بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / ’فیس بک‘کا مسلم مخالف چہرہ

’فیس بک‘کا مسلم مخالف چہرہ

معصوم مرادآبادی

معصوم مرادآبادی

معصوم مرادآبادی
مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں اب تک توگودی میڈیا ہی پیش پیش تھا‘ لیکن ایک حالیہ انکشاف سے پتہ چلاہے کہ ملک میں مسلمانوں کا قافیہ تنگ کرنے والی طاقتوں نے سوشل میڈیا کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ امریکی اخبار ”وال اسٹریٹ جرنل“ نے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’فیس بک‘کے حوالے سے جو انکشافات کئے ہیں‘ وہ نہ صرف چونکانے والے ہیں بلکہ ان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاکر انھیں ظلم وتشدد کا نشانہ بنانا حکمراں طبقے کی ایک طے شدہ پالیسی بن چکی ہے اوراس مقصد کے حصول کے لئے اس نے عوامی ابلاغ کے تمام ذرائع کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے۔ بی جے پی لیڈروں کی نفرت انگیز تقریروں کو ’فیس بک‘ پرتحفظ فراہم کرنے کی اطلاعات نے اب سوشل میڈیا کی معتبریت اور غیر جانبداری پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمراں جماعت ہندوؤں کو مسلمانوں کے تعلق سے اتنا بدظن کردینا چاہتی ہے کہ وہ انھیں حرف غلط سمجھنے لگیں اور بدی کی ایک ایسی قوت تسلیم کرلیں جسے مٹاکر ہی ملک کے تمام مسائل کو حل کیاجاسکتا ہے۔
’فیس بک‘ جسے ہم اردو میں ’کتابی چہرہ‘ کہہ کر پکارتے ہیں‘اب اپنے کارپردازوں کی مذموم حرکتوں کی وجہ سے خاصا بدصورت نظرآنے لگا ہے۔اس پراپنے کاروباری مقاصد کو فروغ دینے کے لئے نفرت پھیلانے کے جو الزامات لگے ہیں‘ وہ انتہائی سنگین ہیں۔ ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ دنیا میں دولت کمانا ہی سب سے بڑا مقصد رہ گیا ہے اور ہر شے ’بکاؤمال‘ بن کر رہ گئی ہے۔آہستہ آہستہ سب اپنا اعتبار کھوتے چلے جارہے ہیں اور بے اعتمادی ایک وبائی شکل بن کر سامنے آئی ہے۔ دولت کے انبار جمع کرنے کی ہوس ایسی ہے کہ اس کے آگے انسانیت اور بنیادی انسانی اقدار کہیں پیچھے چھوٹ گئی ہیں۔’فیس بک‘ پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزامات کسی مسلم رہنما یا مسلم تنظیم نے نہیں لگائے ہیں بلکہ یہ الزامات امریکہ کے ایک بڑے اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں عائد کئے ہیں۔مذکورہ اخبار نے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر جو نتائج اخذ کئے ہیں وہ کافی چونکانے والے ہیں اور ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔
امریکی اخبار”دی وال اسٹریٹ جرنل“(WSJ)نے فیس بک کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ”فیس بک نے بی جے پی لیڈروں اور کچھ گروپو ں کی”نفرت پھیلانے والی پوسٹ‘ کے خلاف کارروائی کرنے میں جان بوجھ کر کوتاہی برتی۔ انھیں جلد نہیں ہٹایا۔جبکہ یہ سبھی پوسٹ تشدد بھڑکانے والی تھیں۔ ہندوستان میں فیس بک کی پالیسی ڈائریکٹرآنکھی داس نے بی جے پی لیڈرٹی راجا سنگھ کے خلاف فیس بک کے نفرت پھیلانے والے ضابطوں کے تحت کارروائی کی مخالفت کی تھی۔ انھیں ڈر تھا کہ ایسا کرنے سے کمپنی کے تعلقات بی جے پی سے بگڑ سکتے ہیں۔’فیس بک‘ کو ہندوستان میں کاروبار ی نقصان ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ٹی راجا تلنگانہ میں بی جے پی کے لیڈر ہیں اور اپنے اشتعال انگیز بیانات کے لئے بدنام ہیں۔اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ آنکھی داس نے انتخابی مہم کے دوران بھی بی جے پی کی مدد کی تھی۔ پچھلے لوک سبھا انتخابات کے دوران’فیس بک‘ نے کہا تھا اس نے پاکستانی فوج اور کانگریس پارٹی کے غیر مصدقہ فیس بک پیج اور بی جے پی سے متعلق جھوٹی خبروں والے پیج ہٹادئیے ہیں۔ جبکہ ٹی راجا اور بی جے پی ممبرپارلیمنٹ اننت کمار ہیگڑے کی کئی فیس بک پوسٹوں کواس وقت تک نہیں ہٹایاجب تک کہ ”وال اسٹریٹ جرنل“نے ان کے بارے میں اشارہ نہیں کیا۔ یہ پوسٹ مسلمانوں کے خلاف نفرت سے لبریز تھیں۔
