بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / بابری مسجد، 9/نومبر اور 5/اگست

بابری مسجد، 9/نومبر اور 5/اگست

بابری مسجد

بابری مسجد

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
5/اگست 2020ء کو ایودھیا میں نریندر مودی کا ون مین شو ہوا۔ انہوں نے 40کیلو وزنی چاندی کی اینٹ کے ساتھ رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔ ہوسکتا ہے کہ ہندوؤں کی اکثریت خوش ہو‘ مگر یہ حقیقت ہے کہ نہ تو سادھو سنت خوش ہیں‘ اور نہ ہی بی جے پی کے قائدین۔ نریندر مودی نے اپنے دوسرے قائدین کی محنتوں کا پھل خود چکھ لیا۔ وہ 28برس بعد ایودھیا گئے‘ 28برس پہلے اڈوانی کی رام رتھ یاترا کے رتھ کو چلاتے ہوئے گئے تھے‘ 28برس پہلے کے ہندوؤں کے ہیرو خود مودی کے مہربان اور کرم فرما اڈوانی کو چھوڑ کر انہوں نے رام مندر تحریک کی کامیابی اپنے نام کرلی۔ مسلمانوں نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا، خاموشی اختیار کی، اس کے علاوہ اور کربھی کیا کرسکتے تھے۔ جو قائدین ناکام رہے‘ مختلف پلیٹ فارم سے بیواؤں کی طرح کوستے اور اڑلاتے رہ گئے۔ عام مسلمانوں میں غم و غصہ ضرور ہے‘ مگر 28برس پہلے ہی وہ بابری مسجد کی شہادت کا ماتم کرچکے ہیں۔ ہر سال رسمی طور پر شہادت کی برسی منائی جاتی ہے۔ جس میں بھی وہ شدت باقی نہیں رہی۔ یوں تو بابری مسجد کا مقدمہ لڑا جاتا رہا‘ مگر سبھی جانتے تھے کہ ہم ایک ہارنے والی جنگ لڑرہے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت سے بہت پہلے ہم اس سے محروم ہوچکے تھے۔ جب مسلمانوں کے دو فریق اس کے دعویدار ہوگئے۔ اس میں ایک فریق تو وہ ہے جو ہر دور میں مسلمانوں کو ان ہی کی صفوں میں داخل ہوکر نقصان پہنچاتا رہا ہے۔ پھر معصوم اور بھولے بھالے چہرے سیکولرزم کا لبادہ پہنے راجیو گاندھی نے مسلمانوں کے اعتماد کو پامال کیا اور ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ راجیو گاندھی نے اپنے کزن ارون نہرو کے ساتھ مل کر اُس وقت کے چیف منسٹر اُترپردیش ویر بہادر سنگھ کو آمادہ کیا کہ برسوں تک پڑا ہوا بابری مسجد کا تالا کھول دیا جائے۔ سابق صدر جمہوریہ مسٹر پرنب مکرجی نے اپنی کتاب ”The Turbulent years 1980-90“ میں لکھا ہے کہ بابری مسجد کا تالا کھلوانا راجیو گاندھی کی بہت بڑی غلطی تھی۔ راجیو گاندھی نے اُس وقت شمالی ہند کے مشہور اور ہمیشہ مادرزاد برہنہ رہنے والے دیوراہا بابا سے ملاقات کی۔ بابا اپنے ملاقاتیوں کے سر پر پیر رکھ کر آشیرواد دیا۔ چنانچہ راجیو گاندھی کے سر پر بھی لات رکھی گئی تھی انہوں نے آسمانی فضاؤں میں اڑنے والے پائیلیٹ سے سیاستدان بن جانے والے راجیو گاندھی کو آدیش دیا کرتے تھے۔ ”بچہ۔۔۔۔ ہوجانے دو“ یعنی ان کا اشارہ رام مندر کا شیلانیاس یا سنگ بنیاد رکھنے کی طرف تھا۔ چنانچہ 9/نومبر 1989ء کو متنازعہ اراضی پر شیلانیاس رکھی گئی۔ وشوا ہندو پریشد کو ایک نئی طاقت ملی اور رام مندر تحریک میں نئی جان آگئی۔ راجیو گاندھی کا خیال تھا کہ وہ ہندوؤں کی حمایت حاصل کرلیں گے مگر ان کے کارنامہ کا کریڈٹ اڈوانی، اشوک سنگھل جیسے قائدین نے لے لیا۔ مسلمانوں نے راجیو گاندھی کی قیادت والی کانگریس کو ایسی ٹھوکر ماری کہ 10سال تک اقتدار کی کرسی کے لئے وہ تڑپتی رہی۔ بی جے پی، آر ایس ایس، ہندو پریشد، بجرنگ دل، شیوشینا اور ایسی کئی تنظیمیں متحد ہوگئی۔ 6/دسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہید کردی گئی۔ اڈوانی کی 1990 کی رتھ یاترا اور 1992ء میں مسجد کی شہادت کے بعد ملک میں فسادات ہوئے۔ سینکڑوں مسلمان شہید ہوئے، سینکڑوں گرفتار ہوئے۔ اور پھر بی جے پی اقتدار میں آئی اور اقتدار سے دور بھی رہی۔ 2014ء میں مودی کی قیادت میں بی جے پی زبردست اکثریت کے ساتھ مرکز میں اقتدار میں آگئی تو یہ بات طئے ہوچکی تھی کہ رام مندر بہرحال تعمیر ہوگا کیوں کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے مسلسل رام مندر کے ستونوں اور عمارت کے ڈھانچے کی تیاری اس پر دیومالائی نقش و نگار کا کام جاری رہا۔ کیوں کہ انہیں پورا یقین تھا کہ رام مندر کی تعمیر ہوکر رہے گی۔
