بنیادی صفحہ / خبریں / گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کسی خاص مذہب کے نمائندہ نہیں 

گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کسی خاص مذہب کے نمائندہ نہیں 

ابو عاصم اعظمی

ابو عاصم اعظمی

  مندر کھولنے پر ادھو ٹھاکرے کو ہندتو یاد دلانا اس عہدہ جلیلہ کی توہین، گورنر کو صد ر جمہوریہ ہند فوری طور پر برطرف کریں ابوعاصم اعظمی کامطالبہ
ممبئی: ممبئی و مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے ریاست کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کو ہندوتوا یاد دلانے پر تنقید کرتے ہوئے اسے گورنر کے عہدہ جلیلہ کی توہین قرار دیا اور کہا کہ گورنر کا عہدہ دستوری عہدہ ہے اور اس کا احترام واجب ہے لیکن گورنر نے ہی اپنےعہدہ کی بے حرمتی کی ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ مندر نہ کھولنے کا آپ کوخدائی سگنل ملتا ہے کیا اور ادھو ٹھاکرے کو اپنا ہندوتوا یاد دلاتے ہیں۔ یہ ملک دستور سے چلے گا کہ اسے ہندو راشٹر بنایا گیا ہے یہ سوال آج گورنر کے ادھو ٹھاکرے کے مکتوب پر ابوعاصم اعظمی نے کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دستوری عہدہ کی قدر و منزلت خاک میں ملا کر ہندوتوا کے ایجنڈے پر کام کرنے والے گورنر کو صدر جمہوریہ ہند فورااپنے عہدہ سے برطرف کریں کیونکہ وہ ایک مخصوص پارٹی کی زبان بو ل رہے ہیں جو اس عہدہ جلیلہ کی توہین ہے اس کرسی پر تو صرف دستور کی بات ہونی چاہئے لیکن ایک گورنر ریاست کے وزیر اعلی کو ان کا ہندوتوا یاد دلاتا ہے یہ انتہائی افسوسناک ہے اور قابل تشویش بھی اس لئے میرا مطالبہ ہے کہ اس معاملہ میں صدر جمہوریہ مداخلت کرکے گورنر کو اپنے اس دستوری عہدہ کا غلط استعمال کر کے مخصوص مذہب کی بنیاد پر بنیاد پرستی کے معاملہ میں فوری طور پر برطرف کریں اور دستور کی بقا کے لئے کوئی اقدام کرکے فرقہ پرستی کو ناکام بنائیں ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ گورنر کو اس قسم کے بتصرے سے گریز کرنا چاہئے وہ کسی خاص طبقہ یا مذہب کے نمائندے نہیں ہے بلکہ دستور کے محافظ ہے جب دستور کا محافظ ہی اس قسم کے تبصرے کرے گا تو اس عہدہ کی توہین ہونا لازمی ہے ابوعاصم اعظمی نے اس معاملہ میں سخت نوٹس لینے کا بھی مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا ہے ۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*