکریم اور ان کی عزت نفس کی حفاظت کا حق فراہم کرتے ہیں اور ہرقسم کی انسانیت سوز حرکات پر قدغن لگاتے ہیں، رہی بات جرم و گناہ صادر ہونے کی تو اس سلسلے میں ہمارے ملک کی عدالتیں متعدد بار پولس اور تحقیقی ایجینسیوں کو اس بات کا پابند کر چکی ہیں کہ وہ “ملزم و مجرم” میں فرق کرنا سیکھیں۔
مگر دنیا کے دوسرے سب سے بڑے “جمہوری نظام” سے لیس اور اپنے عوام کےلئے سب سے مامون و محفوظ کہلانے والے اس ملک میں ہوتا وہی ہے جو حکومتیں چاہتی ہیں اور جس کو یا تو وہ اپنا عزیز و رفیق بنا کر رکھنا چاہتی ہیں، اسے عزت کی روٹی نصیب ہوتی ہے یا پھر جس پر وہ اپنا ظلم و ستم کا کوڑا برسانا پسند کرتی ہیں اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
آج ملک کے ساتھ پوری دنیا جس وبائی مرض میں مبتلا ہے، جہاں ایک دوسرا باہمی مصافحہ و معانقہ سے بھی محروم ہے، کوئی کسی سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں ہے، پوری انسانیت کورونا وائرس کی واہی تباہی سے سسک بلک رہی ہے، انسان بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر خود کو لے جانے سے کترا رہا ہے اور اسے اپنا گھر ہی سب سے زیادہ محفوظ نظر آ رہا ہے، ایسے میں ڈاکٹروں کا طبقہ جو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر دوسروں کی جان بچانے کی فراق میں رات و دن ایک کئے ہوئے ہیں، کیا شہر اور کیا دیہات ہر جگہ ڈاکٹروں کی قلت کا سامنا ہے ایسے میں قوم و ملت کے ہمدرد اور عوام کے سچے مسیحاؤں کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ ایک کے بعد ایک آرام کے ساتھ مریضوں کی عیادت اور خدمت گزاری کر سکیں اور آفت و مصیبت کی اس مشکل و خوفناک گھڑی میں عوام کو تسلی دیں اور ملک کو نجات دلا سکیں۔
مگر بھلا ہو ہمارے ملک کی نفرت بھری سیاست اور انتقامی جذبوں سے سرشار بُری طبیعتوں کا جنہوں نے ہر عام و خاص شخص اور ہر ذی کمال آدمی کو اپنی انا کی بھٹی میں ڈال کر اپنے کلیجوں کو ٹھنڈا کرنے کی ناپاک رسم جاری کی جس کا سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے اور جس کا خمیازہ اصل مجرموں کی جگہ معصوم اور بےگناہ لوگ بھگت رہے ہیں۔
آخر کیا جرم اور گناہ کیا ہے انسانیت کے مسیحا ڈاکٹر کفیل خان نے جو آج سلاخوں کے پیچھے ہے اور وہ جیل میں رہتے ہوئے بذریعہ خط اپنے اہل خانہ کو مطلع کر رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی انہونی واقعہ پیش آ جائے اور افسران و ذمہ دار اس کو میری خودکشی قرار دے دیں؟
کیا غلطی اور برا کیا قوم و ملت کے اس ہمدرد و غمخوار نے، جس کی آزادی اور پیشہ سلب کر اسے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر ریاستی حکومت نے مجبور کر رکھا ہے، جہاں نہ تو اس کے شایان شان راحت و آرام کا بند و بست ہے اور نہ ہی اس کے کیریئر و مستقبل کے انتظامات ہیں؟ اور کیوں جلدی جلدی اس کے مقدمے کی تاریخیں حاصل کر مقدمہ فائنل کرانے کی کوششیں نہیں کی جا رہی ہیں تاکہ ایک بےگناہ، قوم کے ہمدرد اور بےلوث خادم کو رہائی نصیب ہو؟
اس کے ساتھ شکوہ ہے ہمیں انسانی حقوق کی تنظیموں، دینی ملی جماعتوں اور ڈاکٹر برادری سے کہ یہ سب کیوں آواز نہیں اٹھاتیں ڈاکٹر کفیل خان کے حق میں؟ جب کہ ابھی یکم جولائی کو پوری دنیا میں “ڈاکٹر ڈے” منایا گیا ہے مگر کہیں سے کوئی آواز اور صدا سنائی نہیں پڑی کہ وہ اس عالمی دن کے موقع پر ہی کم از کم ان کی رہائی کےلئے آواز بلند کرتے یا حکومت کے خلاف احتجاج و مظاہرہ کر ڈاکٹر کفیل خان کے ساتھ ہونے اور ان سے ہمدردی ہونے کا ثبوت دیتے؟ مگر نہیں کیوں کی ہمارے کان مانوس اور ہمارے دل و دماغ اس بات کو قبول کر چکے ہیں کہ جو ہو رہا ہے اسے ہونے دیا جائے، رہی بات ہماری ذات اور ہمارے پیشہ کی تو اسے کون چھین رہا ہے اور کون میرے پیچھے پڑا ہے؟ تو ان باتوں کے عادی کان والے اور ایسے دل و دماغ کے عادی لوگوں سے یہ بات صاف چور پر کہی جا رہی ہے کہ تم یہ بات مت سوچنا کی مجھے اور میرے پیشہ سے کسی کو کیا لینا دینا؛ تو یہ تمہاری بھول اور دھوکہ ہے، بلکہ آج میری باری ہے تو کل تمہارا بھی نمبر ہے، آج اگر تم میرے حق میں صدا بلند کرنے سے باز رہے تو کل وقت آنے پر تم بھی خود کا اکیلا محسوس کروگے، اس لئے انفرادی، اجتماعی، تحریری اور عوامی ہر سطح پر آوازیں بلند کرنا سیکھو ورنہ ہر ایک دوسرے کو اسی طرح گم ہوتے دیکھےگا اور خود کو ہی گم کر بیٹھےگا۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*