بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / موجودہ تہذیب اسلام سے بغاو ت کا اعلان ہے

موجودہ تہذیب اسلام سے بغاو ت کا اعلان ہے

ابو نصر فاروق

ابو نصر فاروق

ابونصر فاروق
ہر تہذیب کی اپنی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں جن سے وہ پہچانی جاتی ہے۔چنانچہ موجودہ مغربی تہذیب کی بھی کچھ خاصیتیں ہیں جن کی بنیاد پر اسے اسلام دشمن کہاجاتا ہے۔یہ تہذیب مغرب سے آئی ہے اور اسلام کے ساتھ یہ مشرقی اقدار اور اصول و ضابطے کی بھی مخالف ہے۔موجودہ مغربی تہذیب نے اس وقت ساری د نیا کو اپنے شکنجے میںجکڑ رکھا ہے۔اس مغربی تہذیب کی بنیاد خدا بیزاری، آخرت فراموشی اوررسالت نا شناسی ہے۔اباحیت پسندی یعنی آدمی کو کسی مذہبی اور اخلاقی قانون کی پابندی نہیں کرنی ہے بلکہ اپنی خواہش اور شوق کے مطابق وہ جو چاہے کرے۔شوق اور خواہش پر جو قاعدہ قانون لگام لگانا چاہتا ہے وہ انسان کی آزادی پر ایک گھات اور حملہ ہے۔اس کی شدت کے ساتھ مخالفت کی جانی چاہئے۔مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔وہ اپنے گھر میں جس مذہب کی پیروی کرنا چاہے کرے، لیکن سماجی زندگی میں مذہب اور اخلاق کی باتیں کرنافرسودہ اور آرتھو ڈوکس ہونا ہے۔
(۱)اس تہذیب کی پہلی خاصیت یہ ہے کہ اس نے مصنوعی طور پر تیز رفتاری پیدا کر دی ہے اور پورے انسانی معاشرے کو مصنوعی طور پر تیز رفتار بنا دیا ہے۔ زندگی میں بھاگ دوڑ ضرورت سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔جس کو دیکھئے جلدی میں ہے، بھاگا جا رہا ہے۔ کسی کو ٹھہرنے کی فرصت نہیں ہے۔ کوئی رکنا نہیں چاہتا ہے۔ہر کام جلدی سے ہو جانا چاہئے۔رفتار میں جہاں معمولی سی رکاوٹ پیدا ہوئی اور تیوریوں پر بل پڑ گئے،لہجے میں تلخی آ گئی اور چہروں کے رنگ بدلنے لگے۔رفتار کی تیزی اور سستی ایک فطری عمل ہے۔قدرت کچھ لوگوں کو زیادہ جسمانی صلاحیت کے ساتھ پیدا کرتی ہے اور وہ عام لوگوں کے مقابلے میں کام کرنے کے اعتبار سے تیز رفتار ہوتے ہیں۔کسی کام کو کرنے میں عام آدمی کو پانچ منٹ لگتے ہیں لیکن ایک شخص اس کام کو تین منٹ میں ہی کر لیتا ہے۔اس قدرتی امر کو سامنے رکھیں تو معمول کے مطابق وقت کے ساتھ کام کرنے والے کو ملامت نہیںکریں گے چونکہ وہ فطری قاعدے سے کام کر رہا ہے۔ لیکن قدرت کی عظمت کو فراموش کر دیجئے تو ہر سست رفتار آپ کو کام چور اور نکما دکھائی دے گا اور اس پر ہر طرف سے ملامت کی بوچھار ہونے لگے گی۔آج یہی ہو رہا ہے۔جو ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ کرزیادہ پیسے نہیں کما سکتا، جو دنیا کے اسباب زیادہ سے زیادہ نہیں مہیا کر سکتا وہ نالائق، نکما اورناہل تصور کیاجاتا ہے۔یہ عدل و انصاف کے خلاف ایک رویہ ہے جسے موجودہ تہذیب نے جائز اورحلال کر دیا ہے اور اس کے نتیجے میں ہر معمولی آدمی ملامت کا نشانہ بن رہا ہے۔
