بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / اجودھیا میں سیکولرازم کی تدفین

اجودھیا میں سیکولرازم کی تدفین

معصوم مرادآبادی

معصوم مرادآبادی

معصوم مرادآبادی
بابری مسجد کے مقام رام مندر کا سنگ بنیاد بڑی شان وشوکت کے ساتھ رکھا گیاہے۔ اس تقریب میں آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت، اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، صوبائی گورنر آنندی بین پٹیل اور سنگھ پریوار کے دیگر لوگ موجود تھے۔ پروگرام کو یادگار بنانے کے لئے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ مرکزی اور صوبائی حکومت کی پوری مشینری نے دن رات ایک کرکے رام مندر کے بھومی پوجن کو کامیاب بنایا۔ایک خالص مذہبی تقریب میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال واضح طور پرہندوستانی جمہوریت کے سیکولر کردار کی نفی کرتا ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت ہندتو کے ایجنڈے کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے دستور کا سیکولر چہرہ اب صرف کاغذ وں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے اور ملک عملی طور پر ہندو راشٹر بن گیا ہے۔یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس نے مسلمانوں کو سخت تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور وہ ملک میں اپنے جمہوری اوردستوری حقوق کے تعلق سے خاصے مایوس اور نامراد نظر آرہے ہیں۔ ان کے اندر بیگانگی کا شدید احساس سرائیت کرگیا ہے۔ رام مندر کے بھومی پوجن نے بابری مسجد کی شہادت پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بابری مسجد کی مسماری کو مجرمانہ عمل سے تعبیر کیا تھا اور اس کے قصور واروں کو قرار واقعی سزا دینے کی بات کہی تھی۔افسوس کہ مندر کی تعمیر بابری مسجد مسمار کرنے والوں کو سزا دئیے بغیر شروع کردی گئی ہے۔ بابری مسجد انہدام کی تحقیقات کرنے والے جسٹس منموہن سنگھ لبراہن نے کہا ہے کہ بھومی پوجن کے موقع پر آرایس ایس سربراہ کی موجودگی ان کے اس موقف کی تائید کرتی ہے کہ انہدام میں آرایس ایس کے لوگ شامل تھے۔
قابل ذکر بات یہ ہے پانچ اگست کو جو لوگ اجودھیا میں رام مندر کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شریک ہوئے ان سبھی کے منہ چھپے ہوئے تھے اور انھیں پہچاننا مشکل ہورہا تھا۔ ایسا اس لئے نہیں تھا کہ یہ لوگ مریادا پرشوتم رام چندر جی سے شرمندہ تھے بلکہ سب کے منہ اور ناک اس لئے بند تھے کہ وہاں کوروناپھیلنے کا خطرہ تھا۔ اس پروگرام سے پہلے رام مندر کے ہیڈ پجاری اور سیکورٹی فورسز کے ایک درجن سے زیادہ جوانوں کو کورونا کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کیا گیاتھا۔ خود وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی کابینہ کے دودوزیروں روی شنکرپرساد اور دھرمیندر پردھان کو کورونا کی علامات کے سبب اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔یوپی کابینہ کی اکلوتی خاتون وزیر کی بھومی پوجن سیتینروز پہلے ہی کورونا سے موت ہوئی تھی اور یوپی کابینہ کے کئی وزیر پوزیٹو پائے گئے تھے۔ لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کو بھی کورونا کے اندیشے کے پیش نظر اس پروگرام سے دور رکھا گیا۔جس وقت اجودھیا میں بھومی پوجن ہوا تو ملک میں کورونا کی وبا بدترین شکل اختیار کرچکی تھی۔ ملک میں ہرروز پچاس ہزار لوگ اس کی چپیٹ میں آرہے تھے اور متاثرین کی مجموعی تعداد بیس لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی وجہ سے اس پروگرام کا جو زبردست طومار باندھا گیا تھا، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بندی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے جو تقریر کی اس کا لب لباب یہ تھا کہ ملک کو اصل آزادی اب ملی ہے اور پچھلے500 سال سے جاری رام مندر کی جدوجہد کو کامیابی نصیب ہوئی۔انھوں نے 5 اگست کا موازنہ 15اگست سے کیا اور ’مندر آندولن‘ کے دوران’بلیدان‘ دینے والوں کو زبردست خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ ان کی تقریر میں ان ہزاروں بے گناہ انسانوں کا کوئی تذکرہ نہیں تھا جنھوں نے رام مندر کی خونی تحریک اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑنے والے خوفناک فسادات میں اپنی جانیں گنوائیں۔ہزاروں بچے یتیم ہوئے اور اربوں روپوں کی املاک لوٹی اور تباہ وبرباد کر دی گئیں۔
وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ”غلامی کے دور میں کوئی وقت ایسا نہیں تھا، جب آزادی کی تحریک نہ ہو، ملک میں ایسی کوئی سرزمین نہیں تھی جہاں آزادی کی قربانی نہ دی گئی ہو۔“ اپنی تقریر کے دوران وزیر اعظم نے یہ نہیں بتایا کہ رام مندر کی آزادی کے لئے ملک میں جوتحریک چلائی گئی وہ تحریک آخر کس کے خلاف تھی اور اس کا حدف کون تھا۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ ان مسلمانوں کی طرف تھا جو ایک مسجد کی ملکیت کا مقدمہ لڑرہے تھے یا پھر اپنے دستوری حقوق کے تحفظ کے لئے بابری مسجد بازیابی کی تحریک چلارہے تھے۔ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ بابری مسجد کی پانچ سو سالہ قدیم عبادت گاہ کو طاقت کے غرور میں مسمار کیا گیا اور ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اس کا فیصلہ ایک ایسے فریق کے حق میں کردیا جس کے پاس حق ملکیت کا کوئی ثبوت ہی نہیں تھا۔اب اسی مقام پر عالیشان رام مندر کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے تو طاقت کے نشے میں وہی زبان بولی جارہی ہے۔رام مندر کی تعمیر شروع ہونے کے بعدکاشی اور متھرا کی آوازیں بھی اٹھنے لگی ہیں اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔مندر کے شلانیاس کا جشن ملک گیر سطح پر منایا گیا ہے۔آسام کے بعض علاقوں میں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے خوب اشتعال انگیزی کی ہے، جس کے نتیجے میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں اور وہاں کرفیو نافذکردیا گیا ہے۔اترپردیش کے بعض اضلاع میں بھی اسی قسم کی اشتعال انگیزی کی خبریں ہیں۔
مسلمانوں کو اس بات کا شدید قلق ہے کہ بایاں بازو کی جماعتوں کوچھوڑکر ملک کی تمام سیکولر پارٹیوں نے رام مندر کے سنگ بنیاد کی تقریب کو ہری جھنڈی دکھائی اور انھوں نے محض سنگھ پریوارکے اس ایجنڈے پر مہر لگائی جس کی بنیاد میں سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔ ان مسلمانوں کے جذبات کو قطعی نظر انداز کردیا گیاجنھوں نے صدیوں بابری مسجد کو اپنے سجدوں سے منور کیا تھا اور اپنے دستوری حقوق کے تحفظ کی خاطر ان سیکولر پارٹیوں کو اپنے کاندھوں پر بٹھاکر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا تھا۔ کانگریس ہو یا سماجوادی پارٹی، بی ایس پی ہو یاعام آدمی پارٹی سبھی نے ایک زبان ہوکر رام مندر کے حق میں بیان دئیے۔ پرینکا گاندھی، کمل ناتھ،دگوجے سنگھ، اکھلیش یادو، مایا وتی اور اروند کجریوال جیسے لوگوں نے مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر بھونکا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں سے اتنا بڑا زخم کھانے کے بعد مسلمان کیا کریں اور کہاں جائیں۔ بعض عناصر موجودہ صورتحال کو مسلمانوں کے لئے انتہائی خطرناک اور ان کے مستقبل کے لئے مضرت رساں قرار دے رہے ہیں اور اس بات کا عندیہ دیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس ملک کی زمین مسلمانوں پر مزید تنگ کردی جائے گی۔ ایسے میں وہ جائیں تو جائیں کہاں؟
بعض عناصر نے یہ کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اجودھیا میں رام مندر کا سنگ بنیاد نہیں رکھا بلکہ ہندوراشٹر کی نیو ڈال دی ہے۔یہ بات بڑی حد تک درست ہے لیکن اس کا اعلان تو وشو ہندو پریشد نے نومبر1989میں ہی رام مندر کا شلانیاس رکھتے ہوئے کردیا تھا۔ جب میں شلانیاس کی رپورٹنگ کرنے اجودھیا گیا تھا تواس موقع پر میں نے خود اپنے کانوں سے اشوک سنگھل اور دیگر ہندو احیاء پرست لیڈروں کی زبانی یہ سنا تھا کہ ”آج ہم نے یہاں محض رام مندر کا شلانیاس نہیں کیا ہے بلکہ ہندوراشٹر کی بنیاد رکھ دی ہے۔“اگر آپ غور سے دیکھیں تو مسلسل بابری مسجد کے معاملے میں مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیاجارہا ہے۔ اس معاملے میں سیکولر پارٹیاں بظاہر خود کو سیکولرازم اور جمہوریت کا علمبردار قرار دیتی رہیں لیکن وہ کہیں کھل کر اور کہیں چھپ کر نرم ہندتو ا کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔یہ سلسلہ آزادی کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔ جن طاقتوں نے مسلمانوں کے جمہوری اور دستوری حقوق کی پاسداری کا حلف اٹھاکر ان کے ووٹوں پر ہاتھ صاف کیا تھا، ان کی نیت شروع سے ہی خراب تھی۔ مسلمان ان عناصر کے بہکاوے میں رہے اور مسلم قیادت بھی اپنے حقیر مفادات کے لئے ان کی حاشیہ بردار بنی رہی۔
آزادی کے 73برسوں بعد مسلمانوں کو اپنی بیگانگی کا احساس جتنی شدت کے ساتھ ہورہا ہے، اتنا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انھیں ایسا لگتا ہے کہ وہ 1947کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔جن پارٹیوں اور افراد نے انھیں ہندوستان میں یکساں مواقع کی یقین دہانی کرائی تھی، انھوں نے ’نرم ہندتو‘ کی راہ اختیار کرلی ہے۔ بی جے پی نے ملک کی سیا ست کا رخ اس انداز میں ہندتو کی طرف موڑدیا ہے کہ یہاں مسلمانوں کے دستوری حقوق کی بات کرنے والوں کوغداروں کی صف میں کھڑا کیا جارہا ہے۔ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسلمان اپنے تمام فروعی اختلافات بھلاکر ایک پرچم کے نیچے جمع ہوجائیں اور اپنے دستوری اور جمہوری حقوق کے لئے پرامن جدوجہد کریں۔ وہ اگر اسی طرح مسلک،علاقہ اور ذات پات کے نام پر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچتے رہے تو زبردست خسارے میں رہیں گے۔ قرآن کا واضح حکم ہے کہ” اللّہ کی رسی کو مضبوطی سے تھا م لو اور آپس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔“

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*