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی اس رپورٹ کے بعد ہندوستان میں کافی ہلچل ہے۔ اپوزیشن نے اس معاملے میں بی جے پی کوکٹہرے میں کھڑا کیا ہے اورمعاملے کی جانچ پارلیمانی کمیٹی کو سونپ دی گئی ہے۔اطلاعاتی ٹکنالوجی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے پس منظر میں فیس بک کوآئندہ2ستمبر کو کمیٹی کے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔اس پیش قدمی کے بعد بی جے پی ممبر نشی کانت دوبے نے لوک سبھا اسپیکر کو ایک خط لکھ کر مذکور ہ کمیٹی کی سربراہی سے کانگریس لیڈر ششی تھرور کو برخاست کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بی جے پی لیڈران دیگر معاملوں کی طرح اس معاملے میں بھی منصفانہ تحقیقات کے حق میں نہیں ہیں اور وہ اس کی لیپا پوتی کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوران میں سینئرکانگریسی قائد راہل گاندھی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ”بی جے پی اور آرایس ایس ہندوستان میں فیس بک اور واٹس ایپ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ وہ ان کے ذریعہ فرضی خبریں اور نفرت پھیلاتے ہیں اور ان کا استعمال ووٹروں کو متاثر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔آخر کار امریکی میڈیافیس بک کو لے کر سچائی کے ساتھ سامنے آیا ہے۔“
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ حکمراں جماعت نے گزشتہ چھ سال کے دوران الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کومسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیوزچینل اور سوشل میڈیا پوری طرح ناگپور سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ ان کی خبریں اور بحث کے موضوعات بھی وہیں سے طے ہوکر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس عرصہ میں نیوزچینلوں نے اپنی معتبریت پوری طرح کھودی ہے اور وہ نفرت اور مسلم دشمنی کے ترجمان بن کررہ گئے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ حال ہی میں فلم اداکار عامر خان نے اپنی ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران ترکی کے صدر طیب اردغان کی اہلیہ سے خیرسگالی ملاقات کی تو نیوزچینلوں نے آسمان سر پہ اٹھالیا۔ایسا محسوس ہوا کہ عامر خان کسی خطرناک دہشت گرد کے دروازے تک پہنچ گئے ہیں۔ترکی کو ہندوستان مخالف ملک قرار دے کر عامر خان پر ایسے رکیک حملے کئے گئے کہ توبہ ہی بھلی۔ اس معاملے میں نیوزچینل اور ان کے اینکر وشوہندو پریشد کی زبان بول رہے تھے۔ جبکہ انقرہ میں تعینات ہندوستانی سفیر نے عامر خان کو ہندوستان کا ثقافتی سفیر قرار دیتے ہوئے اس ملاقات کی حمایت کی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ فیس بک سوشل میڈیا کا سب سے بڑا اور سب سے موثر پلیٹ فارم ہے۔ ہندوستان میں اس کے سب سے زیادہ صارفین ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق ہندوستان میں 28کروڑ لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ میں اس کے صارفین کی تعداد ہندوستان سے کم ہے اور یہ 19کروڑ بتائی جاتی ہے‘ جبکہ انڈونیشیا میں 13کروڑ،برازیل میں 12 کروڑاور میکسیکو میں 8کروڑ 60لاکھ لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک کی ہندوستانی ڈائریکٹر آنکھی داس کی طرف سے نفرت آمیز تقریریں اور بیانات کو نہ ہٹانے کے پیچھے دلیل یہ دی گئی ہے کہ ایسا کرنے سے اس کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اسی لئے بی جے پی لیڈروں کی تقریریں توجہ دلانے کے باوجود نہیں ہٹائی گئیں۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا فیس بک کے کاروباری مفادات ہندوستان کی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے زیادہ اہم ہیں۔جس ملک میں آپ کے صارفین کی تعداد مجموعی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہو‘ اس ملک میں نفرت آمیز مواد کی حمایت کرنا اخلاقی طور پر ایک بڑا جرم تسلیم کیا جانا چاہیے۔لیکن اس معاملے میں بھی کسی کارروائی کی امید فضول ہے۔کیونکہ’فیس بک‘ کی ہندوستانی ڈائریکٹرآنکھی داس کے حکمراں جماعت سے قریبی رشتے ہیں۔ ان کی بہن رشمی‘ آرایس ایس کی طلباء تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے وابستہ ہیں اور انھوں نے آنکھی داس کا دفاع بھی کیاہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے دنوں بی جے پی لیڈر کپل مشرا کی اشتعال انگیزیوں پر فیس بک کے سربراہ مارک زکر برگ کا بیان کافی سرخیوں میں رہا تھا۔انھوں نے اس بیان کو اشتعال انگیزی کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا تھا اور اس قسم کے بیانات کی تشہیر سے گریز کا مشورہ بھی دیا تھا۔مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک طرف تو فیس بک کا سربراہ اشتعال انگیز بیانات سے بچنے کا مشورہ دیتا ہے اور دوسری طرف فیس بک کی ہندوستانی ڈائریکٹر ایک بی جے پی لیڈر کے بیان کو ہٹانے سے اس لئے گریزاں ہے کہ اس سے فیس بک کے کاروباری مقاصد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اگر معاشرے میں انتشار اور نفرت پھیلانا ہی فیس بک کے کاروباری مقاصد ہیں تو پھر اس قسم کے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کا خاتمہ ہی سماج کے حق میں بہتر ہوگا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ خود فیس بک کے بعض ملازمین نے داخلی طور پر اپنی قیادت کو ایک خط لکھ کر مسلم مخالف رحجان پر ناراضگی ظاہر کی ہے اور اس سلسلہ میں واضح پالیسی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔فیس بک جیسے آزاد سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ساتھ اپنے محدود اور منافرانہ سیاسی ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے حکمراں جماعت کی یہ مبینہ ساز باز ایک بڑے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک ایسی پارٹی جس نے اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے خلاف نفرت پھیلانے اور اس مکروہ کاروبار میں شریک لوگوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی روش اختیار کررکھی ہے‘ اسے اگر اس سے باز نہیں رکھا گیا تو ملک میں حالات دگرگوں ہوسکتے ہیں اور سماجی تانا بانا پوری طرح بکھر سکتا ہے۔ یہ ہندوستانی جمہوریت اور اس میں تمام طبقوں کی یکساں شمولیت کے اس نظرئیے کے بھی خلاف ہے جس کی ضمانت ملک کے دستور میں پوری شدو مد کے ساتھ دی گئی ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*