بنیادی صفحہ / بازار / قربانی کے جانوروں کی آن لائن خریداری کے فرمان پر مہاراشٹر کے مسلمان برہم

قربانی کے جانوروں کی آن لائن خریداری کے فرمان پر مہاراشٹر کے مسلمان برہم

دیونار بکرا منڈی میں قربانی کے جانروں کی فروخت کے لیے ڈیجیٹل سسٹم کا آغاز کیا گیا ہے

)دیونار بکرا منڈی میں قربانی کے جانروں کی فروخت کے لیے ڈیجیٹل سسٹم (فائل فوٹو

ریاستی حکومت کی گائیڈ لائن سے ملی تنظیموں میں تشویش کی لہر،وزیر اعلیٰ سے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل
ممبئی(معیشت نیوز) عید الاضحی کی مناسبت سے قربانی کے جانوروں کی آن لائن خریداری کے حکومتی فرمان پر مہاراشٹر کے مسلمانوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ساتھ ہی مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے حکومتی فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔

جماعت اسلامی مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری ظفر انصاری

جماعت اسلامی مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری ظفر انصاری

جماعت اسلامی مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری ظفر انصاری کہتے ہیں’’یقیناً کرونا وائرس کی وجہ سے سوشل ڈسٹینسنگ انتہائی ضروری ہے لیکن سوشل ڈسٹینسنگ کے بہانے اسلامی شعائر کو ترک کردینے یاکوئی اور متبادل تلاش کرنے کی اپیل انتہائی نامناسب ہے ہم نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے صاحب کو مکتوب روانہ کیا ہے جس میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کو بکرا منڈی لگانے کی اجازت دی جائے بلکہ اس بات کی کوشش کی جائے کہ سوشل ڈسٹینسنگ کے ساتھ منڈی کیسے لگائی جا سکتی ہے۔‘‘معیشت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’منڈی کا لگایا جانا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے ذریعہ بیوپاریوں کے معاشی مسائل حل ہوتے ہیں چونکہ یہ موقع سال میں ایک بار آتا ہے لہذا بیوپاریوں کو معاشی مندی کے دور میں فائدہ پہنچانا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے‘‘۔

ابو عاصم اعظمی وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ آن لائن میٹنگ کے دوران

ابو عاصم اعظمی وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ آن لائن میٹنگ کے دوران

مہاراشٹر سماجوادی پارٹی سربراہ ابو عاصم اعظمی معیشت سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں’’کچھ لوگوں نے کریڈٹ لینے کے چکر میں پورے معاملے کو خراب کردیا ہے۔این سی پی سے وابستہ نواب ملک برملا کہتے پھر رہے ہیں کہ میں منڈی لگنے نہیں دوں گا جبکہ کانگریسی ایم ایل اے اسلم شیخ نے ہمیں میٹنگ سے پہلےجو کچھ بتایا تھا وہ میٹنگ کے دوران اس سے مکر گئے لہذا فی الحال معاملہ صاف نہیں ہے ۔لیکن میں نے میٹنگ کے دوران جس میں ایڈیشنل کمشنر سنجے جائیسوال ،پولس افسران کے ساتھ انٹلی جنس کے افسران بھی موجود تھے یہ کہا ہے کہ اگر آپ دیونار میں ایک ساتھ منڈی کی اجازت نہیں دیتے تو کم از کم 24وارڈ میں الگ الگ جگہ منڈی لگانے کی اجازت دی جائے تاکہ بھیڑ منتشر ہوجائے ۔یا جن جگہوں سے لوگ اجازت طلب کریں انہیں اجازت دی جائے تاکہ بیوپاری اپنا جانور بیچ سکیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’بیوپاری آن لائن بکرا کیسے بیچے گا اور خریدار کیسے خریدے گا کہ قربانی کے جانور کےمختلف مسائل ہیں جب تک کوئی اسے نہیں دیکھے گا وہ بکرا نہیں خرید سکتا۔‘‘