(۲)مغرب سے آنے والی موجودہ مغربی تہذیب کی دوسری خاصیت یہ ہے کہ اس نے بلا ضرورتConsumerism کو بڑھاوا دیا ہے۔ہر انسان کو اتنے ہی سامان مہیا کرنے چاہئیں جتنے کی اُس کو ضرورت ہے۔لیکن اس تہذیب نے اس قاعدے کو بدل دیاہے۔اب بازار میں موجود ہر سامان ہر آدمی کے پاس ہونا چاہئے۔ اگر وہ اس کو حاصل نہیں کر سکتا ہے تووہ نااہل ہے۔غیر ضروری سامان رکھنا اور ضرورت سے زیادہ سامان استعمال کرنا فیشن بن چکاہے۔ جدیدغذائی اشیاء،نئے فیشن کے ملبوسات،مکان کی گراں تعمیر کے سامان، گھر وں کو سجانے والی اشیاء،میک اپ کے سامان،الکٹرونک مصنوعات ،سواری کے لئے موٹر کار اور معیار زندگی کو اونچا بنانے والے سامانوں کی خریداری ہر خاندان کی ضرورت بن گئی ہے۔اور اس کے لئے ضرورت سے زیادہ دولت درکار ہے۔
(۳)اور اس روش نے انسان کو دولت کمانے کی مشین بنا دیا ہے۔معمولی دولت سے یہ تمنائیں پوری نہیں کی جاسکتی ہیں۔ ان کے لئے بہت زیادہ آمدنی ہونی چاہئے۔جائز اور حلال طریقے سے اگر آمدنی بڑھانے کے مواقع نہیں ہیں تو ناجائز اور حرام راستوں کو اپنانے میں کوئی قباحت نہیں ہے،کیونکہ موجودہ تہذیب اخلاق اور اقدار کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔اخلاق اور اقدار کی باتیں کرنے والے دقیانوسی، قنوطی اور پسماندہ افراد تصور کئے جانے لگے ہیں۔ترقی پسند انسان وہ ہے جو وقت کے تقاضے کے پیش نظر اپنے آپ کونئی ضرورتوں کے مطابق ڈھال لے اور ہر پرانی رکاوٹ کو پامال کر ڈالے۔چاہے اُس کی زد میں مذہب آئے یا انسانیت، شرافت یا رشتہ داری، مروت یا رواداری،خلوص یا وفاداری۔دور جدید سے وفاداری نبھا نے اور اس کے قدم سے قدم ملاکر چلنے کے لئے ہر شے کی قربانی جائز ہے۔یہ اس تہذیب کی تعلیم اور تلقین ہے۔
(۴)اس تہذیب نے الفاظ کے نئے مفہوم پیدا کر دیے ہیں۔تجارت جسے اسلام نے ایک مقدس عمل اور عبادت بتایا ہے وہ اب عیاری اور مکاری کا نام ہے۔جھوٹ، چوری ،بے ایمانی اور فریب۔ یہ چار ستون ہیں جن کی بنیاد پر آج کی تجارت ٹکی ہوئی ہے۔پہلے فیکٹریاںضروری مصنوعات کی پیداوار ضرورت کے مطابق کرتی تھیں لیکن اب مصنوعات کی تیاری صنعت کار کی زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی ہوس کی تکمیل کی خاطر ہو رہی ہے اور عوام کو اس کے استعمال کرنے پر اکسایا جا رہا ہے۔اس کے لئے سب سے بڑا ہتھیار ہے اشتہار۔اشتہار جس میں سراسر جھوٹ بولا جاتا ہے۔ واشنگ پاؤڈر سے کپڑا کیسے صاف ہوتا ہے اس کو ثابت کرنے کے لئے دو میلے کپڑوں کے مقابلے میں ایک نئے کپڑے کو دکھایاجاتا ہے۔کولر اور ایر کنڈیشنر کی خوبی بتانے کے لئے شملا اور نینی تال جیسے موسم کی یاد لائی جاتی ہے جو سراسر جھوٹ ہے۔کریم لگا کر سیاہ فام عورت کو سفید فام دکھا دیا جاتا ہے جو ایک خوبصورت فریب کے سوا کچھ نہیں۔ازیں قبیل اشتہارات میں دن رات جھوٹ بولاجارہا ہے اور اس کے ذریعہ مصنوعات کی فروخت کو حد سے زیادہ بڑھایاجارہا ہے۔