پھر جب بابری مسجد کا آخری فیصلہ چیف جسٹس رنجن گگوئی نے سنایا تو 9/نومبر کی تاریخ کا انتخاب کیا کیوں کہ راجیو گاندھی کے دور میں 9/نومبر کو ہی ایک طرح سے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ 5/اگست 2020ء کو مودی نے ایک طرح سے ایکشن ری۔پلے کیا یا تاریخ کو دوہرایا۔ 5/اگست کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ 2019ء کو اِسی تاریخ کو کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کیا گیا تھا۔ اس طرح سے وہ اپنی کامیابی کے پہلے سال کا جشن اور شیلانیاس‘ ایک پنتھ دو کاج کرنا چاہتے تھے۔
بابری مسجد اس کے مقام پر دوبارہ تعمیر ہوگی یا نہیں‘ آج کی تاریخ میں یہ کہنا مشکل بھی ہے اور غیر ضروری بھی‘ کیوں کہ ڈیڑھ سو سال سے ہم مقدمہ لڑتے رہے اور ہارتے رہے۔ ہماری ہار کی وجہ ہماری مذہبی اور سیاسی قیادت کی خود غرضی، مفاد پرستی رہی۔ یہ لوگ کبھی بھی متحد نہیں رہے‘ بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اپنی اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے بعض پیشرو قائدین نے جو اللہ کے پاس اپنا حساب کتاب دے رہے ہوں گے۔ بابری مسجد کے مسئلہ کو استعمال کیا اس کا استحصال کیا۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ البتہ بحیثیت مسلمان مایوسی کفر ہے‘ اللہ رب العزت سے اچھی امید رکھنی چاہئے اور ساتھ ہی اپنا محاسبہ کرنے، اپنے اعمال کو سدھارنے کی بھی ضرورت ہے۔
بابری مسجد کی شہادت اور 28/برس بعد باقاعدہ دوسری مرتبہ حاکم وقت کی موجودگی میں سنگ بنیاد کی تقریب کے بعد یقینا ان حوصلے بلند ہوچکے ہیں۔ جانے کتنی مسجدوں پر نشانہ لگایا جائے گا۔ ہماری موجودہ قیادت اگر پیشرو قائدین کے نقش قدم پر چلتی ہے تو خدا نخواستہ کئی تاریخی مساجد کے ساتھ یہی تاریخ دوہرائی جاسکتی ہے کیوں کہ بی جے پی کو ہمیشہ اقتدار میں رہنا ہے‘ اور اس کے لئے ہندوتوا کارڈ کو ہمیشہ استعمال کرتا رہنا ہوگا۔
جہاں تک 5/اگست کا تعلق ہے‘ ایک سال کے دوران یعنی 5/اگست 2019 سے 5/اگست 2020ء تک کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک سال وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے لئے وقتی کامیابی اور عارضی خوشیوں کا سبب رہا۔ مجموعی طور پر اس ایک سال کے دوران ہندوستان کو داخلی اور خارجی محاذوں پر نقصان ہی ہوتا رہا۔ کیوں کہ جس طرح سے کشمیر کو ایک جیل میں بدل دیا گیا‘ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کیا گیا، اس سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی نیک نامی متاثر رہی ہے۔ پڑوسی ملک پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ میں عالمی برادری کے سامنے اٹھایا۔ امریکہ، برطانیہ اور یوروپی یونین نے ہندوستان کے موقف پر تنقید کی۔ بعض عرب ممالک نے کڑے تیور اختیار کئے۔ چین نے سرحدی خلاف ورزی کی، فوج میں جھڑپیں ہوئیں، ایک بڑے حصہ پر اس نے قبضہ کرلیا۔ نیپال اور بنگلہ دیش سے بھی تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ قومی سلامتی کے مشیر نے ہندوستانی موسمیات کے نقشے میں جب مقبوضہ کشمیر کو بھی شامل کیا تو جوابی ردعمل کے طور پر پاکستان نے اپنے نقشے میں ترمیم کرکے ہندوستانی کشمیر کو اس میں شامل کرلیا اگرچہ کہ اس میں یہ نوٹ لکھا گیا کہ یہ علاقہ متنازعہ ہے۔