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے وابستہ مولانا لقمان ندوی

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے وابستہ مولانا لقمان ندوی

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے وابستہ مولانا لقمان ندوی کہتے ہیں ’’یہ سچ ہے کہ کرونا کی وجہ سے زندگی کی رفتار تھم سی گئی ہے۔لیکن یہ کیا ظلم ہے کہ معمولی خوشی جو اس پر آشوب وقت میں مل سکتی ہے اس پر حکومت قدغن لگارہی ہے اور کسی بھی صورت ماحول میں تبدیلی کی کوشش نہ کرنے کے درپے ہے، زندگی کے بہت سے شعبوں میں ہلچل ہے اور بہتری کے آثار و امکانات روز بروز قوی ہوتے جارہے ہیں لیکن عید الاضحی کے موقع پر حکومت کا سخت رویہ ناقابل فہم ہے، اس پر حکومت اور زر خریدوں کا مشورہ کہ بکریوں کو آن لائن خریدا جائے یہ کسی دیوانے کی بڑ سے زیادہ نہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ آن لائن خریداری کی جائے۔ ٹراسپورٹ کی سہولت کیسے ملے گی کیا پولیس ظالمانہ کار روائی نہیں کرے گی۔یہ سب بکواس ہے مسلم ممبران اسمبلی نے سرینڈر کردیا ہے۔ان میں کئ تو ایسے حیا باختہ ہیں جو باقاعدہ آن لائن خریداری کا مشورہ دینے اور اس پر عمل در آمد کی کوشش میں جٹ گئے ہیں۔محدود پیمانے پر ہی سہی لیکن مقامی سماجی خدمت گاروں سے حکومت مشورہ کرے اور ان سے تعاون لے ایسی صورت میں آسانی سے معاملات درست ہوسکتے ہیں ورنہ کانگریس و این سی پی کے ممبران اسمبلی گند پھیلانے کے سوا کچھ نہیں کریں گے۔‘‘۔

آل انڈیا حلال بورڈ کے جنرل سکریٹری دانش ریاض نے چھ نکاتی گائیڈ لائن کو غیرواضح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’گائیڈ لائن میں جانوروں کی منڈی لگانے اور مسجد یا عید گاہ میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہےجبکہ مسلمانوں سے عید انتہائی سادگی اور گھر پر ہی منانے کی اپیل کی گئی ہے۔ جانوروں کی آن لائن خریداری کی ہدایت دی گئی ہے لیکن وہ کیسے ہوگی اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔ آن لائن خریداری کر کے جانوروں کو سوسائٹی میں یا اپنے گھر لایا جاسکتا ہے یانہیں اس بارے میں بھی کوئی وضاحت نہیں ہے۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے جس طرح تمام شہریوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ انہیں اس موقع پر بھی مسلمانوں کے مذہبی معاملات کا احترام کرنا چاہئے اور عید الاضحی کی بہتر طور پر ادائیگی کی اجازت دی جانی چاہئے‘‘۔

گلزار اعظمی

گلزار اعظمی

جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل کے ذمہ دار گلزار اعظمی کہتے ہیں کہ’’ جانور کی آن لائن خریداری اس لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ اسے ہر طرح سے جانچ پرکھ کر خریدا جاتا ہے کہ اس میں کوئی عیب تو نہیں ہے۔ حکومت نے گائیڈ لائن کی شکل میں جو پابندی لگائی ہے وہ غلط ہے اور اسے ہم دین میں مداخلت کے مترادف سمجھتے ہیں ۔ مسلمان ایم ایل اے اس تعلق سے حکومت سے اپنی بات منوائیں ورنہ احتجاجاً استعفیٰ دے دیں ‘‘۔
چھ نکاتی گائیڈ لائن کیا ہے
کووڈ ۱۹؍ کی وباکے سبب عائد پابندی کے پیشِ نظر عید الاضحی کی نماز مسجد یا عید گاہ یا عوامی مقامات پر ادا نہ کرتے ہوئے شہری اپنے گھروں پر نمازادا کریں ۔
جانوروں کے بازار بند رہیں گے ۔ اگر شہریوں کو جانور خریدنے ہوں تو وہ آن لائن یا فون پر اس کی خریداری کریں ۔
جتنا ہو سکے اتنی ’ سیمبولک‘ (علامتی ) قربانی کریں ۔ یعنی جو شہری ایک کی جگہ کئی جانوروں کی قربانی کرتے تھے وہ امسال ایک یا ۲؍ جانوروں کی قربانی کریں ۔
کنٹینمنٹ زون میں پابندیاں نافذ ہی رہیں گی۔ یہاں عید الاضحی کیلئے بھی کوئی راحت نہیں دی جائے گی۔
عید الاضحی کے موقع پر عوامی مقامات پر بھیڑ بھاڑ نہ کریں ۔
کووڈ ۱۹؍ کے روک تھام کیلئے حکومت کا امدادی یا بازآباد کاری محکمہ ، صحت ، ماحولیات،میڈیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اور اسی طرح متعلقہ میونسپل کارپوریشن، پولیس اور مقامی انتظامیہ دیئے گئے احکام پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہوگا۔ اسی طرح اس سرکیولر یا ہر تہوارکے موقع پر جاری کردہ ہدایتوں پر بھی عمل کیاجانا چاہئے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*