بنیادی صفحہ / خبریں / سعودی آرامکو نے چین میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کیوں کھینچ لیے؟

سعودی آرامکو نے چین میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کیوں کھینچ لیے؟

ARAMCO ARAMCO

سعودی عرب میں واقع پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی سرکاری کمپنی ’آرامکو‘ نے چین میں 10 ارب ڈالر کی لاگت سے مجوزہ ریفائننگ اینڈ پیٹروکیمیکل کمپلیکس کی تعمیر کا معاہدہ معطل کردیا ہے۔امریکی میڈیا گروپ بلومبرگ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے سعودی کمپنی عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں سے نمٹنے کے لیے اخراجات میں کمی کرنا چاہتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آرامکو نے اپنے چینی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کے بعد چین کے شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ میں اس کمپلیکس میں سرمایہ کاری روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اس فیصلے کے پیچھے تیل کی مارکیٹ کا غیر یقینی ہونا ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب آرامکو نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ اس منصوبے کی چینی شراکت دار کمپنی ’چائنہ نارتھ انڈسٹریز گروپ کارپوریشن‘نے بھی فوری طور پر اس خبر پر تبصرہ نہیں کیا۔ منصوبے کے تیسرے پارٹنر ’پنجن سنسین‘ نے بھی کسی فون کال یا ای میل کا جواب نہیں دیا۔
کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے باعث توانائی کی طلب میں کمی کے باعث پوری دنیا میں توانائی کمپنیوں پر پڑنے والے اثرات سے مستقبل کے منصوبوں پر بے یقینی کے بادل چھا گئے ہیں۔
اس تناظر میں آرامکو سرمایہ کاری اور اپنے اخراجات میں وسیع کٹوتیوں کا ارادہ رکھتی ہے کیونکہ کمپنی خام تیل کی کم قیمتوں اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے دوران 75 ارب ڈالر کے شیئرز کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس صورت حال میں سعودی ریاست، جو آرمکو کے سب سے زیادہ حصص کی مالک ہے، کو ہی سب سے زیادہ خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مشترکہ منصوبے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ سال فروری میں بیجنگ کے دورے کے دوران دستخط کیے تھے۔ سعودی عرب ایشیا میں اپنا مارکیٹ شیئر بڑھانا چاہتا تھا اور اس نے اپنے ملک میں چینی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے۔
منصوبے کے تحت سعودی عرب کو تین لاکھ بیرل یومیہ تیل صاف کرنے کی صلاحیت رکھنے والی اس مجوزہ ریفائنری کے لیے 70 فیصد خام تیل فراہم کرنا تھا۔ذرائع کے مطابق چین اب اس منصوبے کو خود آگے بڑھائے گا اور دوسرے کھلاڑیوں کی مستقبل میں شمولیت ایک آپشن ہو سکتی ہے۔
کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں سے عالمی سطح پر تیل کی طلب میں زبردست کمی دیکھی گئی جس سے اس کی قیمتیں زمین بوس ہو گئی تھیں اس صورت حال میں سب سے زیادہ نقصان ریفائنرز کو اٹھانا پڑا تھا جو ادائیگیوں کے بھنور میں پھنس کر سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
سعودی کمپنی آرامکو ریفائنری توسیع منصوبے کے بارے میں رواں سال کے شروع میں انڈونیشیا کی ریاستی توانائی کمپنی پرٹامینا سے بھی بات چیت کرچکی ہے، لیکن موجودہ بحران کے باعث یہ مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے اور پرٹامینا کو اب دوسرے کسی ساتھی کی تلاش ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*