بنیادی صفحہ / خبریں / معیشت / ہندوستان اور پاکستان کی معیشت پر کورونا کے اثرات

ہندوستان اور پاکستان کی معیشت پر کورونا کے اثرات

IMG_20201021_101529

تحریر:ڈاکٹر سلیم خان

مرکزی انتخاب ہو یا صوبائی الیکشن ، بی جے پی کی حالت جب بھی پتلی ہوتی ہے اسے پاکستان یاد آتا ہے۔ بہار میں پچھلے الیکشن کے دوران امیت شاہ نے اعلان کیا تھا کہ اگر نتیش کمار دوبارہ کامیاب ہوگئے تو پاکستان میں پٹاخے پھوٹیں گے ۔ نتیش جیت گئے اور بی جے پی کے سارے پٹاخے بیکار ہوگئے ۔ اس بار نتیش کمار کا ساتھ بھی این ڈی اے کی حالت نہیں سدھار پارہا ہے کیونکہ ’کمل کو آگ لگ گئی پاسوان کے چراغ سے‘۔ ایسے میں بی جے پی رکن پارلیمان گری راج کشور نے جالے اسمبلی نشست سے کانگریس کے امیدواراورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق صدر مشکور عثمانی پر جناح کا حامی ہونے کا الزام لگادیا ۔ اس کے جواب میں کانگریس کے ترجمان رندیپ سورجے والانے بتایا کہ عثمانی نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر اے ایم یو ، پارلیمنٹ اور ممبئی ہائی کورٹ سے جناح کے مجسمے کو ہٹانے کے لئے کہا تھا، لیکن آج تک اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بی جے پی کے سابق صدرلال کرشن اڈوانی توقائد اعظم کے مقبرے پر حاضری دے کرمحمدعلی جناح کو تاریخ ساز شخصیت قرار دے چکے ہیں لیکن گری راج اس بات کو بھول گئے۔ دراصل اسی گھٹیا سیاست کا نتیجہ ہے پچھلے 6 ماہ میں ہندوستان کی جی ڈی پی 10.30؍ فیصد گری اور پاکستان کی صرف 0.40؍ فیصدی۔

جی ڈی پی ایک پیچیدہ اصطلاح ہے جس میں ملک کے اندر چیز وں کو خریدنے پر ہونے والے کل اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ اس کی شرح میں اضافہ ملک کی ترقی کو جاننے کا ایک آسان پیمانہ ہے۔ فی کس جی ڈی پی میں کمی کا کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ ضروریات زندگی کے آسانی سے پورا نہیں ہونے کے سبب عوام مشکلات سے دوچار ہوں گے۔ ویسے جی ڈی پی میں اضافہ لازماً معیار زندگی کو بلند نہیں کرتا کیونکہ یہ اوسط ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشی نظام میں چونکہ دولت کاا رتکاز چند ہاتھوں میں ہوتا چلا جاتا ہے اس لیے امریکہ جیسےخوشحال ملک میں بھی جہاں فی کس جی ڈی پی تقریباً 55 ہزار ڈالر ہے، تقریباً10؍ فصد لوگ نانِ جوئیں کے محتاج ہیں۔ ہندوستان کی فی کس جی ڈی پی تو خیرصرف 1887 ڈالر یعنی ایک لاکھ 38ہزار روپےآگئی ہے۔

وطن عزیز میں عدم مساوات کے سبب امبانی اور اڈانی جیسے لوگ عام آدمی سے لاکھوں گنا زیادہ کما کر فوربس لسٹ میں اعلیٰ مقام حاصل کرتے ہیں ۔ ہندوستان میں بنگلا دیش سے زیادہ ارب پتی لوگوں کی موجودگی کے باوجود فی کس جی ڈی پی کا کم ہونا اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ ایک عام ہندوستانی بنگلا دیش کے عام شہری کے مقابلے بدحال ہے اسی لیے کہ ان سرمایہ داروں کی خطیر دولت بھی اوسط کو بڑھا نے میں ناکام رہی۔ یہ ملک کی آبادی میں اکثریت کے غربت و افلاس کا شکار ہونے کا بین ثبوت ہے۔ ماہرین معاشیات پچھلے سال کے اواخر میں جن اندیشوں کا اظہار کررہے تھے اسے کورونا کی وبا نے حقیقت بنا کر اصلاح حال کو ناممکن بنادیا ہے ۔

