بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / بہار انتخاب کا پیغام اور تجربہ

بہار انتخاب کا پیغام اور تجربہ

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

مظفر حسین غزالی
عوامی مخالفت کے باوجود ایک بار پھر نتیش کمار بہار کے وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں ۔ وہ بھی بی جے پی کی حمایت سے، جبکہ ان کی پارٹی الیکشن میں تیسرے نمبر پر رہی ہے ۔ اس بار بی جے پی بڑے بھائی کی حیثیت میں ہے ۔ یہ تب ہے جب نتیش کمار پر چناؤ میں گڑ بڑی کرنے اور مہاگٹھ بندھن کے امیدواروں کو جان بوجھ کر ہرانے کا الزام لگ چکا ہے ۔ آر جے ڈی ممبر پارلیمنٹ پروفیسر منوج جھا نے 119 امیدواروں کی لسٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ مہاگٹھ بندھن کے کئی امیدواروں کو دوبارہ گنتی کے بہانے ناکام کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹل بیلٹ کی گنتی پہلے کے بجائے بعد میں کرنا اور بڑی تعداد میں پوسٹل بیلٹ کا رد کیا جانا شک و شبہات کو جنم دیتا ہے ۔ این ڈی اے کی حکومت بننے کے ساتھ ہی مخالفت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے ۔ اس کی وجہ سے ہی جے ڈی یو کے کوٹے سے بنے وزیر تعلیم میوالال چودھری کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا ۔
نتیش کمار کے لئے آگے آنے والا وقت آسان نہیں ہوگا ۔ ایک طرف بی جے پی کا دباؤ رہے گا، اس کی مرضی کے بغیر وہ کچھ نہیں کر پائیں گے تو دوسری طرف اپوزیشن ان پر حاوی رہے گی ۔ بی جے پی کے منصوبہ کی ابتدا وزارتوں کی تقسیم سے ہو چکی ہے ۔ نتیش کمار کے ساتھ حلف لینے والوں میں سے سات وزیر بی جے پی کوٹے سے ہیں ۔ ان میں سے دو کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے ۔ اس کے ذریعہ بی جے پی نے اپنے سیاسی مستقبل کو مضبوط کرنے اور بنا بے ساکھی کے 2025 کی جنگ کو فتح کرنے کی سمت میں آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے ۔ علاقائی نمائندگی اور زمین سے جڑے لیڈران کو کابینہ میں خاص اہمیت دی گئی ہے ۔ دراصل بی جے پی نتیش کمار کے لمبے سایہ سے باہر نکلنا چاہتی ہے ۔ الیکشن کے دوران بھی کئی بار اس کا مظاہرہ ہو چکا ہے ۔ بی جے پی نے بڑی ہوشیاری سے بہار کی اتحادی حکومت کی ناکامیوں کو نتیش کمار کے سر مڑھ دیا ۔ چراغ پاسوان کا جے ڈی یو کے سامنے اپنے امیدوار اتارنا بھی اسی حکمت عملی کا حصہ مانا گیا ۔
بی جے پی کی نظر نتیش کمار کے انتہائی پسماندہ، مہا دلت اور خواتین ووٹ بنک پر ہے ۔ اسی کے پیش نظر بھاجپا نے نائب وزیر اعلیٰ کی ایک کرسی پر ویش طبقہ سے آنے والے تارکشور پرساد کو بیٹھایا ہے تو دوسری انتہائی پسماندہ رینو دیوی کو سونپی ہے ۔ اس نے اپنے کوٹے سے دو پسماندہ، تین اعلیٰ ذات، ایک انتہائی پسماندہ اور ایک دلت کو وزارت میں جگہ دی ہے ۔ ایل جے پی کے ووٹ بنک دوساد، پاسوان کو سادھنے کے لئے رام پریت پاسوان کو کابینہ میں شامل کیا ہے ۔ اس کی نظر آر جے ڈی کے کور ووٹ بنک یادوں پر بھی ہے ۔ اسے توڑنے کے لئے رام سورت رائے کو کابینہ کا حصہ بنایا ہے ۔ امریندر سنگھ کو وزیر بنا کر بی جے پی نے نئی لیڈر شپ کھڑی کرنے کا بھی اشارہ دیا ہے ۔ امریندر سنگھ 2000 میں پہلی مرتبہ ایم ایل اے بنے تھے ۔ پچھلا انتخاب چھوڑ کر وہ لگاتار کامیاب ہوتے آئے ہیں ۔
تار کشور کے ذریعہ مغربی بنگال کو سادھنے کی بھی کوشش کی گئی ہے ۔ تار کشور سیمانچل سے آتے ہیں، پانچ دہائی کے بعد اس علاقہ سے کوئی بہار کے اقتدار پر قابض ہوا ہے ۔ ان سے پہلے بھولا پاسوان ساشتری بہار کے اقتدار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکے ہیں ۔ وزارتوں کی تقسیم میں بی جے پی نے بھوجپور، ترہوت، چمپارن، متھلانچل اور سیمانچل کو نمائندگی دے کر علاقائی توازن بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ اگر ریاستی حکومت کچھ نہیں بھی کر پائی تو کم از کم لوگ اپنے علاقے اور اپنی ذات کے شخص کو وزیر دیکھ کر مطمئن ہو جائیں ۔ درحقیقت وہ بہار میں اپنی سیاسی طاقت اتنی بڑھانا چاہتی ہے کہ اسے نتیش کمار کے چہرے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔ بی جے پی کی فطرت ہے کہ وہ جس کی مدد سے ریاست میں طاقت حاصل کرتی ہے اس کی جڑ میں ہی پہلے مٹھا ڈالتی ہے ۔ اسی لئے سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ نتیش کمار کے بہار موجودہ انتخاب کو آخری کہنے کی بات سچ ہو سکتی ہے ۔ قیاس یہ بھی ہے کہ مغربی بنگال کے انتخاب کے بعد بی جے پی بہار میں اپنا وزیر اعلیٰ بنا سکتی ہے اور نتیش کمار کو نائب صدر جمہوریہ ۔
