بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / مسجدِآیاصوفیاسےمسجدِاقصی کی جانب

مسجدِآیاصوفیاسےمسجدِاقصی کی جانب

طیب اردوغان

طیب اردوغان

سمیع اللّٰہ خان
خلافتِ عثمانیہ کی یادگار اردوغان کی طرف سے اہل اسلام کو مبارکباد: آج دنیا میں بسنے والے ہر ہر مؤمن کے لیے فتح اور مسرت کا دن ہے، اسلامی فتح کی بشارتیں دستک دیتی ہیں، استقبال کیجی ترکی سے خوشخبری آئی ہےتاجدارِ مسلمین سلطان محمد الفاتح نے رسول اللہﷺ کی پیشن گوئی بجا لاتے ہوئے استنبول کو فتح کیا، رسول اللہ کی پیشنگوئی کے عملی ہیرو بننے والے سلطان نے عالم اسلام پر تاقیامت تاریخ ساز انعام کیا اور مسیحی دنیا کو رہتی دنیا تک کے لیے درد دیتے ہوئے آیا صوفیا کے مقام پر ایک مسجد کی بنیاد ڈالی آیا صوفیا کی مسجد صلیبی اور اسلام دشمن بازنطینی دنیا کے لیے سخت ترین کڑوی علامت ہے، جس مقام پر سلطان نے آیا صوفیا مسجد بنائی وہ مقام عیسائیوں کے یہاں ایک عسکری قوت کی نشانی تھی، اس مقام سے عیسائیوں کا یہ عقیدہ بھی وابستہ تھا کہ جب تک یہ گرجا موجود ہے عیسائی سلطنت کو زوال نہیں آسکتا، یہ مقام صلیبی دنیا کی تخریبی ریشہ دوانیوں کا بھی مرکز تھی اس لحاظ سے اسے ایک جنگی حیثیت بھی حاصل تھی اور اس کی مذہبی حیثیت جاتی رہتی تھی اس کے باوجود فاتحِ قسطنطنیہ استنبول شہر کے مالک سلطان محمد الفاتح رحمہ اللہ نے شہر فتح کرنے کے بعد قانونی اور اخلاقی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد آیا صوفیا کو مسجد کے طورپر ازسرنو تعمیر کیا1453 ءمیں جب آیا صوفیا مسجد بنی تب صلیبی اور بازنطینی دنیا میں ماتم کی لہر دوڑ گئی، آیا صوفیا خلافت عثمانیہ کے عروج کی نشانی بن گئی۔
فتح قسطنطنیہ کے لیے رسول اللہﷺ کی پیشنگوئی عیسائی دنیا میں قوت اور عروج کی نشانی سمجھی جانے والی آیا صوفیا میں اذانوں کی گونج سے مکمل ہوئی عثمانی ترکوں کے دور میں آیا صوفیا میں شاندار تعمیراتی کارنامے انجام پائے، آیا صوفیا مسجد اور اس کے محل وقوع کو فطرت کی خوشبوؤں سے ہم آہنگ کیا گیا، فن تعمیر کی اعلیٰ ترین کاریگری اور نقش و نگار سے اسے آراستہ کیا گیا، عثمانی خلافت کے معروف ماہر تعمیرات سنان پاشا کے میناروں نے آیا صوفیا کو جیسے ایک عظیم عروج کی نشانی بنادیا، آیا صوفیا مسجد کے مینار نیزے کے مانند نظر آتے ہیں جو اسلام دشمن صلیبی طاقتوں کے سینوں کو داغتے رہتے ہیں، اس کے منبر و محراب اور اس میں لٹکتی خلفائے راشدین کی تختیاں، اس کے اطراف کی سرسبز ہوائیں اور معطر فضائیں توحید و اذان کی گونج کو روح پرور کردیتی ہیں، عثمانی ترکوں نے آیا صوفیاء کو عالم اسلام کے لیے روح افزاء بنادیا بعد میں جب ترکی میں حالات استعماری سامراج کے حق میں ہوئے تو ۱۹۳۱ ءمیں اس مسجد کو بند کردیاگیا، بعدازاں ۱۹۳۵ ءمیں سیکولر اور دین بیزار اتاترک نے اس مسجد کو میوزیم میں تبدیل کردیا، اتاترک نے