(۵)اس تہذیب نے ترقی کرنے اور پیسے کمانے کی ہوس کے نام پر عورتوں کو گھر سے باہر نکال کر معاشی میدان میں ہل کے بیل کی طرح جوت دیا ہے۔فریب خوردہ عورت اپنا گھر، شوہر، بچے، خاندان اور گھریلو آرام و آسائش سب کچھ چھوڑ کرکام کرنے والی مشین بن گئی ہے اور سمجھ رہی ہے کہ وہ ترقی کر رہی ہے اور آگے بڑھ رہی ہے۔اور جب اُس کی آنکھیں کھلتی ہیں اور اُس کی سمجھ میں آتا ہے کہ ان چند کڑکڑاتے نوٹوں کے بدلے اُس کو کتنی بڑی قربانی دینی پڑرہی ہے تب تک پانی سر سے اونچا ہوچکا ہوتا ہے۔ وہ چاہ کر بھی اس دنیا سے اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتی۔پیسہ کمانے کی وجہ سے مغرورمزاج اور اپنے طرز کی زندگی گزارنے کی عادت شوہر سے سمجھوتہ کرنے ہی نہیں دیتی۔یا تو تلخیوں کے ساتھ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رہتے ہیں یا جدا ہوجاتے ہیں۔نوکری اور آمدنی کی وجہ سے اگر کوئی دوسرا اچھا مرد مل گیا تو غنیمت ورنہ زندگی محرومی کی داستان بن جاتی ہے۔غیر فطری معمولات کی وجہ سے عورت بہتیری بیماریوں کا شکار بھی بن جاتی ہے۔گھر ویران ہو رہے ہیں، بچے ماں باپ کی شفقت اور سرپرستی سے محروم ہو رہے ہیں اور رشتہ داروں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔
یہ ایسا شیطانی رقص ہے کہ جو سمجھ ر ہے ہیں وہ بھی اور جو نہیں سمجھ ر ہے ہیں وہ بھی سب کے سب اس میں گردش کرنے پر مجبور ہیں۔اس تہذیب کے دائرے میں خدا کی عبادت کرنے کی فرصت نہیں ملتی۔پانچ وقت کی نماز کا کیا کہنا جمعہ کی نماز کی فرصت نہیں ملتی۔ہفتہ کی چھٹی کے دن بھی کام کی ماراماری کی بدولت نہ تو کسی دینی اجتماع میں شرکت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی گھر والوں کے حقوق ادا کئے جاسکتے ہیں۔رشتہ داروں سے میل جول تو ایک داستان پارینہ بن چکی ہے۔سماجی حقوق ادا کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔جو جتنا بڑا افسر ہے وہ اتنا عدیم الفرصت ہے۔
انسان کو اللہ نے اپنی بندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔یہ قرآن کا بیان ہے۔ موجودہ تہذیب خدا کی یاد کا موقع ہی نہیں دیتی ۔گویا خدا سے بغاوت پر آمادہ کرتی ہے۔کہتی ہے کہ یا تو خدا کو مانو اور گھر میں بیٹھو یا اس تہذیب کو خدا مانو اور اس کی بندگی میں لگ جاؤ۔
اللہ کی سچی بندگی کے لئے رسول اللہﷺ کی اطاعت فرض ہے۔رسول اللہﷺ کی سچی اطاعت یہ ہے کہ اُن کے فرمان کے مطابق زندگی گزاری جائے۔موجودہ تہذیب کہتی ہے کہ اپنے رسول کی بات ماننی ہے تو اس دائرے سے نکلو اور جا کر مسجد میں بیٹھ جاؤ۔اس میدان میں رہنا ہے تو رسول کو نہیں یہاں کے انسانوں کو اپنا خد اور رب بنانا ہوگا اوران کے طور طریقوں کی پیروی کرنی ہوگی۔خدا اور رسول کی اطاعت کے نتیجے میں انسان کے اندرآخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے اوروہ زندگی کے سارے کام آخرت کی فلاح کے پیش نظر کرنا چاہتا ہے۔موجودہ تہذیب کہتی ہے کہ تمہارے ہر عمل کا انجام دنیا میں تم کو کیا ملنے والا ہے اس کو دیکھو او راس کی سوچو، آخرت کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آخرت جب آئے گی تب دیکھا جائے گا۔یعنی خدا ، رسول اور آخرت تینوں سے رشتہ اور ناطہ توڑ کر ایک آدمی موجودہ تہذیب کے دائرے میں ترقی کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے۔ایسا آدمی بھلا مومن کیسے ہو سکتا ہے اورایمان کے تقاضے کیسے پورے کر سکتاہے ؟ اس کے اندر جنت کی تمنا کیسے پنپے گی اور جہنم سے نجات کا خوف کیسے پیدا ہوگا ؟