بہار کے سیاسی تجربہ سے آئندہ کی سیاست کے بزنس ماڈل کے طور پر ابھرنے کا امکان ہے ۔ جس کے پاس جتنی دولت ہوگی اسے اتنی نمائندگی حاصل ہو جائے گی ۔ سیٹوں کے لحاظ سے پارٹیوں کے پاس بارگینگ کی طاقت ہوگی ۔ سوچ، نظریہ، مدے اور مسائل کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا ۔ کیوں کہ بہار میں روزی، روزگار، نقل مکانی، صحت، تعلیم اور مہنگائی بنیادی سوال تھے جنہیں مہاگٹھ بندھن اٹھا رہا تھا ۔ عوام بھی تیجسوی یادو کی ریلیوں میں جٹ رہے تھے ۔ وہ اکیلے ایک ہیلی کاپٹر سے دن میں بارہ، تیرہ ریلیاں کر رہے تھے ۔ مگر انتخابی نتائج اس کے مطابق نہیں آئے ۔ شاید اس کی وجہ دولت کی کمی رہی ۔ تیجسوی کے پیچھے این ڈی اے کے بیس بیس ہیلی کاپٹر دوڑ رہے تھے ۔ چیف منسٹر، مرکزی وزیروں سے لے کر وزیراعظم تک ریلیاں کر ان پر نشانہ سادھ رہے تھے ۔ میڈیا اور بی جے پی کے تنخواہ دار کارکنان زمینی سطح پر سرگرم تھے ۔ بقول سینئر صحافی پرنے پرسون واجپئی ملک میں ریلوے ملازمت دینے والا سب سے بڑا ادارہ ہے لیکن اس وقت بی جے پی اس سے زیادہ نوکریاں دینے والی پارٹی ہے ۔
بحث اس پر ہونی چاہئے تھی کہ الیکشن میں دولت کی ریل پیل، کرمنل کی شمولیت پر انکش کیسے لگے ۔ غیر جانبدارانہ طریقہ سے کیسے انتخابات کرائے جائیں ۔ کیا طریقے اختیار کئے جائیں کہ کم پونجی والی پارٹیاں بھی عوام تک پہنچ سکیں اور آئینی عہدوں پر فائز حضرات کے انتخابی تشہیر میں شمولیت کا خرچ کون برداشت کرے گا امیدوار یا پارٹی اور امیدوار کی طرح پارٹی کے خرچ کی حد مقرر ہو وغیرہ ۔ کیوں کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو سیاست کو بزنس ماڈل بننے کوئی نہیں روک سکے گا ۔ مگر پبلک ڈومین اور میڈیا میں بحث اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم اور خواتین ووٹروں پر ہو رہی ہے ۔ زور شور سے کہا جا رہا ہے کہ این ڈی اے کو خواتین نے زیادہ ووٹ دیئے ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے مجموعی ووٹوں میں سے 38 فیصد ووٹ این ڈی اے کو اور 36 فیصد مہاگٹھ بندھن کو ملے ہیں ۔ دونوں کے درمیان محض دو فیصد کا فرق ہے ۔ رہا سوال اسد الدین اویسی کی وجہ سے مہاگٹھ بندھن کے ہارنے کا تو سچائی بالکل مختلف ہے ۔ اے آئی ایم آئی ایم نے سیمانچل کی جن بیس سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے ۔ ان میں سے نو مہاگٹھ بندھن، چھ این ڈی اے اور پانچ پر مجلس اتحاد المسلمین کو کامیابی ملی ہے ۔ بیس میں صرف دو سیٹوں (رانی گنج اور نرپت گنج) پر ہی ہار جیت کا فرق مجلس کو ملے ووٹ سے کم ہے ۔ رانی گنج میں محض 1992 ووٹوں سے ہار جیت ہوئی یہاں مجلس کو 2412 ووٹ ملے جبکہ نرپت گنج میں ہار جیت کا فرق 2810 ہے، یہاں مجلس کو 5495 ووٹ ملے ہیں ۔
اگر اے آئی ایم آئی ایم نے الیکشن میں حصہ نہ لیا ہوتا اور تمام سیٹوں پر مہا گٹھ بندھن کامیاب ہو جاتا تو این ڈی اے کو صرف ایک سیٹ کا نقصان ہوتا اور اس کی حکومت پھر بھی بن جاتی ۔ جبکہ مہاگٹھ بندھن کی سیٹوں میں چھ کا اضافہ ہو جاتا یعنی اس کی تعداد 116 ہوتی ۔ البتہ سیمانچل یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے ۔ کیوں کہ تمام سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ تو چاہتی ہیں ۔ لیکن مسلمانوں کے لئے کچھ کرنا تو دور ان کا نام تک لینا انہیں گوارہ نہیں ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اوپیندر کشواہا، پپویادو، اسد الدین اویسی اور چھوٹی پارٹیاں مل کر این ڈی اے کا مقابلہ کرتے ۔ بہار الیکشن کا واضح پیغام ہے کہ اگر اب بھی چھوٹی پارٹیوں نے اتحاد نہیں کیا تو کل ان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا ۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*