یہ غیر قانونی اور ناجائز کام کیا تاکہ مغربی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرے، خلافت عثمانیہ کی عظیم نشانی اور مسلمانوں کے عروج کی یادگار کو جو کہ 1453 ءسے 1953 ءتک مسلسل مسجد تھی اسے میوزیم بنانے کا فیصلہ ایک غیرشرعی اور غیر قانونی زیادتی تھی، اس بگاڑ اور ظالمانہ عمل کو اب رجب طیب اردوغان نے ترکی کی اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے ذریعے درست کردیاہے، اردوغان نے آیا صوفیا کو مسجد کے طور پر دوبارہ فتح کرکے درحقیقت ایک ظالمانہ حرکت کی اصلاح کی ہے، ایک ثقافتی تاریخ کی تصحیح کی ہے وہ امریکا اور یونان جو دنیا بھر میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل کے مجرم ہیں وہ لوگ آیا صوفیا کو مسجد بنانے پر معترض ہیں، صلیبی اور بازنطینی ماتم پیٹ رہےہیں، ترکی کے وزیراعظم اور عالم اسلام کے آہنی لیڈر رجب طیب اردوغان نے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ہےکہ: یہ ترکی کا اندرونی معاملہ ہے اور ترکی میں حکومت ترکوں کی ہے اور یہ ترکوں کی خودمختاری کا مسئلہ ہےیہ وہی مغربی دنیا ہے جو مسجدِ اقصیٰ سے لیکر بابری مسجد تک اور فلسطین سے لیکر برما و کشمیر تک، مساجد اور مسلمانوں کی پامالی پر انہیں سانپ سونگھ رہا ہے لیکن ایک حقیقی مسجد کی بازیابی پر ان کے پیٹ میں مروڑ ہے اور یہ اسے ڈکٹیٹرشپ کہتےہیں دراصل یہ ان کے اندر کا چھپا ہوا اسلام دشمن عناد ہے جو اہل اسلام کی تاریخی فتح پر زہر اگل رہا ہے آیا صوفیا کو بحیثیت مسجد نماز اور عبادت کے ليے واپس فتح کر کے اردوغان نے ۲۰۲۳ ءمیں معاہدہ لوزان کے بعد اپنی پالیسیوں کا رخ واضح کردیاہے، ہم جیسے اسلامی عروج کی تمنا رکھنے والوں کے لیے آیا صوفیہ کی فتح دراصل مسجدِ اقصیٰ کی جانب اہلِ نصرت کے سفر کا اعلامیہ ہے، مسجدِ اقصیٰ کو یہودی استعمار کے چنگل سے آزاد کرانے کا استعارہ ہے۔اللھم آمین
مسلمانوں کے لیے مدتوں بعد کوئی عالمی اسلامی اخوت کا تاریخی دن میسر آیا ہے، اہل ایمان دنیا کے خواہ کسی بھی کونے میں ہوں ان پر ضروری ہےکہ وہ عالم اسلامی کے اپنے عظیم رہنما کی بشارت قبول کریں، اردوغان نے اس لحظے کو پوری امت کے لیے بطور مبارکباد پیش کیا ہے، گھر گھر میں شیرینی اور دوگانہ کا اہتمام ہونا چاہیے، اردوغان کی سلامتی اور حق پر استقامت کی دعائیں ہونی چاہییں، میں اپنے گھر میں میٹھا بنوا رہا ہوں اور ہمارا پورا گھرانہ آج دوگانہء شکر ادا کررہاہے ، آپ بھی اس کا اہتمام کیجئے، آیا صوفیہ سے اقصیٰ کی جانب فتح مند سفر کی دعائیں کیجیے، مومن اپنی ایمانی حرارت سے جڑی تاریخ پر مسرت سے شادمان ہو تو یہ ایمان کی روحانی زندگی ہے، آج عدنان میندریس سے لیکر تمام عثمانی خلفاء کی روح خوش ہے آج سلطان کی روح سرشار ہے ” مبارک ہو، ترکی سے آنے والی خیر مبارک ہو

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*