اس تناظر میں اگر وزیر اعظم کے پانچ کھرب ڈالر کے عزم کی بات کریں تو اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئےجی ڈی پی کی ترقی کی شرح 12 فیصد سے زیادہ ہونا لازمی ہے۔ اس خواب کی حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ دس سالوں سے ہندوستان10؍ فصد کی ترقی تک بھی نہیں پہنچ سکا بلکہ عام طور پر ترقی کی سالانہ شرح 7تا8 فیصدکے درمیان رہی ۔ گزشتہ سال حکومت کے اوپر سے عوام کا اعتماد اٹھا تو اس نے ایک بے یقینی کو جنم دیا ۔ اس کے سبب لوگوں کے اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ۔ کورونا نے اس نفسیات میں بے شمار اضافہ کیا۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح حکومت ہند عوام کو نقدی دینے سے گریز کرکے قرض کا گاجر دکھاتی رہی لیکن جب کاروبار ہی ٹھپ ہو تو انسان قرض لے کر کیا کرے گا؟ آج کل تو بنکوں سے قرض دینے کے لیے فون آنے لگا ہے ۔ بجاج فائنانس جیسی کمپنیاں صفر فیصد سود کی بات کرنے لگی ہیں اس لیے انہیں اپنے ملازمین کو تنخواہ دینی ہے۔ قرض اٹھے گا تو سود نہ سہی کسی اور بہانے سے گاہک کی جیب خالی کریں گے لیکن اگر کوئی قرض لینے آئے ہی نہیں تو یہ معاشی نظام ازخود بیٹھ جائے گا۔

کورونا کے سبب لوگ خریدنے کے معاملے میں اس قدر محتاط ہوگئے ہیں ہوٹل وغیرہ کے کھل جانے پر بھی شوقیہ کھانے پینے والا گاہک یکسر غائب ہے۔ مجبوری کے سبب ضرورتمند بھی کم سے کم خرچ کرنا چاہتا ہے۔ تہواروں کا موسم سامنے جس میں پورے سال کے برابر کا روبار ہوجاتا تھا لیکن اس بار بازار میں کوئی رونق یا چہل پہل نہیں ہے۔ حکومت نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر سرکاری ملازمین کی تنخواہ کے ساتھ 10ہزار کی رقم پیشگی دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ اگر بونس ہوتا تو وہ بیچارے خرچ بھی کرتے لیکن پیشگی کے معنیٰ اگلے مہینے یہ رقم کٹ جائے گی اس لیے کون بیوقوف اس کو سامانِ تعیش پرخرچ کرنے کی حماقت کرے گا۔ ویسے بھی سرکاری ملازمین کی اوپروالی آمدنی گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہو چکی ہے۔

ایسے مایوس کن ماحول میں اگر لوگ سامان نہیں خریدیں گے یااخراجات میں کٹوتی کرکے کفایت کریں گے تو مال فروخت نہیں ہوگا۔ اگر سامان نہیں بکےگا تو بنانے والی صنعت اور بیچنے والے تاجر متاثر ہوگا۔ اس سے صنعتی ملازمین کی نوکری خطرے میں پڑ جائے گی اوربیروزگاری کا خدشہ لاحق ہوجائے گا بلکہ یہ سب ہوچکا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق لاک ڈاون کے دوران 12؍ کروڈ سے زیادہ لوگ ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اوراطراف و اکناف سے آئے دن بری خبریں موصول ہورہی ہیں ۔ یہ دراصل حکومت کے تئیں عدم اعتماد کے احساس کا اظہار ہے۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رامن معیشت میں سست روی کا اعتراف تو کرتی ہیں لیکن کسی ٹھوس اقدام کی جرأت نہیں کرتیں تاکہ صارفین کے دلوں میں یہ اعتماد بحال ہوسکے اور وہ جیب میں ہاتھ ڈال کر خرچ کرنے لگیں۔ اس راہ کی ایک بہت بڑی رکاوٹ ملازمت کی بابت بے یقینی کی کیفیت ہے ۔ ایسے میں انسان سوچتا ہے کہ جو بھی مل رہا اس پر قانع رہو اور یہی سوچ معاشی ترقی کی دشمن بنی ہوئی ہے۔