دنیا کا ہر مذہب اور خاص کراسلام جو دین فطرت ہے سچائی ، ایمان داری، عہد کی پابندی ، انسانوں کی خدمت اور ایثار و قربانی کی تعلیم دیتاہے۔لیکن موجودہ تہذیب جھوٹ،بے ایمانی، وعدہ خلافی،انسان بیزاری اور خود غرضی کی تلقین کرتی ہے اور اسی کو ایمان اور طرز حیات بنانے پر آمادہ کرتی ہے۔مذہب اور دین کے نام پر عبادت سمجھ کرکچھ رسمی اعمال کو بجا لانا ہی اس تہذیب کی رواداری ہے۔یعنی عید بقرعید کی نماز پڑھ لینا ہی مسلمان رہنے کے لئے کافی ہے۔ہندوستان چونکہ ایک مذہبی ملک ہے اس لئے ابھی یہ جدید تہذیب پوری طرح کھل کر سامنے نہیں آ سکی ہے۔لیکن رفتہ رفتہ یہ اپنے پر پانکھ نکال رہی ہے اورنئی نسل اس تہذیب کے اثر سے اپنے مذہب اور پرانے رسم و رواج سے بیزار ہوتی اور ان کو چھوڑتی چلی جارہی ہے۔ چند برسوں کے بعد جب دین و مذہب کی پابندی کرنے والی پرانی نسل گزر جائے گی تب اُس وقت یہ تہذیب موجود لوگوں کو پوری طرح اپنی آغوش میں جکڑ لے گی اور کسی کو اس کے نجات کی سبیل نہیں دکھائی دے گی۔دنیا والوں کی اس کی کوئی پرواہ نہیں لیکن ایک مسلمان کو اس کی پرواہ ہونی چاہئے۔
سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا حل کیا ہے۔حل بہت آسان بھی ہے اور مشکل بھی ہے۔جو آدمی صرف پیٹ بھرنے کے لئے سادہ کھانے پر قناعت کر سکتا ہے،ضرورت بھر معمولی لباس پہن کر خوش رہ سکتا ہے،کم سے کم ضروری سامان کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے تیار رہ سکتا ہے ، ہر حال میں اپنے ایمان اور اخلاق کی حفاظت کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے ساری دنیاسے مخالفت مول لے کر اس کی ملامت برداشت کر سکتا ہے وہی اس دورمیں اپنے ایمان کو سلامت رکھ کر اہل ایمان کہلا سکتا ہے۔سب سے بڑی آزمائش اس کی راہ میں اس کے بیوی بچے بنیں گے اور ایسے ہی موقع کے لئے قرآن نے اہل و عیال کو دشمن قرار دیا ہے۔ساری دنیا سے لڑ کر فتح یاب ہو بھی گئے لیکن گھر والوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تو گویا جنگ ہار گئے۔ اس لئے اپنے ساتھ ساتھ اپنے گھر کو بھی مسلمان بنانا ہوگا۔موجودہ تہذیب کے سایے میں رہتے ہوئے اور موجودہ فضا میں سانس لیتے ہوئے ایسا کرنا بہت مشکل ہے اوربہت بڑا جہاد ہے ، جو جہاد کے لئے آمادہ ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو راہ دکھائے گا ، یہ اس کا وعدہ ہے۔علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھئے اور سمجھئے:
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*