بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / کورونا سے صحت یاب مریض کون سے دیرینہ مسائل کا شکار رہتا ہے

کورونا سے صحت یاب مریض کون سے دیرینہ مسائل کا شکار رہتا ہے

new image
ویب ڈیسک 10 اگست 2020لندن : برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئے کورونا وائرس کو ہسپتال میں زیرعلاج رہ کر شکست دینے والے اکثر مریضوں کو طویل المعیاد بنیادوں پر مختلف علامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔لیڈز یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ان طویل المعیاد علامات میں شدید تھکاوٹ، سانس لینے میں مشکلات، نفسیاتی مسائل بشمول توجہ مرکوز کرنے اور یادداشت متاثر ہونے اور مجموعی طور پر معیار زندگی متاثر ہونا شامل ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ کچھ مریضوں خصوصاً آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے افراد میں ایسی علامات کو دیکھا گیا جو کسی بڑے سانحے کے بعد طاری ہونے والے عارضے پی ٹی ایس ڈی کے کیسز میں سامنے آتی ہیںتحقیق کے نتائج میں برطانیہ میں کووڈ 19 کو شکست دینے والے افراد کو درپیش مسائل پر پہلا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
محققین کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 ایک نئی بیماری ہے اور ہمیں ہسپتال سے ڈسچارج ہونے والے افراد کو درپیش طویل المعیاد مسائل کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں۔انہوں نے بتایا کہ مگر ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ مکمل صحتیابی کے عمل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور ضروری ہے کہ بحالی نو کے لیے ان کی معاونت کی جائے، اس تحقیق میں مریضوں کی ضروریات پر اہم تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔طبی جریدے جرنل آف میڈیکل وائرلوجی میں شائع تحقیق میں ہسپتال سے ڈسچارج مریضوں میں علامات اور بحالی نو کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔محققین کے مطابق اس تحقیق میں ہمارے ماضی کے کام کو آگے بڑھایا گیا جس میں کووڈ 19 کے مریضوں کی طویل المعیاد ضروریات کی پیشگوئی 2002 کی سارس کورونا وائرس اور 2012 کے مرس کورونا وائرس کی وبا کو مدنظر رکھ کر کی گئی تھی کیونکہ ان وبائی امراض کے شکار افراد کے طبی مسائل بھی کووڈ 19 کے مریضوں سے ملتے جلتے ہیں مگر یہ زیادہ بڑے پیمانے پر پھیلنے والی بیماری ہے۔اس تحقیق میں کووڈ 19 کے ایسے سو مریضوں کا 8 ہفتوں تک جائزہ لیا گیا جن کو لیڈز کے ہسپتالوں سے ڈسچارج کیا جاچکا تھا۔ ان افراد کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا، ایک گروپ ان افراد پر مشتمل تھا جو بہت زیادہ بیمار اور آئی سی یو میں زیرعلاج رہے اور ان کی تعداد 32 تھی۔دوسرا گروپ 68 افراد پر مشتمل تھا جو ایسے مریضوں کا تھا جن کو آئی سی یو کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ ان افراد سے صحتیابی اور ان علامات کے بارے میں سوالات پوچھے گئے جن کا وہ تاحال سامنا کررہے تھے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ان دونوں گروپس میں سب سے عام علامت شدید تھکاوٹ تھی۔ایسے افراد جو عام وارڈ میں زیرعلاج رہے ان میں 60 فیصد سے زائد نے معتدل یا شدید تھکاوٹ کو رپورٹ کیا گیا جبکہ آئی سی یو میں زیرعلاج افراد میں یہ شرح72 فیصد تھی۔دوسری سب سے عام علامت سانس لینے میں مشکلات تھیں اور دونوں گروپس کے لوگوں کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے شکار ہونے سے پہلے ان کو اس مسئلے کا سامنا نہیں تھا۔اس مسئلے کی شرح آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے افراد میں 65.6 فیصد جبکہ عام وارڈ میں علاج کرنے والوں میں 42.6فیصد تھی۔تیسری سب سے عام علامات نفسیاتی مسائل پر مبنی تھیں جس کی شرح وارڈ میں زیرعلاج افراد میں25 فیصد کے قریب جبکہ آئی سی یو میں زیرعلاج افراد میں50 فیصد کے قریب تھی۔
محققین کے مطابق پی ٹی ایس ڈی علامات اکثر بیماریوں کے نتیجے میں آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے افراد میں عام ہوتی ہیں جس کے عناصر مختلف ہوتے ہیں جیاسے موت کا ڈر، علاج، درد، کمزوری، نیند کی کمی اور دیگر۔آئی سی یو میں رہنے والے68.8 فیصد جبکہ وارڈ میں زیرعلاج رہنے والے 45.6 فیصد مریضوں نے مجموعی معیار زندگی متاثر ہونے کو رپورٹ کیا۔محققین کا کہنا تھا کہ اب وہ مستقبل قریب میں ایسے مریضوں میں کووڈ19 کے طویل المعیاد اثرات کا جائزہ لیں گے جن کو علاج کے لیے اسپتال جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*