کورونا کا بہانہ فی زمانہ اس لیے بھی کارگر ثابت نہیں ہوگا کہ چین نے جہاں سے اس وبا کی ابتدا ہوئی تھی اپنے آپ کو سنبھال لیا ہے ۔ کوروناکے باوجودچینی تجارت میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ ماہِ ستمبر کے اندرجہاں چینی برآمدات میں 9.9 فصدخرچ کا اضافہ ہوا وہیں درآمدات میں 13.2 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اس کا مطلب ہےاول تو اندرونی کھپت میں اضافہ ہوا ہے اوروہاں کے عوام ہاتھ کھول کر خرچ کرنے لگے ہیں۔اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے آرڈرز میں بھی تیزی اضافہ کی وجہ سے صنعتوں نے استعمال کاسامان منگوانا شروع کردیا ہے ۔ یہ دونوں خوش آئند باتیں ہیں۔ ہندوستانی بائیکاٹ کے باوجود یہ تیزی قابلِ تحسین ہے۔ چینی تجارت میں تیزی گھریلو الکٹررانکس، طبی آلات اور ٹکسٹائل خاص طور پرذاتی حفاظتی سامان یا پی پی ای کی بین الاقوامی طلب میں اضافہ کے سبب ہے ۔ستمبر کے آخر تک چین اور دیگر ممالک کے ساتھ چین کی کُل درآمدات اور برآمدات میں 0.7 فیصد یعنی 120کھرب یوآن سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ چمتکار ایک ایسے وقت میں ہورہا جبکہ اس سال عالمی معیشت کے 4.4 فیصد سکڑ کی پیشن گوئی ہورہی ہے اور اس کے باوجودچین کے سب سے بڑا گاہک یورپین یونین اور امریکہ ہے۔

کورونا کےباوجود جو کام چین کے لیے ممکن ہوگیا وہ مودی سرکار کیوں نہیں کرسکی؟ اور اگر وہ اس میں ناکام ہوگئی حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی کا اس پر تنقید کرنا فطری ہے۔ انہوں نے ملک کی فی کس جی ڈی پی میں کمی پر طنز کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ، ’’بی جے پی کی نفرت انگیز قوم پرستی کے سبب سے بنگلہ دیش ہندوستان سے آگے نکلنے جارہا ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے جی ڈی پی کے حوالہ سے حکومت کو نشا نے بناتے ہوئے حکومت ہند کی کورونا سے جنگ پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ، ’’بی جے پی حکومت کی ایک اور زبردست کامیابی۔ پاکستان اور افغانستان نے بھی کوویڈ کو ہم سے بہتر سنبھالا۔‘‘ اس کے ساتھ آئی ایم ایف کے ذریعہ جاری کردہ اعدادوشمار کا گراف بھی منسلک کیا گیا ہے ۔ اس گراف کے مطابق اگلے مالی سال میں افغانستان کی جی ڈی پی میں 5 فیصد اور پاکستان کی جی ڈی پی میں محض 0.40 (صفر عشاریہ چار صفر) فیصد کمی واقع ہو گی جبکہ ہندوستان کی متوقع کمی 10.30 فیصد ہے ۔

جی ایچ آئی یعنی گلوبل ہنگر انڈکس کے تحت عالمی، علاقائی، اور قومی سطح پر بھوک مری کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ بھوک سے لڑنے میں ہوئی ترقی اور مسائل کو لےکر ہرسال اس کا اعداد و شمار کیا جاتا ہے۔ابھی حال میں بھوک سے متعلق ایک عالمی فہرست شائع ہوئی ہے ۔ اس میں دنیا کے 117 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہندوستان 102ویں مقام پر رکھا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، ہندوستان دنیا کے ان 45 ممالک میں شامل ہے جہاں ‘ بھوک مری کافی سنگین سطح پر ہے۔ ‘پچھلے سال ہندوستان 103ویں مقام پر اور 2017 میں اس کا مقام 100 واں تھا ۔ اس سال بھوک مری اشاریہ میں جہاں چین 25ویں مقام پر ہے، وہیں نیپال 73ویں، میانمار 69ویں، سری لنکا 66ویں اور بنگلہ دیش 88ویں مقام پر رہا ہے۔ پاکستان کو اس اشاریہ میں 94 واں مقام ملا ہے۔ایسے میں اٹھتے بیٹھتے پاکستان کو ناکام ریاست کہنے والوں کو چاہیے کہ اپنے الفاظ پر نظر ثانی فرمائیں ۔ اس وقت پاکستان کے نام پر نفرت پھیلا کر ووٹ بٹورنے کے بجائے اس کے ساتھ مل کر بھک مری جیسی لعنت سے مقابلہ کرنے ضرورت ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*