1973ء کے اندرا گاندھی۔ذوالفقار علی بھٹو شملہ معاہدہ سے پہلے بھی پاکستان کا یہی نقشہ تھا۔ معاہدہ کے بعد اس میں ترمیم کی گئی تھی۔ پاکستان کے نئے نقشے کو پاکستانی کابینہ نے منظوری دی ہے۔ اب وہ اس نقشہ کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر پر اپنا حق جتانے کی کوشش کررہا ہے۔ کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کرکے وہاں کی مسلم اکثریتی آبادی کے تناسب کو گھٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بڑی تیزی سے دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو کشمیر کی شہریت دی جارہی ہے بلکہ ملازمتوں میں بھی انہیں مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔ ایک سال کے دوران کشمیر کے جو حالات رہے‘ اس پر عالمی برادری کی رائے ٹھیک نہیں ہے۔
نریندر مودی اپنے ملک میں ایک کامیاب، دھن کے پکے لیڈر کی حیثیت سے ایک طویل عرصہ تک تاریخ میں یاد رہ جائے مگر بیرونی دنیا یا عالمی برادری میں ان سے متعلق مثبت رائے شاید ہی پیدا ہوسکے۔
ایودھیا میں جوبھی ہواوہ ہوتا رہے گا۔اس پر تبصرہ کرنا بھی اب عجیب سا لگتا ہے کیوں کہ اس وقت ہمارا حال ایسا ہی ہے جیسے غم سہتے سہتے ہم اس کے عادی ہوگئے ہوں۔اب بڑے سے بڑے سانحہ کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔کیوں کہ اس وقت عالمی وباء سے ساری دنیا خوفزدہ ہے۔ خوف نے ہم سے ہمارے مساجد کی محبت کو اس قدر کم کردیا ہے کہ جب تک مساجد میں داخلے پر پابندی تھی تب تک تو ہم روتے رہے‘ بلکتے رہے‘ احتجاج کرتے رہے۔ اور جب یہ مساجد نمازیوں کے لئے کھول دی گئیں تو وہاں آنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ بابری مسجد کے لئے اس احتجاج اور غم و غصہ کوہم کیا نام دیں! کیا واقعی ہم خوف زدہ ہیں؟ کیا واقعی ہم اس کے لئے خون کے آنسو رورہے ہیں؟کیا واقعی ہم اللہ کے گھر کی دوبارہ تعمیر چاہتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو بابری مسجد کے مستقبل کے لئے لڑائی تو جاری رکھیں گے۔ مگر پہلے اپنے اپنے محلے کی مساجد کو فتنہ پروروں، مسلک کے نام پر شر پھیلانے والوں سے پاک رکھیں‘ ان مساجد کو آباد رکھیں۔ یاد رکھئے کہ مساجد میں ہونے والی آپس کی ہر بات کبھی مسجد کے دروازے کے باہر فقیروں کی بھیس میں مخبروں کے ذریعہ آپ کے خلاف ثبوت بن جاتی ہے اور کبھی اپنے صفوں میں شامل جاسوسوں کے ذریعہ۔ اس لئے اپنے اپنے مساجد کو ہر قسم کے تنازعات اور جذباتی تقاریر سے محفوظ رکھیں۔
آخری بات ہم ذہن نشین کرلیں کہ ہماری قیادت جہاں پر جیسی بھی ہے وہ غنیمت ہے۔ اگر کوئی مقامی قائد قومی سطح پر اپنا مقام بناتا ہے تو اسے فوراًدشمن کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔ 1992ء سے پہلے مسلم قیادت کو سنگھ پریوار نے اپنے پالتومیڈیا کے ذریعہ مسلم قیادت کو بدنام اور عام مسلمانوں سے بدظن کردیا تھا۔ آج بھی وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔ اپنی ذاتی اختلافات کے لئے خدارا مسلم قیادت کو بدنام نہ کیجئے اس سے ملت کا اجتماعی نقصان ہوگا۔ اپنی مسلم قیادت کو چاہے اس کا تعلق حیدرآباد سے ہو، ممبئی سے ہو یا لکھنؤ سے اُسے مضبوط کیجئے اور ہمارے قائدین بھی حالات سے سبق لیں‘ اب وہ دور نہیں رہاجذباتی تقاریر میں قوم کو بیوقوف بنانے کا۔ انفرادی کریڈٹ لینے کے بجئے اجتماعی قیادت کو اختیار کریں۔ اپنی اَنا کے خول سے باہر نکلیں۔ قوم و ملت کی بات سنیں کیوں کہ اب آپ لوگوں کی قیادت وقت کی ضرورت تو ہوسکتی ہے مجبوری نہیں‘ مسلم قائدین کے رویے سے بدظن ہوکر کہیں ہماری قوم دوسروں کی قیادت قبول کرنے کے لئے مجبور نہ ہوجائے

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*